18/03/2026
آخری پیغام جو جانے والے کی وصیت بن گیا 💔
دنیا بھر کے مسلمانوں اور اسلامی ممالک کے نام سپریم نیشنل کونسل کے سربراہ شہید ڈاکٹر علی لاریجانی کا پیغام:
1. ایران کو مذاکرات کے دوران ایک دھوکہ دہی پر مبنی امریکی صیخونی جارحیت کا سامنا کرنا پڑا، جس کا مقصد ایران کو تقسیم کرنا تھا۔ اس جارحیت کے نتیجے میں اسلامی انقلاب کے عظیم اور قربانی دینے والے قائد، متعدد شہریوں اور فوجی کمانڈروں کی شہادت ہوئی۔ تاہم، حملہ آوروں کو ایرانی عوام کی جانب سے سخت قومی اور اسلامی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔
2. آپ جانتے ہیں کہ چند نادر صورتوں کے علاوہ، جو صرف سیاسی موقف تک محدود رہیں، کوئی بھی اسلامی ملک ایرانی عوام کے ساتھ کھڑا نہیں ہوا۔ اس کے باوجود، ایرانی عوام نے اپنے مضبوط ارادے سے حملہ آور دشمن کو اس حد تک پسپا کر دیا کہ وہ آج اس اسٹریٹجک تعطل سے نکلنے کا راستہ تلاش کرنے سے قاصر ہے۔
3. ایران "بڑے شی-طان" یعنی امریکہ اور "چھوٹے شی-طان" یعنی اس-رائیل کے خلاف مزا-حمت کی راہ پر گامزن ہے۔ لیکن کیا کچھ اسلامی حکومتوں کا رویہ نبی اکرم ﷺ کے اس قول کے متضاد نہیں ہے کہ: "جس نے کسی شخص کو سنا کہ وہ مسلمانوں کو مدد کے لیے پکار رہا ہے اور اس نے اس کا جواب نہ دیا، تو وہ مسلمان نہیں"؟ تو پھر یہ کیسا اسلام ہے؟
4. کچھ ممالک اس سے بھی آگے نکل گئے ہیں اور یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ ایران ان کا دشمن بن گیا ہے کیونکہ اس نے ان کی سرزمین پر موجود امریکی اڈوں اور اس-رائیلی مفادات کو نشانہ بنایا ہے۔ کیا ایران سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا رہے جبکہ آپ کے ممالک میں موجود امریکی اڈے اس پر حملے کے لیے استعمال ہو رہے ہوں؟ یہ محض کھوکھلے بہانے ہیں۔ آج مقابلہ ایک طرف امریکہ، اس-رائیل اور دوسری طرف مسلم ایران اور مزا-حمتی قوتوں کے درمیان ہے۔ تو آپ کس کا ساتھ دیتے ہیں؟
5. اسلامی دنیا کے مستقبل کے بارے میں سوچیں۔ آپ جانتے ہیں کہ امریکہ کسی کا وفادار نہیں اور اس-رائیل آپ کا دشمن ہے۔ ایک لمحے کے لیے ٹھہریں اور اپنے اندر اور خطے کے مستقبل کے بارے میں غور کریں۔ ایران آپ کا خیر خواہ ہے اور آپ پر تسلط حاصل کرنے کی کوشش نہیں کر رہا۔
6. بلاشبہ امتِ مسلمہ کی وحدت، اگر پوری قوت کے ساتھ حاصل ہو جائے، تو وہ اپنے تمام ممالک کے لیے امن، ترقی اور آزادی کی ضمانت دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
والسلام علیکم
عبدِ خدا