10/05/2026
جمہرۃ انساب العرب:علامہ ابن حزم اندلسی
ترجمہ: ڈاکٹر مفتی محمد بلال
تعارف وتبصرہ: محمد فھد حارث
آج میری زندگی کی ایک بہت بڑی خواہش پوری ہوگئی۔ ایک ایسی خواہش جو شاید زمانۂ طالبعلمی سے اس دل میں پنپ رہی تھی اور وہ خواہش تھی پانچویں صدی ہجری کے اندلسی عالم علامہ ابن حزم ظاہری (متوفی ۴۵۶ ہجری) کی معرکۃ الآراء کتاب "جمہرۃ انساب العرب" کا اردو ترجمہ۔
علامہ محمد بن علی بن احمد بن سعید ابن حزم ظاہری الاندلسی (۳۸۴ ھ ۔ ۴۵۶ھ)کی جمہرۃ انساب العرب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ کتاب نبیﷺ کے ہر اس صحابی اور واقعہ سیرت میں ذکر کردہ بیشتر افراد کے نسب کو بیان کرتی ہے جن کا ذکر سرسری طور پر نبی ﷺ کے کسی بھی واقعہ میں ہو۔
مثال کے طور پر علامہ ابن حزم انصار کے ذکر میں عدی بن غنم بن کعب بن سلمہ کی اولاد کی سرخی کے تحت براء بن معرور بن صخر بن خنساء بن سنان بن عبید بن عدی بن غنم بن کعب بن سلمہ کا ذکر کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ یہ بیعت عقبہ میں شریک تھے اور نقیب ہوئے۔ یہ وہ پہلے شخص ہیں جنہیں قبلہ رخ دفن کیا گیا۔ ان کے بیٹے بشر بن براء وہ ہیں جنہوں نے رسول اللہﷺ کے ساتھ زہر آلود بکری کا گوشت کھایا تھا اور اسی زہر آلود گوشت کے اثرات کی وجہ سے ان کی وفات ہوئی تھی۔
اسی طرح عربی متن کے صفحہ ۳۴۶ پر بنو سعد بن مرۃ بن مالک بن أوس کے ذیل میں سیدنا حُباب بن زید بن تیم کا ذکر کرتے ہیں اور ساتھ بتاتے ہیں کہ ان کی سگی چچازاد لڑکی؛ ام علی بنت خالد بن تیم بن أمیہ تھی، جس کے گھر اذان کی وحی اتری تھی۔ بعینہٖ صفحہ ۳۵۲ پر بنو نجار کے براء بن اوس بن خالد کا ذکرکرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ یہ آپ رسول اللہ ﷺ کے صاحب زادے؛ ابراہیم کے رضاعی والد ہیں، اس لیے کہ ان کی اہلیہ؛ ام بردہ نے رسول اللہ ﷺ کے صاحب زادے ابراہیم کو دودھ پلایا تھا۔
صفحہ ۳۵۵ پر علامہ ابن حزم رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ یہ ابن سلول کہلاتا تھا، سلول اس کی دادی کا نام تھا جس کی طرف یہ منسوب ہے، اس کے خاندان کی رہائش بنی نجار اور بنی ساعدہ کے مکانات کے درمیان تھی، عبد اللہ بن أبی کے بیٹے؛ عبد اللہ بن عبد اللہ، بدری اور فضلاء صحابہ کرام میں سے تھے، جنگ یمامہ میں سیدنا عبد اللہ بن عبد اللہ شہید ہوئے۔ صفحہ ۲۰۰ پر تیم بن عبد مناۃ بن أُدّ کی اولاد کے ذکر میں لکھتے ہیں کہ قطام بن شِجنۃ بن عدی بن عامر بن عوف بن ثعلبہ بن سعد بن ذہل، یہ وہ عورت ہے جس سے عبد الرحمن بن ملجم نے نکاح کیا تھا اور اس عورت کا مہر ؛ سیدنا علی کو قتل کرنا طے ہوا تھا، یہ عورت؛ خارجیہ تھی، اس کا باپ؛ شِجنۃ تھا، اور اس کابھائی؛ أَخضَر بن شِجنۃ تھا، قطام کے باپ اور بھائی دونوں جنگ نہروان میں مارے گئے تھے۔
گویا جیسے کتب اصول فقہ میں اصول بیان کرکے بطور مثال عام زندگی کی مثالوں سےعملی تطبیق پیش کی جاتی ہے، بعینہ علامہ ابن حزم کسی بھی صحابی یا دورِ نبویﷺ میں موجود شخص کے نسب کا تذکرہ کرنے کے بعد پوری کوشش کرتے ہیں کہ بطور مثال سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس صحابی یا شخص کا کوئی واقعہ بھی نقل کردیں۔
اس قسم کی نادر معلومات کتبِ انساب میں صرف علامہ ابن حزم کی جمہرۃ انساب العرب میں ہی ملتی ہے۔ اور یقیناً یہ ایسی کتاب ہے جو اسلامی تاریخ کی کئی "خالی جگہوں نہ صرف پٗر کرتی ہے" بلکہ مصادر تاریخ میں درج نہ ہونے والی بہت سی معلومات بھی بہم پہنچاتی ہے۔ میرے ناقص علم کی حد تک انساب پر اس سے زیادہ مفصل، مکمل اور جامع کتاب کوئی دوسری نہیں۔
اور حیرت و استعجاب اس بات پر ہے کہ اس قدر وقیع و علمی کتاب ابھی تک ترجمہ ہونے کی سعادت سے محروم تھی۔اپنے زمانۂ طالبعلمی کے دور سے ہی مجھے یہ کتاب بے انتہا پسند تھی اور دیرینہ خواہش تھی کہ کوئی مکتبہ یہ وقیع کام کرجائے لیکن باوجود شدید انتظار کے جب ایسے کچھ آثار نظر نہ آئے تو پھر یہ کام اپنے ادارے سے کرنے کی ہمت ٹھانی اور اللہ خوش رکھے ڈاکٹر مفتی محمد ابراہیم بلال بربری حفظہ اللہ کو انہوں نے اس کام کے کرنے کی ہامی بھرلی اور یوں یہ کتاب ترجمہ ہوکر آج آپ حضرات کے ہاتھوں میں موجود ہے۔
کتاب منگوانے کے لیے نیچے دیے گئے نمبر پر وٹس ایپ کریں
المدینہ بک سینٹر ھادیہ حلیمہ سینٹر غزنی سٹریٹ اردو بازار لاہور
03135100788