08/11/2025
کل سے سالانہ تبلیغی اجتماع رائے ونڈ میں شروع ہو رہا ہئے۔ جس میں ملک کے کونے کونے سے لوگ شامل ہوں گے اور تعداد لاکھوں میں ہو گی۔ رہائش کھانے پینے ،رفع حاجت کے لیئے عارضی انتظامات کیئے جاتے ہیں جو یقینن اپنے گھروں کا نعمل بدل نہیں ہو سکتے۔ لوگوں کو سفری تکالیف کے علاوہ رہائش کی تکالیف سے بھی گزرنا پڑتا ہئے۔
ان حاضرین کے ساتھ ساتھ باقی عوام کو بھی ان دنوں میں سفری اور دوسری کئ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہئے۔ پھر اسی طرح واپسی پر بھی پبلک ٹرانسپورٹ اور سڑکوں پر انتہائ رش کے مسائل سامنے آتے ہیں ۔ کیونکہ لاکھوں لوگ ان دنوں سڑکوں پر ہوتے ہیں۔
میں نے اکثر نوٹ کیا کہ اس طرح کے اجتماعات کے منتظمین اس بات کے لیئے کوشاں بھی رہتے ہیں اور فخر بھی کرتے ہیں کہ ان کا اجتماع، حج سے بڑا یا حج کے اجتماع کے قریب قریب تھا
حج ایک فریضہ ہئے جو ہمیں اسی طرح ادا کرنا ہئے جس طرح اس کا حکم ہئے۔ مگر مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ ہم۔نے یہ خود ساختہ اجتماع کیوں اپنے اوپر فرض کر لیا ہئے۔ اسلام میں حج کے علاوہ کہاں اتنے بڑی تعداد میں لوگوں کو اکٹھے کرنے کی فضیلت بیان ہوئ ہئے جہاں لوگوں کی جان و مال بھی پوری طرح محفوظ نہ ہو۔
آج کے ڈیجٹیلازیشن کے دور میں اتنے لوگوں کو ایک جگہ پر اکٹھا کرنے کا کیا جواز بنتا ہئے۔ تبلیغ والوں کا ایک چینل ہونا چاہئے اور مقررین اس چینل پر اپنا بیان جاری کریں ۔ جو لوگ اتنی دور دور سے سننے کے لیئے لاہور آتے ہیں وہ اپنے گھر میں بیٹھ کر وہی بیان زیادہ توجہ اور سہولت سے سن سکتے ہیں ۔ اور جتنی دفعہ چاہیں سن سکتے ہیں ۔جب دل چاہے سن سکتے ہیں ۔
پھر ایک بیان کے لیئے ایک سال کا انتظار کیوں ۔ جونہی کسی تبلیغی لیڈر کو کوئ اچھی بات یاد آئے وہ اپنے چینل پر بیان کر دیں تاکہ لوگ اسی وقت سن کے اس سے فیض یاب ہو سکیں ناکہ اچھی بات سننے کے لیئے ایک سال انتظار کرتے رہیں