17/10/2024
مزاحمت کا استعارہ
عامر یحیٰ
وہ اکیس سال جیل میں مقید رہا،2013 میں جب رہا ہوا تو کوئی دن نا گزرتا جس دن سارے اسرائیلی اخبارات اس کے سامنے میز پر پڑے نہ ہوتے تھے۔
دنیا نے ہر دور ہیں بہادر پیدا کیے،تاریخ نے ان کے ناموں کو اپنے سینے میں سمویا،وہ کہتا تھا کہ" دشمن جو مجھ پر سب سے بڑا احسان کرے گا وہ یہ کہ مجھے شہادت کی موت دے گا" کل سولہ اکتوبر کے روز اس کو تین ساتھیوں کے ساتھ غزہ میں شہید کر دیا گیا،میں بات کر رہا ہوں اسماعیل ہانیہ کے بعد آنے والے حماس کے سربراہ یحیٰ سنوار کی جو نیائے فانی سے کوچ کر گئیے کل وہ بھی میدان جنگ میں،آخری تصویر جو اسرائیلی ڈرون نے لی اس میں وہ زخمی حالت میں بھی دشمن پر بم پھینک رہا تھا۔
ایسا انسان جس کے بارے میں ساری دنیا کے میڈیا نے کہا وہ کیہں ٹنل میں جھپا بیٹھا ہے اسرائیلی قیدیوں کے ساتھ اور میدان میں اپنے لوگوں کو مروا رہا ہے،آج جب اس کا جسد خاکی دیکھا وہ بھی وردی میں تھوڑا حیران بھی ہوا کہ اتنی بہادری خدا صرف اپنے چنے لوگوں کو دیتا ہے۔اس کے باقی بچ جانے والے سامان میں چند اشیا جن میں کچھ اذکار کی چیزیں اور ایک دو ہتھیار شامل تھے۔وہ اپنے تین ساتھیوں کے ساتھ خان یونس(غزہ)کی ایک بلڈنگ میں شہید ہوا۔
کل سعودی شہزادہ محمد بن سلمان ہنگامی دورے پر مصر پہنچے مصری ڈکٹیٹر السیسی نے استقبال کیا پتہ چلا کہ اسرائیلی موساد کا چیف بھی ادھر ہنگامی طور پر پہنچا ہے،مقصد یہ تھا کہ مصری خفیہ ایجنسی کے سربراہ کو کہا گیا کہ اسرائیل حماس سے قیدیوں کے حوالے سے مذاکرات کرنا چاہتا ہے، مصر ہی وہ ملک ہے جو اسرائیل کو کہتا ہے غزہ کے لوگوں کو صحرائے سینا میں آباد کر دو۔مگر سات اکتوبر کا دن آیا دنیا نے دیکھا کیسے غزہ نے مزاحمت کی اور اسرائیلی سو سالہ منصوبے پر کیسے پانی پھیر دیا آج اسرائیلی الجھ گئے لبنان،غزہ،ایران جنگ میں ساتھ ساری عالمی طاقتیں بھی۔مگر یحیٰ سنوار کی شہادت کے بعد سعودی عرب کہ شاہی خاندان کے رکن کے خوشی بھرے ٹویٹ کہ بعد ایک بات مجھ پر بھی آشکار کوئی کہ ہم ہمیشہ کیوں اندر کہ غداروں کی وجہ سے نقصان اٹھاتے ہیں۔اور کیوں قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے منافقین کو جہنم کے سب سے نچلی جگہ پر پھینکتے کا ذکر فرمایا ہے۔
یہ سچ ہے امریکہ بہادر کے ساتھ ساتھ مغرب بھی بری طرح پٹ رہا ہے جس کی واضع مثال کل نیٹو کے چیف کا بیان ہے کہ یوکرین نیٹو کا بتیسواں رکن ہو گا جس کا فیصلہ واشنگٹن میں ہو چکا۔مگر روس اس کو کبھی بھی قبول نہ کرے گا چاہے اس کو پھر سے عالمگیر جنگ نا شروع کرنا پڑی۔آج ہی خبر نظر سے گزری کہ شمالی کوریا نے دس ہزار فوجی روس کی مدد کو روانہ کیے ہیں۔ساتھ ہی شمالی اور جنوبی کوریا کو ملانے والی سڑکیں بھی تباہ کر دی گئیں ہیں۔
دوسری طرف روس نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ ایرانی نیوکلیئر پر حملے کی غلطی مت کرنا ورنہ اچھا نہ ہو گا،مگر اسرائیل نے یحیٰ سنوار کو شہید کر کہ یہ پیغام دیا ہے کہ ہم نا رکیں گے،اسرائیل نے اگلا ٹارگٹ ایرانی سپریم لیڈر کو شہید کرنے کا رکھا ہے۔ مگر ایران کس حد تک تیار ہے یہ اگلی تحریر میں۔
شکریہ