21/04/2026
*لاہور میں ٹریفک پولیس کا ڈاکوراج۔۔۔*
لاہور ٹریفک پولیس کے نئے لاٹ صاحب نے وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی شفافیت شعاری مہم اور عوام کو حالیہ مہنگائی اور مشکل حالات کے اثرات سے محفوظ رکھنے کی ہدایات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ٹریفک وارڈنز کو نیا شاہی فرمان جاری کردیا کہ *ہر وارڈن ہر حال میں روزانہ کم ازکم 25 چالان کا ٹارگٹ پورا کرے گا*
ادھر وائرلیس پر یہ شاہی حکم نامہ جاری ہوتا ہے ادھر لاہور شہر کے چوکوں چوراہوں سڑکوں کے یوٹرنز پر ٹریفک پولیس کے قزاقوں نے ناکے لگا کر چالان کے نام پر لوٹ مار شروع کردی۔ بڑی گاڑیوں کو روکنا یا چالان کرنا تو ویسے بھی وارڈن حضرات گناہ سمجھتے ہیں تو لے دے کر ان کا سارا زور موٹر سائیکل سواروں اور رکشہ والوں پر چلتا ہے۔ رات ساڑھے دس بجے سے گیارہ بجے کے درمیان حکم چالانوں کا حکم جاری ہوا ٹریفک وارڈنز نے اسی لمحے شہریوں کو ذلیل کرنا شروع کردیا۔ موٹر سائیکل سواروں کو بلاجواز روک کر چابیاں چھیننے اور جیبوں پر ڈاکے ڈالنے کا سلسلہ شروع کردیا گیا۔ ٹریفک وارڈن لوگوں کی جیبوں سے زبردستی شناختی ڈاکومنٹس نکال کر زبردستی بھاری چالان کرنے لگے۔ اگر آپ نے کوئی سگنل نہیں توڑا، ہیلمٹ پہنا ہوا ہے، ون وے یا کوئی اور قانون بھی نہیں توڑا اور لائسنس بھی ہے تب اگر وارڈن بابو نے آپ کو روک لیا تب بھی وہ آپ کا ناصرف چالان کرے گا بلکہ بدتمیزی بھی کرے گا بائیک تھانے بند کرنے کی دھمکیاں بھی دے گا اور آپ کی جیب کی زبردستی تلاشی لے کر جو بھی کوئی شناختی ڈاکومنٹ خواہ وہ آپ کا اپنا ہو یا آپ کی وائف یا کسی بھی گھر کے فرد کا تو اسے بھی وہ ضبط بھی کر لے گا۔ اگر آپ اس پر احتجاج کرو تو الٹا آپ کو ایف آئی آر درج کروانے کی دھمکیاں بھی لگائے گا۔ یوں تو ٹریفک وارڈنز کا یہ رویہ نیا نہیں البتہ سابقہ سی ٹی او کے دور میں کسی حد تک ان پر کنٹرول اور افسران کی جانب سے وارڈنز اور فیلڈ سپروائزری افسران کو ان کے رویوں اور حرکتوں پر کارروائی کا خوف ہوتا تھا۔ لیکن گزشتہ رات سے ٹریفک وارڈنز اور فیلڈ افسران کا رویہ ڈاکوؤں اور راہزنوں جیسا ہوچکا ہے۔ نہ کسی بزرگ کا لحاظ نہ خواتین کا نہ کسی صحافی کا جو بھی سامنے آئے اس سے انتہائی بدتمیزی اور بدتہذیبی سے پیش آنے لگے ہیں۔ اور خلاف قانون اور کوئی ٹریفک قانون توڑے بغیر بھی بلا وجہ ہر موٹر سائیکل سوار کا چالان کرنے لگے ہیں۔ کوئی بہانہ نہ بھی ملے تو فٹنس کا بہانہ بنا کر دو ہزار کا چالان کردیا جانے لگا۔ آپ کے بائیک کی ہیڈ لائٹ اشارے بھی موجود اور کام کررہے ہوں تب بھی ٹریفک پولیس کے یہ ڈاکو نما وارڈن آپ کو نہیں چھوڑیں گے بلکہ بائیک کی سیٹ پھٹی ہوئی ہے آئل لیک ہو رہا ہے انجن آواز کررہی ہے نمبر پلیٹ ٹھیک نہیں ہے وغیرہ جیسا کوئی بھی بہانہ بنا کر آپ کا ناصرف چالان کردیا جائے گا بلکہ گھنٹوں آپ کو روک کر ہراس کیا جائے گا۔ اور ذلیل کیا جائے گا۔ لاہور ٹریفک پولیس کا یہ رویہ نہ صرف قابل مذمت ہے بلکہ ناقابل برداشت بھی۔ آئی جی پنجاب، ڈی آئی جی ٹریفک پولیس ٹریفک پولیس اہلکاروں کے اس طرز عمل کا فوری نوٹس لیں اور شہریوں کو ٹریفک پولیس اہلکاروں کی اس کھلی غنڈہ گردی بلکہ دہشتگردی اور لوٹ مار کو کنٹرول کریں۔ عوام پہلے ہی بہت پریشان ہے کاروبار بند ہیں مہنگائی عروج پر ہے بے روزگاری ہے کہ لوگوں کو خودکشیوں پر مجبور کررہی ہے ایسے میں ٹریفک پولیس کے یہ ڈاکو ناکے عوام کی قوت برداشت اور صبر کا امتحان ثابت ہورہے ہیں۔
سعید مزاری
Ctp Lahore -Punjab