21/10/2025
طوطی کی آواز —•—
کوئ بھی ریاست عدل و مساوات کی پاسداری کے بغیراپنی بنیادوں پر کھڑی نہیں رہ سکتی ۔پاکستانی ریاست 1971 میں بڑی تقسیم کا شکار ھو چکی ھے۔سقوط ِ مشرقی پاکستان کے سانحۂِ عظیم کو محض بیرونی دشمنوں کی سازشوں کا نتیجہ دیکر لپیٹا نہیں جا سکتا ۔یہ ایک بھرپور سیاسی و عسکری شکست تھی جو اقتدار کیلئے مرتے مارتے اور اختیار کے نشے میں دھُت سیاستدانوں ، جرنیلوں ، افسر شاھی اور نظریۂِ ضرورت کے تحت فیصلے دینے والے ججوں کی محلاتی سازشوں ،بنگالیوں کو کم تر درجے کا شھری سمجھکر انکے حقوق غصب کرنیکا کا نتیجہ تھی- دشمن نے ھماری کمزوریوں سے مکمل فائدہ اٹھایا اور مشرقی پاکستان میں نفرت آمیز بیانئیے کی آبیاری کی ۔
پاکستان کو درپیش بحرانوں کی جڑیں ھمارے ماضی سے جُڑی ھیں ۔ افسوس ! تقسیم پاکستان کے باوجود کوئ سبق نہیں سیکھا گیا ۔ ایک دوسرے سے گتھم گتھا رہ کر اور ایک دوسرے کو مار کر اقتدار و اختیار حاصل کرنے کی مشق ریاست کے مختلف طبقات کو بغاوت پر آمادہ کرتی رھی ھے اور آئیندہ بھی کرتی رھے گی - خاکم بدھن پاکستان مزید تقسیم کا متحمل نہیں ھو سکتا ۔
دھائیوں کی بداعمالیوں اور ناانصافیوں کے نتیجہ میں سر اٹھانے والے قومی تنازعات محض طاقت کے استعمال یا سطحی مکالمے سے حل نہیں ھونگے ۔اسکے لئےاپنی ذات اور دھڑے بندی سے بالاتر ھوکر مضطرب طبقات کو جوڑنے والی جرأت اور دیوار کے پار دیکھ سکنے والی بصیرت درکار ھے۔ دھائیوں سے ھم ریاست کو بغاوت کچلنے پر گامزن یا عارضی مکالمے کے ذریعے وقتی حل نکالنے میں مصروف دیکھتے ھیں لیکن تنازعات کا مستقل حل تلاش نہیں کیا جاتا ۔۔یہ رویہ تنازعات کی دلدل کو مزید خطرناک بنا رھا ھے ۔۔
اللّٰہ کریم ھم پر رحم فرمائیں ۔۔
Khawaja Saad Rafique 👌