10/12/2025
🚩 20 جمادی الثانی یومِ ولادت باسعادت
اُمُّ السّادات ، مَخدُومۂ کائنات ، دُخترِ مُصطفٰی ، بانُوئے مُرتَضٰی ، اُمُّ الہاد ، شہزادئ کَونَین ، والِدۂ حَسنین ، خاتُونِ جنّت ، سیّدہ ، طیّبه ، طاہرہ ، زاکِیه ، راضِیه ، مَرضِیه ، عابِدہ ، زاہدہ ، مُحدّثه ، مُبارَکه ، خَیرُ النِّساء ، سیِّدَةُ النِّساء ، (سلام اللہ علیھا)
"سورۃ کوثر کا حقیقی مفہوم: ذریتِ فاطمہؑ کے ذریعے دوامِ
رسالت"
رسولِ اکرم ﷺ کے بارے میں کفّارِ قریش کہا کرتے تھے کہ "محمد ابتر ہیں، ان کی نسل باقی نہیں رہے گی"۔
اسی پس منظر میں اللہ تعالیٰ نے سورۃ الکوثر نازل فرمائی:
اِنَّا اَعْطَیْنٰکَ الْکَوْثَرَ
"اے نبی! ہم نے آپ کو کوثر عطا کی ہے"
کوثر کا معنی “ذریتِ کثیرہ”
تفسیر محاسن التأویل (9:555) میں ابن جنیؒ کے حوالے سے لکھا ہے کہ:
کوثر سے مراد ذریتِ کثیرہ ہے
یہ نعمت صرف حضرت فاطمہؑ کی نسل کے ذریعے عطا ہوئی
یہی وہ نسل ہے جو آج پوری دنیا میں پھیلی ہوئی ہے
یہی وہ جواب ہے جو کفار کے طعن “ابتر” کو رد کرتا ہے
ابن جنیؒ نے شرح دیوان المتنبی میں لکھا:
قریش کہتے تھے کہ نبی ﷺ کی کوئی نسل نہیں، مگر اللہ نے فرمایا کہ حقیقت میں ہم نے آپ کو ایسی نسل عطا کی ہے جو قیامت تک باقی رہے گی۔
"سورۃ الکوثر، رسولِ خدا ﷺ کی سب سے بڑی نعمت —
ذریتِ فاطمہؑ، ائمہ اہل بیتؑ، اور مہدیؑ آخر الزمان۔
یہی وہ نسل ہے جو آج بھی دنیا میں رسول ﷺ کا نام زندہ رکھے ہوئے ہے۔"
“اِنّا” کی عظمت اور نعمتِ کوثر
قرآن میں لفظ "اِنّا" اللہ تعالیٰ اُس وقت استعمال کرتا ہے جب کوئی بڑی اور عظیم نعمت عطا کرنی ہو:
اِنّا کُلَّ شَیءٍ خَلَقْنٰهُ بِقَدَر (قمر 49)
اِنّا اَرْسَلْنٰكَ بِالْحَق (فاطر 24)
اِنّا اَنزَلْنَا اِلَيْكَ الْكِتَاب (نساء 105)
چونکہ "کوثر" بھی عظیم ترین نعمت ہے لہٰذا یہی اسلوب استعمال کیا گیا،
اور یہ نعمت نبی ﷺ کی پاک نسل ہے،
جن میں:
گیارہ ائمہ
اور مہدی آخر الزمان (عج)
شامل ہیں، جو اہلِ بیتؑ کے چشم و چراغ اور رسول ﷺ کی باقی رہنے والی نشانی ہیں۔
لفظ "اَعْطَیْنٰكَ"
عطا ہمیشہ ایسی نعمت کے لیے استعمال ہوتا ہے جس کا مالک بنا دیا جائے۔
یعنی:
کوثر = ایسی نعمت جس میں نبی ﷺ کا کوئی شریک نہیں
اور وہ نعمت ہے:
ذریتِ فاطمہؑ
قرآن کا اصول — نسب صرف باپ سے نہیں ہوتا
مفسر عُروضی لکھتے ہیں:
اگر کوئی کہے کہ اولاد صرف باپ سے ہوتی ہے تو یہ قرآن کے خلاف ہے،
کیونکہ اللہ نے فرمایا:
"عیسیٰ علیہ السلام کو بھی ابراہیمؑ کی ذریت میں شامل کیا"
جبکہ حضرت عیسیٰ کے تو والد ہی نہیں تھے۔
(سورہ انعام 84–85)
یہ دلیل ثابت کرتی ہے کہ نسب ماں کے ذریعے بھی قائم رہتا ہے،
اور یہی دلیل نسبِ رسول ﷺ کے حضرت فاطمہؑ کے ذریعے باقی رہنے کی تائید ہے۔:
🤲🫡🎊🎉🎊