19/06/2026
ماتحت عدالتوں کی بڑی من مانی ختم۔ اب شہریوں کو خوار کرنے والے ججز کی خیر نہیں!
لاہور ہائی کورٹ کا تاریخی اور سخت ترین حکم نامہ جاری، اب انصاف پرانا نمبر بدلنے سے نہیں رکے گا۔
📝 نوٹیفکیشن کی تفصیلات (Notification Details)
جاری کنندہ عدالت: لاہور ہائی کورٹ، لاہور (ڈائریکٹوریٹ آف ڈسٹرکٹ جوڈیشری)
باہتمام: چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ (ہر لیڈی شپ)
مکتوب الیہ: پنجاب بھر کے تمام ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز
نوٹیفکیشن نمبر: 7548/P&D-I/DDJ
تاریخِ اجرا: 25 مئی 2026
کیپشن (Caption): > لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب بھر کی سول اور سیشن عدالتوں کی بڑی بے ضابطگی پکڑ لی! اکثر اوقات جب کوئی کیس اپیل سے واپس نچلی عدالت بھیجا جاتا (Remand) یا عدم پیروی پر خارج ہو کر بحال ہوتا، تو اسے نیا سال اور نیا نمبر دے کر برسوں پیچھے دھکیل دیا جاتا تھا۔ معزز چیف جسٹس نے اس ظلم کا نوٹس لیتے ہوئے اب سخت ترین ایکشن لے لیا ہے!
⚖️ ہائی کورٹ کا حتمی فیصلہ (Urdu Explanation)
لاہور ہائی کورٹ نے اپنے اس سخت ترین حکم نامے میں درج ذیل واضح فیصلے جاری کیے ہیں:
ماتحت عدالتوں میں ریمانڈ اور بحال ہونے والے کیسز کے نمبر بدلنے کی غیر قانونی روش کو فوری روک دیا گیا ہے۔
جب بھی کوئی اپیلٹ کورٹ کسی کیس کو دوبارہ ٹرائل کورٹ میں بھیجے گی، تو اسے پرانا نمبر ہی ملے گا۔
عدم پیروی (Non-prosecution) کی وجہ سے خارج ہونے والا کیس بحال ہونے پر بھی اپنی اصل تاریخ اور نمبر پر بحال ہوگا۔
تمام سیشن ججز کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنے اضلاع میں اس قانون پر "اسٹرکٹو سینسو" (سختی سے) عمل درآمد کروائیں۔
اب کسی بھی شہری کا کیس نچلی عدالت میں واپس آنے پر نئے کیس کے طور پر ڈیل نہیں کیا جائے گا۔
اس حکم کی خلاف ورزی کرنے والے جج یا عملے کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے گی۔
اس فیصلے کا مقصد سائلین کے وقت کو بچانا اور زیر التوا کیسز کو فوری منطقی انجام تک پہنچانا ہے۔
🔍 اہم قانونی نکات اور حوالہ جات (Key Legal Findings)
یہ فیصلہ کسی عام ہدایت پر مبنی نہیں بلکہ پاکستان کے ضابطہ دیوانی کے بنیادی قوانین کے تحت جاری کیا گیا ہے:
ضابطہ دیوانی کا حوالہ (CPC Rule): آرڈر 41، رول 23 (Order XLI Rule 23 of Civil Procedure Code, 1908) کے تحت یہ لازمی ہے کہ ریمانڈ شدہ کیس کو اس کے اصل رجسٹرڈ نمبر پر ہی بحال رکھا جائے۔
لاہور ہائی کورٹ رولز کی خلاف ورزی: ہائی کورٹ نے پایا کہ ججز "رولز اینڈ آرڈرز آف لاہور ہائی کورٹ، والیم-I، چیپٹر 14-B، رول 22" کی کھلم کھلا خلاف ورزی کر رہے تھے۔
عدالتی ریمارکس: معزز چیف جسٹس نے واضح کیا کہ ایسے تمام کیسز کو عدالت کے رجسٹر پر "Pending Regular Suit" (زیر التوا باقاعدہ مقدمہ) تصور کیا جائے گا نہ کہ نیا کیس۔
🏛️ مدعی اور مدعا علیہ کے قانونی حقوق پر اثرات
مدعی / پٹیشنر کے حق میں فائدہ: اگر اپیلٹ کورٹ سے کیس مدعی کے حق میں ریمانڈ ہو کر واپس آتا ہے، تو اسے نئی تاریخوں کے چکر میں پڑے بغیر پرانی سینیارٹی (Seniority) کے مطابق فوری ریلیف ملے گا۔
مدعا علیہ / ڈفینڈر کے حق میں فائدہ: مدعا علیہ کو یہ فائدہ ہوگا کہ کیس کو دوبارہ نئے سرے سے طول دے کر اسے ہراساں نہیں کیا جا سکے گا اور پرانے ریکارڈ کے مطابق ہی کارروائی آگے بڑھے گی۔
👤 فری لیگل کنسلٹیشن اور رابطہ
اگر آپ کا کوئی کیس بھی نچلی عدالتوں میں ریمانڈ یا بحال ہونے کے بعد التوا کا شکار ہے، تو آپ قانونی رہنمائی کے لیے ہم سے رابطہ کر سکتے ہیں۔
ریحان اسلم چوہدری (ایڈووکیٹ ہائی کورٹ)
: "ریحان اسلم لا ایسوسی ایٹس اوکاڑہ"
ایڈریس: چیمبر نمبر 78، نیو بلاک، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اوکاڑہ
رابطہ نمبر: 03029019243
عوامی پیغام: اگر آپ کو ہماری پیج پر دی گئی معلومات سے فائدہ پہنچ رہا ہے اور آپ اپنے قانونی حقوق سے باخبر ہو رہے ہیں، تو براہِ کرم اس اہم معلومات کو اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں اور ہمارے پیج کو لائک ضرور کریں۔ آپ کا ایک شیئر کسی مظلوم کو وکیلوں اور عدالتوں کے چکروں سے بچا سکتا ہے!
Copied