Muhammad Rehan Ch Advocate High Court

Muhammad Rehan Ch Advocate High Court Member Lahore High Court Bar Association, Lahore. Solicitor & Advocate High Court
03029019243

ماتحت عدالتوں کی بڑی من مانی ختم۔ اب شہریوں کو خوار کرنے والے ججز کی خیر نہیں!لاہور ہائی کورٹ کا تاریخی اور سخت ترین حکم...
19/06/2026

ماتحت عدالتوں کی بڑی من مانی ختم۔ اب شہریوں کو خوار کرنے والے ججز کی خیر نہیں!
لاہور ہائی کورٹ کا تاریخی اور سخت ترین حکم نامہ جاری، اب انصاف پرانا نمبر بدلنے سے نہیں رکے گا۔
📝 نوٹیفکیشن کی تفصیلات (Notification Details)
جاری کنندہ عدالت: لاہور ہائی کورٹ، لاہور (ڈائریکٹوریٹ آف ڈسٹرکٹ جوڈیشری)
باہتمام: چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ (ہر لیڈی شپ)
مکتوب الیہ: پنجاب بھر کے تمام ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز
نوٹیفکیشن نمبر: 7548/P&D-I/DDJ
تاریخِ اجرا: 25 مئی 2026
کیپشن (Caption): > لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب بھر کی سول اور سیشن عدالتوں کی بڑی بے ضابطگی پکڑ لی! اکثر اوقات جب کوئی کیس اپیل سے واپس نچلی عدالت بھیجا جاتا (Remand) یا عدم پیروی پر خارج ہو کر بحال ہوتا، تو اسے نیا سال اور نیا نمبر دے کر برسوں پیچھے دھکیل دیا جاتا تھا۔ معزز چیف جسٹس نے اس ظلم کا نوٹس لیتے ہوئے اب سخت ترین ایکشن لے لیا ہے!
⚖️ ہائی کورٹ کا حتمی فیصلہ (Urdu Explanation)
لاہور ہائی کورٹ نے اپنے اس سخت ترین حکم نامے میں درج ذیل واضح فیصلے جاری کیے ہیں:
ماتحت عدالتوں میں ریمانڈ اور بحال ہونے والے کیسز کے نمبر بدلنے کی غیر قانونی روش کو فوری روک دیا گیا ہے۔
جب بھی کوئی اپیلٹ کورٹ کسی کیس کو دوبارہ ٹرائل کورٹ میں بھیجے گی، تو اسے پرانا نمبر ہی ملے گا۔
عدم پیروی (Non-prosecution) کی وجہ سے خارج ہونے والا کیس بحال ہونے پر بھی اپنی اصل تاریخ اور نمبر پر بحال ہوگا۔
تمام سیشن ججز کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنے اضلاع میں اس قانون پر "اسٹرکٹو سینسو" (سختی سے) عمل درآمد کروائیں۔
اب کسی بھی شہری کا کیس نچلی عدالت میں واپس آنے پر نئے کیس کے طور پر ڈیل نہیں کیا جائے گا۔
اس حکم کی خلاف ورزی کرنے والے جج یا عملے کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے گی۔
اس فیصلے کا مقصد سائلین کے وقت کو بچانا اور زیر التوا کیسز کو فوری منطقی انجام تک پہنچانا ہے۔
🔍 اہم قانونی نکات اور حوالہ جات (Key Legal Findings)
یہ فیصلہ کسی عام ہدایت پر مبنی نہیں بلکہ پاکستان کے ضابطہ دیوانی کے بنیادی قوانین کے تحت جاری کیا گیا ہے:
ضابطہ دیوانی کا حوالہ (CPC Rule): آرڈر 41، رول 23 (Order XLI Rule 23 of Civil Procedure Code, 1908) کے تحت یہ لازمی ہے کہ ریمانڈ شدہ کیس کو اس کے اصل رجسٹرڈ نمبر پر ہی بحال رکھا جائے۔
لاہور ہائی کورٹ رولز کی خلاف ورزی: ہائی کورٹ نے پایا کہ ججز "رولز اینڈ آرڈرز آف لاہور ہائی کورٹ، والیم-I، چیپٹر 14-B، رول 22" کی کھلم کھلا خلاف ورزی کر رہے تھے۔
عدالتی ریمارکس: معزز چیف جسٹس نے واضح کیا کہ ایسے تمام کیسز کو عدالت کے رجسٹر پر "Pending Regular Suit" (زیر التوا باقاعدہ مقدمہ) تصور کیا جائے گا نہ کہ نیا کیس۔
🏛️ مدعی اور مدعا علیہ کے قانونی حقوق پر اثرات
مدعی / پٹیشنر کے حق میں فائدہ: اگر اپیلٹ کورٹ سے کیس مدعی کے حق میں ریمانڈ ہو کر واپس آتا ہے، تو اسے نئی تاریخوں کے چکر میں پڑے بغیر پرانی سینیارٹی (Seniority) کے مطابق فوری ریلیف ملے گا۔
مدعا علیہ / ڈفینڈر کے حق میں فائدہ: مدعا علیہ کو یہ فائدہ ہوگا کہ کیس کو دوبارہ نئے سرے سے طول دے کر اسے ہراساں نہیں کیا جا سکے گا اور پرانے ریکارڈ کے مطابق ہی کارروائی آگے بڑھے گی۔
👤 فری لیگل کنسلٹیشن اور رابطہ
اگر آپ کا کوئی کیس بھی نچلی عدالتوں میں ریمانڈ یا بحال ہونے کے بعد التوا کا شکار ہے، تو آپ قانونی رہنمائی کے لیے ہم سے رابطہ کر سکتے ہیں۔
ریحان اسلم چوہدری (ایڈووکیٹ ہائی کورٹ)
: "ریحان اسلم لا ایسوسی ایٹس اوکاڑہ"
ایڈریس: چیمبر نمبر 78، نیو بلاک، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اوکاڑہ
رابطہ نمبر: 03029019243
عوامی پیغام: اگر آپ کو ہماری پیج پر دی گئی معلومات سے فائدہ پہنچ رہا ہے اور آپ اپنے قانونی حقوق سے باخبر ہو رہے ہیں، تو براہِ کرم اس اہم معلومات کو اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں اور ہمارے پیج کو لائک ضرور کریں۔ آپ کا ایک شیئر کسی مظلوم کو وکیلوں اور عدالتوں کے چکروں سے بچا سکتا ہے!
Copied

آپ کی طرف سے پوچھے جانے والے سوالات میں سے ایک اہم سوال کا جواب ہماری عمومی سوالات (FAQ) پوسٹ میں حاضر ہے۔ برائے مہربان...
12/06/2026

آپ کی طرف سے پوچھے جانے والے سوالات میں سے ایک اہم سوال کا جواب ہماری عمومی سوالات (FAQ) پوسٹ میں حاضر ہے۔ برائے مہربانی پوسٹ کو ملاحظہ فرمائیں۔

12/06/2026
11/06/2026

آج کل کی نئی نسل اکثریت ایسی ہے۔

11/06/2026

Pak Army

*پنجاب لینڈ ریونیو ایکٹ 1967 میں 2026 کی تاریخی ترامیم: "کاغذ سے کلاؤڈ تک".*21 مئی 2026 کو پنجاب اسمبلی نے "The Punjab L...
10/06/2026

*پنجاب لینڈ ریونیو ایکٹ 1967 میں 2026 کی تاریخی ترامیم: "کاغذ سے کلاؤڈ تک".

*21 مئی 2026 کو پنجاب اسمبلی نے "The Punjab Land Revenue Amendment Act 2026" منظور کر کے 1967 کے 58 سال پرانے نظام کی جڑیں ہلا دیں۔ یہ ترامیم محض الفاظ کی تبدیلی نہیں، بلکہ پنجاب کی 6 کروڑ عوام کی زمین کا نظام "پٹواری کلچر سے ARC کلچر" کی طرف شفٹ کر گئی ہیں۔

*1. مسئلہ کیا تھا؟ 3 بڑی بیماریاں*
1. *تاخیر*: وراثتی تقسیم 20-25 سال۔ "دادا کا کیس، پوتا لڑ رہا تھا"
2. *بدعنوانی*: انتقال = پٹواری کی جیب۔ بغیر 20-50 ہزار کام نہیں ہوتا تھا
3. *لٹکاؤ*: AC کا فیصلہ → کلکٹر اپیل → کمشنر ریویژن → بورڈ ریویژن → سول کورٹ۔ ایک کیس 4 فورم پر

*2. 2026 کا حل: 7 انقلابی تبدیلیاں*

*1. رجسٹری = انتقال*
اب رجسٹرار کی ڈیجیٹل اطلاع ملتے ہی زمین ریکارڈ خود اپ ڈیٹ ہو جائے گی۔ AC صرف 1 ماہ میں "تصدیق" کرے گا۔ پٹواری کے چکر ختم۔ PLRA + ای-اسٹامپ + لینڈ ریکارڈ ایک ہو گئے۔

*2. تقسیم 60 دن میں، لازمی*
نئی دفعہ 142-A: وراثتی انتقال منظور ہوتے ہی AC کے پاس 60 دن کی ڈیڈ لائن۔ فیصلہ نہ کیا تو کیس خود کلکٹر کے پاس چلا جائے گا اور AC کے خلاف محکمانہ کارروائی۔ تاریخ پر تاریخ کا کھیل ختم۔

*3 AC
کو مکمل اختیار
دفعہ 44، 117، 141 کے تحت اب تحصیلدار خود:
- زمین کے عنوان کا تنازعہ سنے گا۔
- ناجائز قابض سے 10,000 جرمانہ لے کر قبضہ واپس دلائے گا
- حدبندی کرے گا، پولیس ساتھ لے جائے گا

*4. سول کورٹ کا دروازہ بند۔
دفعہ 172: زمین کا ریکارڈ، انتقال، تقسیم، حدبندی - یہ سب "ریونیو کا کام" ہے۔ سول کورٹ دخل نہیں دے سکتی۔ 30 سال کی فورم شاپنگ ختم۔

*5. جرمانے 200 گنا بڑھ گئے۔
دفعہ 118: حدبندی میں رکاوٹ = 50 روپے سے 10,000 روپے
دفعہ 175-A: ریکارڈ میں جعل سازی = 500 روپے سے 1 لاکھ روپے
دفعہ 134: ریکارڈ میں ردوبدل = کلکٹر 10 لاکھ تک جرمانہ کرے گا

*6. "بھائی خود بانٹ لو" سکیم۔
نئی دفعہ 135-A: ورثاء اگر آپس میں راضی ہیں تو 1 سال کے اندر "پرائیویٹ پارٹیشن اسکیم" AC سے تصدیق کروا لیں۔ AC صرف چیک کرے گا۔ نہ بانٹو تو AC 60 دن میں زبردستی بانٹ دے گا۔

*7. ڈیجیٹل نوٹس + ڈیجیٹل سروے
دفعہ 6: سمن اب واٹس ایپ، SMS، ای میل پر بھی جائے گا۔ 7 دن کا وقت۔
دفعہ 119: موضع کی GPS/ڈرون سروے کا خرچہ مالکان دیں گے۔ نہ دو تو زمین سے وصولی۔

*3. عام آدمی کو کیا فائدہ؟*
1. *زمین بیچو*: رجسٹری کرو، گھر جاؤ۔ انتقال خود ہو جائے گا
2. *وراثت لو: والد کے مرنے کے بعد 60 دن میں زمین اپنے نام + حصہ الگ
3. *قبضہ چھڑاؤ: کسی نے زمین دبا لی؟ AC کو درخواست دو، وہ ناپ کر پولیس کے ساتھ واپس دلائے گا
4. *فراڈ سے بچو*: جھگڑے والی زمین پر AC فوراً "فروخت ممنوع" لگا دے گا۔ کوئی بیچ نہیں سکے گا

*4. نتیجہ: 1 لائن کا خلاصہ۔
2026 کی ترامیم کا مقصد صرف ایک ہے: *"زمین کا انصاف 120 دن میں، پٹواری کے بغیر، سول کورٹ کے بغیر"۔

یہ ایکٹ 21 مئی 2026 سے پورے پنجاب میں نافذ ہے۔ اب اگر آپ کی زمین کا کوئی مسئلہ ہے تومستند وکیل کے ذریعے تحصیلدار کے دفتر جائیں اور دفعہ 142-A کے تحت درخواست دیں۔ 60 دن کی ڈیڈ لائن قانون نے لکھ دی ہے۔

زمین اب کاغذ پر نہیں، کلاؤڈ پر ہے۔ اور انصاف اب فائل پر نہیں، ڈیڈ لائن پر ہے۔

پنجاب میں  پراپرٹی ترمیمی ایکٹ فعال، 575 کیسز میں حکم امتناعی ختم ہو گیا۔چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ عالیہ نیلم نے 36 اضلاع...
09/06/2026

پنجاب میں پراپرٹی ترمیمی ایکٹ فعال، 575 کیسز میں حکم امتناعی ختم ہو گیا۔

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ عالیہ نیلم نے 36 اضلاع میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کو ٹربیونلز مقرر کر دیا۔

چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ٹربیونل کے لیے ایڈیشنل ججز کی نامزدگیاں پنجاب حکومت کو ارسال کر دیں۔

ایڈیشنل سیشن جج بطور ٹربیونل بااختیار ہوں گے۔

ایڈیشنل سیشن جج سیف اللہ سوہل لاہور، ملتان میں ایڈیشنل سیشن جج غزالہ یاسمین، قصور میں ایڈیشنل سیشن جج محمد اشفاق، اٹک میں ایڈیشنل سیشن جج ندیم احمد سہیل چیمہ، بہاولنگر میں ایڈیشنل سیشن جج محمد صلابت جاوید بطور ٹربیونل نامزد،

بہالپور میں ایڈیشنل سیشن جج ساحر اسلام، بھکر میں ایڈیشنل سیشن جج محمد اعظم جاوید، چنیوٹ میں ایڈیشنل سیشن جج نعیم عباس، چکوال میں ایڈیشنل سیشن جج قاسم علی بھٹی، ڈی جی خان میں ایڈیشنل سیشن جج سرفراز حسین، فیصل آباد میں ایڈیشنل سیشن جج عمران شفیع خان طور ٹربیونل نامزد،

گوجرنوالہ میں ایڈیشنل سیشن جج محمد فرحان نبی، گجرات میں ایڈیشنل سیشن جج مظفر نواز ملک، حافظ آباد میں ایڈیشنل سیشن جج عمر رشید، جھنگ میں ایڈیشنل سیشن جج عمر فاروق خان، جہلم میں ایڈیشنل سیشن جج مرزا اورنگ زیب، خانیوال میں ایڈیشنل سیشن جج عبداللہ عثمان، خوشاب میں ایڈیشنل سیشن جج محمد بشیر بطور ٹربیونل نامزد،

لودھراں میں ایڈیشنل سیشن جج حمد ایاز، لیہ میں ایڈیشنل سیشن جج محمد پرویز نواز، منڈی بہاؤ الدین میں ایڈیشنل سیشن جج محمد فخر آفتاب احمد، میانوالی میں ایڈیشنل سیشن جج عبدالغفور، مظفر گڑھ میں ایڈیشنل سیشن جج محمد احمد حسنین خان، نارووال میں ایڈیشنل سیشن جج عالم شیر، ننکانہ صاحب میں ایڈیشنل سیشن جج مجاہد شیردل چیمہ بطور ٹربیونل نامزد،

اوکاڑہ میں ایڈیشنل سیشن جج خلیل احمد خان، پاکپتن میں ایڈیشنل سیشن جج اسد حفیظ، راولپنڈی میں ایڈیشنل سیشن جج چوہدری قاسم جاوید، راجن پور میں ایڈیشنل سیشن جج محمد اشرف، رحیم یار خان میں ایڈیشنل سیشن جج محمد بلال، ساہیوال میں ایڈیشنل سیشن جج محمد نعیم، سیالکوٹ میں ایڈیشنل سیشن جج عابد رضا خان بطو ٹربیونل نامزد،

شیخوپورہ میں ایڈیشنل سیشن جج عبدالحمید، سرگودھا میں ایڈیشنل سیشن جج ظفر حیات، ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ایڈیشنل سیشن جج محمد کاشف، وہاڑی میں ایڈیشنل سیشن جج محمد عمران۔ طور ٹربیونل نامزد کر دیئے گئے۔

Address

Office No. 73 Qauid E Azam Block District & Session Courts, District Complex Okara. , Office No. 5 Anab Centre, Fan Road Near High Court
Lahore

Opening Hours

Monday 09:00 - 16:00
Tuesday 09:00 - 16:00
Wednesday 21:00 - 04:00
Thursday 09:00 - 16:00
Friday 09:00 - 13:00
Saturday 09:00 - 16:00

Telephone

+923029019243

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Muhammad Rehan Ch Advocate High Court posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Muhammad Rehan Ch Advocate High Court:

Share