Lok Sujag

Lok Sujag Lok Sujag focuses on amplifying the voices of marginalized communities in Pakistan.
(5)

بلوچستان میں 23 ڈاکٹر معطل، 25 کو شوکاز    ڈاکٹر ماہنور پر تیزاب حملے کے خلاف احتجاجاً سرکاری ہسپتالوں میں ایمرجنسی کے ع...
15/06/2026

بلوچستان میں 23 ڈاکٹر معطل، 25 کو شوکاز
ڈاکٹر ماہنور پر تیزاب حملے کے خلاف احتجاجاً سرکاری ہسپتالوں میں ایمرجنسی کے علاوہ تمام طبی خدمات بند کرنے والے ڈاکٹروں کے خلاف بلوچستان حکومت نے کارروائی کرتے ہوئے 23 ڈاکٹروں کو معطل، 25 کو شوکاز نوٹس جاری اور پانچ پوسٹ گریجویٹ ٹرینی ڈاکٹروں کی تربیتی رجسٹریشن معطل کر دی ہے۔
حکومت بلوچستان کے محکمہ صحت کے مطابق مذکورہ ڈاکٹروں کے خلاف باضابطہ انکوائری کا بھی آغاز کر دیا گیا ہے۔ یہ کارروائی ڈاکٹر ماہنور پر تیزاب حملے کے اگلے روز صوبے بھر کے سرکاری ہسپتالوں میں شروع ہونے والی ہڑتال کے تناظر میں کی گئی، جس کے باعث ایمرجنسی سروسز کے علاوہ دیگر طبی خدمات تاحال معطل ہیں۔
وزیراعلیٰ بلوچستان کے معاون خصوصی برائے میڈیا، شاہد رند نے ایک بیان میں کہا ہے کہ عدالتی احکامات کے مطابق انسانی جانوں اور صحت سے متعلق اداروں میں ہڑتال، کام کی بندش اور عوامی خدمات میں تعطل پیدا کرنا غیر قانونی عمل ہے اور اس کی کسی صورت اجازت نہیں دی جا سکتی۔
انہوں نے کہا کہ محکمہ صحت نے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی، ہڑتال، خلافِ ضابطہ سرگرمیوں اور محکمہ جاتی نظم و ضبط کی پامالی کی بنیاد پر متعلقہ ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی کی ہے۔
شاہد رند نے خبردار کیا کہ لازمی سروسز سے غیر حاضر رہنے والے ملازمین کے خلاف قانون اور سروس رولز کے مطابق تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
چند روز قبل بلوچستان حکومت نے ہڑتال کرنے پر گریڈ 20 کی ایک پروفیسر سمیت 34 اساتذہ کو بھی جبری ریٹائر کر دیا تھا۔
رپورٹ: عاصم خان

15/06/2026

آزاد کشمیر کے مختلف شہروں میں ہڑتال، بازار، ہوٹل، بنک سب بند ہیں۔ محمد فواد کی رپورٹ

13/06/2026

پاکستان کی قومی فٹبال ٹیم کا کھلاڑی ایرانی پٹرول کا دھندہ کرنے پر کیوں مجبور ہے؟ حضرت علی کی رپورٹ

12/06/2026

خام کھال سے لیدر جیکٹ تک، پاکستان کی چمڑے کی صنعت کی موجودہ صورتحال کیا ہے؟

وفاقی بجٹ 27-2026ء کی آمد سے قبل ملک بھر میں سولر پلیٹس اور متعلقہ سسٹمز کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔...
12/06/2026

وفاقی بجٹ 27-2026ء کی آمد سے قبل ملک بھر میں سولر پلیٹس اور متعلقہ سسٹمز کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق سولر پلیٹس کی قیمتوں میں فی پلیٹ سات ہزار سے نو ہزار روپے تک کا اضافہ ہو چکا ہے۔
پاکستان میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی 585 واٹ کینیڈین سولر پلیٹ کی قیمت، جو کچھ عرصہ قبل تک 19 ہزار روپے تھی، اب بڑھ کر 30 ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے۔ سولر پینلز کی فی واٹ قیمتوں میں بھی مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں گزشتہ سال فی واٹ قیمت 30 روپے تھی، وہ اپریل 2026ء میں بڑھ کر 38 روپے اور جون کے پہلے ہفتے میں تقریباً 50 روپے فی واٹ تک جا پہنچی ہے۔
دس جون تک ریکارڈ کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق مختلف مشہور برانڈز کی قیمتیں بھی تیز رفتاری سے اوپر گئی ہیں۔ انورکس (Inverex) کی قیمت تقریباً 49 روپے فی واٹ ہو چکی ہے، جو گرمی کا سیزن شروع ہونے سے پہلے 38 روپے تھی۔ اسی طرح جے اے (JA) اور جینکو (Jinko) برانڈز کی قیمت 48 روپے فی واٹ تک ریکارڈ کی گئی ہے، جو گرمی سے پہلے بالترتیب 38 اور 39 روپے فی واٹ تھی۔
مردان کے ایک مقامی تاجر روائید خان نے بتایا کہ پینلز مہنگے ہونے کی وجہ سے عام صارفین کے لیے ہوم سسٹم لگوانا اب انتہائی مشکل ہو گیا ہے اور اب آٹھ پلیٹس پر مشتمل ایک گھریلو سولر سسٹم کی قیمت میں تقریباً 60 ہزار روپے تک کا اضافہ ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق سولر سسٹمز کی قیمتوں میں اس اچانک اور بڑے اضافے کی بنیادی وجوہات میں عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی کشیدگی، درآمدی لاگت میں اضافہ، پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور نئے مالی سال کے بجٹ میں متوقع ٹیکسز کے خدشات شامل ہیں۔
رپورٹ: عظمت علی شاہ

11/06/2026

پاکستان کا سب سے بڑا ہائیڈرو پاور منصوبہ، مگر 12 سال بعد بھی صرف 30٪ مکمل۔
ایک ہزار سات سو سینتیس ارب روپے , یہ ہے اس بجلی کی قیمت جسے "سستی" کہا جاتا ہے۔ داسو ڈیم ابھی پیداوار بھی شروع نہیں کر سکا، لیکن قرضوں اور سود کی ادائیگیاں پہلے ہی شروع ہو چکی ہیں۔
سوال صرف تاخیر کا نہیں، منصوبہ بندی کا ہے۔ جب بڑے توانائی منصوبے دہائیوں تک لٹکے رہیں، تو قیمت صرف خزانہ نہیں بلکہ صارف بھی ادا کرتا ہے, مہنگی بجلی، بڑھتے قرضے اور مسلسل انتظار کی صورت میں۔

11/06/2026

باجوڑ: پیڈو کا سولر گرڈ منصوبہ سات سال سے نامکمل۔

11/06/2026

کوئٹہ کی ایک چھت پر جنگل بھی ہے، ریگستان بھی، اور باغوں کی دنیا بھی سب ایک ساتھ۔ محمد آصف مینگل نے اپنے گھر کی چھت کو جو شکل دی ہے، وہ دیکھنے والی ہے۔ ظفر اللہ خان کی رپورٹ

10/06/2026

آدھا کلومیٹر۔ بس اتنا فاصلہ ہے ننکانہ کے گاؤں ینگسن آباد اور گیس کی مین لائن کے درمیان۔ پڑوسی گاؤں برسوں سے جڑے ہیں۔ یہ دو مسیحی بستیاں اٹھائیس سال سے انتظار میں ہیں۔ وجہ کیا ہے؟ جاوید حسین معاویہ کی رپورٹ

Address

329/1 Johar Avenue
Lahore
54000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Lok Sujag posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Lok Sujag:

Share