15/06/2026
بلوچستان میں 23 ڈاکٹر معطل، 25 کو شوکاز
ڈاکٹر ماہنور پر تیزاب حملے کے خلاف احتجاجاً سرکاری ہسپتالوں میں ایمرجنسی کے علاوہ تمام طبی خدمات بند کرنے والے ڈاکٹروں کے خلاف بلوچستان حکومت نے کارروائی کرتے ہوئے 23 ڈاکٹروں کو معطل، 25 کو شوکاز نوٹس جاری اور پانچ پوسٹ گریجویٹ ٹرینی ڈاکٹروں کی تربیتی رجسٹریشن معطل کر دی ہے۔
حکومت بلوچستان کے محکمہ صحت کے مطابق مذکورہ ڈاکٹروں کے خلاف باضابطہ انکوائری کا بھی آغاز کر دیا گیا ہے۔ یہ کارروائی ڈاکٹر ماہنور پر تیزاب حملے کے اگلے روز صوبے بھر کے سرکاری ہسپتالوں میں شروع ہونے والی ہڑتال کے تناظر میں کی گئی، جس کے باعث ایمرجنسی سروسز کے علاوہ دیگر طبی خدمات تاحال معطل ہیں۔
وزیراعلیٰ بلوچستان کے معاون خصوصی برائے میڈیا، شاہد رند نے ایک بیان میں کہا ہے کہ عدالتی احکامات کے مطابق انسانی جانوں اور صحت سے متعلق اداروں میں ہڑتال، کام کی بندش اور عوامی خدمات میں تعطل پیدا کرنا غیر قانونی عمل ہے اور اس کی کسی صورت اجازت نہیں دی جا سکتی۔
انہوں نے کہا کہ محکمہ صحت نے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی، ہڑتال، خلافِ ضابطہ سرگرمیوں اور محکمہ جاتی نظم و ضبط کی پامالی کی بنیاد پر متعلقہ ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی کی ہے۔
شاہد رند نے خبردار کیا کہ لازمی سروسز سے غیر حاضر رہنے والے ملازمین کے خلاف قانون اور سروس رولز کے مطابق تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
چند روز قبل بلوچستان حکومت نے ہڑتال کرنے پر گریڈ 20 کی ایک پروفیسر سمیت 34 اساتذہ کو بھی جبری ریٹائر کر دیا تھا۔
رپورٹ: عاصم خان