16/01/2026
پاکستان کا بجلی بحران صرف لوڈشیڈنگ یا تکنیکی خرابیوں تک محدود نہیں، اصل مسئلہ یہ ہے کہ بجلی کے مہنگے دام کون ادا کر سکتا ہے اور کون نہیں۔
صرف تین برسوں میں سبسڈی لینے والے بجلی صارفین کی تعداد 95 لاکھ سے بڑھ کر 2 کروڑ 7 لاکھ ہو گئی ہے۔ یہ وہ گھرانے ہیں جو ماہانہ 200 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرتے ہیں اور ’لائف لائن ٹیرف‘ کے تحت 7.74 سے 13 روپے فی یونٹ ادا کرتے ہیں، جبکہ دوسرے صارفین کے لیے قیمت تقریباً 25 روپے فی یونٹ ہے۔
اس تیزی سے اضافے کے پیچھے تین بڑے عوامل ہیں:
پہلا عنصر بڑھتی ہوئی غربت ہے۔ 2021 سے 2024 کے معاشی بحران، شدید مہنگائی، بیروزگاری اور روپے کی قدر میں کمی نے صرف ایک سال میں تقریباً 1 کروڑ 30 لاکھ افراد کو غربت میں دھکیل دیا۔ آمدن کم ہونے کے باعث گھریلو صارفین نے بجلی کا استعمال گھٹا دیا، جس سے وہ سبسڈی والے کیٹیگری میں آ گئے۔
دوسری وجہ صارفین کی بڑی تعداد کی سولر کی طرف منتقلی ہے۔ بجلی کے نرخ بڑھنے سے گھروں میں سولر سسٹم تیزی سے لگے۔ پاکستان میں تقریباً 16,600 میگاواٹ تک کی صلاحیت والے گھریلو سولر سسٹم نصب ہیں، جن کا بڑا حصہ نیٹ میٹرنگ کے بغیر گرڈ سے جڑا ہوا۔ ان صارفین کی گرڈ سے بجلی کھپت کم ہو گئی، جس سے گرڈ کی بجلی کا استعمال سبسڈی کی حد سے نیچے آ گیا۔
تیسری وجہ مہنگی بجلی کی وجہ سے رویّوں میں تبدیلی ہے۔ 200 یونٹ کے بعد بجلی کے نرخوں میں اچانک اضافے نے صارفین کے رویّے بدل دیے ہیں۔ عوام جان بوجھ کر خرچ کم رکھنے کے لیے بجلی کا استعمال محدود کرتے ہیں اور برقی آلات کم چلاتے ہیں۔
رپورٹ: محسن مدثر