Lok Sujag

Lok Sujag Lok Sujag focuses on amplifying the voices of marginalized communities in Pakistan.
(2)

الزامات سندھ کابینہ سے ہوتے ہوئے سینٹ کی قائمہ کمیٹی تک پہنچ گئے ہیں اور اب محکمہ اینٹی کرپشن معاملے کی تفتیش کر رہا ہے۔...
18/01/2026

الزامات سندھ کابینہ سے ہوتے ہوئے سینٹ کی قائمہ کمیٹی تک پہنچ گئے ہیں اور اب محکمہ اینٹی کرپشن معاملے کی تفتیش کر رہا ہے۔ ورلڈ بینک، جس نے اس پراجیکٹ کے لیے رقم دی تھی، وہ بھی اپنے تئیں تحقیقات کر رہا ہے۔

مکمل سٹوری کا لنک پہلے کمنٹ میں

وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) تصدیق کرتی ہے کہ سال بھر میں 66 ہزار سے زائد مسافروں کو ائیرپورٹس پر روکا گیا جبکہ 20...
17/01/2026

وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) تصدیق کرتی ہے کہ سال بھر میں 66 ہزار سے زائد مسافروں کو ائیرپورٹس پر روکا گیا جبکہ 2024ء میں ایسےافراد کی تعداد لگ بھگ 35 ہزار تھی۔

مکمل سٹوری کا لنک پہلے کمنٹ میں

پاکستان کے بجلی صارفین سے فی یونٹ 3.23 روپے قرض سرچارج 2032ء  تک وصول کیا جائے گا ۔اس لیے نہیں کہ بجلی بنانا مہنگا ہے،بل...
17/01/2026

پاکستان کے بجلی صارفین سے فی یونٹ 3.23 روپے قرض سرچارج 2032ء تک وصول کیا جائے گا ۔اس لیے نہیں کہ بجلی بنانا مہنگا ہے،بلکہ اس لیے کہ پاور سیکٹر لائن لاسز، بدانتظامی اور بجلی چوری میں پھنسا ہوا ہے۔جب گردشی قرضہ 18 کھرب روپے سے تجاوز کر چکا ہے تو اس ناکام نظام کی قیمت براہِ راست گھریلو صارفین سے وصول کی جا رہی ہے اور سب سے زیادہ بوجھ کم آمدن والے طبقے پر ڈالا جا رہا ہے۔

قرض اتارنا شاید ناگزیر ہو، مگر اصلاحات کے بغیر یہ سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ حکومت کی ناقص پالیسیوں کا خمیازہ ہمیشہ عوام ہی بھگتیں گے؟

رپورٹ: عزیز الدین

16/01/2026

سندھ: لوگ احتجاج کرتے رہے مگر حکومت نہ مانی، آج چٹیاریو ڈیم سے زراعت، جھیلیں اور ماہ گیری تباہ ہو گئی ہے۔

پاکستان کا بجلی بحران صرف لوڈشیڈنگ یا تکنیکی خرابیوں تک محدود نہیں، اصل مسئلہ یہ ہے کہ بجلی کے مہنگے دام کون ادا کر سکتا...
16/01/2026

پاکستان کا بجلی بحران صرف لوڈشیڈنگ یا تکنیکی خرابیوں تک محدود نہیں، اصل مسئلہ یہ ہے کہ بجلی کے مہنگے دام کون ادا کر سکتا ہے اور کون نہیں۔
صرف تین برسوں میں سبسڈی لینے والے بجلی صارفین کی تعداد 95 لاکھ سے بڑھ کر 2 کروڑ 7 لاکھ ہو گئی ہے۔ یہ وہ گھرانے ہیں جو ماہانہ 200 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرتے ہیں اور ’لائف لائن ٹیرف‘ کے تحت 7.74 سے 13 روپے فی یونٹ ادا کرتے ہیں، جبکہ دوسرے صارفین کے لیے قیمت تقریباً 25 روپے فی یونٹ ہے۔
اس تیزی سے اضافے کے پیچھے تین بڑے عوامل ہیں:
پہلا عنصر بڑھتی ہوئی غربت ہے۔ 2021 سے 2024 کے معاشی بحران، شدید مہنگائی، بیروزگاری اور روپے کی قدر میں کمی نے صرف ایک سال میں تقریباً 1 کروڑ 30 لاکھ افراد کو غربت میں دھکیل دیا۔ آمدن کم ہونے کے باعث گھریلو صارفین نے بجلی کا استعمال گھٹا دیا، جس سے وہ سبسڈی والے کیٹیگری میں آ گئے۔
دوسری وجہ صارفین کی بڑی تعداد کی سولر کی طرف منتقلی ہے۔ بجلی کے نرخ بڑھنے سے گھروں میں سولر سسٹم تیزی سے لگے۔ پاکستان میں تقریباً 16,600 میگاواٹ تک کی صلاحیت والے گھریلو سولر سسٹم نصب ہیں، جن کا بڑا حصہ نیٹ میٹرنگ کے بغیر گرڈ سے جڑا ہوا۔ ان صارفین کی گرڈ سے بجلی کھپت کم ہو گئی، جس سے گرڈ کی بجلی کا استعمال سبسڈی کی حد سے نیچے آ گیا۔
تیسری وجہ مہنگی بجلی کی وجہ سے رویّوں میں تبدیلی ہے۔ 200 یونٹ کے بعد بجلی کے نرخوں میں اچانک اضافے نے صارفین کے رویّے بدل دیے ہیں۔ عوام جان بوجھ کر خرچ کم رکھنے کے لیے بجلی کا استعمال محدود کرتے ہیں اور برقی آلات کم چلاتے ہیں۔

رپورٹ: محسن مدثر

16/01/2026

طور خم: بارڈر بند ہے، مزدور گھر کا سامان فروخت کر رہے ہیں اور کوئی راشن بھی ادھار دینے کو تیار نہیں۔

اوکاڑا اور پاکپتن سب سے آگے، لیکن قصور، ساہیوال، وہاڑی اور خانیوال بھی کم نہیں۔ پنجاب میں آلو کی کاشت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ...
16/01/2026

اوکاڑا اور پاکپتن سب سے آگے، لیکن قصور، ساہیوال، وہاڑی اور خانیوال بھی کم نہیں۔

پنجاب میں آلو کی کاشت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں اس کی وجہ کیا ہو سکتی ہے؟

16/01/2026

باجوڑ کے علاقے ارنگ میں کبھی زیتون ہوتے تھے، ٹماٹر، پیاز، اور گندم اگتی تھی مگر اب یہ علاقہ تیزی سے بنجر ہو رہا ہے۔
رپورٹ: ارشد مومند

16/01/2026

پسنی کے ماہی گیر فش ہاربر کی بندش اور جیٹی کے بغیر بڑھتے ہوئے اخراجات کا سامنا کررہے ہیں۔ نامناسب حالات کی وجہ سے ماہی گیری کا قدیمی پیشہ زوال کا شکار ہو رہا ہے۔
رپورٹ: کے ڈی بلوچ

15/01/2026

وادی ہنزہ کے گاؤں ناصر آباد میں عورتیں، مرد، بچے، بوڑھے کیوں سڑکوں پر نکل آئے ہیں؟ کون سی مجبوری نے انہیں راکا پوشی کی ٹھنڈی ہواؤں کا سامنا کرنے پر مجبور کیا ہے؟ دیکھیے مبارک حسین آزاد کی رپورٹ

حکام کے مطابق ملک میں بجلی کی قلت تقریباً 4,000 میگاواٹ تک پہنچ گئی ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں جن میں شدید دھند کے باعث بج...
15/01/2026

حکام کے مطابق ملک میں بجلی کی قلت تقریباً 4,000 میگاواٹ تک پہنچ گئی ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں جن میں شدید دھند کے باعث بجلی گھروں کا ٹرپ ہونا، سردیوں میں ہائیڈل پاور کا تقریباً ختم ہونا، لاہور کے پاور پلانٹس کو گیس کی کم سپلائی، نیٹ میٹرینگ سے آنے والی بجلی میں کمی اور ساہیوال کوئلہ پاور پلانٹ کے ایک یونٹ کا بند ہونا شامل ہیں۔

نجی بجلی گھروں (IPPs) کے ساتھ مہنگے معاہدے اس بنیاد پر برقرار رکھے گئے کہ ان کی اضافی پیداوار ملک کو کسی بھی بحران میں بجلی کی فراہمی یقینی بنائے گی۔ صارفین اس مد میں اربوں روپے کی کیپیسٹی پیمنٹس کر رہے ہیں، مگر لوڈ شیڈنگ پھر بھی ہورہی ہے۔ پنجاب میں دھند ہر سال آتی ہے، لیکن مختلف حکام کے میڈیا میں دیے گئے بیانات سے ایسا لگتا ہوتا ہے کہ جیسے دھند پہلی بار آئی ہے۔

سسٹم کے مسائل کی وجہ سے شہروں میں صارفین کو 3–6 گھنٹے اور دیہی علاقوں میں 6–12 گھنٹے لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے۔ واسا کے ٹوب ویل بند ہونے سے پانی کی کمی اور شدید سردی میں گرم پانی کی غیر دستیابی بھی بڑے مسئلے بن گئے ہیں۔ اضافی کپیسیٹی پیمینٹس اور سرچارجز کی ادائیگی کے باوجود بجلی کا نہ ہونا صارفیں کے لیے پریشان کن ہے۔

رپورٹ: محسن مدثر

گنے کے کاشتکار کو بہتر نرخ دینے کی سزا کے طور پر پولیس کے ذریعے ڈہرکی میں واقع الائنس شوگر ملز بند کرا دی گئی ہے۔ یہ ملز...
15/01/2026

گنے کے کاشتکار کو بہتر نرخ دینے کی سزا کے طور پر پولیس کے ذریعے ڈہرکی میں واقع الائنس شوگر ملز بند کرا دی گئی ہے۔ یہ ملز کرشنگ سیزن کے آغاز پر 495 روپے فی من کے حساب سے گنا خرید رہی تھی، اس کے برعکس ضلع کی دیگر شوگر ملیں ساڑھے چار سو روپے فی من پر گنا خرید رہی ہیں، جو کسانوں کے مطابق لاگت بھی پوری نہیں کرتا۔

الائنس شوگر مل خسرو بختیار سے منسوب بتائی جاتی ہے۔ پولیس نے شوگر مل پر چھاپہ مار کر افسران کے کمروں کے دروازے توڑے، آٹھ سے زائد افسران و ملازمین کو گرفتار کیا اور تھانے منتقل کر دیا۔

پولیس نے شوگر مل آنے جانے والے راستوں پر ناکہ بندی کی، گنے سے بھری ٹرالیاں روکیں اور کاشتکاروں کو ہراساں کیا۔بعض کسانوں کے مطابق ان کی ٹرالیاں زبردستی دیگر شوگر ملوں کی طرف موڑ دی گئیں، جہاں کم نرخوں پر گنا فروخت کرنے پر مجبور کیا گیا۔

شوگر مل انتظامیہ کے نمائندے چوہدری تنویر کے مطابق کئی روز سے الائنس شوگر مل آنے والی ٹرالیاں روکی جا رہی تھیں اور انکار کی صورت میں ٹریکٹر ٹرالیوں کے خلاف دفعہ 550 کے تحت مقدمات درج کیے جا رہے تھے۔

دوسری جانب پولیس نے اوباوڑو تھانے میں سرکار کی مدعیت میں ایف آئی آر درج کر کے دعویٰ کیا ہے کہ وہ روپوش ملزم موسو بھٹو کی اطلاع پر شوگر مل میں داخل ہوئے جہاں مبینہ طور پر پولیس پر حملہ کیا گیا۔ تاہم شوگر مل انتظامیہ اور کسان تنظیموں نے اس مؤقف کو مسترد کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ ضلع گھوٹکی میں دسمبر کے آغاز پر گنے کی کٹائی کے باوجود کئی شوگر ملوں نے مہینوں تک گنا نہیں اٹھایا، جس کے باعث کھیتوں میں کھڑا گنا سوکھنے لگا تھا اور کسانوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ الائنس شوگر ملز کو دسمبر کے پہلے ہفتے بند کردیا گئیا تھا جس کے بعد کاشتکار سڑکوں پر نکل آئے تھے جس کے بعد مل کو کھول دیا گیا تھا۔

کاشتکار شہزاد کشمیری اور آدم پتافی سمیت دیگر آبادگاروں کا کہنا ہے کہ حکومتِ سندھ کی جانب سے گنے کا سرکاری نرخ مقرر نہ ہونے کا فائدہ شوگر مل مافیا اٹھا رہی ہے، جبکہ 450 روپے فی من کی قیمت کسان کے سال بھر کے اخراجات بھی پورے نہیں کرتی۔

Address

329/1 Johar Avenue
Lahore
54000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Lok Sujag posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Lok Sujag:

Share