Qiswa

Qiswa Allah help those who help others.....

25/05/2024

ہندوستان کی ریاست کتیانہ جونا گڑھ میں ایک سنگ تراش رہتا تھا جو حضور نبی کریم صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کا دیوانہ تھا💚❤
درودشریف سے اسے محبت تھی کام کے دوران بھی وہ درودشریف پڑھتا رہتا تھا درودشریف کی مشہور کتاب دلائل الخیرات اسے زبانی یاد تھی❤
اس کا ایک معمول تھا جب بھی کوئی پتھر تراشتا تو اس کا ایک باب پڑھتا. ایک دفعہ حج کے موسم میں قافلے مکہ مکرمہ کی طرف رواں دواں تھے تو اس کی قسمت کا ستارہ چمک اٹھا💞
ایک رات جب سویا تو دل کی آنکھیں کھل گئیں. کیا دیکھتا ہے کہ مدینہ منورہ میں حاضر ہے اور حضور نبی کریم صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم بھی جلوہ فرما ہیں💚
سبز گنبد کے انوار سے فضا منور ہو رہی ہے اور مسجد نبوی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے مینار بھی نور برسا رہے ہیں، مگر ایک مینار کا کنگرہ شکستہ تھا❤
اتنے میں حضور نبی کریم صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے لب مبارک کو جنبش ہوئی اور الفاظ یوں ترتیب پائے دیوانے وہ دیکھو، ہماری مسجد کے مینار کا ایک کنگرہ ٹوٹ گیا ہے، تم ہمارے مدینہ منورہ میں آؤ اور اس کنگرے کو ازسرنو بنا دو💞
جب اس سنگ تراش کی آنکھ کھلی تو کانوں میں حضور نبی کریم صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے ادا کئے ہوئے کلمات گونج رہے تھے💚
مدینے کا بلاوہ آ چکا تھا. مگر سنگ تراش کی آنکھوں میں یہ سوچ کر آنسو آئے کہ میں تو بہت غریب ہوں، میرے پاس مدینہ منورہ جانے کے وسائل کہاں ہیں، لیکن عشق نے ہمت دی، 😥
آرزو نے دلاسہ دیا کہ تمہیں تو خود حضور نبی کریم صلی علیہ وآلہ وسلم نے بلایا ہے، تم وسائل کی فکر کیوں کرتے ہو. چنانچہ دیوانے نے رخت سفر باندھا. اوزار کا تھیلا کندھے پر چڑھایا اور پور بندر کی بندرگاہ کی طرف چل پڑا
ادھر پور بندر کی بندرگاہ پر سفینہ مدینہ تیار کھڑا تھا مسافر پورے ہو چکے تھے مگر عجیب تماشا تھا کہ کپتان کی کوشش کے باوجود سفینہ چلنے کا نام نہ لیتا تھا💞
اتنے میں جہاز میں سے کسی کی نظر دور سے جھومتے ہوئے آتے دیوانے پر پڑی لوگ سمجھے کہ شاید ایک مسافر رہ گیا تھا جہاز گہرے پانی میں کھڑا تھا. دیوانے کو لینے کے لیے ایک کشتی آئی💞
دیوانہ اس کشتی کے ذریعے جہاز میں سوار ہو گیا. اس کے سوار ہوتے ہی جہاز جھومتا ہوا مدینے چل پڑا. نہ اس سے کسی نے ٹکٹ مانگا. نہ اس کے پاس تھا. بالآخر دیوانہ مدینہ منورہ پہنچ گیا💚❤
اب دیوانہ جھومتا ہوا روضہ رسول صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی طرف چلا جا رہا تھا کچھ خدام حرم کی نظر دیوانے پر پڑی تو پکار اٹھے ارے یہ تو وہی ہے جس کا حلیہ ہمیں دکھایا گیا ہے💞
دیوانے نے اشکبار آنکھوں سے سنہری جالیوں پر حاضری دی. پھر باہر آ کر خواب میں جو جگہ دکھائی گئی تھی، اس کو دیکھا تو واقعی ایک کنگرہ شکستہ تھا❤
اپنی کمر میں رسی بندھوا کر خدام کی مدد سے دیوانہ گھٹنوں کے بل اوپر چڑھا اگر حضور نبی کریم صلی ﷲ علیہ وسلم کا حکم نہ ہوتا تو عاشق گنبد و مینار پر جانے کی جرأت تو کجا ایسا کرنے کے لیے سوچ بھی نہیں سکتا💞
اور حسب الارشاد کنگرہ ازسرنو بنا دیا واہ رے دیوانے دیوانے کی خوش بختی جب دیوانے کی بے تاب روح نے سبز گنبد کا قرب پایا تو بے قراری اور اضطراب بے حد بڑھ گیا. دیوانہ کام مکمل کر چکا تھا اور اب اسے نیچے آنا تھا،
لیکن اس کی روح مضطر نے لوٹنے سے انکار کر دیا. جب دیوانے کا وجود نیچے آیا تو دیکھنے والوں کے کلیجے پھٹ گئے کیوں کہ دیوانے کی روح تو کبھی کی سبز گنبد کی رعنائیوں پر نثار ہو چکی تھی❤💚
دیوانہ دم توڑ چکا تھا💞
💞 فِداک اٙبِی و اُمّی و رُوحِی و ماٰلی و نٙفسی و وٙلدیّ یٙارٙسُول اللّہ ﺻَﻠّﯽ ﺍﻟﻠّٰﮧُ علیہ ﻭَّﺁﻟِﮧ ﻭَﺳَﻠَّﻢَ 💞
💚اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَاسَیَّدِیْ یَارَسُوْلَ اللہ❤
❤اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَاسَیَّدِیْ یَاحَبِیْبَ اللہﷺ💚
💚اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَاسَیَّدِیْ یَا نُوْرَ اللہﷺ❤
❤اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَاخَاتَمُ الْاَنْبِیَاءِ وَالْمُرْسَلِیْنْﷺ💚
❤💚

مکہ سے کربلا تقریباً 1731 کلومیٹر ہے۔ یہ فاصلہ گوگل میپ کے مطابق 18 گھنٹے بذریعہ  مشینری مطلب گاڑی وغیرہ میں طے کیا جا س...
27/07/2023

مکہ سے کربلا تقریباً 1731 کلومیٹر ہے۔
یہ فاصلہ گوگل میپ کے مطابق 18 گھنٹے بذریعہ مشینری مطلب گاڑی وغیرہ میں طے کیا جا سکتا ہے مگر آج سے1381 سال پہلے یہ فاصلہ ایک مُشکل اور تکلیف دہ راستہ تھا، جس پر امام حُسین علیہ السلام نے اپنا سفر 8 ذلحج 60 حجری یعنی 10 ستمبر 680 عیسوی کو اپنے اہل خانہ کیساتھ شروع کیا۔

سفر شروع کرنے کے بعد تاریخ کی کتابوں میں 14 مختلف مقامات کا ذکر ملتا ہے، جہاں امام نے یا پڑاؤ کیا یا مختلف لوگوں سے ملے اور یا لوگوں سے خطاب کیا۔۔
اس آرٹیکل میں ان 14 مقامات کا سرسری ذکر کیا جائے گا تاکہ جو لوگ نہیں جانتے اُنہیں سفر اور راستے کی تھوڑی آگاہی ہوسکے۔

نمبر 1: الصفا
یہ پہلا مقام تھا امام اس جگہ پر عرب کے مشہور شاعر الفرزدق سے ملے اور اُس سے کوفہ کے حالات پُوچھے ، شاعر بولا ” کوفہ والوں کے دل آپ کے ساتھ ہیں اور اُن کی تلواریں آپ کے خلاف ہیں”۔
شاعر نے امام کو کوفہ جانے سے روکا، مگر امام اپنا سفر شروع کر چُکے تھے۔

نمبر 2: ذات عرق
مکہ سے کوفہ جاتے ہُوئے یہ دوسرا مقام ہے جو مکہ سے تقریباً 92 کلومیٹر پر ہے، اس مقام پر امام اپنے کزن عبداللہ ابن جعفر سے ملے اور اس مقام پر عبداللہ ابن جعفر نے اپنے دونوں بیٹوں عون اور مُحمد کو امام کی خدمت میں پیش کیا اور ساتھ ہی امام کو کوفہ جانے سے روکا، جس پر امام نے جواب دیا:
”میری منزل اللہ کے ہاتھ میں ہے”۔

نمبر 3: بطن الروما۔
یہ مقام ذات عرق سے کُچھ کلومیٹر آگے ہے یہاں امام نے قیس بن مشیر کے ہاتھ کوفہ والوں کو خط لکھا اور یہاں امام کی مُلاقات عبداللہ بن مطیع سے ہُوئی جو عراق سے آرہا تھا۔ عبداللہ نے امام کو آگے جانے سے روکا اور بولا ” کوفہ والوں پر بھروسا نہیں کیا جا سکتا وہ اہل وفا میں سے نہیں" مگر امام نے اپنا سفر جاری رکھا۔

نمبر 4: زرود۔۔
حجاز کی پہاڑیوں پر یہ ایک چھوٹا سا ٹاون تھا اور یہاں پر حجاز کی پہاڑیوں کا سلسلہ ختم ہوجاتا ہے اور عرب کا تپتا ریگستان شروع ہوتا ہے۔ یہاں امام کی مُلاقات زُہیر ابن القین سے ہُوئی۔ اُسے جب پتہ چلا کہ امام کس مقصد کے لیے جارہے ہیں تو اُس نے اپنا تمام سامان اپنی بیوی کے حوالے کیا اور اُسے کہا کہ تم گھر جاؤ میری خواہش ہے کہ میں امام کے ساتھ قتل ہو جاؤں۔

نمبر 5: زبالہ
اس مقام پر امام کی مُلاقات دو آدمیوں سے ہُوئی جن کا تعلق عرب کے قبیلہ اسدی سے تھا انہوں نے امام کو کوفہ والوں کے ہاتھوں جناب مسلم بن عقیل کی شہادت کی خبر دی۔
امام نے فرمایا "بیشک ہم اللہ کے لیے ہیں اور اُسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں اور بیشک وہ ہماری قُربانیوں کا حساب رکھنے والا ہے”۔
اس مُقام پر امام نے اپنے ساتھ چلنے والوں کو بتایا کے جناب مُسلم اور جناب ہانی کو شہید کر دیا گیا ہےاور کوفہ والے ہماری نُصرت نہیں کریں گے، امام نے اس مقام پر فرمایا جو چھوڑ کر جانا چاہتا ہے واپس چلا جائے۔

بہت سے قبائل جو راستے میں امام کے ساتھ اس اُمید پر چل پڑے تھے کہ اُنہیں مال و دولت ملے گی اس مقام پر ادھر اُدھر بکھر گئے اور واپس اپنے گھروں کو لوٹ گئے اور امام کے ساتھ اُن کے اہل خانہ سمیت تقریباً پچاس لوگ رہ گئے۔

نمبر 6: بطن العقیق
اس مُقام پر امام اکرمہ قبیلے کے ایک آدمی سے ملے جس نے امام کو آگاہ کیا کہ "کوفہ میں آپ کا کوئی دوست نہیں، کوفہ کو یزید کے لشکر نے گھیرے میں لے لیا ہے اور اُس کے داخلی اور خارجی دروازے بند کر دئیے ہیں اور کوفہ تشریف نہ لے جائیں” ۔ یہاں بھی امام نے اپنا سفر جاری رکھا۔

نمبر 7: Sorat
اس مُقام پر امام نے رات بسر کی اور صبح اپنے قافلے سے کہا کہ جتنا پانی ہوسکتا ہے ساتھ لے لیں۔

نمبر 8: شرف
اس مُقام پر امام کے ساتھیوں میں سے ایک چلایا کے اُس نے ایک لشکر کو اپنی طرف آتے دیکھا ہے، امام فوراً قافلے کا رُخ موڑ کر قریب ایک پہاڑ کے پیچھے لے گئے۔

نمبر 9: ذو حسم۔۔
اس مُقام پر امام کی مُلاقات حُر اور اُس کے ایک ہزار سپاہیوں ہُوئی جو پیاسے تھے، امام نے سب کو پانی پلانے کا حُکم دیا اور بذات خُود بھی سب کو پانی پلایا اور جانوروں کو بھی پانی پلایا گیا، اس مُقام پر ظہر کی نماز ادا کی گئی اور سب نے ملکر امام کی امامت میں نماز ظہر ادا کی۔

اس مُقام پر امام نے حُراور اُس کی فوج سےخطاب کیا اور فرمایا ، مفہوم” او اہل کوفہ تُم لوگوں نے میرے پاس اپنے قاصد بھیجے اور مُجھے خطوط لکھے کہ تُم لوگوں کے پاس کوئی امام نہیں اور میں کوفہ آؤں اور تم لوگوں کو اللہ کے راستے میں اکھٹا کرؤں اور تم لوگ میری بیعت کر سکو، تم لوگوں نے لکھا کے آپ اہل بیعت ہیں اور ہمارے معاملات کو اُن لوگوں کی نسبت جو ناانصافی کرتے ہیں اور غلط ہیں، بہتر طریقے سے حل کر سکتے ہیں، مگر اگر تُم لوگوں نے اپنا ارادہ بدل لیا ہے اور مُنکر ہوگئے ہو اور اہل بیعت کے حقوق نہیں جانتے اور اپنے وعدوں سے پھر گئے ہوتو میں واپس چلا جاتا ہُوں”۔
حُر کے لشکر نے امام کو واپس نہیں جانے دیا اور اُنہیں گھیر کر کوفہ کی بجائے کربلا کی طرف لے گئے۔

نمبر 10: بیضہ
امام اگلے دن بیضہ پہنچے اور اس مقام پر پھر حُر کے لشکر سے خطاب کیا آپ نے فرمایا، مفہوم "لوگو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے جو شخص ایسے بادشاہ کو دیکھے جو ظالم ہو اللہ کے حرام قرار دئیے کو حلال کہے ، خُدائی عہدوپیمان کو توڑے ، سنت رسول کی مخالفت کرے اور اللہ کے بندوں پر گُناہ اور زیادتی کیساتھ حکومت کرتا ہو، تو وہ شخص اپنی زبان اپنے فعل اور اپنے ہاتھ سے اُس بادشاہ کو نہ بدلے تو اللہ کو حق پہنچتا ہے کے ایسے شخص کو اُس بادشاہ کی جگہ جہنم میں داخل کرے”۔
امام نے اس مُقام پر مزید فرمایا ، مفہوم” لوگو تمہیں معلوم نہیں کہ جن لوگوں نے شیطان کی اطاعت اختیارکی اور اللہ سے مُنہ پھیرا، مُلک میں فساد برپا کیا، حدود شرح کو معطل کیا اور مال غنیمت کو اپنے لیے مختص کر دیا، ایسی صورت میں مُجھ سے زیادہ کس پر فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ اصلاح کی کوشش کرے، میرے پاس تمہارےقاصد آئے اور خطوط پہنچے کے تُم نے بیعت کرنی ہے اور تُم میرے مدد گار بنو گے اور مُجھے تنہا نہ چھوڑو گے، پس اگر تُم اپنا وعدہ پُورا کرو گے تو سیدھے راستے پر پہنچو گے”۔

امام نے یہاں لوگوں کو اپنے حسب اور نسب کا حوالہ دیا اور فرمایا، مفہوم "اگر تُم اپنے وعدے سے پھر جاؤ گے تو تعجب نہیں، تُم اس سے پہلے میرے والد اور میرے چچا زاد بھائی مُسلم کیساتھ ایسا ہی کر چُکے ہو اور عنقریب اللہ مُجھے تمہاری مدد سے بے نیاز کر دے گا”۔

امام کی تقریر سُن کر حُر نے امام سے کہا کہ اگر آپ نے جنگ کی تو آپکو قتل کر دیا جائے گا، امام نے فرمایا "تُم مُجھے موت سے ڈراتے ہو اور کیا تمہاری شقاوت اس حد تک پہنچے گی کہ مُجھے قتل کر دو گے”۔

حُر کے لشکر پر کوئی اثر نہ ہُوا اور وہ امام کو کربلا کی طرف گھیر کر لیجاتے رہے۔

نمبر 11: عزیب الحجنات۔
اس مُقام پر امام کی مُلاقات طرماح بن عدی سے ہُوئی جس نے امام کو کوفے والوں کے خطرناک ارادے سے آگاہ کیا، جسے امام پہلے ہی جانتے تھے اور امام سے اپنے ساتھ کوہ آجاہ چلنے کی درخواست کی تاکہ امام وہاں پناہ لے سکیں۔ امام نے فرمایا، مفہوم "اللہ تعالی تمہیں اور تمہاری قوم کو جزائے خیر دے، ہم میں اور ان لوگوں میں عہد ہو چُکا ہے اور اب ہم اس عہد سے پھر نہیں سکتے”۔

نمبر 12: قصر بنی مقاتل۔۔
فیصلہ ہوچُکا تھا کہ امام کو کوفہ نہیں جانے دیا جائے گا چنانچہ حُر کے لشکر نے کوفہ کا راستہ بدل کر امام کوگھیر کر کربلا کی طرف لیجانا شروع کیا اور امام راستے میں قصر بنی مقاتل رُکے اور شام کے وقت میں امام نے فرمایا ” بیشک ہم اللہ کے لیے ہیں اور اُسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں”۔

امام کے 18 سالہ بیٹے علی اکبر امام کے قریب آئے تو امام نے فرمایا کہ اُنہوں نے خواب میں کسی کو کہتے سُنا ہے کہ یہ لوگ اُنہیں قتل کرنے والے ہیں۔ جس پر جناب علی اکبر نے امام کو تسلی دی اور فرمایا، مفہوم ” کیاہم سیدھے راستے پر نہیں ہیں”۔

نمبر 13: نینوا۔۔
اس مُقام پر حُر کو ابن زیاد کا خط ملا جس میں اُس نے لکھا تھا کہ امام جہاں ہیں اُنہیں وہیں روک لواور اُنہیں ایسی جگہ اُترنے پر مجبور کردو جہاں پانی اور ہریالی نہ ہو۔
حُر نے امام کو ابن زیاد کے خط سے آگاہ کیا۔ آپ نے فرمایا ہم اپنی مرضی سے نینوا میں خیمہ زن ہوں گے۔ جس پر حُر نے کہا کہ ابن زیاد کے جاسوس ہر چیز کی نگرانی کر رہے ہیں لہذا میں آپ کو ایسا نہیں کرنے دے سکتا، پھر امام کا قافلہ ایک مقام پر پہنچا تو امام نے پُوچھا اس جگہ کا کیا نام ہے؟ کسی نے جواب دیا کربلا۔ امام نے فرمایا یہ کرب و بلا کی جگہ ہے یہ وہ جگہ ہے جہاں ہمیں قتل کیا جائے گا۔

نمبر 14: کربلا
امام کے حکم پر کربلا کے میدان میں خیمے گاڑ دئیے گئے ۔ دریائے فرات خیموں سے کُچھ میل کے فاصلے پر تھا اور یہ 2 محرم 61 ہجری کا دن تھا اور عیسوی کلینڈر پر 3 اکتوبر 680 کی تاریخ تھی۔

نوٹ: اس آرٹیکل میں کربلا کے حالات تفصیلاً بیان نہیں کیے جارہے ۔
اس آرٹیکل کا مقصد امام کے مکہ سے کربلا تک کے سفر میں آنے والی منازل اور چیدہ چیدہ واقعات کا ذکر کرنا تھا تاکہ جو لوگ نہیں جانتے اُنہیں 1731 کلومیٹر کے امام کے اس سفر کی تھوڑی آگاہی ہو
نقل شدہ مضمون ۔

12/07/2023

امام طبرانی کی کتاب میں ایک وقعہ
پڑھا آنسو ہیں کہ رک نہیں رہے
آپ بھی پڑھیں

حضرت صعصعہ بن ناجیہ ؓ دروازہ
رسول الله ﷺ
پر کلمہ پڑھنے آئے
مسلمان ہونے کے بعد
نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں
عرض کرنے لگے

یا رسول الله ﷺ ایک بات پوچھنی ہے
حضور ﷺ نے فرمایا پوچھو

کہنے لگے یا رسول الله ﷺ دور جاہلیت میں ہم نے جونیکیاں کی ہے
اُن کا بھی الله ہمیں آجر عطا کرے گا
کیا اُسکا بھی آجر ملے گا
تو
نبی کریمﷺ نے فرمایا تُو بتا
تُو نے کیا نیکی کی
تو کہنے لگے
یا رسول الله ﷺ میرے دو اونٹ گم ہوگئے میں اپنے تیسرے اونٹ پر بیٹھ کر
اپنے دو اونٹوں
کو ڈھونڈنے نکلا
میں اپنے اونٹوں کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے جنگل کے اُس پار نکل گیا
جہاں پرانی آبادی تھی
وہاں میں نے اپنے دو اونٹوں کو پا لیا
ایک بوڑھا آدمی جانوروں کی نگرانی پر بیٹھا تھا
اُس کو جا کر میں نے بتایا
کہ
یہ دو اونٹ میرے ہیں
وہ کہنے لگا یہ تو چرتے چرتے یہاں آگئے تھے تمہارے ہیں تو لے جاؤ
اُنہی باتوں میں اُس نے پانی بھی منگوا لیا چند کھجوریں بھی آ گئی میں پانی پی رہا تھا کھجوریں بھی کھا رہا تھا کہ ایک بچے کے رونے کی آواز آئی تو
بوڑھا پوچھنے لگا
بتاؤ بیٹی آئی کہ بیٹا
میں نے پوچھا بیٹی ہوئی تو کیا کرو گے کہنے لگا اگر بیٹا ہوا تو
قبیلے کی شان بڑھائے گا
اگر بیٹی ہوئی تو ابھی یہاں اُسے زندہ دفن کرا دوں گا
اِس لیئے کہ
میں اپنی گردن اپنے داماد کے سامنے جھکا نہیں سکتا
میں بیٹی کی پیدائش پر آنے والی مصیبت برداشت نہیں کر سکتا
میں ابھی دفن کرا دوں گا

حضرت صعصعہ بن ناجیہ ؓ فرمانے لگے
یا رسول الله ﷺ
یہ بات سن کے میرا دل نرم ہوگیا
میں نے اُسے کہا
پھر پتہ کرو بیٹی ہے کہ بیٹا ہے
اُس نے معلوم کیا تو پتہ چلا
کہ
بیٹی آئی ہے
میں نے کہا کیا واقعی تو دفن کرے گا
کہنے لگا ہاں !
میں نے کہا دفن نہ کر مجھے دے دے
میں لے جاتا ہوں
یا رسول اللّٰه ﷺ وہ مجھے کہنے لگا
اگر
میں بچی تم
کو دے دوں تو تم کیا دو گے
میں نے کہا
تم میرے دو اونٹ رکھ لو
بچی دے دو کہنے لگا
نہیں
دو نہیں یہ جس اونٹ پہ تو بیٹھ کے
آیا ہے یہ بھی لے لیں گے
حضرت صعصعہ بن ناجیہ ؓ عرض کرنے لگے ایک آدمی میرے ساتھ گھر بھیجو
یہ مجھے گھر چھوڑ آئے میں یہ اونٹ اُسے واپس دےدیتا ہوں

یا رسول اللّٰه ﷺ
میں نے تین اونٹ دے کر ایک بچی لے لی
اُس بچی کو لا کے میں نے اپنی
کنیز کو دیا نوکرانی اُسے دودھ پلاتی
یا رسول الله ﷺ وہ بچی میرے داڑھی کے بالوں سے کھیلتی
وہ میرے سینے سے لگتی
حضور ﷺ پھر مجھے نیکی کا چسکا لگ گیا پھر میں ڈھونڈنے لگا
کہ
کون کون سا قبیلہ بچیاں دفن کرتا ہے
یا رسول الله ﷺ
میں تین اونٹ دے کے بچی لایا کرتا
یا رسول الله ﷺ میں نے 360 بچیوں کی جان بچائی ہے
میری حویلی میں تین سو ساٹھ
بچیاں پلتی ہیں
حضور ﷺ مجھے بتائیں
میرا مالک مجھے اِس کا اجر دے گا ؟
کہتے ہے حضور ﷺ کا رنگ بدل گیا داڑھی مبارک پر آنسو گرنے لگے مجھے سینے سے لگایا
میرا ماتھا چوم کے فرمانے لگے
یہ تو تجھے اجر ہی تو ملا ہے
رب نے تجھے دولتِ ایمان عطا کر دی ہے

نبی کریم ﷺ فرمانے لگے
یہ تیرا دنیا کا اجر ہے
اور
تیرے رسولﷺ کا وعدہ ہے
قیامت کے دن رب کریم تمہیں
خزانے کھول کے دے گا۔......

Address

Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Qiswa posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share