20/05/2026
پاکستان میں سفید پوش طبقہ صرف دو چیزوں پر زندہ ہے
ایک امید
دوسری بجلی کے بلوں میں سبسڈی
اور حکومت نے فیصلہ کر لیا ہے کہ دونوں ختم کرنی ہیں۔
یہاں ایک بندہ پچیس ہزار کماتا ہے
دوسرا تیس ہزار
تیسرا بیس ہزار
تین بھائی ایک ہی گھر میں رہتے ہیں کیونکہ الگ گھر لینا اب خواب نہیں لطیفہ بن چکا ہے۔
ایک ہی چھت کے نیچے تین خاندان پل رہے ہیں۔
بچے بھی انہی کمروں میں بڑے ہو رہے ہیں جہاں کبھی ان کے باپ بڑے ہوئے تھے۔
لیکن حکومت کو مسئلہ کیا نظر آیا؟
یہ کہ ان غریبوں نے دو تین میٹر کیوں لگوا رکھے ہیں۔
واہ ریاست واہ۔
جو لوگ اپنی عزت بچانے کے لیے الگ الگ میٹر لگا کر کسی طرح بل کنٹرول کر رہے تھے اب ان پر بھی شک ہونے لگا ہے جیسے یہ دبئی کے شہزادے ہوں اور حکومت کا خزانہ لوٹ رہے ہوں۔
ادھر کروڑوں کی گاڑیاں رکھنے والے
بڑے بڑے فارم ہاؤس والے
سفارشوں سے سکیموں میں گھسے ہوئے لوگ
بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے “مستحق” بنے بیٹھے ہیں۔
ہمارے علاقوں میں ایسے ایسے لوگ اس پروگرام سے پیسے لے رہے ہیں جن کے گھر میں اے سی چلتے ہیں۔
جن کی عورتیں سونے کے سیٹ پہن کر راشن لینے جاتی ہیں۔
جن کے بچے بیرون ملک پڑھ رہے ہیں۔
لیکن فارم میں وہ غریب ہیں۔
اور دوسری طرف وہ سفید پوش لوگ ہیں جو واقعی مستحق ہیں مگر صرف اس لیے رجسٹر نہیں کیونکہ ان کے پاس نہ سفارش ہے نہ سیاسی تعلق نہ کسی ایم این اے کے ساتھ تصویر۔
اب نئی عقل یہ نکالی گئی ہے کہ بجلی کی سبسڈی بھی انہی لوگوں کو دی جائے گی جن کا نام بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں ہے۔
یعنی جن لوگوں نے پہلے ہی سفارشوں اور جھوٹ کے ذریعے سرکاری امداد پر قبضہ کیا ہوا ہے اب بجلی کی رعایت بھی انہی کے نام۔
کمال ہے۔
جو زمیندار لاکھوں کی فصل بیچ رہا ہے
جو گاڑیوں میں گھوم رہا ہے
جو سیاسی جلسوں میں پہلی کرسی پر بیٹھتا ہے
وہ “غریب” بھی ہے
وہ “مستحق” بھی ہے
اور اب بجلی کی سبسڈی کا حقدار بھی۔
اور جو سفید پوش آدمی غیرت کی وجہ سے حکومتی زکوٰۃ تک لینے سے انکار کرتا ہے
جو محنت مزدوری کر کے بچوں کا پیٹ پال رہا ہے
جو کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتا
اسے کہا جا رہا ہے
بھائی تم لسٹ میں نہیں ہو اس لیے بجلی کی پوری قیمت دو۔
یعنی اس ملک میں غیرت مند ہونا بھی اب جرم بنتا جا رہا ہے۔
اصل مسئلہ حل کرنا کسی نے نہیں۔
نہ جعلی مستحقین کو لسٹ سے نکالنا ہے
نہ نظام صاف کرنا ہے
نہ دھاندلی روکنی ہے۔
کیونکہ اگر اصل مستحقین آگئے تو سفارشیں کہاں جائیں گی؟
سیاست کہاں جائے گی؟
ووٹ بینک کہاں جائے گا؟
اس لیے حکومت کا نیا فارمولا یہ ہے کہ
جو پہلے غلط طریقے سے فائدہ لے رہا ہے اسے مزید سہولتیں دو
اور جو عزت سے زندہ ہے اسے بلوں میں دفن کر دو۔
یہاں حکومت کو ہر مسئلے کا ایک ہی حل ملتا ہے
بجلی مہنگی کر دو
پٹرول پر لیوی لگا دو
گیس بڑھا دو
ٹیکس لگا دو
اور پھر ٹی وی پر بیٹھ کر قوم کو قربانیوں کا درس دے دو۔
ایسے لگتا ہے جیسے معیشت نہیں بلکہ کوئی پرانا رکشہ دھکا لگا لگا کر چلایا جا رہا ہے اور ہر دفعہ دھکا غریب سے لگوایا جاتا ہے۔
سب سے بڑا مذاق یہ ہے کہ جس بندے کی تنخواہ پچاس ہزار ہے وہ پہلے ہی ہر چیز پر جی ایس ٹی دے رہا ہے۔
آٹا خریدو ٹیکس
چینی خریدو ٹیکس
دودھ خریدو ٹیکس
موبائل لوڈ کراؤ ٹیکس
پیٹرول ڈلواؤ ٹیکس
دوائی لو ٹیکس
یعنی غریب سانس لے تو شاید اس پر بھی فکس ٹیکس لگ جائے۔
لیکن اصل چور کون ہے؟
وہ دکاندار جو رسید نہیں دیتا۔
وہ تاجر جو اربوں کا کاروبار کر کے غریب ظاہر ہوتا ہے۔
وہ بڑے لوگ جو ٹرسٹ اور فاؤنڈیشن کے نام پر ٹیکس بچاتے ہیں۔
وہ مافیا جو ہر حکومت کے ساتھ تصویر کھنچوا لیتا ہے۔
ان پر ہاتھ ڈالنے کی ہمت نہیں۔
کیونکہ وہاں سے فنڈنگ آتی ہے
وہاں سے الیکشن چلتے ہیں
وہاں سے سیاست زندہ رہتی ہے۔
اس لیے آسان راستہ یہی ہے کہ غریب کے میٹر پر حملہ کرو۔
حکومت کو اگر واقعی ٹیکس اکٹھا کرنا ہے تو ہر کمپنی پر نگرانی بٹھائے۔
جتنا مال فیکٹری سے نکلے اس کا مکمل ریکارڈ ہو۔
ہر دکاندار کمپیوٹرائز رسید دے۔
ہر خرید و فروخت ڈیجیٹل ہو۔
لیکن نہیں۔
وہاں محنت کرنی پڑتی ہے۔
یہاں تو بس ایک نوٹیفکیشن نکالو اور غریب کی جیب میں ہاتھ ڈال دو۔
پھر کہتے ہیں عوام ٹیکس نہیں دیتی۔
عوام کیا دے؟
بدلے میں ملا کیا ہے؟
تعلیم؟
سرکاری سکولوں کی حالت سب کے سامنے ہے۔
صحت؟
ہسپتالوں میں دوائی تک نہیں۔
امن؟
لوگ اپنے بچوں کو باہر بھیجنے سے ڈرتے ہیں۔
روزگار؟
ڈگریاں لے کر نوجوان فوڈ ڈیلیوری کر رہے ہیں۔
بجلی؟
وہ بھی اب امیروں کی سہولت بنتی جا رہی ہے۔
اوپر سے سیاستدانوں اور بیوروکریسی کے مزے الگ ہیں۔
سرکاری گاڑیاں
مفت پٹرول
مفت بجلی
مفت پروٹوکول
مفت نوکر
مفت گھر
اور قوم سے کہا جا رہا ہے
بھائی حالات مشکل ہیں قربانی دو۔
یعنی جس نے ملک لوٹا وہ وی آئی پی
اور جو بل بھر رہا ہے وہ قصوروار۔
یہ ملک غریب نے نہیں کھایا۔
یہ ملک ان لوگوں نے کھایا ہے جو ہر حکومت میں نظریہ بدل لیتے ہیں مگر گاڑی نہیں بدلتے کیونکہ وہ پہلے ہی نئی ہوتی ہے۔
آج پاکستان کا سب سے بڑا المیہ غربت نہیں
احساس محرومی ہے۔
غریب آدمی یہ دیکھ کر ٹوٹ رہا ہے کہ قانون صرف اس کے لیے ہے۔
قربانی صرف اس کے لیے ہے۔
مہنگائی صرف اس کے لیے ہے۔
اور سزا بھی صرف اسی کے لیے ہے۔
باقی سب کے لیے صرف سہولت ہے۔
اور پھر حیران ہوتے ہیں کہ عوام غصے میں کیوں ہے۔
بھائی عوام غصے میں نہیں
عوام اب تھک چکی ہے۔
۔۔۔۔