Irfan Anjum

Irfan Anjum Entertainment center

28/05/2026

Qurbani 2026

26/05/2026

Hajj day 2026.

25/05/2026

Morning recitation
Morning Vibes 🌻

24/05/2026

شہر کو چھوڑ کر گاؤں کی طرف آتے ہیںلعل تھک جائیں تو ماؤں کی طرف آتے ہیں
23/05/2026

شہر کو چھوڑ کر گاؤں کی طرف آتے ہیں
لعل تھک جائیں تو ماؤں کی طرف آتے ہیں

22/05/2026

Quran verses
゚viralシ

21/05/2026

Qurbani bakry

پاکستان میں سفید پوش طبقہ صرف دو چیزوں پر زندہ ہےایک امیددوسری بجلی کے بلوں میں سبسڈیاور حکومت نے فیصلہ کر لیا ہے کہ دون...
20/05/2026

پاکستان میں سفید پوش طبقہ صرف دو چیزوں پر زندہ ہے
ایک امید
دوسری بجلی کے بلوں میں سبسڈی

اور حکومت نے فیصلہ کر لیا ہے کہ دونوں ختم کرنی ہیں۔

یہاں ایک بندہ پچیس ہزار کماتا ہے
دوسرا تیس ہزار
تیسرا بیس ہزار
تین بھائی ایک ہی گھر میں رہتے ہیں کیونکہ الگ گھر لینا اب خواب نہیں لطیفہ بن چکا ہے۔
ایک ہی چھت کے نیچے تین خاندان پل رہے ہیں۔
بچے بھی انہی کمروں میں بڑے ہو رہے ہیں جہاں کبھی ان کے باپ بڑے ہوئے تھے۔
لیکن حکومت کو مسئلہ کیا نظر آیا؟
یہ کہ ان غریبوں نے دو تین میٹر کیوں لگوا رکھے ہیں۔

واہ ریاست واہ۔

جو لوگ اپنی عزت بچانے کے لیے الگ الگ میٹر لگا کر کسی طرح بل کنٹرول کر رہے تھے اب ان پر بھی شک ہونے لگا ہے جیسے یہ دبئی کے شہزادے ہوں اور حکومت کا خزانہ لوٹ رہے ہوں۔

ادھر کروڑوں کی گاڑیاں رکھنے والے
بڑے بڑے فارم ہاؤس والے
سفارشوں سے سکیموں میں گھسے ہوئے لوگ
بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے “مستحق” بنے بیٹھے ہیں۔

ہمارے علاقوں میں ایسے ایسے لوگ اس پروگرام سے پیسے لے رہے ہیں جن کے گھر میں اے سی چلتے ہیں۔
جن کی عورتیں سونے کے سیٹ پہن کر راشن لینے جاتی ہیں۔
جن کے بچے بیرون ملک پڑھ رہے ہیں۔
لیکن فارم میں وہ غریب ہیں۔

اور دوسری طرف وہ سفید پوش لوگ ہیں جو واقعی مستحق ہیں مگر صرف اس لیے رجسٹر نہیں کیونکہ ان کے پاس نہ سفارش ہے نہ سیاسی تعلق نہ کسی ایم این اے کے ساتھ تصویر۔

اب نئی عقل یہ نکالی گئی ہے کہ بجلی کی سبسڈی بھی انہی لوگوں کو دی جائے گی جن کا نام بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں ہے۔
یعنی جن لوگوں نے پہلے ہی سفارشوں اور جھوٹ کے ذریعے سرکاری امداد پر قبضہ کیا ہوا ہے اب بجلی کی رعایت بھی انہی کے نام۔

کمال ہے۔

جو زمیندار لاکھوں کی فصل بیچ رہا ہے
جو گاڑیوں میں گھوم رہا ہے
جو سیاسی جلسوں میں پہلی کرسی پر بیٹھتا ہے
وہ “غریب” بھی ہے
وہ “مستحق” بھی ہے
اور اب بجلی کی سبسڈی کا حقدار بھی۔

اور جو سفید پوش آدمی غیرت کی وجہ سے حکومتی زکوٰۃ تک لینے سے انکار کرتا ہے
جو محنت مزدوری کر کے بچوں کا پیٹ پال رہا ہے
جو کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتا
اسے کہا جا رہا ہے
بھائی تم لسٹ میں نہیں ہو اس لیے بجلی کی پوری قیمت دو۔

یعنی اس ملک میں غیرت مند ہونا بھی اب جرم بنتا جا رہا ہے۔

اصل مسئلہ حل کرنا کسی نے نہیں۔
نہ جعلی مستحقین کو لسٹ سے نکالنا ہے
نہ نظام صاف کرنا ہے
نہ دھاندلی روکنی ہے۔

کیونکہ اگر اصل مستحقین آگئے تو سفارشیں کہاں جائیں گی؟
سیاست کہاں جائے گی؟
ووٹ بینک کہاں جائے گا؟

اس لیے حکومت کا نیا فارمولا یہ ہے کہ
جو پہلے غلط طریقے سے فائدہ لے رہا ہے اسے مزید سہولتیں دو
اور جو عزت سے زندہ ہے اسے بلوں میں دفن کر دو۔

یہاں حکومت کو ہر مسئلے کا ایک ہی حل ملتا ہے
بجلی مہنگی کر دو
پٹرول پر لیوی لگا دو
گیس بڑھا دو
ٹیکس لگا دو
اور پھر ٹی وی پر بیٹھ کر قوم کو قربانیوں کا درس دے دو۔

ایسے لگتا ہے جیسے معیشت نہیں بلکہ کوئی پرانا رکشہ دھکا لگا لگا کر چلایا جا رہا ہے اور ہر دفعہ دھکا غریب سے لگوایا جاتا ہے۔

سب سے بڑا مذاق یہ ہے کہ جس بندے کی تنخواہ پچاس ہزار ہے وہ پہلے ہی ہر چیز پر جی ایس ٹی دے رہا ہے۔
آٹا خریدو ٹیکس
چینی خریدو ٹیکس
دودھ خریدو ٹیکس
موبائل لوڈ کراؤ ٹیکس
پیٹرول ڈلواؤ ٹیکس
دوائی لو ٹیکس

یعنی غریب سانس لے تو شاید اس پر بھی فکس ٹیکس لگ جائے۔

لیکن اصل چور کون ہے؟
وہ دکاندار جو رسید نہیں دیتا۔
وہ تاجر جو اربوں کا کاروبار کر کے غریب ظاہر ہوتا ہے۔
وہ بڑے لوگ جو ٹرسٹ اور فاؤنڈیشن کے نام پر ٹیکس بچاتے ہیں۔
وہ مافیا جو ہر حکومت کے ساتھ تصویر کھنچوا لیتا ہے۔

ان پر ہاتھ ڈالنے کی ہمت نہیں۔

کیونکہ وہاں سے فنڈنگ آتی ہے
وہاں سے الیکشن چلتے ہیں
وہاں سے سیاست زندہ رہتی ہے۔

اس لیے آسان راستہ یہی ہے کہ غریب کے میٹر پر حملہ کرو۔

حکومت کو اگر واقعی ٹیکس اکٹھا کرنا ہے تو ہر کمپنی پر نگرانی بٹھائے۔
جتنا مال فیکٹری سے نکلے اس کا مکمل ریکارڈ ہو۔
ہر دکاندار کمپیوٹرائز رسید دے۔
ہر خرید و فروخت ڈیجیٹل ہو۔
لیکن نہیں۔
وہاں محنت کرنی پڑتی ہے۔

یہاں تو بس ایک نوٹیفکیشن نکالو اور غریب کی جیب میں ہاتھ ڈال دو۔

پھر کہتے ہیں عوام ٹیکس نہیں دیتی۔

عوام کیا دے؟
بدلے میں ملا کیا ہے؟

تعلیم؟
سرکاری سکولوں کی حالت سب کے سامنے ہے۔

صحت؟
ہسپتالوں میں دوائی تک نہیں۔

امن؟
لوگ اپنے بچوں کو باہر بھیجنے سے ڈرتے ہیں۔

روزگار؟
ڈگریاں لے کر نوجوان فوڈ ڈیلیوری کر رہے ہیں۔

بجلی؟
وہ بھی اب امیروں کی سہولت بنتی جا رہی ہے۔

اوپر سے سیاستدانوں اور بیوروکریسی کے مزے الگ ہیں۔
سرکاری گاڑیاں
مفت پٹرول
مفت بجلی
مفت پروٹوکول
مفت نوکر
مفت گھر

اور قوم سے کہا جا رہا ہے
بھائی حالات مشکل ہیں قربانی دو۔

یعنی جس نے ملک لوٹا وہ وی آئی پی
اور جو بل بھر رہا ہے وہ قصوروار۔

یہ ملک غریب نے نہیں کھایا۔
یہ ملک ان لوگوں نے کھایا ہے جو ہر حکومت میں نظریہ بدل لیتے ہیں مگر گاڑی نہیں بدلتے کیونکہ وہ پہلے ہی نئی ہوتی ہے۔

آج پاکستان کا سب سے بڑا المیہ غربت نہیں
احساس محرومی ہے۔

غریب آدمی یہ دیکھ کر ٹوٹ رہا ہے کہ قانون صرف اس کے لیے ہے۔
قربانی صرف اس کے لیے ہے۔
مہنگائی صرف اس کے لیے ہے۔
اور سزا بھی صرف اسی کے لیے ہے۔

باقی سب کے لیے صرف سہولت ہے۔

اور پھر حیران ہوتے ہیں کہ عوام غصے میں کیوں ہے۔

بھائی عوام غصے میں نہیں
عوام اب تھک چکی ہے۔
۔۔۔۔

تمام عوام کو مطلع کیا جاتا ہے کہ گورنمنٹ نے ایک نئی لچ ماری ہے جس سے عام عوام خاص غریب طبقہ جو بس بل لیتا ہے اور جا کر ج...
19/05/2026

تمام عوام کو مطلع کیا جاتا ہے کہ گورنمنٹ نے ایک نئی لچ ماری ہے جس سے عام عوام خاص غریب طبقہ جو بس بل لیتا ہے اور جا کر جمع کروا آتا ہے انہیں ان ہیرا پھریوں کا کیا پتہ

اس ماہ کے بجلی کے بلوں پر جن کے 200 سے کم یونٹ استعمال ہوتے ہیں ان پر گورنمنٹ نے ایک QR کوڈ دیا جس پر لکھا ہے کہ گورنمنٹ آپکو 200 سے کم یونٹ استعمال کرنے پر سبسڈی دے رہی ہے

اس سبسڈی کو اگر جاری رکھنا چاہتے ہیں تو اس کوڈ کو سکین کریں اور اپنی معلومات چیک کر کے فارم کو OKAY کریں

اگر آپ ایسا نہیں کریں گے تو آپکی 200 یونٹ والی سبسڈی اگلے ماہ سے ختم کر دی جائے گی اور پہلے یونٹ سے ہی وہی ریٹ لگے گا جو 201 یونٹ والے کو لگتا ہے اور اگر ایک بار لگ گیا تو 6 ماہ وہی لگتا رہے گا 😢

ظلم کی انتہا چیک کریں کہ ہزاروں لوگ ایسے ہوں گے جنکو اس چیز کا معلوم نہیں ہو گا اور اگلے ماہ سے انکا بل زیادہ آنا شروع ہو جائے گا

اس لئے تمام بھائیوں سے اپیل ہے کہ خود بھی یہ کام کریں اور اپنے آس پاس غریب لوگوں کی بھی مدد کریں

اس عمل کو کرنے کا طریقہ:
ہر اس بل پر جو 200 سے کم استعمال کرتا ہے اس پر 2 QR کوڈ ہون گے اوپر والے کوڈ پر جس کے سبسڈی کا ذکر ہو گا اس کو اپنے Touch موبائل سے سکین کریں تو وہ ڈائریکٹ اس ویب سائٹ پر لے جائے گا وہاں اپنا ڈیٹا دیکھیں اور تصدیق کریں

تصدیق کرنے پر Sim پر کوڈ آئے گا وہ کوڈ لکھیں اور Verify پر کلک کریں

ایسا کرنے کے بعد VERIFIED لکھا آجائے گا
یہ معلومات ہر جگہ پہنچائیں سب کا بھلا ہو جائے گا

نہیں تو غریب کا بچہ مر جائے گا

یہ عوام کو کہیں کا نہیں چھوڑیں گے

باقاعدہ بل پر لکھا ہوا ہے کہ اگر ایسا نہیں کریں گے تو 200 یونٹ والی سبسڈی ختم کر دی جائے گی

مثلا: ابھی 100 پر 10 روپے یونٹ ہے اور 101 سے 199 پر 14 روپے ہے

سکین والا کام نہیں کریں گے تو پہلے یونٹ سے وہی ریٹ لگے گا جو 201 پر لگتا ہے مطلب کے 25 سے 27 روپے رہائشی پر اور 38 روپے کمرشل پر
نوٹ، اپنا بل سکین کریں

Address

Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Irfan Anjum posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Irfan Anjum:

Share