26/05/2026
یہ صرف ایک عورت، ایک بیٹی یا ایک گھر کا المیہ نہیں،
یہ پورے معاشرے کے ضمیر پر لگا وہ بدنما داغ ہے
جسے ہم برسوں سے دیکھتے ہوئے بھی نظر انداز کرتے آئے ہیں۔
کتنی عجیب بات ہے کہ یہی معاشرہ عورت کی عزت، پردے اور غیرت کے لمبے لمبے درس دیتا ہے،
مگر انہی درس دینے والوں میں کچھ چہرے ایسے بھی ہوتے ہیں
جو رات کے اندھیروں میں انسانیت کا گلا گھونٹ رہے ہوتے ہیں۔
وہ مرد جو دن کے اجالے میں اپنی بہن اور بیٹی کے لیے غیرت مند بنتا ہے،
جو اپنی عورتوں پر سایہ بننے کے دعوے کرتا ہے،
وہی مرد جب ہوس، دولت اور طاقت کے نشے میں اندھا ہو جاتا ہے
تو کسی اور کی بیٹی کو محض ایک جسم سمجھ لیتا ہے۔
اُسے یہ احساس تک نہیں رہتا کہ جس لڑکی کو وہ خریدنے آیا ہے،
وہ بھی کسی کی اولاد ہے،
کسی ماں کی گود کی خوشبو،
کسی باپ کی امید،
کسی بہن کا مان اور کسی بھائی کی محبت ہے۔
کوٹھوں کی چمکتی روشنیوں، اونچی آواز میں بجتی موسیقی اور مصنوعی مسکراہٹوں کے پیچھے
صرف رقص نہیں ہوتا،
وہاں سینکڑوں ٹوٹے خواب دفن ہوتے ہیں۔
وہاں معصوم خواہشیں سسکتی ہیں،
وہاں کئی لڑکیاں زندہ رہتے ہوئے بھی اندر سے مر چکی ہوتی ہیں۔
کچھ غربت کے ہاتھوں بیچی جاتی ہیں،
کچھ دھوکے سے اس دلدل میں دھکیل دی جاتی ہیں،
اور کچھ ایسی بھی ہوتی ہیں
جنہیں اُن کے اپنے محافظ ہی بازار کی زینت بنا دیتے ہیں۔
یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب انسانیت اپنی آخری سانسیں لینے لگتی ہے۔
سب سے بڑا ظلم صرف جسم کا سودا نہیں،
بلکہ کسی معصوم کی روح کو روز روز مارنا ہے۔
ایک لڑکی جب اپنے ہی گھر والوں کے ہاتھوں بے بس ہو جائے،
جب اُسے تحفظ دینے والے ہی اُس کی عزت کے سوداگر بن جائیں،
تو پھر اُس کے اندر اعتماد، محبت اور زندگی سب کچھ مر جاتا ہے۔
ایسے زخم جسم پر نہیں،
روح پر لگتے ہیں،
اور روح کے زخم نسلوں تک خون روتے ہیں۔
مگر انسان یہ بھول جاتا ہے کہ قدرت کبھی خاموش تماشائی نہیں رہتی۔
مکافاتِ عمل ایک ایسی حقیقت ہے
جو وقت لے سکتی ہے مگر اندھی نہیں ہوتی۔
جو شخص آج کسی معصوم کی عزت روندتا ہے،
کل وہی درد اُس کی اپنی دہلیز پر دستک دیتا ہے۔
کیونکہ ظلم جب حد سے بڑھتا ہے
تو صرف ایک فرد نہیں،
پورا معاشرہ تباہ ہو جاتا ہے۔
افسوس تو یہ ہے کہ ہم ایسے موضوعات پر بات کرنے سے بھی گھبراتے ہیں،
حالانکہ خاموشی ہمیشہ ظالم کا ساتھ دیتی ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ معاشرہ صرف عورت کی عزت کے نعرے نہ لگائے،
copied