29/03/2026
انصاف کی اپیل — رانا آفتاب قتل کیس
19 جنوری 2026 کو لاہور کی پارک ویو سوسائٹی، ملتان روڈ میں رانا آفتاب کو ان کی رہائش گاہ کی دہلیز پر، ان کی اہلیہ کے سامنے، اس وقت نہایت بے دردی سے قتل کر دیا گیا جب وہ صبح اپنی ملازمت پر روانہ ہو رہے تھے۔
یہ لرزہ خیز واردات پارک ویو مین بلیوارڈ روڈ کے پہلے گول چکر پر دن دہاڑے اس وقت پیش آئی جب بچے اور بچیاں اسکول، کالج اور یونیورسٹی جا رہے تھے، جبکہ مرد و خواتین اپنے دفاتر کی طرف روانہ تھے۔ ایسے مصروف مقام پر 18 سے 20 گولیاں برسا کر جس سفاکی کا مظاہرہ کیا گیا، اس نے نہ صرف ایک خاندان کو اجاڑا بلکہ پورے شہر کے احساسِ تحفظ کو بھی ہلا کر رکھ دیا۔
رانا آفتاب ایک شریف النفس، خوددار اور قانون پسند انسان تھے۔ ان کا کسی سے کوئی ذاتی تنازع، دشمنی، لین دین کا جھگڑا یا کوئی متنازع پس منظر نہیں تھا۔ وہ ایک پُرامن شہری تھے جو اپنے گھر سے روزگار کے لیے نکلتے تھے—اور اسی راستے میں ان کی جان لے لی گئی۔
یہ حقیقت اس واقعے کو مزید تشویشناک بناتی ہے کہ ایک بے گناہ، بے ضرر شہری کو اس طرح نشانہ بنایا گیا۔
سوال یہ ہے کہ یہ عناصر پارک ویو میں کرائے کے فلیٹ میں رہ کر دو ہفتے تک ریکی کرتے رہے تو سوسائٹی کی سیکیورٹی اور انٹیلیجنس کہاں تھی؟
کرائے کی گاڑی ای ٹیگ لین سے گزر کر باہر کیسے نکل گئی؟
دو موٹر سائیکلوں پر سوار شوٹر اور ان کے ساتھی اسلحہ سمیت باآسانی فرار کیسے ہو گئے؟
جبکہ ویڈیوز اور تصاویر میں بہت کچھ واضح ہے، پھر بھی یہ نظام مؤثر رکاوٹ کیوں ثابت نہ ہو سکا؟
آج اس دل دہلا دینے والے واقعے کو تقریباً ڈیڑھ ماہ گزر چکا ہے، مگر ماسٹر مائنڈ، سپاری دینے والا، مرکزی شوٹر اور اہم سہولت کار اب بھی قانون کی گرفت سے باہر ہیں۔ یہ سوال ہر باشعور شہری کے ذہن میں گونج رہا ہے:
کیا مجرم واقعی ریاستی رِٹ سے زیادہ طاقتور ہو چکے ہیں، یا انصاف کا نظام بے بسی کا شکار ہے؟
یہ سانحہ ایک خاندان کے لیے قیامت بن چکا ہے۔ ایک بیوہ اور دو کم سن بچیاں آج بھی خوف، عدم تحفظ اور انتظار کی کیفیت میں زندگی گزار رہی ہیں۔ انہیں فوری اور مکمل ریاستی تحفظ دینا حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ:
تمام ملزمان کو فوری گرفتار کیا جائے،
تحقیقات شفاف، غیر جانبدار اور برق رفتار انداز میں مکمل کی جائیں،
اور متاثرہ خاندان کو فوری، مؤثر اور مکمل تحفظ فراہم کیا جائے۔
یہ آواز صرف سوشل میڈیا تک محدود نہیں رہنی چاہیے۔ اسے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا تک پہنچانا ہوگا تاکہ ایک مضبوط عوامی دباؤ پیدا ہو، اور قانون نافذ کرنے والے ادارے فوری، فیصلہ کن اور نظر آنے والی کارروائی پر مجبور ہوں۔ کیونکہ انصاف صرف ہونا کافی نہیں، انصاف ہوتا ہوا نظر آنا بھی ضروری ہے۔
اس پیغام، ویڈیو اور تصاویر کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں۔ کمنٹ میں لکھیں، اور اس آواز کو اتنا بلند کریں کہ مقتدر ادارے، حکمران اور قانون نافذ کرنے والے ذمہ داران خاموش نہ رہ سکیں۔
انصاف میں تاخیر، انصاف سے انکار ہے۔