Travel With Adil

Travel With Adil Been to 🇹🇭🇹🇷🇪🇬🇺🇬🇰🇪🇷🇼🇸🇦🇴🇲🇺🇿🇦🇿🇲🇾🇱🇰🇵🇰🇮🇷🇳🇵🇰🇭🇻🇳🇦🇪
(3)

یہ تحریر Haroon Adil صاحب کی ہے۔                             ""ہماری ذہنیت""کچھ عرصہ پہلے بیگم کو کارڈیالوجسٹ کے پاس لے ...
07/09/2026

یہ تحریر Haroon Adil صاحب کی ہے۔

""ہماری ذہنیت""
کچھ عرصہ پہلے بیگم کو کارڈیالوجسٹ کے پاس لے کر گیا۔ پہلے فون پر وقت لیا، پھر متعلقہ ہسپتال کی او پی ڈی میں سلپ بنوائی، نمبر لگوایا اور ویٹنگ ایریا میں بیٹھ گیا۔
آدھا گھنٹہ گزر گیا، مگر ڈاکٹر صاحب اپنی سیٹ پر تشریف نہ لائے۔
گھنٹہ بھر انتظار کے بعد نماز کا وقت ہوا۔ نماز پڑھ کر واپس آیا تو ڈاکٹر صاحب بدستور ندارد۔
او پی ڈی کے اسٹاف سے پوچھا تو کہا گیا:
"ان کے پی اے سے معلوم کریں۔"
پی اے سے معلوم کیا تو جواب ملا:
"نماز پڑھ کر آ رہے ہیں۔"
جب مجھے ویٹنگ روم میں بیٹھے بیٹھے تقریباً دو گھنٹے ہوگئے تو پارہ آسمان کو چھونے لگا۔ میں نے پی اے سے قدرے اونچی آواز میں تکرار شروع کردی۔
بات بڑھی تو او پی ڈی کے ہیڈ آگئے، ڈاکٹر صاحب بھی باہر تشریف لے آئے۔
ہر طرف سے آوازیں آنے لگیں:
"کیا ہوا؟ کیا ہوا؟"
میں نے صرف اتنا عرض کیا:
"ایک دن پہلے اپائنٹمنٹ لینے کا مطلب کیا ہے؟"
ڈاکٹر سمیت سب کی سٹی گم!
ارے بھائی! ویٹنگ ایریا میں بیٹھے ہوئے یہ سارے لوگ ویلے نہیں ہیں۔
ان میں سے ہر شخص نے اپنا وقت نکالا ہے، اپنا کام چھوڑا ہے، سفر کیا ہے، فیس ادا کی ہے اور سب سے بڑھ کر ڈاکٹر صاحب کا وقت پہلے سے خریدا ہے۔
اگر ڈاکٹر صاحب کی او پی ڈی کا وقت پانچ بجے ہے تو وہ ساڑھے چھ بجے کیوں تشریف لا رہے ہیں؟
اور اگر ساڑھے چھ بجے ہی آنا ہے تو پانچ بجے کی اپائنٹمنٹ کیوں دی جاتی ہے؟
کچھ دن پہلے باقاعدہ سفارش کے ذریعے ایک اچھے ڈینٹل سرجن کے پاس جانے کا اتفاق ہوا۔ محترم نے بھی پورا ایک گھنٹہ انتظار کروایا۔
تب مجھے محسوس ہوا کہ مسئلہ صرف ایک ڈاکٹر، ایک ہسپتال یا ایک دفتر کا نہیں، مسئلہ ہماری ذہنیت کا ہے۔
یہ بڑے بڑے ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کا دو دو گھنٹے لیٹ آنا اور مریضوں کو گھنٹوں انتظار کی اذیت میں مبتلا رکھنا بھی شاید اشتہار کا ایک گرا ہوا طریقہ بن چکا ہے۔
انتظار گاہ اگر کچھا کھچ بھری ہوئی ہو تو باہر سے دیکھنے والا سمجھتا ہے:
"واہ! کتنا بڑا ڈاکٹر ہے، اتنا رش ہے!"
بازاروں میں بھی یہی ذہنیت نظر آتی ہے۔
دکان کے سامنے ناجائز تجاوزات قائم کی جاتی ہیں، ٹھیلے اور ریڑھیاں کھڑی کی جاتی ہیں، راستے سکڑ جاتے ہیں، ٹریفک جام رہتی ہے، تاکہ گزرنے والا سمجھے:
"بڑی مصروف مارکیٹ ہے، دکان کے سامنے اتنا رش ہے!"
یعنی ہم نے رش کو معیار، انتظار کو شہرت اور بے ترتیبی کو کامیابی کی علامت سمجھ لیا ہے۔
یہی پاکستانی ذہنیت آپ کو دفاتر میں، فیکٹریوں میں، سرکاری اداروں میں، حتیٰ کہ ایئرپورٹس پر بھی نظر آئے گی۔
امیگریشن کے لیے دس کاؤنٹر بنے ہوں گے، مگر دس میں سے نو پر عملہ غائب ہوگا۔
ایک کاؤنٹر کھلا ہوگا اور اس کے سامنے سیکڑوں لوگ کھڑے ہوں گے۔
لمبی لمبی زیگ زیگ لائنیں بنی ہوں گی۔
لوگ گھنٹوں اذیت جھیل رہے ہوں گے، مگر کسی کے چہرے پر یہ احساس نہیں ہوگا کہ ہم اس اذیت کے ذمہ دار ہیں۔
بلکہ الٹا اس رش کو اپنی اہمیت، اپنی مصروفیت اور اپنے ادارے کی "کامیابی" سمجھا جائے گا۔
عجیب ذہنیت ہے!
ہمیں خالی انتظار گاہ بری لگتی ہے، مگر بھری ہوئی انتظار گاہ پسند ہے۔
ہمیں خالی سڑک بری لگتی ہے، مگر ٹریفک جام مصروفیت کی علامت لگتا ہے۔
ہمیں فوری کام ہوجانا شاید غیر معمولی محسوس ہوتا ہے، مگر گھنٹوں انتظار کرنے کو ہم نے معمول بنا لیا ہے۔
اور سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ:
لوگ اذیت جھیل رہے ہیں،
اذیت دینے والے اپنی اہمیت محسوس کر رہے ہیں،
اور معاشرہ اس اذیت کو کامیابی کی علامت سمجھ کر داد دے رہا ہے۔

آج پھر کراچی کے ایک مشہور ہسپتال کے ویٹنگ روم میں بیٹھے یہ جملے تحریر کررہا ہوں، اپائنٹمنٹ پانچ بجے تھی چھ بج چکے مگررررررر

15/08/2026
11/08/2026

فَتَبٰرَکَ اللّٰہُ اَحۡسَنُ الۡخٰلِقِیۡنَ

09/08/2026

Classic souls in a wild world. 🌿

آخرکار 156 کلومیٹر کا  پیدل سفر مکمل ہو گیا! 🥾🏴󠁧󠁢󠁳󠁣󠁴󠁿ہم تین پاکستانی، جو 45 ڈگری کی گرمی سے سیدھا اسکاٹ لینڈ کے پہاڑوں م...
07/08/2026

آخرکار 156 کلومیٹر کا پیدل سفر مکمل ہو گیا! 🥾🏴󠁧󠁢󠁳󠁣󠁴󠁿

ہم تین پاکستانی، جو 45 ڈگری کی گرمی سے سیدھا اسکاٹ لینڈ کے پہاڑوں میں جا پہنچے، آج West Highland Way مکمل کر کے آخرکار Fort William پہنچ گئے۔

شروع میں کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ ہم تین دن سے زیادہ نہیں چل پائیں گے، اور کچھ نے زیادہ سے زیادہ پانچ دن کی امید رکھی تھی۔ سچ یہ ہے کہ راستے میں کچھ ایسے لمحات بھی آئے جب ہمیں خود بھی شک ہونے لگا تھا کہ آخر تک پہنچ پائیں گے یا نہیں۔

ہمیں لگتا تھا کہ Loch Lomond سب سے مشکل مرحلہ ہوگا، لیکن آخری دن نے پورا حساب برابر کر دیا۔ صبح سے شام تک مسلسل بارش، بھیگے ہوئے کپڑے، گیلے جوتے اور تھکن سے جواب دیتا جسم۔ آخری چند کلومیٹر واقعی صرف ہمت کے سہارے مکمل ہوئے۔

اور ہماری تیاری؟ تقریباً نہ ہونے کے برابر۔

پاکستان کی 45°C گرمی سے نکل کر یہاں پہنچے، کوئی خاص hiking training نہیں کی، اپنا gear پہلے کبھی properly test نہیں کیا، wild camping کی، اور کھانا اتنا ساتھ لے آئے جیسے راستے میں کوئی سپر سٹور نہیں ملے گا

پھر ہمارا sleeping mat بھی ایک رات درمیان میں پہلے پھولا اور پھر پھٹ گیا۔ اس میں اتنی ہوا بھر گئی کہ چند لمحوں کے لیے لگا یہ sleeping mat نہیں، کسی خوشخبری کی تیاری ہے۔ 😂

لیکن شاید یہی اس سفر کی خوبصورتی تھی۔ سب کچھ perfect نہیں تھا، کئی بار جسم نے جواب دیا، موسم نے خوب امتحان لیا، مگر قدم رکے نہیں۔

آج جب پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں تو 156 کلومیٹر صرف ایک فاصلہ نہیں لگتا۔ یہ تھکن، بارش، سردی، ہنسی، مشکل راستوں اور بہت سی یادوں کا مجموعہ ہے۔

156 KM — DONE.
West Highland Way — WE MADE IT. 💪🥾

Another day of crossing dozens of mountains ⛰️.
07/08/2026

Another day of crossing dozens of mountains ⛰️.

03/08/2026

Where the mountains whisper and the green never ends. Scotland at its finest. 🇬🇧🌿🏴󠁧󠁢󠁳󠁣󠁴󠁿

02/11/2025

Paragliding in Kallar Kahar , Chakwal

29/10/2025

Address

Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Travel With Adil posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Travel With Adil:

Shortcuts

Share