07/09/2026
یہ تحریر Haroon Adil صاحب کی ہے۔
""ہماری ذہنیت""
کچھ عرصہ پہلے بیگم کو کارڈیالوجسٹ کے پاس لے کر گیا۔ پہلے فون پر وقت لیا، پھر متعلقہ ہسپتال کی او پی ڈی میں سلپ بنوائی، نمبر لگوایا اور ویٹنگ ایریا میں بیٹھ گیا۔
آدھا گھنٹہ گزر گیا، مگر ڈاکٹر صاحب اپنی سیٹ پر تشریف نہ لائے۔
گھنٹہ بھر انتظار کے بعد نماز کا وقت ہوا۔ نماز پڑھ کر واپس آیا تو ڈاکٹر صاحب بدستور ندارد۔
او پی ڈی کے اسٹاف سے پوچھا تو کہا گیا:
"ان کے پی اے سے معلوم کریں۔"
پی اے سے معلوم کیا تو جواب ملا:
"نماز پڑھ کر آ رہے ہیں۔"
جب مجھے ویٹنگ روم میں بیٹھے بیٹھے تقریباً دو گھنٹے ہوگئے تو پارہ آسمان کو چھونے لگا۔ میں نے پی اے سے قدرے اونچی آواز میں تکرار شروع کردی۔
بات بڑھی تو او پی ڈی کے ہیڈ آگئے، ڈاکٹر صاحب بھی باہر تشریف لے آئے۔
ہر طرف سے آوازیں آنے لگیں:
"کیا ہوا؟ کیا ہوا؟"
میں نے صرف اتنا عرض کیا:
"ایک دن پہلے اپائنٹمنٹ لینے کا مطلب کیا ہے؟"
ڈاکٹر سمیت سب کی سٹی گم!
ارے بھائی! ویٹنگ ایریا میں بیٹھے ہوئے یہ سارے لوگ ویلے نہیں ہیں۔
ان میں سے ہر شخص نے اپنا وقت نکالا ہے، اپنا کام چھوڑا ہے، سفر کیا ہے، فیس ادا کی ہے اور سب سے بڑھ کر ڈاکٹر صاحب کا وقت پہلے سے خریدا ہے۔
اگر ڈاکٹر صاحب کی او پی ڈی کا وقت پانچ بجے ہے تو وہ ساڑھے چھ بجے کیوں تشریف لا رہے ہیں؟
اور اگر ساڑھے چھ بجے ہی آنا ہے تو پانچ بجے کی اپائنٹمنٹ کیوں دی جاتی ہے؟
کچھ دن پہلے باقاعدہ سفارش کے ذریعے ایک اچھے ڈینٹل سرجن کے پاس جانے کا اتفاق ہوا۔ محترم نے بھی پورا ایک گھنٹہ انتظار کروایا۔
تب مجھے محسوس ہوا کہ مسئلہ صرف ایک ڈاکٹر، ایک ہسپتال یا ایک دفتر کا نہیں، مسئلہ ہماری ذہنیت کا ہے۔
یہ بڑے بڑے ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کا دو دو گھنٹے لیٹ آنا اور مریضوں کو گھنٹوں انتظار کی اذیت میں مبتلا رکھنا بھی شاید اشتہار کا ایک گرا ہوا طریقہ بن چکا ہے۔
انتظار گاہ اگر کچھا کھچ بھری ہوئی ہو تو باہر سے دیکھنے والا سمجھتا ہے:
"واہ! کتنا بڑا ڈاکٹر ہے، اتنا رش ہے!"
بازاروں میں بھی یہی ذہنیت نظر آتی ہے۔
دکان کے سامنے ناجائز تجاوزات قائم کی جاتی ہیں، ٹھیلے اور ریڑھیاں کھڑی کی جاتی ہیں، راستے سکڑ جاتے ہیں، ٹریفک جام رہتی ہے، تاکہ گزرنے والا سمجھے:
"بڑی مصروف مارکیٹ ہے، دکان کے سامنے اتنا رش ہے!"
یعنی ہم نے رش کو معیار، انتظار کو شہرت اور بے ترتیبی کو کامیابی کی علامت سمجھ لیا ہے۔
یہی پاکستانی ذہنیت آپ کو دفاتر میں، فیکٹریوں میں، سرکاری اداروں میں، حتیٰ کہ ایئرپورٹس پر بھی نظر آئے گی۔
امیگریشن کے لیے دس کاؤنٹر بنے ہوں گے، مگر دس میں سے نو پر عملہ غائب ہوگا۔
ایک کاؤنٹر کھلا ہوگا اور اس کے سامنے سیکڑوں لوگ کھڑے ہوں گے۔
لمبی لمبی زیگ زیگ لائنیں بنی ہوں گی۔
لوگ گھنٹوں اذیت جھیل رہے ہوں گے، مگر کسی کے چہرے پر یہ احساس نہیں ہوگا کہ ہم اس اذیت کے ذمہ دار ہیں۔
بلکہ الٹا اس رش کو اپنی اہمیت، اپنی مصروفیت اور اپنے ادارے کی "کامیابی" سمجھا جائے گا۔
عجیب ذہنیت ہے!
ہمیں خالی انتظار گاہ بری لگتی ہے، مگر بھری ہوئی انتظار گاہ پسند ہے۔
ہمیں خالی سڑک بری لگتی ہے، مگر ٹریفک جام مصروفیت کی علامت لگتا ہے۔
ہمیں فوری کام ہوجانا شاید غیر معمولی محسوس ہوتا ہے، مگر گھنٹوں انتظار کرنے کو ہم نے معمول بنا لیا ہے۔
اور سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ:
لوگ اذیت جھیل رہے ہیں،
اذیت دینے والے اپنی اہمیت محسوس کر رہے ہیں،
اور معاشرہ اس اذیت کو کامیابی کی علامت سمجھ کر داد دے رہا ہے۔
آج پھر کراچی کے ایک مشہور ہسپتال کے ویٹنگ روم میں بیٹھے یہ جملے تحریر کررہا ہوں، اپائنٹمنٹ پانچ بجے تھی چھ بج چکے مگررررررر