09/05/2026
سپریم کورٹ پاکستان نے ایک نہایت اہم اور تاریخی فیصلے میں 20 سال پرانے قتل کیس میں عمر قید کی سزا کالعدم قرار دے دی۔ عدالتِ عظمیٰ نے واضح طور پر کہا کہ صرف کسی ملزم کے مفرور رہنے کی بنیاد پر اسے مجرم قرار نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ قانون کا بنیادی اصول ہے کہ شک کا فائدہ ہمیشہ ملزم کو دیا جاتا ہے۔
کراچی کے بلدیہ ٹاؤن میں 2006 میں دو افراد کے قتل کے مقدمے میں محمد اقبال کو ٹرائل کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ نے عمر قید کی سزا سنائی تھی، تاہم سپریم کورٹ نے تمام شواہد کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ استغاثہ اپنے الزامات کو بلا شبہ ثابت کرنے میں ناکام رہا۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم کی جانب سے تحریر کردہ 8 صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا گیا کہ مقدمے کے شواہد تضادات، خامیوں اور شکوک و شبہات سے بھرپور تھے۔ عدالت نے نشاندہی کی کہ جائے وقوعہ اور تھانے کے درمیان انتہائی کم فاصلہ ہونے کے باوجود ایف آئی آر بروقت درج نہیں کی گئی، زخمی گواہ کو مدعی نہیں بنایا گیا، اور جائے وقوعہ سے ملنے والے خالی خ*ل فرانزک تجزیے کے لیے لیبارٹری نہیں بھیجے گئے۔
سپریم کورٹ نے سندھ ہائی کورٹ کے اس مؤقف کو بھی مسترد کر دیا کہ وقوعے کے کئی سال بعد گرفتاری ملزم کے جرم کا ثبوت ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ اگر کسی معاملے میں معمولی سا بھی شک پیدا ہو جائے تو قانون کے مطابق اس کا فائدہ ملزم کو دینا لازم ہے۔
اپنے فیصلے میں سپریم کورٹ نے انصاف کے ایک عظیم اصول کو دہراتے ہوئے کہا کہ چودہ سو سال سے یہ اصول تسلیم شدہ ہے کہ ایک بے گناہ کو سزا دینے سے بہتر ہے کہ دس گناہگار بری ہو جائیں۔
عدالت نے حکم دیا کہ اگر محمد اقبال کسی اور مقدمے میں مطلوب نہیں تو اسے فوری طور پر رہا کیا جائے۔
یہ فیصلہ پاکستان کے نظامِ انصاف میں اس بنیادی اصول کی ایک مضبوط یاد دہانی ہے کہ انصاف صرف سزا دینے کا نام نہیں، بلکہ ہر بے گناہ کو تحفظ فراہم کرنا بھی عدالت کی اولین ذمہ داری ہے