Roti Shoti

Roti Shoti Explore The Food 🎂🍰🍔🍕🍪🍟

11/05/2026

پیر لٹکن شاہ کا اصل چہرہ بے نقاب! عورت کے بال اور کچا انڈہ کھاتے ہوئے حیران کن ویڈیو

سپریم کورٹ پاکستان نے ایک نہایت اہم اور تاریخی فیصلے میں 20 سال پرانے قتل کیس میں عمر قید کی سزا کالعدم قرار دے دی۔ عدال...
09/05/2026

سپریم کورٹ پاکستان نے ایک نہایت اہم اور تاریخی فیصلے میں 20 سال پرانے قتل کیس میں عمر قید کی سزا کالعدم قرار دے دی۔ عدالتِ عظمیٰ نے واضح طور پر کہا کہ صرف کسی ملزم کے مفرور رہنے کی بنیاد پر اسے مجرم قرار نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ قانون کا بنیادی اصول ہے کہ شک کا فائدہ ہمیشہ ملزم کو دیا جاتا ہے۔

کراچی کے بلدیہ ٹاؤن میں 2006 میں دو افراد کے قتل کے مقدمے میں محمد اقبال کو ٹرائل کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ نے عمر قید کی سزا سنائی تھی، تاہم سپریم کورٹ نے تمام شواہد کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ استغاثہ اپنے الزامات کو بلا شبہ ثابت کرنے میں ناکام رہا۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم کی جانب سے تحریر کردہ 8 صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا گیا کہ مقدمے کے شواہد تضادات، خامیوں اور شکوک و شبہات سے بھرپور تھے۔ عدالت نے نشاندہی کی کہ جائے وقوعہ اور تھانے کے درمیان انتہائی کم فاصلہ ہونے کے باوجود ایف آئی آر بروقت درج نہیں کی گئی، زخمی گواہ کو مدعی نہیں بنایا گیا، اور جائے وقوعہ سے ملنے والے خالی خ*ل فرانزک تجزیے کے لیے لیبارٹری نہیں بھیجے گئے۔

سپریم کورٹ نے سندھ ہائی کورٹ کے اس مؤقف کو بھی مسترد کر دیا کہ وقوعے کے کئی سال بعد گرفتاری ملزم کے جرم کا ثبوت ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ اگر کسی معاملے میں معمولی سا بھی شک پیدا ہو جائے تو قانون کے مطابق اس کا فائدہ ملزم کو دینا لازم ہے۔

اپنے فیصلے میں سپریم کورٹ نے انصاف کے ایک عظیم اصول کو دہراتے ہوئے کہا کہ چودہ سو سال سے یہ اصول تسلیم شدہ ہے کہ ایک بے گناہ کو سزا دینے سے بہتر ہے کہ دس گناہگار بری ہو جائیں۔

عدالت نے حکم دیا کہ اگر محمد اقبال کسی اور مقدمے میں مطلوب نہیں تو اسے فوری طور پر رہا کیا جائے۔

یہ فیصلہ پاکستان کے نظامِ انصاف میں اس بنیادی اصول کی ایک مضبوط یاد دہانی ہے کہ انصاف صرف سزا دینے کا نام نہیں، بلکہ ہر بے گناہ کو تحفظ فراہم کرنا بھی عدالت کی اولین ذمہ داری ہے

09/05/2026
ایک ایمان افروز اور سبق آموز اسلامی واقعہUmar ibn al-Khattab (حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ) اپنے دورِ خلافت میں رات کے وق...
09/05/2026

ایک ایمان افروز اور سبق آموز اسلامی واقعہ

Umar ibn al-Khattab (حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ) اپنے دورِ خلافت

میں رات کے وقت بھیس بدل کر مدینہ کی گلیوں میں گھومتے تھے تاکہ اپنی رعایا

کے حالات جان سکیں۔

ایک رات آپ ایک گھر کے قریب سے گزرے۔ اندر ایک ماں اپنی بیٹی سے کہہ رہی تھی:

“بیٹی! دودھ میں تھوڑا سا پانی ملا دو تاکہ زیادہ دودھ بن جائے اور ہم زیادہ پیسے کما سکیں۔”

بیٹی نے جواب دیا:

“امّی! Umar ibn al-Khattab نے دودھ میں پانی ملانے سے منع فرمایا ہے۔”

ماں نے کہا:

“حضرت عمر یہاں نہیں ہیں، انہیں کیسے پتا چلے گا؟”

لڑکی نے فوراً جواب دیا:

“اگر حضرت عمر نہیں دیکھ رہے، تو Allah تو ہمیں دیکھ رہا ہے۔ میں اللہ کی

نافرمانی نہیں کروں گی۔”

یہ بات سن کر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ بہت متاثر ہوئے۔ صبح اپنے بیٹے

Asim ibn Umar کو بلایا اور فرمایا کہ اس نیک اور خدا ترس لڑکی سے نکاح کر لو۔

بعد میں اسی خاندان سے Umar ibn Abd al-Aziz جیسے عظیم حکمران پیدا

ہوئے، جنہیں اسلام کا پانچواں خلیفہ راشد بھی کہا جاتا ہے۔



اس واقعے سے حاصل ہونے والے سبق

1. اللہ ہر وقت ہمیں دیکھ رہا ہے۔

2. دیانت داری دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی دیتی ہے۔

3. نیکی کا صلہ اللہ بہترین انداز میں دیتا ہے۔

4. چھوٹے اچھے اعمال بھی بڑے انعام کا سبب بنتے ہیں۔

5. حلال رزق میں برکت ہوتی ہے۔



قرآن پاک کا پیغام

“اور جو اللہ سے ڈرتا ہے، اللہ اس کے لیے نکلنے کا راستہ پیدا فرما دیتا ہے اور

اسے وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا۔”

— Quran، سورۃ الطلاق (65:2-3)



یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ سچی کامیابی اللہ کے خوف، دیانت داری اور حلال رزق میں ہے۔ 🌙

Alto Pro Max 😂
08/05/2026

Alto Pro Max 😂

عنوان: آخری چیخرات کا وقت تھا۔ شہر کے ایک سنسان کونے میں ایک پرانا سا گھر تھا، جس کی دیواریں بھی جیسے درد کی کہانیاں سنا...
04/05/2026

عنوان: آخری چیخ

رات کا وقت تھا۔ شہر کے ایک سنسان کونے میں ایک پرانا سا گھر تھا، جس کی

دیواریں بھی جیسے درد کی کہانیاں سناتی تھیں۔ اس گھر میں زینب رہتی تھی…

ایک ایسی لڑکی جس کی آنکھوں میں کبھی خواب ہوا کرتے تھے، مگر اب صرف

خوف رہ گیا تھا۔

زینب کی شادی کو تین سال ہو چکے تھے۔ شروع کے دن ٹھیک تھے، مگر پھر اس

کے شوہر کا اصل چہرہ سامنے آیا۔ ہر رات اس گھر میں ایک نئی اذیت جنم لیتی…

کبھی گالیوں کی صورت میں، کبھی تھپڑوں کی آواز میں، اور کبھی خاموشی کے اس

بوجھ میں جو زینب کے دل کو اندر ہی اندر توڑ دیتا۔

ایک دن زینب نے ہمت کر کے اپنے شوہر سے کہا،

“مجھے آزاد کر دو… میں اب یہ سب برداشت نہیں کر سکتی۔”

اس کے شوہر کے چہرے پر ایک عجیب سی مسکراہٹ آئی۔

“آزادی؟ تم؟ تمہاری زندگی اور موت دونوں میرے ہاتھ میں ہیں۔”

وہ رات سب سے زیادہ بھیانک تھی۔

بارش ہو رہی تھی، بجلی کڑک رہی تھی… اور اس گھر کے اندر ایک چیخ گونجی۔

ایسی چیخ جو دیواروں سے ٹکرا کر رہ گئی، مگر باہر کسی تک نہ پہنچی۔ زینب کو اس

دن اتنا مارا گیا کہ وہ بے ہوش ہو گئی۔ اس کا جسم زخموں سے بھر چکا تھا، مگر

اس کا دل… وہ تو پہلے ہی مر چکا تھا۔

صبح ہوئی تو سورج نکلا، مگر اس گھر میں اندھیرا ہی رہا۔

پڑوسیوں نے دروازہ کھٹکھٹایا… کوئی جواب نہ آیا۔ جب دروازہ توڑا گیا، تو اندر ایک

خاموشی تھی… ایسی خاموشی جو چیخوں سے بھی زیادہ خوفناک ہوتی ہے۔

زینب زمین پر پڑی تھی… بے حرکت۔

اور اس کے پاس دیوار پر ایک جملہ خون سے لکھا ہوا تھا:

“میں تھک گئی تھی…”

لوگوں نے کہا، “یہ خودکشی ہے۔”

مگر سچ جاننے والا کوئی نہیں تھا… یا شاید جان کر بھی خاموش تھا۔

کیونکہ بعض اوقات، ظلم صرف مارنے والے کا نہیں ہوتا…

خاموش رہنے والے بھی برابر کے شریک ہوتے ہیں۔

یہ کہانی ختم ہو گئی…

مگر زینب جیسی ہزاروں کہانیاں آج بھی زندہ ہیں،

ہر اس گھر میں… جہاں آوازیں دبائی جاتی ہیں۔

اور سب سے خطرناک چیز…

وہ چیخ ہے جو کبھی سنی ہی نہ جائ

“آخری پیغام”وہ رات باقی راتوں سے مختلف تھی۔بارش ہلکی ہلکی ہو رہی تھی، اور موبائل اسکرین پر ایک نام بار بار چمک رہا تھا… ...
03/05/2026

“آخری پیغام”

وہ رات باقی راتوں سے مختلف تھی۔

بارش ہلکی ہلکی ہو رہی تھی، اور موبائل اسکرین پر ایک نام بار بار چمک رہا تھا… “عائشہ”۔

علی نے گہرا سانس لیا، لیکن کال ریسیو نہ کی۔

کچھ رشتے ایسے ہوتے ہیں جو ختم تو ہو جاتے ہیں، مگر دل سے نہیں جاتے۔

دو سال پہلے…

عائشہ اس کی دنیا تھی۔ ہر صبح اس کی آواز، ہر رات اس کی دعا۔

لیکن ایک غلط فہمی نے سب کچھ بدل دیا۔

عائشہ کو لگا کہ علی نے اسے دھوکہ دیا ہے…

اور علی نے یہ سوچ کر خاموشی اختیار کر لی کہ “اگر اسے مجھ پر یقین نہیں، تو

وضاحت کا کیا فائدہ؟”

وقت گزرتا گیا…

نہ علی نے رابطہ کیا، نہ عائشہ نے پلٹ کر دیکھا۔

مگر آج… دو سال بعد…

یہ مسلسل کالز کیوں؟

آخرکار علی نے فون اٹھایا…

دوسری طرف خاموشی تھی… پھر ایک ہلکی سی آواز آئی:

“علی… میں ہسپتال میں ہوں… شاید یہ میری آخری رات ہو…”

علی کے ہاتھ کانپ گئے۔

“کیا ہوا؟ تم ٹھیک ہو؟”

عائشہ ہلکا سا مسکرائی، جیسے درد میں بھی سکون ہو:

“مجھے کینسر ہے… آخری اسٹیج… میں بس تم سے ایک بات کہنا چاہتی تھی…”

خاموشی چھا گئی۔

“میں نے تمہیں کبھی دھوکہ دیتے نہیں دیکھا تھا… بس لوگوں کی باتوں پر یقین کر لیا… اور تمہیں کھو دیا…”

علی کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔

“عائشہ… میں آج بھی وہیں کھڑا ہوں… جہاں تم مجھے چھوڑ کر گئی تھی…”

فون کے اُس پار کچھ لمحوں کی خاموشی رہی…

پھر آہستہ سے ایک آخری جملہ سنائی دیا:

“کاش… ہم تھوڑا سا صبر کر لیتے…”

کال کٹ گئی۔

اگلے دن، علی ہسپتال پہنچا…

لیکن دیر ہو چکی تھی۔

بیڈ خالی تھا…

اور تکیے کے پاس ایک کاغذ رکھا تھا:

“محبت میں سب سے بڑی غلطی یقین کھو دینا نہیں… بلکہ وضاحت کا موقع نہ دینا ہے۔”

💔 سبق:

کبھی بھی کسی ایک بات پر پورا رشتہ ختم نہ کرو…

کبھی کبھی سچ سننے کے لیے بس ایک سوال کافی ہوتا ہے۔

سبق آموز کہانی: انا کا بوجھایک شہر میں ایک امیر تاجر رہتا تھا جسے اپنی دولت اور عقل پر بہت غرور تھا۔     وہ ہمیشہ دوسروں...
03/05/2026

سبق آموز کہانی: انا کا بوجھ

ایک شہر میں ایک امیر تاجر رہتا تھا جسے اپنی دولت اور عقل پر بہت غرور تھا۔

وہ ہمیشہ دوسروں کو کمتر سمجھتا اور کسی کی بات سننا اپنی توہین سمجھتا تھا۔

ایک دن اس کے پاس ایک بوڑھا مسافر آیا اور کہا،

“اگر اجازت ہو تو میں آپ کو ایک ایسی بات بتاؤں جو آپ کی زندگی بدل دے گی۔”

تاجر نے ہنستے ہوئے کہا،

“مجھے کسی کے مشورے کی ضرورت نہیں، میں سب جانتا ہوں!”

بوڑھا خاموشی سے چلا گیا۔

کچھ عرصے بعد تاجر کو کاروبار میں بڑا نقصان ہوا۔ وہ پریشان ہو کر اسی بوڑھے کو

ڈھونڈنے نکلا۔ آخرکار وہ اسے ایک سادہ سی جھونپڑی میں ملا۔

تاجر نے عاجزی سے کہا،

“مجھے وہ بات بتا دیں، شاید اب میں سمجھ سکوں۔”

بوڑھے نے مسکرا کر کہا،

“جب برتن بھرا ہو تو اس میں کچھ نہیں ڈالا جا سکتا۔ تمہارا دل اور دماغ غرور

سے بھرا ہوا تھا، اس لیے کوئی اچھی بات اس میں جگہ نہیں بنا سکی۔”

تاجر کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس نے اپنی غلطی تسلیم کی اور عاجزی اختیار کی۔

سبق:
جو انسان سیکھنے کے لیے خود کو خالی نہیں کرتا، وہ کبھی کچھ نیا حاصل نہیں کر
پاتا۔

🌿 آج جمعہ کا دن ہے 🌿آج سب سے خوبصورت عمل یہ ہے کہ ہم زیادہ سے زیادہ درود شریف پڑھیں 🤲دلوں کو سکون دیں، زبان کو ذکر سے تر...
01/05/2026

🌿 آج جمعہ کا دن ہے 🌿

آج سب سے خوبصورت عمل یہ ہے کہ ہم زیادہ سے زیادہ درود شریف پڑھیں 🤲
دلوں کو سکون دیں، زبان کو ذکر سے تر رکھیں، اور نبی ﷺ پر سلام بھیجیں۔

✨ آج صرف درود پڑھیں، اور اس دن کو برکتوں سے بھر دیں ✨

17/04/2026

Howdy 🎩 Chicken🍗 Menu Lahore

Address

Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Roti Shoti posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share