30/10/2025
جشنِ آزادی گلگت بلتستان کی تاریخ اور ہم
تحریر: یاسر دانیال صابری
گلگت بلتستان کا رقبہ تقریباً 72971 مربع کلومیٹر اور آبادی تقریباً 18 لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔ہمارے یہاں کی زبانوں میں شینا، بلتی، بروشسکی، کھوار اور وخی نمایاں ہیں، جن میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان شینا ہے۔ یہ خطہ قدرتی حسن، بلند و بالا پہاڑوں، گلیشیئرز، اور برف پوش وادیوں کی سرزمین ہے۔ دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو بھی یہی واقع ہے۔ قراقرم، ہمالیہ اور ہندوکش جیسے عظیم پہاڑی سلسلے یہاں آکر ملتے ہیں دنیا کی نظریں جہاں پر ہیں ۔۔۔۔ہم اپنے مضمون کی طرف لوٹ آتے ہیں اگر دیکھا جائے تو ہر علاقے کی ایک کلچرل شو اس علاقے کی علامت ہوتی ہے لیکن گلگت بلتستان کی آزادی کے دن استور سکردو دیامر گلگت ہنزہ گلگت بلتستان کے ذیلی ثقافتیں کئی اختلاف اور کئی مماثلت رکھتے ہیں اس میں حراموش گلگت اور دیامر کے کلچر ایک جیسا ہے ۔ہنزہ اور نگر کا کلچر ایک جیسا ہے بلتی اور تبت کا کلچر شو ایک جیسا ہے ان سب کا نمائش ہوتا ہے سارے اپنے کلچر کو یوم آزادی کے دن شو کرتے ہیں جس میں کئی میں سے کچھ مماثلتیں پائی جاتی ہے تو کئی مختلف مگر دن جشن آزادی منانا ہے جشن آزادی میں چھوٹی بچیوں کو سجانا چاہئے مگر اس کے سروں میں چادر ہوں لیکن اسٹائل کپڑے پہن کر ڈانس کرنا ہماری کلچر اور اقدار میں شامل نہیں البتہ جوان کر سکتے ہیں اس دن بھی ہم وہی خوشی مناتے ہیں جو سولہ دنوں کی آزادی ملی تھی ہم اگر سارے گلگت بلتستان کا ایک ہی کلچرل رکھے تو درست رہے گا کلچرل شو میں سارے علاقوں کا مختلف کلچر پیش کرنا ہمیں ایک دوسروں سے جدا کر دیتا ہے کارئین و سمائین یہ کہہ رہے فلاں علاقے کا کلچر ایک ہے اسی طرح دوریاں بڑھ جاتی ہے ملگری ، گارائی ۔وطن دار اور علاقہ اور گاؤں پرستی بڑھ جاتی ہے جہاں سے دشمن ہمیں اور ہماری اتفاق میں فوڈ ڈالنے کی کوشش کرتا ہے کہ ہمیں مذہبی منافرت کو بھلا کر گلگت بلتستان بن کر سامنے آ نا بچ چاہیے سارے مل کر ایک ہی لباس ٹوپی میں اپنے بزرگوں اور شہیدوں کے مزار پر حاضری دے کر دعائیں کرنا چاہتے ۔ہم اسلامی ملک میں رہتے ہیں ہم انگلش پرسن نہیں ہے ماڈرن لفظ نے ہمیں تباہی کیا ہوا ہے ۔
پاکستان میں بہت سے لوگ یہ نہیں جانتے کہ ان کے ملک کے ایک حصے میں جشنِ آزادی دو مرتبہ منایا جاتا ہے 14 اگست کو بھی اور یکم نومبر کو بھی۔ اس دوہری