12/04/2026
👨🦽جو بچے کومہ میں ہوتے ہیں، وہ اپنی ہر ضرورت کے لیے اپنے والدین کے محتاج ہوتے ہیں۔ وہ دنیا کی بے حسی کو محسوس تو کر سکتے ہیں مگر بول کر اپنی تکلیف کا اظہار نہیں کر سکتے۔
✨️ ایسے بچے درحقیقت "صفا اور مروہ" کی مانند ہیں جن کے گرد ان کے والدین تاحیات سعی کرتے ہیں، اور ان کے جانے کے بعد ان کی یاد کے ذریعے اس ذمہ داری کو پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو اس آزمائش میں ڈالا ہوتا ہے؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کو ہی اتنی بڑی ذمہ داری اور ایثار کے لیے منتخب کرتے ہیں ❤️
✅️ ان بچوں کو توجہ دینا اور ان کا خیال رکھنا صرف ایک فرض نہیں بلکہ ایک عظیم عبادت ہے، اور ہم سب پر یہ لازم ہے کہ عملی طور پر ایسے خاندانوں کے لیے آسانیاں پیدا کریں۔
✅️ یاد رکھیں، لفظوں اور طنز کے تیر چلا کر ان کی پریشانیوں میں اضافہ کرنا ایسا گناہ ہے جسے اللہ تعالیٰ صرف سجدوں، روزوں، طواف یا حج و عمرے سے کبھی معاف نہیں فرمائیں گے۔۔۔ کیونکہ حقوق العباد میں کی گئی کوتاہی اللہ تعالیٰ کے ہاں ہرگز قابلِ قبول نہیں ہے۔
❌️ آپ اپنی قبر میں اپنے پیسے، گاڑیاں، گھر اور پراپرٹی لے کر نہیں جائیں گے۔۔۔۔ وہاں صرف آپ کے اعمال ہی آپ کے ساتھی ہوں گے۔ یاد رکھیں کہ جان بوجھ کر برتی گئی غفلت، زیادتی اور دوسروں کی دل آزاری، نامۂ اعمال کی صورت میں آپ کے بائیں ہاتھ میں تھما دی جائے گی۔
✨️
میری بیٹیوں کی یاد میں شروع کیا گیا ایک ایسا سفر ہے جس کا مقصد ہر انسان کو acknowledge کرنا ہے۔ اس کے ذریعے میں یہ پیغام دینا چاہتی ہوں کہ ہر بچہ، اپنی تمام تر معذوری کے باوجود مکمل احترام اور عزت کا حقدار ہے۔ میری یہ چھوٹی سی کوشش معاشرے میں True Inclusion اور Empathy پھیلانے کا ایک ذریعہ ہے، تاکہ ہم یہ سمجھ سکیں کہ بنیادی انسانی حقوق کسی performance یا skills کی بنیاد پر نہیں
دیے جانے چاہئیں، بلکہ یہ ہر انسان کا پیدائشی حق ہے۔
میرا یہ عہد مرتے دم تک کے لیے ہے، جو میں نے اپنی بیٹیوں کی محبت میں اپنے آپ سے کیا ۔....
✅️ جب تک میں زندہ ہوں, رومیصہ اور زارا
میرے ہر عمل اور سوچ میں میرے ساتھ رہیں گی الحمداللہ ❤️