25/05/2026
زہر انسان نے خود "ایجاد" نہیں کیا بلکہ اسے قدرت میں پہلے سے موجود پایا اور پھر اسے استعمال کرنا سیکھا۔
قدیم انسانوں نے مشاہدہ کیا کہ کچھ پودوں کو کھانے سے جانور مر جاتے ہیں یا کچھ سانپوں کے کاٹنے سے انسان زندہ نہیں بچتا۔ وہیں سے زہر کی تاریخ شروع ہوئی۔
تاریخ دانوں کا ماننا ہے کہ ہزاروں سال پہلے (پتھر کے دور میں) انسانوں نے زہر کا استعمال شروع کر دیا تھا۔
وہ پودوں کے عرق، زہریلی جڑی بوٹیوں اور مینڈک یا سانپ کے زہر کو جمع کر کے اپنے تیروں کی نوک پر لگاتے تھے تاکہ شکار جلدی مر جائے۔
لفظ "Toxic" (زہر) یونانی لفظ "Toxikon" سے نکلا ہے، جس کا مطلب ہے "تیر کا زہر"۔
اگر ہم باقاعدہ کیمیاوی طریقے سے زہر بنانے کی بات کریں، تو درج ذیل نام اور ادوار اہم ہیں.
قدیم مصر:
مصریوں نے سب سے پہلے "آرسینک" اور "سائنائیڈ" جیسی چیزوں کو پودوں (جیسے بادام یا آڑو کے بیج) سے نکالنا سیکھا تھا۔
وہ اسے سزائے موت دینے کے لیے استعمال کرتے تھے۔
لوکیسٹا:
تاریخ میں درج پہلی "پیشہ ور زہر بنانے والی" ایک عورت تھی جس کا نام لوکیسٹا تھا۔ اس کا تعلق قدیم روم سے تھا (پہلی صدی عیسوی)۔
اسے رومی بادشاہوں نے اپنے دشمنوں کو راستے سے ہٹانے کے لیے ملازم رکھا ہوا تھا۔
پرانے زمانے میں زہر بنانے کے تین بڑے طریقے تھے.
نباتاتی زہر:
پودوں جیسے دھتورہ، ہملاک اور ایکونائٹ سے بنایا جاتا تھا۔ مشہور یونانی فلسفی سقراط کو "ہملاک" کا زہر پلایا گیا تھا۔
حیوانی زہر:
بچھو، سانپ اور زہریلے مینڈکوں کے جسم سے نکالا جاتا تھا۔
معدنی زہر:
یہ سب سے خطرناک ثابت ہوا، جسے پارے اور آرسینک سے تیار کیا جاتا تھا۔
آرسینک: "زہروں کا بادشاہ"
قرونِ وسطیٰ میں آرسینک کو سب سے زیادہ مقبول زہر سمجھا جاتا تھا کیونکہ اس کا نہ کوئی ذائقہ ہوتا تھا اور نہ خوشبو۔
اسے کھانے میں ملا کر دینا بہت آسان تھا۔ اسے "بادشاہوں کا زہر" بھی کہا جاتا تھا کیونکہ یہ اکثر تخت کے حصول کے لیے استعمال ہوتا تھا۔
جہاں انسان نے زہر بنانا سیکھا، وہیں اس کا توڑ بھی ڈھونڈا۔
قدیم زمانے کے ایک بادشاہ مہرداد ششم نے "Mithridatium" نامی ایک نسخہ تیار کیا تھا،
جس میں وہ خود روزانہ زہر کی تھوڑی سی مقدار لیتا تھا تاکہ اس کا جسم زہر کے خلاف مدافعت پیدا کر لے۔
دنیا کا پہلا زہر کسی ایک لیبارٹری میں نہیں بنا، بلکہ یہ قدیم شکاریوں کی ضرورت تھی جنہوں نے پودوں اور جانوروں کے زہر کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔
بعد میں رومی اور مصری تہذیبوں نے اسے سائنسی طریقے سے کشید کرنا شروع کیا۔