Storyline Books

Storyline Books �� Storylines Books - A Class Of Its Own�� There are a lot of others with the opinion that social media has helped improve and given us

Social media is a very controversial topic of discussion today as it can be argued to be both a blessing and a curse to our generation. Most people are of the opinion that social media has brought down and destroyed every iota of physical human interaction at a very alarming rate and has changed how we view human relationships in this modern time.

🌙 RABI-UL-AWWAL MUBARAK ﷺ | May This Blessed Month Bring Peace & Blessings🌙🤍 ربیعُ الاول مبارکRabi-ul-Awwal reminds us o...
26/08/2026

🌙 RABI-UL-AWWAL MUBARAK ﷺ | May This Blessed Month Bring Peace & Blessings
🌙🤍 ربیعُ الاول مبارک
Rabi-ul-Awwal reminds us of mercy, kindness, beautiful character and the teachings of Prophet Muhammad ﷺ.
اللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَعَلٰى آلِ مُحَمَّدٍ ﷺ
May Allah guide us to follow the Sunnah and fill our hearts and homes with peace and blessings. 🤲
ROUTES TRAVEL (KSA)
🌍 Your Journey. Our Priority.
📞 Call / WhatsApp: +966 54 294 9364
❤️ Like • Share • Save this blessed reminder.

(Rabi-ul-Awwal, Islamic reminder, Seerat Nabi, Madinah, Umrah Saudi Arabia, Routes Travel KSA, Islamic travel)

Rabi-ul-Awwal Mubarak Islamic greeting from Routes Travel KSA with Madinah mosque, green dome, crescent moon, elegant gold decoration and WhatsApp contact +966 54 294 9364

🌙 **آج کی کہانی: کمرہ نمبر 17 کا دروازہ** 🚪😨رات کے 11 بجے حمزہ ایک پرانے ہوٹل میں چیک اِن کرتا ہے۔ریسپشن پر موجود شخص اس...
23/08/2026

🌙 **آج کی کہانی: کمرہ نمبر 17 کا دروازہ** 🚪😨

رات کے 11 بجے حمزہ ایک پرانے ہوٹل میں چیک اِن کرتا ہے۔

ریسپشن پر موجود شخص اسے **کمرہ نمبر 16** کی چابی دیتا ہے، لیکن جاتے ہوئے ایک عجیب بات کہتا ہے:

**“اگر رات کو کوریڈور میں کمرہ نمبر 17 نظر آئے... تو اس کا دروازہ مت کھولنا۔”**

حمزہ حیران ہو کر پوچھتا ہے:

**“لیکن یہاں تو کمرہ نمبر 17 ہے ہی نہیں!”**

ریسپشنسٹ چند لمحے خاموش رہتا ہے اور پھر کہتا ہے:

**“اسی لیے تو کہہ رہا ہوں...”** 😨

رات کے ٹھیک **2:17 بجے** حمزہ کی آنکھ کھل جاتی ہے۔

**ٹھک... ٹھک... ٹھک...**

دروازے پر دستک ہو رہی ہوتی ہے۔

حمزہ دروازہ کھولتا ہے تو کوریڈور کے آخر میں ایک ایسا دروازہ نظر آتا ہے جو پہلے وہاں تھا ہی نہیں۔

اس پر لکھا ہوتا ہے:

# # # **ROOM 17**

حمزہ آہستہ آہستہ اس دروازے کے قریب جاتا ہے۔

اچانک دروازے کے نیچے سے ایک پرانی تصویر باہر آتی ہے۔

حمزہ تصویر اٹھاتا ہے...

اور اس کی سانس رک جاتی ہے۔ 😱

**تصویر میں خود حمزہ کھڑا ہوتا ہے۔**

لیکن تصویر کے پیچھے تاریخ لکھی ہوتی ہے:

**17 اگست 1998**

مسئلہ یہ تھا کہ...

**حمزہ کی پیدائش 2001 میں ہوئی تھی۔**

اچانک کمرے کے اندر سے ایک بچے کی آواز آتی ہے:

**“حمزہ... تم پھر دیر سے آئے ہو۔”**

حمزہ کے چہرے کا رنگ اڑ جاتا ہے۔

کیونکہ وہ آواز...

**اس کی اپنی بچپن کی آواز ہوتی ہے۔**

🔥 **لیکن اصل راز ابھی باقی ہے...**

آپ کے خیال میں **کمرہ نمبر 17 میں آخر کیا چھپا ہوا تھا؟** 👀

👇 کمنٹ میں اپنی رائے ضرور بتائیں۔

اگر آپ کو ایسی **سسپنس، پراسرار اور خوفناک کہانیاں** پسند ہیں تو پیج کو **Follow** کریں اور یہ کہانی اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں۔ ❤️

 # # # 🌸 نیکی کا پھل | آج کی اردو کہانیایک دن علی کو راستے میں ایک بٹوا ملا۔ 💰بٹوے میں پیسے اور شناختی کارڈ موجود تھا۔عل...
17/08/2026

# # # 🌸 نیکی کا پھل | آج کی اردو کہانی

ایک دن علی کو راستے میں ایک بٹوا ملا۔ 💰
بٹوے میں پیسے اور شناختی کارڈ موجود تھا۔

علی چاہتا تو پیسے اپنے پاس رکھ سکتا تھا، لیکن اس نے ایمانداری کا راستہ چنا۔ ❤️
اس نے بٹوے کے مالک کو تلاش کیا اور بٹوا واپس کر دیا۔

مالک نے خوش ہو کر علی کو انعام دینا چاہا، مگر علی نے مسکرا کر کہا:

**"مجھے انعام نہیں چاہیے، کسی کی مشکل میں کام آنا ہی میرے لیے کافی ہے۔"** 🌷

علی کی ایمانداری سے متاثر ہو کر مالک نے اس کی تعلیم میں مدد کرنے کا فیصلہ کیا۔ 📚✨

💡 **سبق:**
**نیکی کبھی ضائع نہیں ہوتی۔ جو دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرتا ہے، اللہ اس کے لیے آسانیاں پیدا کرتا ہے۔**

❤️ اگر آپ بھی ایمانداری کو سب سے بڑی خوبی سمجھتے ہیں تو یہ کہانی **Share** کریں۔

👍 **Like | 💬 Comment | ↗️ Share | Follow**

#نیکی #ایمانداری

 # آخری چراغ 🕯️ایک چھوٹے سے گاؤں کا نام **نورپور** تھا۔یہ گاؤں پہاڑوں کے درمیان بسا ہوا تھا۔ صبح کے وقت جب سورج پہاڑوں ک...
12/08/2026

# آخری چراغ 🕯️

ایک چھوٹے سے گاؤں کا نام **نورپور** تھا۔

یہ گاؤں پہاڑوں کے درمیان بسا ہوا تھا۔ صبح کے وقت جب سورج پہاڑوں کے پیچھے سے نکلتا تو پورا گاؤں سنہری روشنی میں نہا جاتا، اور شام ہوتے ہی ٹھنڈی ہوا کے ساتھ درختوں کے پتے سرسراہنے لگتے۔

نورپور کے لوگ سادہ زندگی گزارتے تھے۔ کسی کے پاس کھیت تھے، کوئی لکڑیاں کاٹتا تھا، کوئی جانور پالتا تھا۔

اسی گاؤں کے آخری سرے پر مٹی اور اینٹوں سے بنا ایک چھوٹا سا گھر تھا۔

اس گھر میں **علی** نام کا ایک سترہ سالہ لڑکا اپنی بوڑھی ماں کے ساتھ رہتا تھا۔

علی کے والد کا انتقال کئی سال پہلے ہو چکا تھا۔

والد نے مرنے سے پہلے علی سے صرف ایک بات کہی تھی:

**"بیٹا، حالات جیسے بھی ہوں، اپنے دل کا چراغ کبھی بجھنے مت دینا۔"**

علی اس وقت بہت چھوٹا تھا، مگر اسے اپنے والد کی یہ بات آج تک یاد تھی۔

وہ ہر صبح سورج نکلنے سے پہلے اٹھتا، اپنی ماں کے لیے پانی بھرتا، گھر کا کام کرتا اور پھر گاؤں کے بازار میں ایک دکاندار کے پاس کام کرنے چلا جاتا۔

اس کی خواہش تھی کہ وہ پڑھ لکھ کر ایک دن بڑا آدمی بنے۔

لیکن غربت اس کے راستے کی سب سے بڑی دیوار تھی۔

ایک دن علی نے اپنی ماں سے کہا:

"امی، میں شہر جا کر پڑھنا چاہتا ہوں۔ وہاں ایک بڑا مدرسہ اور اسکول ہے۔ اگر میں محنت کروں تو شاید مجھے وظیفہ مل جائے۔"

ماں نے خاموشی سے اپنے بیٹے کی طرف دیکھا۔

اس کی آنکھوں میں محبت بھی تھی اور فکر بھی۔

"بیٹا، تم جانتے ہو ہمارے پاس اتنے پیسے نہیں کہ تم شہر میں رہ سکو۔"

علی مسکرایا۔

"امی، پیسے نہیں ہیں تو کیا ہوا؟ محنت تو ہے۔"

ماں نے علی کے سر پر ہاتھ رکھا۔

"اللہ تمہاری محنت قبول کرے۔"

---

# # ایک عجیب ملاقات

اگلے دن علی بازار سے واپس آ رہا تھا کہ راستے میں اسے ایک بوڑھا آدمی نظر آیا۔

بوڑھا شخص سڑک کے کنارے بیٹھا تھا۔ اس کے کپڑے پرانے تھے اور ہاتھ میں ایک پرانی سی لکڑی کی چھڑی تھی۔

علی اس کے قریب گیا۔

"بابا، آپ یہاں اکیلے کیوں بیٹھے ہیں؟"

بوڑھے نے دھیمی آواز میں کہا:

"بیٹا، میں شہر جا رہا تھا مگر راستے میں میری ٹانگ میں چوٹ لگ گئی۔ اب آگے چلنا مشکل ہے۔"

علی نے فوراً اپنا سامان زمین پر رکھا۔

"آپ فکر نہ کریں، میں آپ کو گاؤں تک لے جاتا ہوں۔"

بوڑھے نے حیرت سے اسے دیکھا۔

"تمہیں جلدی نہیں؟"

علی نے مسکرا کر کہا:

"جلدی تو ہے، مگر کسی کی مدد کرنے سے بڑی کوئی منزل نہیں۔"

علی نے بوڑھے کو سہارا دیا اور آہستہ آہستہ گاؤں کی طرف چلنے لگا۔

راستے میں بوڑھے نے پوچھا:

"بیٹا، تم کیا کرتے ہو؟"

علی نے اپنی زندگی کے بارے میں سب کچھ بتا دیا۔

بوڑھا خاموشی سے سنتا رہا۔

گاؤں پہنچ کر علی نے بوڑھے کو ایک محفوظ جگہ بٹھایا اور پانی دیا۔

بوڑھے نے اپنی جیب سے ایک چھوٹی سی پرانی کتاب نکالی۔

"یہ کتاب رکھ لو۔"

علی نے حیرت سے پوچھا:

"میرے لیے؟"

بوڑھا مسکرایا۔

"ہاں۔ اس میں ایسی دولت ہے جو چور بھی نہیں چرا سکتا۔"

علی نے کتاب لے لی۔

"اس میں کیا ہے؟"

بوڑھے نے جواب دیا:

"علم، تجربہ اور کچھ ایسے راز جو صرف وہی سمجھ سکتا ہے جو ہمت نہیں ہارتا۔"

علی نے شکریہ ادا کیا۔

اسے کیا معلوم تھا کہ یہ چھوٹی سی کتاب اس کی پوری زندگی بدلنے والی ہے۔

---

# # کتاب کا پہلا سبق

رات کو علی نے چراغ جلایا اور کتاب کھولی۔

پہلے صفحے پر صرف ایک جملہ لکھا تھا:

**"اگر تم دنیا بدلنا چاہتے ہو تو پہلے خود کو بدلنا سیکھو۔"**

علی دیر تک اس جملے کو دیکھتا رہا۔

اگلے صفحے پر لکھا تھا:

**"غربت انسان کو کمزور نہیں بناتی، ہمت چھوڑ دینا انسان کو کمزور بناتا ہے۔"**

علی نے فیصلہ کیا کہ وہ ہر روز کتاب کا ایک سبق پڑھے گا اور اپنی زندگی میں اسے آزمانے کی کوشش کرے گا۔

دن گزرتے گئے۔

علی صبح کام کرتا، شام کو پڑھتا اور رات کو کتاب کا مطالعہ کرتا۔

وہ ہر روز اپنے آپ کو پہلے سے بہتر بنانے کی کوشش کرتا۔

کچھ لوگ اس کا مذاق اڑاتے۔

گاؤں کا ایک امیر آدمی، **حامد خان**، اکثر اسے دیکھ کر کہتا:

"ارے علی! اتنی کتابیں پڑھ کر کیا کرو گے؟ آخر میں تو غریب ہی رہو گے۔"

علی خاموش رہتا۔

وہ صرف مسکرا کر کہتا:

"وقت بتائے گا۔"

---

# # شہر کا سفر

کچھ مہینوں بعد علی نے شہر جانے کا فیصلہ کیا۔

اس نے اپنی ماں سے اجازت لی۔

ماں نے اپنی پرانی چادر میں کچھ سکے باندھے اور علی کو دے دیے۔

"یہ ہمارے پاس آخری بچت ہے۔"

علی نے سکے واپس کرنے چاہے۔

"امی، یہ آپ رکھیں۔"

ماں نے سر ہلایا۔

"نہیں بیٹا۔ یہ تمہاری تعلیم کے لیے ہیں۔"

علی کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔

اس نے ماں کے ہاتھ چومے۔

"میں واپس آؤں گا، امی۔ اور ایک دن آپ کو اس گھر سے بہتر گھر دوں گا۔"

ماں نے کہا:

"مجھے بڑا گھر نہیں چاہیے۔ بس تم ایک اچھے انسان بن کر واپس آنا۔"

علی نے یہ بات دل میں بسا لی۔

---

شہر پہنچ کر علی کو بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

اس کے پاس رہنے کے لیے جگہ نہیں تھی۔

کئی لوگوں نے اسے کام دینے سے انکار کر دیا۔

ایک دن وہ تھکا ہارا سڑک کے کنارے بیٹھا تھا۔

اس نے آسمان کی طرف دیکھا۔

"یا اللہ، کیا میں غلط راستے پر آ گیا ہوں؟"

پھر اسے اپنے والد کی بات یاد آئی:

**"اپنے دل کا چراغ کبھی بجھنے مت دینا۔"**

علی کھڑا ہو گیا۔

"نہیں۔ میں ہار نہیں مانوں گا۔"

---

# # ایک چھوٹی سی دکان

آخرکار اسے ایک پرانی کتابوں کی دکان پر کام مل گیا۔

دکان کا مالک ایک بوڑھا شخص تھا جس کا نام **رحمان صاحب** تھا۔

رحمان صاحب نے علی سے کہا:

"کام مشکل ہے۔ صبح سے شام تک کتابیں ترتیب دینا ہوں گی۔"

علی نے کہا:

"مجھے منظور ہے۔"

"تنخواہ بہت کم ہے۔"

"کوئی مسئلہ نہیں۔"

"اور رہنے کی جگہ؟"

علی خاموش ہو گیا۔

رحمان صاحب نے اسے کچھ دیر دیکھا۔

پھر بولے:

"دکان کے پیچھے ایک چھوٹا سا کمرہ ہے۔ اگر چاہو تو وہاں رہ سکتے ہو۔"

علی نے شکر ادا کیا۔

اس دن سے علی کی نئی زندگی شروع ہوئی۔

دن کو وہ کتابوں کی دکان پر کام کرتا اور رات کو انہی کتابوں کو پڑھتا۔

کچھ ہی عرصے میں رحمان صاحب نے محسوس کیا کہ علی صرف کتابیں بیچنے والا لڑکا نہیں، بلکہ کتابوں کو سمجھنے والا انسان ہے۔

ایک دن رحمان صاحب نے پوچھا:

"تم اتنا کیوں پڑھتے ہو؟"

علی نے جواب دیا:

"کیونکہ میرے پاس دولت نہیں، اس لیے علم کو اپنی دولت بنانا چاہتا ہوں۔"

رحمان صاحب مسکرا دیے۔

"تم بہت آگے جاؤ گے۔"

---

# # کامیابی کا پہلا دروازہ

ایک دن دکان پر ایک کاروباری شخص آیا۔

اسے اپنے کاروبار کے لیے حساب کتاب رکھنے والے شخص کی ضرورت تھی۔

علی نے اس کا کام دیکھا اور چند غلطیاں فوراً پکڑ لیں۔

کاروباری شخص حیران ہو گیا۔

"تمہیں یہ سب کیسے آتا ہے؟"

علی نے کہا:

"میں نے کتابوں سے سیکھا ہے۔"

اس شخص نے اسے اپنے دفتر میں کام کی پیشکش کی۔

علی نے پیشکش قبول کر لی۔

اب اس کی آمدنی پہلے سے کئی گنا زیادہ تھی۔

لیکن اس نے اپنی ماں کو بھلایا نہیں۔

وہ ہر مہینے پیسے گھر بھیجتا۔

کچھ سالوں میں اس نے اپنی تعلیم مکمل کی اور کاروبار کے میدان میں بھی مہارت حاصل کر لی۔

پھر ایک دن اسے ایک بڑی کمپنی میں کام مل گیا۔

لوگ اسے کامیاب سمجھنے لگے۔

لیکن علی کے دل میں اب بھی نورپور کا چھوٹا سا گھر اور اپنی ماں کی تصویر موجود تھی۔

---

# # واپسی

کئی سال بعد علی اپنے گاؤں واپس آیا۔

اس کے پاس اچھی گاڑی تھی، بہترین لباس تھا اور لوگ اس کا استقبال کرنے کے لیے جمع تھے۔

حامد خان بھی وہاں موجود تھا۔

وہی حامد خان جو کبھی علی کا مذاق اڑایا کرتا تھا۔

حامد خان نے علی کو دیکھا اور کہا:

"واہ! تم تو واقعی بڑے آدمی بن گئے۔"

علی نے مسکرا کر جواب دیا:

"بڑا آدمی دولت سے نہیں، کردار سے بنتا ہے۔"

حامد خان خاموش ہو گیا۔

علی سیدھا اپنے گھر گیا۔

ماں دروازے پر بیٹھی تھی۔

علی نے ماں کے قدموں میں بیٹھ کر کہا:

"امی، میں واپس آ گیا۔"

ماں کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔

"میں جانتی تھی تم ضرور واپس آؤ گے۔"

علی نے کہا:

"امی، میں آپ سے کیا ہوا وعدہ نہیں بھولا۔"

---

# # اصل امتحان

علی نے گاؤں میں ایک بڑا گھر بنوانے کے بجائے ایک مختلف فیصلہ کیا۔

اس نے گاؤں کے بچوں کے لیے **ایک اسکول اور مفت لائبریری** بنانے کا اعلان کیا۔

گاؤں کے لوگ حیران رہ گئے۔

حامد خان نے پوچھا:

"تم اتنا پیسہ بچوں پر کیوں خرچ کر رہے ہو؟"

علی نے جواب دیا:

"کیونکہ کبھی میں بھی انہی بچوں جیسا تھا۔ میرے پاس پیسے نہیں تھے، لیکن ایک کتاب نے میری زندگی بدل دی۔"

"میں چاہتا ہوں کہ کسی اور بچے کو اپنے خواب کے لیے غربت سے شکست نہ کھانی پڑے۔"

چند مہینوں میں اسکول تیار ہو گیا۔

گاؤں کے بچے وہاں پڑھنے لگے۔

علی ہر ہفتے اسکول آتا اور بچوں سے بات کرتا۔

وہ انہیں ہمیشہ ایک ہی بات کہتا:

**"حالات آپ کی ابتدا طے کر سکتے ہیں، لیکن آپ کا مستقبل نہیں۔"**

---

# # آخری چراغ

ایک رات علی اپنی ماں کے ساتھ گھر کے باہر بیٹھا تھا۔

آسمان پر بے شمار ستارے چمک رہے تھے۔

ماں نے پوچھا:

"بیٹا، کیا تم خوش ہو؟"

علی نے کچھ دیر سوچا۔

پھر مسکرا کر بولا:

"ہاں امی۔ آج مجھے لگتا ہے کہ ابو کی بات سمجھ آ گئی ہے۔"

ماں نے پوچھا:

"کون سی بات؟"

علی نے گھر کے اندر جلتے ہوئے چراغ کی طرف دیکھا۔

"انہوں نے کہا تھا کہ دل کا چراغ کبھی بجھنے مت دینا۔"

"میں سمجھتا تھا کہ اس کا مطلب صرف ہمت نہیں ہارنا ہے۔"

"لیکن اب سمجھ آیا ہے کہ دل کا چراغ صرف اپنے لیے نہیں جلایا جاتا۔"

"اصل چراغ وہ ہے جو دوسروں کے اندھیرے میں بھی روشنی دے۔"

ماں نے اپنے بیٹے کو دیکھا اور مسکرا دی۔

اسی لمحے بجلی چلی گئی۔

پورا گاؤں اندھیرے میں ڈوب گیا۔

مگر علی کے گھر کا چراغ جل رہا تھا۔

کچھ دیر بعد گاؤں کے کئی بچے اپنے ہاتھوں میں چھوٹے چھوٹے چراغ لے کر علی کے گھر کے باہر آ گئے۔

ایک بچے نے کہا:

"علی بھائی، آپ نے ہمیں پڑھنا سکھایا ہے۔"

دوسرے نے کہا:

"ہم بھی بڑے ہو کر دوسروں کی مدد کریں گے۔"

علی کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔

اس نے آسمان کی طرف دیکھا۔

اور دل ہی دل میں اپنے والد سے کہا:

**"ابو، آپ کا چراغ بجھا نہیں۔ یہ چراغ اب بہت سے دلوں میں جل رہا ہے۔"**

---

# سبق 🌟

زندگی میں کبھی کبھی حالات ہمیں یہ یقین دلانے لگتے ہیں کہ ہم کچھ نہیں کر سکتے۔

غربت، ناکامی، تنہائی اور مشکلات انسان کو توڑنے کی کوشش کرتی ہیں۔

لیکن یاد رکھیں:

**مشکل حالات آپ کی کہانی کا اختتام نہیں ہوتے۔**

ہو سکتا ہے آج آپ کے پاس وسائل کم ہوں۔

ہو سکتا ہے لوگ آپ کا مذاق اڑائیں۔

ہو سکتا ہے آپ کے خواب بہت بڑے ہوں اور راستہ بہت مشکل۔

لیکن اگر آپ کے اندر **محنت، صبر، علم اور امید** موجود ہے تو آپ اپنی زندگی بدل سکتے ہیں۔

اور جب آپ کامیاب ہو جائیں تو صرف اپنے لیے مت جینا۔

کسی اور کے راستے کی رکاوٹ دور کر دینا۔

کسی بچے کو کتاب دے دینا۔

کسی پریشان انسان کا ہاتھ تھام لینا۔

کسی مایوس شخص کو امید دے دینا۔

کیونکہ انسان کی سب سے بڑی کامیابی یہ نہیں کہ اس نے اپنے لیے کتنا حاصل کیا۔

بلکہ یہ ہے کہ **اس کی وجہ سے کتنے لوگوں کی زندگی میں روشنی آئی۔**

اور یاد رکھیں:

# # # **"اپنے دل کا چراغ کبھی بجھنے مت دینا۔ شاید کسی اور کی منزل کی روشنی اسی چراغ سے شروع ہو۔"** 🕯️✨
Storyline Books

Address

Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Storyline Books posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share