07/03/2026
روس ایران کی صرف سفارتی حمایت نہیں کررہا بلکہ امریکہ کا ماننا ہے کہ وہ ایران کو امریکی فوجیوں ،جہازوں اور طیاروں کی لوکیشن تک دے رہا ہے جبکہ زیادہ تر لوگ اب بھی سمجھ رہے تھے کہ یہ جنگ صرف ایران ،اسرائیل اور امریکہ کے درمیان محدود ہے !
کہانی اب یہاں سے اور خطرناک ہوجاتی ہے
امریکی انٹیلیجنس کا کہنا ہے کہ روس ایران کو خطے میں موجود امریکی فوجی اہداف کے بارے میں معلومات دے رہا
صرف اندازے نہیں
بلکہ کہا جارہا ہے کہ امریکی ٹروپس کہاں ہیں
جہاز کہاں ہیں
طیارے کہاں موجود ہیں
یہ سب معلومات ایران تک پہنچ رہی
یعنی اب بات صرف ہتھیاروں کی نہیں رہی
اب بات آنکھوں کی ہے
جو خود نہ دیکھ سکے وہ دوسرے کو دیکھنے کی طاقت دے رہا
۔
دو لوگوں نے جو اس انٹیلیجنس سے واقف بتائے جارہے ہیں یہ بات کہی
اور ایک انٹیلیجنس افسر نے بھی اس امریکی مؤقف کی تصدیق کی
یعنی واشنگٹن کے اندر اب یہ سوچ مضبوط ہورہی کہ روس پس پردہ ایران کی مدد صرف بیانوں سے نہیں کررہا
بلکہ میدان میں نشانے سمجھانے تک بات جاپہنچی
اب آپ خود سوچیں
اگر ایک ایٹمی طاقت دوسرے ملک کو یہ بتانا شروع کردے کہ امریکی فوج کہاں کھڑی ہے
امریکی جہاز کہاں موجود ہیں
اور امریکی اثاثے کس جگہ ہیں
تو پھر یہ جنگ وہ نہیں رہتی جو ٹی وی پر نظر آرہی
یہ اس سے کہیں بڑی بن جاتی
۔
اب تک لوگ سمجھ رہے تھے روس بس سیاسی حمایت دے گا
کچھ مذمتیں ہوں گی
کچھ بیان آئیں گے
لیکن اگر یہ بات درست نکلی تو پھر روس نے جنگ میں بندوق خود نہیں اٹھائی
مگر نشانہ ضرور دکھا دیا
اور جنگوں میں کبھی کبھی یہی کام سب سے زیادہ خطرناک ہوتا
خود گولی نہ چلاؤ
مگر دوسرے کو بتادو کہاں چلانی ہے
۔
یہی وجہ ہے کہ اب یہ سوال اور بڑا ہوگیا
کیا مشرق وسطیٰ کی یہ آگ واقعی صرف ایک علاقائی جنگ ہے ؟
یا اب بڑی طاقتیں بھی آہستہ آہستہ اپنے اپنے مہرے اندر ڈال رہی ہیں ؟
کیونکہ جب روس ایران کو لوکیشن دے
امریکہ اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہو
اور پورا خطہ پہلے ہی میزائل ،ڈرون ،ریڈار اور بحری جہازوں سے بھرا ہو
تو پھر ایک چنگاری بھی پوری دنیا کے حساب بدل سکتی ہے
آپ بھی اسے صرف ایک خبر سمجھ لیں
یا آنے والے بڑے کھیل کی ایک اور نشانی