Hidden Angles in Urdu

Hidden Angles in  Urdu Looking beyond what everyone else sees.

روس ایران کی صرف سفارتی حمایت نہیں کررہا بلکہ امریکہ کا ماننا ہے کہ وہ ایران کو امریکی فوجیوں ،جہازوں اور طیاروں کی لوکی...
07/03/2026

روس ایران کی صرف سفارتی حمایت نہیں کررہا بلکہ امریکہ کا ماننا ہے کہ وہ ایران کو امریکی فوجیوں ،جہازوں اور طیاروں کی لوکیشن تک دے رہا ہے جبکہ زیادہ تر لوگ اب بھی سمجھ رہے تھے کہ یہ جنگ صرف ایران ،اسرائیل اور امریکہ کے درمیان محدود ہے !
کہانی اب یہاں سے اور خطرناک ہوجاتی ہے
امریکی انٹیلیجنس کا کہنا ہے کہ روس ایران کو خطے میں موجود امریکی فوجی اہداف کے بارے میں معلومات دے رہا
صرف اندازے نہیں
بلکہ کہا جارہا ہے کہ امریکی ٹروپس کہاں ہیں
جہاز کہاں ہیں
طیارے کہاں موجود ہیں
یہ سب معلومات ایران تک پہنچ رہی
یعنی اب بات صرف ہتھیاروں کی نہیں رہی
اب بات آنکھوں کی ہے
جو خود نہ دیکھ سکے وہ دوسرے کو دیکھنے کی طاقت دے رہا
۔
دو لوگوں نے جو اس انٹیلیجنس سے واقف بتائے جارہے ہیں یہ بات کہی
اور ایک انٹیلیجنس افسر نے بھی اس امریکی مؤقف کی تصدیق کی
یعنی واشنگٹن کے اندر اب یہ سوچ مضبوط ہورہی کہ روس پس پردہ ایران کی مدد صرف بیانوں سے نہیں کررہا
بلکہ میدان میں نشانے سمجھانے تک بات جاپہنچی
اب آپ خود سوچیں
اگر ایک ایٹمی طاقت دوسرے ملک کو یہ بتانا شروع کردے کہ امریکی فوج کہاں کھڑی ہے
امریکی جہاز کہاں موجود ہیں
اور امریکی اثاثے کس جگہ ہیں
تو پھر یہ جنگ وہ نہیں رہتی جو ٹی وی پر نظر آرہی
یہ اس سے کہیں بڑی بن جاتی
۔
اب تک لوگ سمجھ رہے تھے روس بس سیاسی حمایت دے گا
کچھ مذمتیں ہوں گی
کچھ بیان آئیں گے
لیکن اگر یہ بات درست نکلی تو پھر روس نے جنگ میں بندوق خود نہیں اٹھائی
مگر نشانہ ضرور دکھا دیا
اور جنگوں میں کبھی کبھی یہی کام سب سے زیادہ خطرناک ہوتا
خود گولی نہ چلاؤ
مگر دوسرے کو بتادو کہاں چلانی ہے
۔
یہی وجہ ہے کہ اب یہ سوال اور بڑا ہوگیا
کیا مشرق وسطیٰ کی یہ آگ واقعی صرف ایک علاقائی جنگ ہے ؟
یا اب بڑی طاقتیں بھی آہستہ آہستہ اپنے اپنے مہرے اندر ڈال رہی ہیں ؟
کیونکہ جب روس ایران کو لوکیشن دے
امریکہ اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہو
اور پورا خطہ پہلے ہی میزائل ،ڈرون ،ریڈار اور بحری جہازوں سے بھرا ہو
تو پھر ایک چنگاری بھی پوری دنیا کے حساب بدل سکتی ہے
آپ بھی اسے صرف ایک خبر سمجھ لیں
یا آنے والے بڑے کھیل کی ایک اور نشانی

جیفری ایبسٹین کی فائلوں میں پاکستان کا نام 893 بار کیوں آیا ؟جیفری ایبسٹین کی کہانی کسی ایک گندے آدمی کی کہانی نہیں بلکہ...
07/03/2026

جیفری ایبسٹین کی فائلوں میں پاکستان کا نام 893 بار کیوں آیا ؟

جیفری ایبسٹین کی کہانی کسی ایک گندے آدمی کی کہانی نہیں بلکہ ایک ایسے جال کی کہانی ہے جس میں مقدس چیزیں ،حکومتی راز ،سفارتی رابطے ،بڑی بڑی کمپنیاں اور پورے ملکوں کے نام گھومتے رہے جبکہ زیادہ تر لوگ آج بھی سمجھتے ہیں یہ بس ایک امیر بگڑا ہوا آدمی تھا !
کہانی شروع ہوتی ہے
اپریل 2017
ایک عورت نے ایبسٹین کو ای میل لکھی
اس میں وہ کعبہ کے غلاف کے ایک حصے کے بارے میں بتا رہی تھی کہ اسے لاکھوں کروڑوں مسلمانوں نے چھوا ،اس پر دعائیں ،آنسو ،امیدیں موجود ہیں
اور یہی چیز سعودی عرب سے فلوریڈا پہنچتی ہے
برٹش ایئرویز کے فریٹ سے
کسٹم پر اسے آرٹ ورک ڈکلیئر کیا جاتا ہے
اور پھر وہ حصہ جیفری ایبسٹین کے گھر پر پایا جاتا ہے
یہ سب پڑھ کر بندہ کچھ دیر خاموش ہوجائے
کیونکہ بات کسی عام کپڑے کی نہیں
غلاف کعبہ کے حصے کی ہورہی
اور وہ بھی کس کے گھر ؟
اس آدمی کے گھر جس کا نام سنگین جرائم ،بلیک میلنگ اور گندے نیٹ ورک کے ساتھ جڑا ہوا تھا
۔

یہ صرف شروعات ہے
کہا گیا کہ ایبسٹین کی فائلوں میں پاکستان کا ذکر سینکڑوں بار آیا
ترکی کا ہزاروں بار
سعودی عرب کا بھی بار بار
لیکن ہمارے ہاں ؟
خاموشی
نہ کوئی بڑا شور
نہ کوئی سنجیدہ سوال
نہ کسی نے بیٹھ کر یہ پوچھا کہ آخر پاکستان کا نام اس آدمی کی فائلوں میں اتنی بار کیوں آرہا ؟
کیونکہ تجسس اب شاید سستا نہیں رہا
سوال کرنا مہنگا پڑتا
اور سچ کے قریب جانا تو اور بھی مہنگا
۔

13 فروری 2026
ایک آدمی نے اچانک استعفی دے دیا
سلطان احمد بن سلیم
ڈی پی ورلڈ کا سی ای او
یہ کوئی چھوٹی موٹی کمپنی نہیں
80 سے زائد پورٹس
40 سے زائد ممالک
دنیا کی شپنگ کا بڑا حصہ ان کے نظام سے گزرتا
پاکستان میں کراچی پورٹ ،پورٹ قاسم کے آپریشنز میں بھی اس کا اثر
وہ گیا تو نہ کوئی بڑی پریس کانفرنس
نہ واضح وجہ
بس چلا گیا
لیکن کیوں ؟
کیونکہ ڈی او جے نے لاکھوں صفحات جاری کئے
اور ان صفحات میں اس کا نام بھی آیا
پھر بات یہاں سے اور نیچے گئی
کہا گیا وہ ایبسٹین کو قرآن کی تفسیر بھیجتا تھا
اسلامی فلسفہ بھی
اور غلاف کعبہ کا حصہ بھی وہی لے کر گیا
تصویر تک سامنے آئی کہ دونوں اس چیز کو زمین پر رکھ کر دیکھ رہے تھے
یہاں بندہ رک جاتا ہے
کیونکہ طاقتور لوگوں کی بدتہذیبی جب حد پار کرتی ہے تو پھر عہدے چھوٹے لگنے لگتے ہیں
سی ای او ہو
پورٹس چلاتا ہو
بڑے بڑے معاہدے سنبھالتا ہو
اور ساتھ ایسی بے حسی بھی
تو پھر سوال صرف ایک آدمی کا نہیں رہتا
۔

اسی ای میل تھریڈ میں ایسی اور چیزیں بھی آئیں جنہیں پڑھ کر آدمی نفرت سے بھر جائے
گندی باتیں
گھٹیا اشارے
بری ویڈیوز کا ذکر
اور دوسری طرف یہی لوگ اسلام ،فلسفہ ،رہنمائی کی باتیں بھی کررہے
یعنی ایک ہی تھریڈ میں مذہبی گفتگو بھی
اور گراوٹ بھی
شرم ڈوب مرنے والی چیز ہے
لیکن ان لوگوں کو شرم آتی تو یہ نیٹ ورک بنتا ہی کیوں
۔

اب کچھ لوگ کہیں گے کہ کسی سی ای او کی ذاتی زندگی سے ہمیں کیا ؟
تو مسئلہ یہی ہے کہ یہ صرف ذاتی زندگی نہیں رہتی
جب ایسے لوگوں کے ہاتھ میں پورٹس ہوں
سرمایہ کاری ہو
ریاستی رابطے ہوں
تب ذاتی اور عوامی کے درمیان دیوار گرچکی ہوتی
کہا گیا کینیڈا کے ایک بڑے پنشن فنڈ نے ڈی پی ورلڈ کے ساتھ مستقبل کی سرمایہ کاری روک دی
برطانوی اداروں نے شراکت داری پر وقفہ لگایا
یوکے میں مطالبہ اٹھا کہ کچھ پورٹ کنٹریکٹس دیکھے جائیں
اور پاکستان میں ؟
پھر وہی خاموشی
کسی نے نہ پوچھا پورٹ قاسم کے آپریشنز کا کیا ہوگا
نہ یہ کہ کنٹریکٹ پر نظرثانی ہونی چاہیے یا نہیں
آپ بھی سمجھ لیں کیوں
۔

2017
ایبسٹین پہلے ہی مجرم مانا جاچکا تھا
2008 میں جیل بھی جاچکا
رجسٹرڈ آفینڈر تھا
یعنی کوئی معصوم ،نامعلوم بندہ نہیں
اسی دوران یو اے ای سے ایک کاروباری خاتون ای میل کوآرڈینیٹ کرتی ہے
سعودی عرب سے غلاف کعبہ کے تین حصے فلوریڈا پہنچتے ہیں
ایک اندر کا حصہ
ایک بیرونی حصہ
ایک اضافی کپڑا
کسٹم فارم پر لکھوایا جاتا ہے آرٹ ورک
وہی عورت ایبسٹین کو سمجھاتی ہے کہ یہ کتنا مقدس ہے ،کتنے مسلمانوں کے ہاتھ اس تک پہنچے ،کتنی دعائیں اس سے جڑی ہیں
اور پھر وہ چیز اسی گھر میں پہنچتی ہے
جس گھر کا نام سن کر ہی گندگی یاد آتی ہے
یہاں سوال پیدا ہوتا ہے
کیوں ؟
صرف دکھاوے کے لیے ؟
ہتک کے لیے ؟
بلیک میل کے لیے ؟
یا کچھ اور ؟
میں نہیں کہہ سکتا
لیکن اتنا تو سامنے ہے کہ یہ چیز وہاں گئی جہاں اسے نہیں جانا چاہیے تھا
۔

پھر ایک اور پرت کھلتی ہے
ایف بی آئی کے ایک دستاویز میں یہ دعوی بھی آیا کہ ایبسٹین کا تعلق اسرائیلی انٹیلیجنس کے ساتھ جوڑا گیا
اگر یہ درست ہو تو پھر تصویر اور بھی پریشان کن بنتی ہے
ایک ایسا شخص جو پہلے ہی مجرمانہ نیٹ ورک چلا رہا تھا
مسلمانوں کی مقدس ترین چیزوں میں سے ایک کو اپنے گھر تک منگواتا ہے
اس کا مقصد کیا تھا ؟
صرف شوق ؟
یا نیٹ ورک کی کوئی اور ضرورت ؟
جو بھی تھا ،کسی مسلمان ملک نے یہ ہمت نہیں کی کہ باقاعدہ انکوائری مانگتا
پارلیمان میں سوال کرتا
پتہ لگاتا کہ یہ سلسلہ کہاں سے کہاں تک گیا
۔

اب آتے ہیں پاکستان پر
7 اپریل 2015
یمن کی جنگ چل رہی تھی
سعودی عرب حوثیوں کے خلاف لڑ رہا تھا
ایک ای میل لکھی جاتی ہے جس کا موضوع پاکستان ،سعودی عرب اور یمن سے متعلق ایک خفیہ معاملہ بتایا گیا
یہ ای میل ایک پاکستانی خاتون کی طرف سے لکھی گئی جو برسوں سے اقوام متحدہ سے جڑی رہی
اس میں کہا گیا کہ سعودی بادشاہ نے پاکستانی وزیر اعظم سے زمینی فوج مانگی
خاص طور پر بلیک اسٹورکس یعنی پاکستان کے اسپیشل سروسز گروپ کی تعیناتی کی بات
جے ایف 17 طیاروں کا ذکر بھی آیا
یہ ای میل ناروے کے ایک معروف سفارت کار کو جاتی ہے
اور وہ اسی دن یہ ایبسٹین کو فارورڈ کردیتا ہے
اب ذرا رکیں
یہ پاکستان سے متعلق حساس سفارتی بات
اور جا کہاں رہی ؟
ایک ایسے آدمی کے ان باکس میں جس کا نہ پاکستان سے رسمی تعلق تھا نہ اس معاملے سے
پھر سوال بنتا ہے یا نہیں ؟
۔

اور یہ سفارت کار کون ؟
وہی جو اوسلو معاہدے کے معماروں میں شمار ہوتا
انٹرنیشنل پیس انسٹی ٹیوٹ سے جڑا
وہ ادارہ جو اقوام متحدہ کی عمارت کے سامنے موجود
اور بات صرف اتنی نہیں
کہا گیا اسی ادارے کے لوگ پولیو مہمات کے نام پر فاٹا اور سرحدی علاقوں سے فیلڈ اپڈیٹس دیکھ رہے تھے
پھر انہی راستوں سے ایبسٹین تک پولیو سے آگے کی معلومات بھی پہنچ رہی تھیں
2015 کی ایک اور ای میل میں طالبان قیادت کے جانشینی معاملات
ملا عمر کے بعد کون
حقانی نیٹ ورک کا کردار کیا
آئی ایس آئی کی پوزیشن کیا
یہ سب چیزیں اس کے پاس پہنچ رہی تھیں
اب آپ خود بتائیں
یہ پولیو اپڈیٹ ہے ؟
یا انٹیلیجنس بریفنگ ؟
اور اگر انسانی ہمدردی کے نام پر کام کرنے والے ادارے معلومات جمع کرنے اور نیٹ ورکنگ دونوں میں استعمال ہونے لگیں تو باہر بیٹھا آدمی کیسے پہچانے گا کہ کون سی چیز خدمت ہے اور کون سا کھیل ؟
۔

کہانی یہاں بھی نہیں رکتی
کچھ عرصہ پہلے بھارت میں ایک بڑی شادی ہوئی
پوری دنیا وہاں ناچ رہی تھی
ارب پتی آرہے تھے
بڑی بڑی شخصیات
ہر عام آدمی کو لگا یہ دولت کسی اور ہی دنیا کی چیز ہے
لیکن پیسہ بنتا کیسے ہے ،رابطے کیسے بنتے ہیں ،اصل طاقت کیسے چلتی ہے یہ الگ سوال ہے
انیل امبانی کبھی دنیا کے امیر ترین آدمیوں میں شمار ہوتے تھے
پھر ایسے وقت بھی آیا کہ عدالت میں کھڑے ہوکر کہا میری نیٹ ورتھ صفر ہوگئی
اب ایک آدمی جس کا کاروبار ڈوب رہا ہو اس کے پاس وقت نہیں ہونا چاہیے
لیکن ایبسٹین کے پیغامات کچھ اور کہانی دکھاتے ہیں
۔

16 مارچ 2017
کہا گیا انیل امبانی نے ایبسٹین کو پیغام بھیجا
قیادت آپ کی مدد چاہتی ہے
جینیٹ کرشنا اور اسٹیو بینن سے رابطہ چاہیے
پھر آگے ذکر آیا کہ مودی ٹرمپ سے ملیں گے
مشورہ چاہیے کہ اپروچ کیا ہو
پھر ٹریک ٹو کا ذکر آیا
یعنی بیک چینل ڈپلومیسی
اب ذرا مزہ دیکھیں
ایک دیوالیہ ہوتا بزنس مین
اور ایک مجرم نیٹ ورک والا آدمی
یہ دونوں بیٹھ کر سفارتی بیک چینل کی باتیں کریں
تو پھر ہم عام لوگ جو ڈپلومیسی کو کسی تربیت یافتہ افسر کا کام سمجھتے رہے وہ کیا سمجھیں ؟
26 جون 2017
مودی ٹرمپ سے ملتے ہیں
6 جولائی 2017
مودی اسرائیل جاتے ہیں
اور پھر ایک ای میل میں یہ دعوی سامنے آتا ہے کہ یہ سب مشورہ کامیاب رہا
“it worked”
یعنی ایک ایسا شخص جسے دنیا کسی اور وجہ سے جانتی تھی ،وہ خود کو امریکہ ،بھارت اور اسرائیل کے درمیان رابطوں میں مؤثر سمجھ رہا تھا
یہاں بندہ پھر سوچتا ہے
ہم لوگ اب بھی میچ ،بیٹنگ ،بولنگ ،سطحی بحثوں میں پڑے ہیں
اور اوپر کے درجے پر کھیل کچھ اور چل رہا
۔

19 فروری 2026
پرنس اینڈریو گرفتار ہوا پھر ضمانت پر رہا
23 فروری 2026
پیٹر مینڈلسن پر بھی الزام آیا اور گرفتاری ہوئی پھر ضمانت
ناروے کی کراؤن پرنسس نے معذرت کی
سلوواکیہ کے ایک مشیر نے استعفی دیا
فرانس میں تفتیش شروع ہوئی
اور دوسرے بڑے نام بھی فائلوں میں گھومتے دکھائی دیے
یعنی کیس بند نہیں ہوا
بلکہ کھلنا شروع ہوا
اور جو کچھ سامنے آیا وہ شاید آدھا بھی نہیں
ڈی او جے نے لاکھوں صفحات جاری کئے لیکن ساتھ یہ بھی کہا گیا کہ اہل صفحات اس سے کہیں زیادہ ہیں
یعنی ابھی اور بھی کچھ باقی ہے
لیکن پاکستان ،ترکی ،سعودی عرب
کسی نے باضابطہ شور نہیں مچایا کہ ہمیں بھی مکمل رسائی دو
ہم بھی دیکھیں
کیوں ؟
وجہ آپ جانتے ہیں
۔

اصل بات یہ ہے کہ ایبسٹین کسی ایک چہرے کا نام نہیں
یہ ایک اسٹرکچر تھا
ایک طریقہ
ایک جال
میکسویل کو پکڑلو
ایبسٹین مرجائے
چہرے ہٹ جائیں
لیکن ڈھانچہ بچارہے
یہی لگتا ہے
اور جب آدمی صبح اٹھتا ہے
مالی دباؤ ،ذہنی دباؤ ،پیشہ ورانہ پریشانیوں میں پسا ہوا
اسے یہی سکھایا جاتا ہے کہ بس تم میں کمی ہے
تم نے محنت کم کی
تم کافی سمارٹ نہیں
یہ بھی ایک طرح کی گیس لائٹنگ ہے
لوگوں کو بقا کے موڈ میں رکھو
تاکہ وہ سوال نہ کریں
اوپر کیا ہورہا
کس کے ہاتھ میں کیا ہے
کون کس کو معلومات دے رہا
کس مقدس چیز کو کس گندے کھیل میں استعمال کیا جارہا
۔

جب میں یہ سب سمیٹ کر دیکھتا ہوں تو تصویر کچھ یوں بنتی ہے
پاکستان کا نام بار بار
پولیو اپڈیٹس کے ساتھ حساس بریفنگز
طالبان جانشینی کی گفتگو
غلاف کعبہ کا حصہ وہاں پہنچنا جہاں نہیں پہنچنا چاہیے تھا
بڑے بڑے عہدیدار
بڑے بڑے بزنس مین
بیک چینل ڈپلومیسی
اور پھر ہمارے ہاں مکمل خاموشی
جیسے کچھ ہوا ہی نہیں
کیونکہ نظام اسی طرح ڈیزائن ہوتا ہے
عام آدمی کو روزی روٹی میں لگائے رکھو
اوپر کے لوگ نیٹ ورک بناتے رہیں
اور جب کبھی ایک مہرہ پکڑا بھی جائے تو باقی محفوظ رہیں
۔

یہ کسی ایک آدمی کی کہانی نہیں
یہ آپ کی اور میری بھی کہانی ہے
کیونکہ جب تک آپ یہ نہیں سمجھیں گے کہ طاقت کے اصل جال کہاں بنتے ہیں
کوئی الیکشن
کوئی لیڈر
کوئی نعرہ
آپ کی زندگی نہیں بدل سکتا
کیونکہ جو زنجیریں آپ کو جکڑے ہوئے ہیں وہ وہاں سے شروع نہیں ہوتیں جہاں آپ دیکھتے ہیں
وہیں سے شروع ہوتی ہیں جہاں آپ کو دیکھنے ہی نہیں دیا جاتا
اور یہی اصل کھیل ہے

ایران اور اسرائیل کی جنگ نے ایک ہفتے میں دنیا کو یہ سمجھادیا کہ جنگیں اب صرف اربوں ڈالر کے جہازوں اور جدید بموں سے نہیں ...
07/03/2026

ایران اور اسرائیل کی جنگ نے ایک ہفتے میں دنیا کو یہ سمجھادیا کہ جنگیں اب صرف اربوں ڈالر کے جہازوں اور جدید بموں سے نہیں جیتی جاتیں بلکہ سستی ڈرون ،چھپے ہوئے میزائل اور دماغ سے بھی پوری سپر پاور کو پیچھے دھکیلا جاسکتا ہے جبکہ زیادہ تر لوگ اب بھی سمجھ رہے تھے کہ امریکہ چند گھنٹوں میں ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردے گا !
کہانی شروع ہوتی ہے اس منظر سے کہ تل ابیب پر آگ کی بارش ہوئی
کہا گیا یہ ایران کا خیبر شکن تھا جس میں ایک دو نہیں بلکہ درجنوں چھوٹے وارہیڈ ہوسکتے
یعنی ایک میزائل آیا اور پورے علاقے پر الگ الگ تباہی پھیلاگیا
ادھر قطر میں امریکہ کا وہ اربوں ڈالر والا بیلسٹک میزائل وارننگ ریڈار تھا جسے مشرق وسطیٰ کا سب سے بڑا ریڈار کہا جاتا تھا
وہ بھی اب کہا جارہا ایران نے تباہ کردیا
دبئی جو امیروں کا کھیل کا میدان سمجھا جاتا تھا وہاں اب روزانہ شہید ڈرون پہنچ رہے
امریکہ اپنے سفارت خانے بند کررہا
اور جو یو ایس ایس ابراہم لنکن جیسے سات ارب ڈالر کے کیریئر تھے ان کے بارے میں بھی کہا جانے لگا کہ ایران نے نشانہ بنایا ،امریکہ کہتا نقصان نہیں ہوا لیکن جہاز کو دور ضرور ہٹانا پڑا
اب جو سمجھتے ہیں جنگ میں پیچھے ہٹنا کیا معنی رکھتا وہ سمجھ جائیں گے میں کیا بات کررہا
۔
28 فروری
امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا
دنیا نے سمجھا ہوگا کھیل ختم
قیادت ختم ،سسٹم ہل گیا ،اب ایران ہتھیار ڈال دے گا
لیکن ہوا الٹا
ایران جھکا نہیں
جواب دیا
ایک ایک کرکے اسرائیل اور خلیجی ممالک میں امریکی مفادات ،اڈے اور نظام نشانے پر آنے لگے
تب سوال اٹھا کہ آخر ایران کے پاس ایسا ہے کیا ؟
کیونکہ امریکہ کے پاس جدید طیارے ،اے آئی ،ریڈار ،سیٹلائٹ ،انٹرسیپٹر سب کچھ تھا
پھر بھی ایک ہفتے میں جنگ ختم کیوں نہ ہوئی ؟
۔
اس کا جواب ایران کی وہ چیز ہے جسے بہت لوگ اب سمجھ رہے
سستا لیکن خطرناک میزائل اور ڈرون نظام
مارچ 2025 میں آئی آر جی سی نے ایک ویڈیو جاری کی تھی جس نے دفاعی ماہرین کو چونکادیا
ایران کے پاس پورا انڈر گراؤنڈ میزائل شہر موجود ہے
کلومیٹر لمبی سرنگیں ،ہر جگہ لانچ پلیٹ فارم پر تیار میزائل
اور کوئی نہیں جانتا ایسی کتنی سرنگیں اور کتنے شہر اور بھی نیچے چھپے بیٹھے
یاد رکھیں ایران نے یہ تیاری آج نہیں کل نہیں بلکہ 1984 سے شروع کردی تھی
جو پرانا اسٹاک اس نے پہلے دنوں میں چھوڑا ،وہ شاید اصل کھیل نہیں تھا
بلکہ انٹرسیپٹر ختم کرانے کا مرحلہ تھا
پہلے سستے ڈرون اور پرانے میزائل پھینکو
دشمن اپنے مہنگے تیر چلاتا رہے
پھر اصل کھیل شروع کرو
کلسٹر ،ہائپرسونک ،ڈیکوئے ،سپلنٹر
یعنی جنگ کا حساب بدل گیا
۔
شروع میں جب ایران نے شہید ڈرون اور پرانے میزائل چھوڑے ہوں گے تو امریکی تجزیہ کار شاید مسکرائے ہوں
یہ ہم سے لڑے گا ؟
یہ سستے ڈرون ،یہ سستے میزائل ؟
اور واقعی پہلے مرحلے میں انٹرسیپٹ ریٹ بہت زیادہ تھا
لیکن ایران کوئی اور ہی کھیل کھیل رہا تھا
وہ طویل جنگ کی تیاری میں تھا
ایران ایک ڈرون بیس تیس ہزار ڈالر میں بنارہا تھا
کوئی میزائل ایک لاکھ سے پانچ لاکھ ڈالر میں
اور سامنے امریکہ اور اس کے اتحادی تھے جو تھاڈ ،پیٹریاٹ ،ایرو 3 ،پی اے سی 3 جیسے انٹرسیپٹر چلارہے تھے
ایک ایک میزائل ایک ملین سے پندرہ ملین ڈالر تک
یعنی ایک طرف چند ہزار ،دوسری طرف لاکھوں کروڑوں
پھر ایران ایک ساتھ اتنے ڈرون چھوڑتا کہ ایک بچ جائے تو اسے گرانے دوسرا میزائل ،پھر تیسرا
اور آپ کا بینک بیلنس جنگ جیتنے سے پہلے خالی ہونے لگے
یہی اصل کھیل تھا
۔
امریکہ کے سامنے مسئلہ صرف ایران کا میزائل نہیں
راستہ بھی تھا
ایران سے میزائل اٹھا ،پہلے امریکی نگرانی ،پھر امریکی اڈے ،پھر شام اور اردن کا فضائی راستہ ،پھر اسرائیلی فضائیہ ،پھر اسرائیل کے اپنے انٹرسیپٹر
اتنی تہیں عبور کرکے اگر دو چار میزائل بھی اسرائیل تک پہنچیں اور نقصان کرجائیں تو وہ معمولی بات نہیں
یہی وجہ ہے کہ ایران چاہے مکمل فتح نہ لے مگر ناکامی بھی سیدھی سیدھی نہیں
کیونکہ اگر وہ لگاتار یہی کرتا رہے تو چند دن بعد انٹرسیپٹر کے ذخیرے خود سوال بن جاتے
کہا گیا قطر نے بھی نجی طور پر خبردار کیا تھا کہ اسی رفتار سے حملے جاری رہے تو چند دن میں پیٹریاٹ ختم ہوسکتے
بعد میں تردید بھی آئی
جنگ میں دعوے ،جوابی دعوے چلتے رہتے
لیکن معاشیات کی حقیقت جھوٹ نہیں بولتی
۔
اب آتے ہیں اس ڈرون پر جس نے خلیج میں ہلچل مچادی
شہید ڈرون آیا کہاں سے ؟
اس کے لیے واپس چلتے ہیں
4 دسمبر 2011
ایران کے علاقے کشمر میں امریکہ کا جدید ڈرون ملا
یہ لاک ہیڈ مارٹن کا RQ-170 سینٹینل تھا
اس وقت کا بہت جدید نگرانی ڈرون
پہلے امریکہ نے کہا ہمارا نہیں
پھر ویڈیو آئی تو ماننا پڑا
واپس مانگا بھی
لیکن ایران اتنا سادہ نہیں تھا کہ واپس کردیتا
اس نے اسے کھولا ،سمجھا ،ریورس انجینئر کیا
اور پھر اسی بنیاد پر اپنے تین ڈرون نکالے
شہید 171
شہید 191
اور پھر وہ عام سا نظر آنے والا مگر سب سے خطرناک شہید 136
جو آج ایک سپر پاور کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کررہا
مزے کی بات سن لیں
امریکہ خود بھی اس ڈرون سے اتنا پریشان ہوا کہ اس نے بھی اس کا ریورس انجینئرڈ ورژن بنایا
اسے لوکاس نام دیا
اور پھر ایران کے خلاف استعمال بھی کیا
اگر جنگ نہ ہوتی تو بندہ کہتا مذاق چل رہا
ٹیکنالوجی اپنی کھوئی ،ایران نے کپی کی ،پھر امریکہ نے ایران کی کپی کپی کرلی
۔
شہید 136 کی اصل طاقت اس کی چمک دمک نہیں اس کی سادگی ہے
دو ہزار کلومیٹر تک جاسکتا
زیادہ تیز نہیں مگر خطرناک
بیچز میں چھوڑا جاتا
اوپر سے انجن سادہ مگر مؤثر
سامنے وارہیڈ
کام صرف ایک
پہنچو اور ٹکراؤ
اور جب ایک ساتھ اتنے آئیں کہ دشمن کے انٹرسیپٹر ہی تھک جائیں تو پھر سستا ڈرون مہنگی ریاست کو گھٹنے ٹیکنے پر نہیں تو کم از کم سانس پھلانے پر ضرور مجبور کردیتا
۔
پہلی لہر کے بعد دوسری لہر آئی
2 مارچ
ایران نے سینکڑوں ڈرون کے ساتھ اپنے بھاری ہتھیار بھی کھول دیے
کہا گیا فتح 2 جیسے ہائپرسونک میزائل استعمال ہوئے
جو مچ 15 کی رفتار سے جاتے
راستہ بدل سکتے
ریڈار کو چکر دے سکتے
اور جنہیں تل ابیب کے کئی کئی انٹرسیپٹر بھی نہ روک پائے
کہا گیا اسرائیل نے تصاویر اور ویڈیوز کے پھیلاؤ کو بھی محدود کرنا چاہا
اور سوشل میڈیا پر نرم تصویریں دکھانے کی کوشش کی کہ بس گڑھے پڑے ہیں
لیکن جو مناظر نکلے انہوں نے دوسری بات کہی
اب چاہے ہر دعوی درست ہو یا نہ ہو ،اتنا ضرور ہوا کہ خوف بیٹھ گیا
اور جنگ کا نفسیاتی پہلو بھی آدھا میدان مارلیتا
۔
1984
ایران عراق جنگ میں صدام نے ایرانی شہروں پر میزائل برسائے
ہزاروں لوگ مارے گئے ،ہزاروں زخمی
تب ایران نے سیکھا کہ بغیر میزائل کے نہ دفاع مکمل ہے نہ جواب
اسی سال انڈر گراؤنڈ میزائل بیسز کی بنیاد پڑی
1985
ایران نے لیبیا ،شام ،شمالی کوریا ،چین سے مدد مانگی
پھر نوے کی دہائی میں چین نے سالڈ فیول پروگرام میں مدد کی
امریکی خزانے کے اپنے ریکارڈ میں بھی ایسی چیزیں لکھی گئیں
شمالی کوریا نے بھی مدد کی
خرمشہر جیسے میزائلوں میں اسی سلسلے کی جھلک دیکھی گئی
یعنی پابندیوں کے باوجود ایران نے چالیس سال میں اپنا پورا نظام کھڑا کیا
یہ ایک رات میں نہیں بنا
۔
اب ذرا اس دفاعی ڈھال کو بھی سمجھ لیں جس کا اتنا شور تھا
پہلے ایرو
پھر ڈیوڈز سلنگ
پھر آئرن ڈوم
اوپر سے امریکی تھاڈ
ہر پرت ایک تہہ
ہر تہہ مہنگی
ہر تہہ محدود
اور ایران نے کیا کیا ؟
ایک ساتھ سیکڑوں ڈرون ،لو فلائنگ کروز میزائل ،تیز بیلسٹک میزائل
یعنی وولی فائرنگ
پہلے ڈرون بھیجو تاکہ انٹرسیپٹر ان پر لگیں
پھر اصل میزائل اپنا کام کریں
ساتھ ڈیکوئے بھیجو
نقلی اہداف بھیجو
وارہیڈ الگ سمت میں نکالو
جب تک انٹرسیپٹر سمجھتا رہے اصل کیا ہے ،نقصان ہوچکا ہوتا
اور یہ بھی کافی نہ تھا تو ایران نے ریڈاروں کو بھی نشانہ بنانا شروع کردیا
قطر میں AN/FPS-132
یو اے ای میں تھاڈ ریڈار
یعنی ایک طرف گولہ بارود ختم کرو ،دوسری طرف دشمن کی آنکھیں نکالو
۔
اب امریکہ کی بات سنیں
پہلے دن لگا تھا دو تین دن میں جنگ نمٹ جائے گی
اب باتیں بدل گئیں
کرد باغیوں کو ہوا دو
نظام بدلو
لمبی جنگ لڑو
لیکن خود کرد گروہ بھی ہر جگہ امریکہ کی کٹھ پتلی بننے کو تیار نہیں
ادھر سفارت خانے بند ہورہے
خلیج میں سوال اٹھ رہے
امریکہ اپنے ہی شہریوں کی مکمل حفاظت کی ضمانت نہیں دے پارہا
امریکہ کے اندر بھی آوازیں اٹھنے لگیں کہ آخر ہم اسرائیل کی جنگ کیوں لڑ رہے
ویٹرنز سوال کررہے
پریس کانفرنسوں میں لہجہ بدلا ہوا
جو گرج رہا تھا اب اتنا گرج نہیں رہا
یہ سب بے وجہ نہیں
۔
ایران نے صاف کہا کہ بمباری نہ رکی تو ہم بھی نہیں رکیں گے
پڑوسی ممالک کے اقتصادی زون بھی محفوظ نہیں رہیں گے
آبنائے ہرمز کی بات پہلے بھی ہوچکی
وہ راستہ جہاں سے دنیا کے تیل اور ایل این جی کا بڑا حصہ گزرتا
وہاں اگر مستقل خوف بیٹھ جائے تو پوری دنیا کی معیشت کانپتی ہے
اور ایران کے پاس ابھی بھی خرمشہر 4 جیسے بھاری میزائل بچنے کی بات کی جارہی
جسے بگ ڈیڈی آف میزائلز کہا گیا
بڑا ،بھاری ،تیز ،دور تک جانے والا
اسی لیے امریکہ ابھی سے لانچرز ڈھونڈ کر تباہ کرنا چاہتا
کہیں اصل خطرہ ابھی کھلا ہی نہ ہو
۔
اور جنگ میں صرف میزائل ہی نہیں عقل بھی چل رہی
کہا گیا اسرائیل نے ایران کے ایسے جہاز بھی مارے جو اصل میں جہاز تھے ہی نہیں بلکہ پینٹنگز تھیں
یعنی کہیں سستا ڈرون ،کہیں سرنگ ،کہیں جعلی ہدف
اور دوسری طرف کروڑوں ڈالر کے جہاز اور انٹیلیجنس
یہی تو سمارٹ بمز اور سمارٹ تھنکنگ کا فرق ہے
جنگ میں کبھی کبھی سب سے مہنگی چیز بھی سب سے بڑی بے وقوفی ثابت ہوجاتی
۔
آخر میں ایک اور بات
ایران ،امریکہ ،روس ،ترکی ،چین ،پاکستان سب سستے لمبے فاصلے کے کامیکازی ڈرون رکھتے
تو بھارت کہاں کھڑا ہے ؟
کل کی جنگیں فضاء میں ،ڈرون میں ،ہائپرسونک میں ہوں گی
اور اگر آپ اب بھی صرف نعرے لگاتے رہیں تو میدان کوئی اور لے جائے گا
کہا گیا بھارت نے اربوں ڈالر کے پریڈیٹر خریدے
اسی پیسے میں ہزاروں کم لاگت ڈرون بن سکتے تھے
ایک بھارتی اسٹارٹ اپ نے شیشناگ 150 دکھایا ،رینج بھی ،وارہیڈ بھی ،لوئٹر بھی
لیکن ابھی معاہدے نہیں
تو کم از کم اس جنگ سے سبق تو لیا جائے
ڈرون پروگرام بہتر کرو
میزائل پروگرام بہتر کرو
برہموس کو بھی اپ گریڈ کرو
کیونکہ یہ زمانہ سستے ڈرون اور ہائپرسونک جنگ کا ہے
جو پیچھے رہ گیا وہ صرف خبریں دیکھے گا
جنگ نہیں روکے گا
۔
ایران یہ جنگ مکمل جیتے یا نہ جیتے
لیکن ایک ہفتے میں اس نے دنیا کو اتنا ضرور دکھادیا کہ اربوں ڈالر کا غرور ہمیشہ ہزاروں ڈالر کی چالاکی پر نہیں جیتتا
اور جو لوگ سمجھ رہے تھے کہ چند گھنٹوں میں سب ختم ہوجائے گا وہ اب دوبارہ حساب لگارہے
کیونکہ جنگ کا مطلب بدل رہا
اور باقی دنیا نوٹس لے رہی
آپ بھی لے لیں

Address

0. 6-KM. , Kattar Bund Road Thokar Niaz Baig, Off Multan Rd
Lahore
54000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Hidden Angles in Urdu posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share