24/08/2026
سرحد یونیورسٹی میں طلباء کا احتجاج، فائرنگ کا واقعہ، فوجی افسر کے خلاف کارروائی کا دعویٰ
اسلام آباد: سرحد یونیورسٹی اسلام آباد کیمپس میں طلباء کے احتجاج کے دوران فائرنگ کے واقعے نے صورتحال کو کشیدہ کر دیا۔ طلباء نے الزام عائد کیا ہے کہ احتجاج کے دوران فوجی وردی میں ملبوس ایک شخص نے پستول نکال کر ہوائی فائرنگ کی۔
طلباء کے مطابق احتجاج یونیورسٹی کے شعبے کے سربراہ ڈاکٹر جدون خان کے ساتھ مبینہ بدسلوکی اور ایچ آر مینیجر کے رویے کے خلاف کیا جا رہا تھا۔ طلباء کا کہنا ہے کہ وہ اپنے استاد کے حق میں آواز اٹھانے کے لیے کیمپس میں جمع ہوئے تھے۔
طلباء نے الزام عائد کیا کہ ایچ آر مینیجر نے ڈاکٹر جدون خان سے مبینہ طور پر بدسلوکی کی، انہیں دھکا دیا اور ان کے خلاف مقدمہ درج کرانے کی دھمکی دی۔ احتجاج کے دوران طلباء نے ”جسٹس فار سر“ کے نعرے لگائے اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔
یونیورسٹی کے طلباء کے دعوے کے مطابق ایچ آر مینیجر، جن کے شوہر فوج میں افسر ہیں، احتجاج کے مقام پر پہنچیں جہاں طلباء سے تلخ کلامی ہوئی۔ طلباء نے الزام عائد کیا کہ خاتون نے بعض طلباء کو تھپڑ مارے اور بعد ازاں اپنے شوہر کو موقع پر بلایا۔
طلباء کا کہنا ہے کہ فوجی افسر سرکاری وردی میں کیمپس پہنچے اور مبینہ طور پر ایک طالب علم پر چھڑی سے حملہ کیا۔ صورتحال کشیدہ ہونے پر طلباء کے شدید ردعمل کے بعد افسر نے مبینہ طور پر پستول نکال کر ہوائی فائرنگ کی۔
سینیئر صحافی حامد میر نے دعویٰ کیا ہے کہ پاک فوج نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے مذکورہ افسر کو حراست میں لے لیا ہے اور ان کے خلاف کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔
دوسری جانب اسلام آباد پولیس کے ایک افسر نے بھی موقع پر پہنچ کر طلباء کو متعلقہ افسر کے خلاف کارروائی کی یقین دہانی کرائی۔
کیمپس میں موجود طلباء نے واقعے کی شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا احتجاج اپنے استاد کے خلاف مبینہ دھمکیوں اور مقدمات کے معاملے پر تھا۔
تاہم واقعے سے متعلق طلباء کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات اور فائرنگ کے حالات کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق ہونا ابھی باقی ہے۔