Habib Ahmad

Habib Ahmad This Fan Page DOES NOT belong to any political or any particular denomination. We are not here to in

ژالہ باری لاھور4-4-26beautiful weather
04/04/2026

ژالہ باری لاھور
4-4-26
beautiful weather

21/03/2026

عيد سعيد مبارك وكل عام وأنتم بخير وصحة وسلامة وسعادة ونعمة من الله وفضل تقبل الله منا ومنكم الصيام والقيام وصالح الأعمال

Habib Ahmad
21/03/2026

Habib Ahmad

21/03/2026

🌟 اللّٰهُ أَكْبَرُ، اللّٰهُ أَكْبَرُ، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ
🌟 وَاللّٰهُ أَكْبَرُ، اللّٰهُ أَكْبَرُ، وَلِلّٰهِ الْحَمْدُ

16/03/2026

رمضان میں خود غرضی کے مقابلے میں حضور ﷺ کا طریقہ

انسان جب زندگی کے نشیب و فراز سے گزرتا ہے تو بہت سی حقیقتیں اس پر آہستہ آہستہ منکشف ہوتی ہیں۔ ایک وقت تھا کہ مجھے یقین نہیں آتا تھا کہ دنیا اس قدر مفاد پرست بھی ہوسکتی ہے، مگر جب زندگی کے چونّن (54) سال گزر گئے اور لوگوں کے رویے قریب سے دیکھے تو یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ یہ دنیا واقعی فانی ہے اور اکثر انسان اپنے مفاد کے اسیر بن چکے ہیں۔ تعلقات اکثر فائدے کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں، جب فائدہ ختم ہوتا ہے تو تعلق بھی ماند پڑ جاتا ہے۔

لیکن ایسے ماحول میں رمضان المبارک انسان کو ایک نئی سوچ اور نئی زندگی عطا کرتا ہے۔ یہ مہینہ صرف بھوک اور پیاس برداشت کرنے کا نام نہیں بلکہ اپنے نفس کو قابو میں کرنے اور دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرنے کا مہینہ ہے۔ رمضان ہمیں یاد دلاتا ہے کہ حقیقی کامیابی خود غرضی میں نہیں بلکہ ایثار اور قربانی میں ہے۔

اسی حقیقت کو ہمیں حضور اکرم ﷺ کی مبارک زندگی میں نمایاں طور پر دیکھنے کو ملتا ہے۔ آپ ﷺ کا طریقہ یہ تھا کہ اپنے لیے کم اور دوسروں کے لیے زیادہ سوچتے تھے۔ آپ ﷺ نے بھوک برداشت کی مگر دوسروں کو کھلایا، اپنی تکلیف چھپائی مگر دوسروں کے دکھ بانٹے۔ رمضان کے مہینے میں تو آپ ﷺ کی سخاوت سمندر کی موجوں سے بھی زیادہ بڑھ جاتی تھی۔

آج جب انسان خود غرضی کے اندھیروں میں کھو رہا ہے تو رمضان ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ ہم اپنے دلوں کو نرم کریں، دوسروں کے دکھ درد کو محسوس کریں اور حضور ﷺ کے اسوۂ حسنہ کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو انسان کو دنیا کی تنگ نظری سے نکال کر اخوت، محبت اور رحمت کی وسعتوں تک لے جاتا ہے۔

دنیا فانی ہے، مفاد پرستی بھی ختم ہوجائے گی، مگر وہ زندگی باقی رہے گی جو حضور ﷺ کے طریقے کے مطابق محبت، خدمت اور ایثار کے ساتھ گزاری جائے۔

تحریر: سہیل باوا ختم نبوت اکیڈمی لندن
تاریخ: 16 مارچ 2026ء /27 رمضان المبارک 1447

13/03/2026

فطرانہ، تین بلیاں اور سادگی کی انتہا
(

آج ایک دلچسپ واقعہ پیش آیا۔ نماز کے بعد میرے ایک مقتدی بڑے ادب سے قریب آئے اور پوچھنے لگے:
“مولانا صاحب! اس سال فطرانہ کتنا ہے؟”

میں نے بھی سادگی سے جواب دیا:
“بھائی! تقریباً پانچ پاؤنڈ فی کس ادا کر دیں۔”

ابھی میں آگے بڑھنے ہی لگا تھا کہ وہ دوبارہ بولے:
“مولانا صاحب ایک بات اور پوچھنی تھی… میرے پاس تین بلیاں بھی ہیں، کیا ان کا بھی فطرانہ دینا پڑے گا؟”

میں ایک لمحے کے لیے خاموش ہو گیا۔ دل میں خیال آیا کہ اگر بلیوں کا فطرانہ بھی لازم ہو گیا تو پھر محلے کی بلیاں، گلی کے کبوتر اور باغ کے خرگوش بھی صف بنا کر کھڑے ہو جائیں گے کہ “مولانا صاحب ہمارا بھی حساب کر دیں!” 😄

میں نے مسکرا کر عرض کیا:
“بھائی! فطرانہ انسانوں پر واجب ہے، بلیوں پر نہیں۔ ہاں اگر بلیوں نے روزے رکھے ہوں، تراویح پڑھی ہو اور سحری میں دودھ کے ساتھ کھجور بھی کھائی ہو تو پھر سوچ سکتے ہیں!”

وہ صاحب ہنسنے لگے اور بولے:
“اچھا مولانا! پھر تو میری بلیاں معاف ہو گئیں۔”

واقعہ تو چھوٹا سا تھا مگر اس میں ہمارے معاشرے کی ایک بڑی حقیقت چھپی ہے۔ بعض لوگ دین کے احکام سے اتنے ناواقف ہوتے ہیں کہ سادہ سی بات بھی سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہی سادگی بعض اوقات لوگوں کو ایسے راستوں پر بھی لے جاتی ہے جہاں ہر شخص انہیں آسانی سے دھوکہ دے سکتا ہے۔

اسی سادگی سے فائدہ اٹھا کر بعض گمراہ فرقے اور فتنہ پرست لوگ سادہ دل مسلمانوں کو چکمہ دیتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم دین کو سمجھ کر سیکھیں، علماء کی صحبت اختیار کریں اور بنیادی مسائل سے آگاہ رہیں۔

تحریر: سہیل باوا ختم نبوت اکیڈمی لندن
تاریخ: 12 مارچ 2026ء
تاریخِ اسلامی:23 رمضان المبارک 1447ھ

12/03/2026

اھلِ علم نے لکھا ھے کہ جب طاق رات جمعہ کی رات سے مِل جائے تو شبِ قدر ھونے کی امید زیادہ بڑھ جاتی ھے ۔
علامہ ابن رجب حنبلیؒ نے اپنی کتاب لطائف المعارف میں ابن ھبیرہؒ کا قول نقل کیا ھے :
إذا وافقَتْ ليلةُ الوتر ليلةَ الجمعةِ رُجِيَ أن تكونَ ليلةَ القدر
جب جمعہ کی رات طاق رات سے آملے تو اُمید کی جاتی ھے کہ یہی شبِ قدر ھو ۔
اسی طرح ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ھیں :
إذا وافقَتْ ليلةُ الجمعةِ إحدى ليالي الوتر من العشر الأواخر ، كان ذلك أرجى أن تكون ليلةَ القدر
یعنی جب جمعہ کی رات رمضانُ المبارک کے آخری عشرہ کی کسی طاق رات سے مِل جائے تو زیادہ امید ہوتی ھے کہ وھی شبِ قدر ھو ۔
اس لیے آج کی رات کو غنیمت سمجھ کر کثرت سے نماز ، تلاوت ، ذکر ، صدقہ اور دعا کا اھتمام کرنا چاھیے ۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ھمیں شبِ قدر کی برکتیں نصیب فرمائے ۔
آمین یاربّ العالمین

15/12/2025

اِنّا لِلّٰهِ وَاِنّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْن

حضرت مولانا پیر ذوالفقار احمد نقشبندی صاحب

کے مختصر حالات زندگی

ابتدائی زندگی اور تعلیم

مولانا پیر ذوالفقار نقشبندی اپریل 1953ء کو صوبہ پنجاب، پاکستان کے شہر جھنگ میں ایک کھرل خاندان میں پیدا ہوئے۔

1967 میں میٹرک اور 1972ء میں پنجاب یونیورسٹی سے بی ایس سی الیکٹریکل انجینئر کی ڈگری حاصل کی ، بعد ازاں LUMS یونیورسٹی سے ہیومن مینیجمنٹ ریسورس کا کورس کیا۔ جب آپ لاہور یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھے اس دوران عمدۃ الفقہ کے مصنف سلسلہ نقشبندیہ کے نامور بزرگ سید زوار حسین شاہ صاحب سے مکتوبات مجدد الف ثانی سبقاً سبقاً پڑھی، پھر جامعہ رحمانیہ جہانیاں منڈی اور جامعہ قاسم العلوم ملتان سے دورۂ حدیث کی اعزازی ڈگری بھی حاصل کی۔

امریکا میں جنرل منیجر ( پلانگ اینڈ ڈیولپمنٹ ) کے عہدے پر فائز رہے بعد ازاں 40 سال کی عمر میں نوکری چھوڑ کر دینی کاموں میں مصروف ہو گئے۔

روحانی سفر اور خلافت

پیر سید زوار حسین شاہ صاحب کے انتقال کے بعد خواجہ غلام حبیب نقشبندی مجددی سے 1980 میں بیعت ہوئے، 1983ء میں خلافت سے سرفراز ہوئے۔

دینی خدمات اور تصانیف

مہد الفقیر الاسلامی جھنگ کے بانی تھے، جو ۱۹۹۲ ء میں قائم ہوا۔ یہاں حفظ قرآن ، درس نظامی اور دیگر دینی کورسز پڑھائے جاتے ہیں۔ 2014-2013ء میں آپ دنیا کے 500 با اثر مسلمانوں کی فہرست میں شامل تھے۔ خطبات فقیر سمیت 200 سے زائد کتابیں تصنیف کیں۔ دنیا کے متعدد ممالک کے تبلیغی اسفار کیے، دنیا پھر آپ کے چاہنے والے موجود ہیں۔ آپ کے خلفاء میں نامور علماء و صوفیاء شامل ہیں۔ سلسلہ نقشبندیہ کا ایک روشن چراغ، داعی الی
اللہ ۴ دسمبر 2025 کو داعی اجل کو لبیک کہہ گیا۔
Habib Ahmad fans

ہر مشکل کا حل!انسان اپنی کم عقلی سے یہ سمجھتا ہے کہ وہ ہر مسئلے اور پریشانی کا حل نکال سکتا ہے، اور اس ہی جستجو میں وہ ہ...
17/10/2025

ہر مشکل کا حل!
انسان اپنی کم عقلی سے یہ سمجھتا ہے کہ وہ ہر مسئلے اور پریشانی کا حل نکال سکتا ہے، اور اس ہی جستجو میں وہ ہر وقت پریشان رہتا ہے، اور پھر بھی اگر وہ مسئلہ یا پریشانی حل نہ ہو، تو تھک ہار کر ناامید ہوجاتا ہے، اور سمجھتا ہے کہ اب کچھ نہیں ہوسکتا، بس میری قسمت میں تو یہی مسائل لکھے ہوئے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے اسے یوں ارشاد فرمایا ہے: کیا انسان کے لیے وہ سب کچھ ہے جو وہ چاہے؟ پھر خود ہی جواب دیتے ہیں، پس اللہ تعالیٰ ہی کی ہے آخرت بھی اور دنیا بھی۔
یعنی: اے انسان! تو یہ نہ سمجھ کہ یہ دنیا کا نظام سارا تیری مرضی سے چلے گا، نہیں، اس نظام کا مالک اور چلانے والا وہ اکیلا اللہ تعالیٰ ہی ہے، تو اے انسان بس اس نظام کا ایک حصہ ہے، تو اس کا مالک نہیں ہے، اور مدبر نہیں ہے۔
تو ثابت ہوا کہ یہ انسان کی کم عقلی ہے کہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ میری چاہت کے مطابق سب کچھ ہوجائے، اور جب وہ دیکھتا ہے کہ سب کچھ اس کی مرضی کے مطابق نہیں ہورہا ہے، تو وہ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جاتا ہے، اور واویلا کرتا ہے، یہ کیا ہوگیا! یہ کیا ہوگیا۔
اس لیے ہمیں چاہیے کہ جو بھی مسئلہ درپیش ہو اس کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے حل کروانے والے بنیں۔
اللہ تعالیٰ کو اپنا بنائیں، اس سے لو لگائیں، اپنے دل کی ساری باتیں اور آرزوں اس کے سامنے رکھا کریں، اور اپنے ہر پریشانی اس ہی سے حل کروائیں۔
پھر دیکھیں گا کیسا سکون نصیب ہوگا، کیسا اطمینان نصیب ہوگا۔
Habib Ahmad
حبیب احمد! 🌟💫🌠🕊️✨

09/09/2025

✨تدبر اور تذکر✨

اللّٰہ تعالیٰ نے سورۃ ص (پارہ نمبر 23) میں قرآنِ مجید کے بارے میں دو نہایت اہم باتیں بیان فرمائی ہیں:

1️⃣ تدبر
2️⃣ تذکر

---

🔹 تدبر

تدبر کا مطلب ہے:
قرآن کی آیات میں گہرائی کے ساتھ غور و فکر کرنا، ان کے معانی اور مقاصد کو سمجھنے کی کوشش کرنا، اور انہیں دیگر قرآنی آیات اور احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں سمجھنا۔

قرآن نے فرمایا:
أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ (النساء: 82)
“کیا یہ لوگ قرآن میں تدبر نہیں کرتے؟”

تدبر کا دائرہ وسیع ہے:

ایمان کے پہلو سے

اخلاق کے پہلو سے

ہدایت اور نصیحت کے پہلو سے

اور فقہی احکام کے پہلو سے بھی

یعنی ہر مسلمان اپنی سمجھ کے مطابق تدبر کرے، اور گہرائی میں فقہی استنباط کرنا اہلِ علم اور فقہاء کرام کا کام ہے۔

---

🔹 تذکر

تذکر کا مطلب ہے:
قرآن کی آیات سے نصیحت حاصل کرنا، اپنے دل کو جھنجھوڑنا اور ہدایت کو اپنے عمل میں لانا۔

قرآن نے فرمایا:
وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ (القمر: 17)
“اور یقیناً ہم نے قرآن کو نصیحت کے لیے آسان کر دیا ہے، تو ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا؟”

تذکر کا تعلق خاص طور پر ان آیات سے ہے:

جہاں پچھلی قوموں کے حالات و عبرت انگیز واقعات بیان ہوئے۔

جہاں اللہ کی قدرت کی نشانیاں اور دلائل ذکر ہوئے۔

جہاں جنت و جہنم کے احوال اور امثال بیان کی گئیں۔

---

🌸 خلاصہ

تدبر = قرآن کی آیات میں گہری سوچ اور فہم (یہ سب کے لیے ہے، مگر گہرے فقہی مسائل کا نکالنا علماء کا کام ہے)۔

تذکر = قرآن کی آیات سے نصیحت لینا اور اپنے دل کو سنوارنا (یہ ہر ایمان والے کا کام ہے)۔

Address

Lahore
54000

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00
Sunday 09:00 - 17:00

Telephone

+923316649829

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Habib Ahmad posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Habib Ahmad:

Share

Category