07/04/2026
پاکستان نے واضح اور دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حرمین شریفین (مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ) کا تحفظ ہر مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے اور ان مقدس مقامات کی طرف کسی بھی قسم کی جارحیت ناقابلِ برداشت ہوگی۔ حکومتی و دفاعی حلقوں کی جانب سے یہ پیغام دیا گیا ہے کہ اگر حرمین شریفین کو کسی بھی قسم کا خطرہ لاحق ہوا تو پاکستان دفاع کے لیے ہر ممکن حد تک جانے سے گریز نہیں کرے گا۔
بیانات میں کہا گیا ہے کہ حرمین شریفین صرف سعودی عرب ہی نہیں بلکہ پوری امتِ مسلمہ کا مشترکہ مقدس ورثہ ہیں، اور ان کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان ماضی میں بھی سعودی عرب کی سلامتی اور خودمختاری کے ساتھ کھڑا رہا ہے اور آئندہ بھی ہر مشکل وقت میں بھرپور حمایت جاری رکھے گا۔
سفارتی ذرائع کے مطابق موجودہ علاقائی کشیدگی کے پیش نظر پاکستان صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی افواج پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی حامل ہیں اور اگر ضرورت پڑی تو فوری اور مؤثر ردعمل دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس بیان کا مقصد نہ صرف ممکنہ خطرات کو واضح پیغام دینا ہے بلکہ مسلم دنیا کو یہ یقین دلانا بھی ہے کہ مقدس مقامات کے دفاع پر مکمل اتحاد ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے بیانات خطے میں طاقت کے توازن اور سفارتی دباؤ کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔
عوامی سطح پر بھی اس مؤقف کو بھرپور حمایت حاصل ہے اور سوشل میڈیا پر شہریوں نے حرمین شریفین کے تحفظ کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وقت سب سے اہم بات کشیدگی کو کم کرنا اور خطے میں امن قائم رکھنا ہے، تاہم حرمین شریفین کے معاملے پر کوئی نرمی ممکن نہیں۔