Aamir Bhatti

Aamir Bhatti Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Aamir Bhatti, Digital creator, Lahore.

24/06/2024

Revolutionizing Quality Assurance: How AI-Based Testing and AI Testing Enhance Software Reliability

02/02/2024

"ہمیشہ یاد رکھیں،
صلاح ہارے ہوئے کی۔ تجربہ جیتے ہوئے کا اور دِماغ خود کا۔
انسان کو زِندگی میں کبھی ہارنے نہیں دیتا۔"

19/04/2023

آپ اصل میں بڑا ہونا تب شروع کرتے ہے جب آپ اپنی لڑائیاں اکیلے لڑنا شروع کرتے ہے!
You actually start growing up when you start fighting your battles alone!

10/01/2023

MOMENTS become "Memories" and
PEOPLES become "Lessons"
That's Life

14/12/2022

Not all of us can do "Great Things".
But we can do small things with "Great Love".

03/11/2022

تاریخی اعتبار سے کچھ حقایق جو لمحہ فقریہ ہے
ﯾﻮﺭﭖ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﺎﻧﮯ ﮐﻮ ﮐﻔﺮ ﺳﻤﺠﮭﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ،
ﯾﻮﺭﭖ ﮐﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﺳﺨﺖ ﺑﺪﺑﻮ ﺁﺗﯽ ﺗﮭﯽ ! ﺭﻭﺱ ﮐﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻗﯿﺼﺮ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺳﮯ ﻓﺮﺍﻧﺲ ﮐﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻟﻮﺋﯿﺲ ﭼﮩﺎﺭﻢ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺑﮭﯿﺠﮯ ﮔﺌﮯ ﻧﻤﺎﺋﻨﺪﮮ ﻧﮯ لکھﺎ کہ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﯽ ﺑﺪﺑﻮ ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﺩﺭﻧﺪﮮ ﮐﯽ ﺑﺪﺑﻮ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻣﺘﻌﻔﻦ ﮨﮯ "،
ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﻟﻮﻧﮉﯼ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ "ﻣﻮﻧﭩﯿﺎﺳﺒﺎﻡ" ﺗﮭﺎﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﯽ ﺑﺪﺑﻮ ﺳﮯ ﺑﭽﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﮈﺍﻟﺘﯽ ﺗﮭﯽ ۔
ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﺧﻮﺩ ﺭﻭﺳﯽ ﺑﮭﯽ ﺻﻔﺎﺋﯽ ﭘﺴﻨﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﮯ،
ﻣﺸﮩﻮﺭ ﺳﯿﺎﺡ ﺍﺑﻦ ﻓﻀﻼﻥ ﻧﮯ ﻟﮑﮭﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺭﻭﺱ ﮐﺎ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻗﯿﺼﺮ ﭘﯿﺸﺎﺏ ﺁﻧﮯ ﭘﺮ ﻣﮩﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮨﯽ ﮐﮭﮍﮮ ﮐﮭﮍﮮ ﺷﺎﮨﯽ ﻣﺤﻞ ﮐﯽ ﺩﯾﻮﺍﺭ ﭘﺮ ﭘﯿﺸﺎﺏ ﮐﺮﺗﺎ، ﭼﮭﻮﭨﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﮍﮮ ﭘﯿﺸﺎﺏ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﺳﺘﻨﺠﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ، ﺍﯾﺴﯽ ﮔﻨﺪﯼ ﻣﺨﻠﻮﻕ ﻣﯿﮟ نے ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﯽ " ۔
ﺍﻧﺪﻟﺲ ﻣﯿﮟ ﻻﮐﮭﻮﮞ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﻗﺘﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﻣﻠﮑﮧ " ﺍﯾﺰﺍﺑﯿﻼ" ﺳﺎﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺻﺮﻑ ﺩﻭ ﺑﺎﺭ ﻧﮩﺎﺋﯽ، ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﻨﺎﺋﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﺣﻤﺎﻣﻮﮞ ﮐﻮ ﮔﺮﺍ ﺩﯾﺎ ۔
ﺍﺳﭙﯿﻦ ﮐﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ " ﻓﻠﭗ ﺩﻭﻡ " ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻠﮏ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﺎﻧﮯ ﭘﺮ ﻣﮑﻤﻞ ﭘﺎﺑﻨﺪﯼ ﻟﮕﺎ ﺭﮐﮭﯽ ﺗﮭﯽ ،
ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﺍﯾﺰﺍﺑﯿﻞ ﺩﻭﺋﻢ ﻧﮯ ﻗﺴﻢ ﮐﮭﺎﺋﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺷﮩﺮﻭﮞ ﮐﺎ ﻣﺤﺎﺻﺮﮦ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﻧﮯ تک ﺩﺍﺧﻠﯽ ﻟﺒﺎﺱ ﺑﮭﯽ ﺗﺒﺪﯾﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮونگی ﺍﻭﺭ ﻣﺤﺎﺻﺮﮦ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﻦ ﺳﺎﻝ ﻟﮕﮯ۔
ﯾﮧ ﻋﻮﺍﻡ ﮐﮯ ﻧﮩﯿﮟ مغرب کے ﺑﺎﺩﺷﺎﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺣﮑﻤﺮﺍﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﻭﺍﻗﻌﺎﺕ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﮯ ﺳﯿﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺤﻔﻮﻅ ﮨﯿﮟ،

ﺟﺐ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺳﯿﺎﺡ ﮐﺘﺎﺑﯿﮟ ﻟﮑﮫ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ،
ﺟﺐ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺳﺎﺋﻨﺴﺪﺍﻥ ﻧﻈﺎﻡ ﺷﻤﺴﯽ ﭘﺮ ﺗﺤﻘﯿﻖ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ۔

ﺍﻥ ﮐﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮩﺎﻧﮯ ﮐﻮ ﮔﻨﺎﮦ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﮮ ﮐﺮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﻗﺘﻞ ﮐﺮواﺗﮯ ﺗﮭﮯ،

ﺟﺐ ﻟﻨﺪﻥ ﺍﻭﺭ ﭘﯿﺮﺱ ﮐﯽ ﺁﺑﺎﺩﯾﺎﮞ 30 ﺍﻭﺭ 40 ﮨﺰﺍﺭ ﺗﮭﯿﮟ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﺷﮩﺮﻭﮞ ﮐﯽ ﺁﺑﺎﺩﯾﺎﮞ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﮏ ﻣﻠﯿﻦ ﮨﻮﺍ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﮭﯿﮟ،
ﻓﺮﻧﭻ ﭘﺮﻓﯿﻮﻡ ﺑﮩﺖ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﮨﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻭجہ ﯾﮩﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﭘﺮﻓﯿﻮﻡ ﻟﮕﺎﺋﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﭘﯿﺮﺱ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﻮﻣﻨﺎ ﻣﻤﮑﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ ۔
ﺭﯾﮉ ﺍنڈینز جب اہل ﯾﻮﺭپ ﺳﮯ ﻟﮍﺗﮯ ﮔﻼﺏ ﮐﮯ ﭘﮭﻮﻝ ﺍﭘﻨﯽ ﻧﺎﮎ ﻣﯿﮟ ﭨﮭﻮﻧﺲ لیتے ﺗﮭﮯ ﮐﯿﻮﮞ اہل ﯾﻮﺭپ ﮐﯽ ﺗﻠﻮﺍﺭ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺑﺪﺑﻮ ﺗﯿﺰ ﮨﻮﺗﯽ ﺗﮭﯽ!!
ﻓﺮﺍﻧﺴﯿﺴﯽ ﻣﻮﺭﺥ " ﺩﺭﯾﺒﺎﺭ " ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ
":ﮨﻢ ﯾﻮﺭﭖ ﻭﺍﻟﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﻘﺮﻭﺽ ﮨﯿﮟ، ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮨﯽ ﮨﻤﯿﮟ ﺻﻔﺎﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﯿﻨﮯ ﮐﺎ ﮈﮬﻨﮓ ﺳﮑﮭﺎﯾﺎ، ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮨﯽ ﮨﻤﯿﮟ ﻧﮩﺎﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﻟﺒﺎﺱ ﺗﺒﺪﯾﻞ ﮐﺮﻧﺎ ﺳﮑﮭﺎﯾﺎ، ﺟﺐ ﮨﻢ ﻧﻨﮕﮯ ﺩﮬﮍﻧﮕﮯ ﮨﻮﺗﮯ تھے، ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﭙﮍﻭﮞ ﮐﻮ ﺯﻣﺮﺩ، ﯾﺎﻗﻮﺕ ﺍﻭﺭ ﻣﺮﺟﺎﻥ ﺳﮯ ﺳﺠﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ، ﺟﺐ ﯾﻮﺭﭘﯽ ﮐﻠﯿﺴﺎ ﻧﮩﺎﻧﮯ ﮐﻮ ﮐﻔﺮ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﮮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺻﺮﻑ ﻗﺮﻃﺒﮧ ﺷﮩﺮ ﻣﯿﮟ 300 ﻋﻮﺍﻣﯽ ﺣﻤﺎﻡ ﺗﮭﮯ

"پھر وقت پلٹا اور ہم سے ہماری سائنس، ہمارا علم ہماری ترقی کے راز لے گیا .
ہمیں بدلے میں احساس کمتری دے دی ،ہمیں فیشن نامی لفظ کے ساتھ بے ہودگی دے دی، ہمین ماڈرن بنانے کے نام پر بے حیائی دے دی، ہم نے ان کی دی ہر اس چیز کا ویلکم کیا جس سے ہم بری طرح تباہ ہو سکتے تھے۔
انہوں نے ہمیں آزادی کا نام اور ساتھ غلط تعبیریں دے دیں
ہم نے اپنے نصابوں میں بغاوت کے اصولوں کو آزادی کے اصول قرار دے کر پڑھانا شروع کر دیا .
*پھر ایسا ہوا کہ ہم نے عیاشی کو کامیاب زندگی سمجھنا شروع کر دیا
پھر ایسا ہوا کہ وہ چاند پر جا رہے تھے ہم تفرقہ پرستی پر بحث کر رہے ہیں.
*وہ مریخ کا سفر کر رہے
انہوں نے سمندر میں پٹرول کے ذخائر بنانے شروع کر دئیے ہم نے پٹرول سے جلاو گھیراو آگ لگاو تحریکیں چلانا شروع کردی .
انہون نے ادب میں ایسے شاہکار تخلیق کرنے شروع کیے جو افکار بدل دیں تو ہم نے۔۔۔۔
لب و رخسار
چائے کی پیالی
کالج کی لڑکی لکھنا
۔۔۔۔۔شروع کر دیا .

انہوں نے قرآن کو اپنی لیبارٹریز کا حصہ بنا لیا اور ہم نے اچھے قیمتی غلاف بنانا شروع کر دیے اور طاق کی سجاوٹ کے مقابلے شروع کر دئیے.

انہوں نے عمر فاروق کی سادگی اپنا لی اور ہم نے عیاشی اپنا لی.

جب وہ اپنے بچوں کو زندگی کی حقیقت سکھا رہے ہیں ہم سکول ،کالج اور یونیورسیٹیز میں فرسٹ، سکینڈ اور تھرڈ پوزیشن لینے کے گر بتا رہے ہیں ۔

اہل دانش سمجھتے ہیں کہ۔۔۔
آٸندہ جنگیں میدان جنگ میں نہیں کلاس رومز میں لڑی جائینگی ۔
اور آج ہم نٸی نسلوں کو مادیت پرستی کی بھٹی میں جھونک کر پیسے کو ترقی اور کامیابی کا استعارہ قرار دے رہے ہیں۔
وہ اپنے بچوں کو جینا بتا رہے ہیں اور ہم ایک دوسرے سے جیتنا سکھا رہے ہیں.

انہوں نے اپنی بے حیاٸی اور خواہشات کے سامان کو کم کر کے ویلنٹاٸن ڈے میں جمع کر دیا اور ہم نے اس کو منانے کے لیے روشن خیالی کا نیا نعرہ لگا دیا ۔

جب وہ شکیسپئیر اور گوٸٹے کے کلام کو الہامی ، روحانی کلام ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں عین اسی وقت ہم اقبال کو مشکل قرار دے کر اپنی نسل کو تن آسان بنا رہے ہیں ۔

یہ ہے وقت کا پلٹا جو ہمیں خدا نے نہیں دیا۔
خدا بھی وہی ہے زمانہ بھی وہی ہے مگر معیار بدل گئے ہیں۔

اگر کوئی مجھ سے ان حالات کی وجہ پوچھے تو میں اسے علامہ اقبال کی بارگاہ میں لے جاوں اور کہوں شکوہ ، جواب شکوہ پڑھیں.
ساری بات سمجھ آجائیگی نصاب کا حصہ بنا لیں آنے والی نسلیں ضائع ہونے سے بچ جائیں گی۔

Address

Lahore

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Aamir Bhatti posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Aamir Bhatti:

Share