07/03/2026
پیٹرول 322 روپے ۔۔۔ ڈیزل 336 کردیا گیا
کیونکہ جنگ کا ماحول ہے ، پٹرول نایاب ہے ، اب ہفتہ وار پٹرول بم گرے گا۔۔۔۔ سٹاک ختم ہونے کو ہے ۔۔۔ وغیرہ وغیرہ
جی بہتر !
تو کیا سرکاری افسران کو ملنے والا مفت پٹرول کا کوٹہ بھی کم ہوگا؟ ان کے ماہانہ پٹرول الاؤنس میں بھی کمی آئے گی؟ کیا وزراء ، وزیر اعلی اور اعلیٰ حکام کے پروٹوکول میں چلنے والی 25 اور 30 گاڑیوں کے قافلے کم کیے جائیں گے؟ کیا آپ کا ایک وزیر ,, ایک گاڑی میں ،، سفر کرنے پر آمادہ ہوگا؟ کیا سرکاری دفاتر کی وہ گاڑیاں جو شام کو افسروں کے گھروں کے کام آتی ہیں، اب صرف سرکاری کام تک محدود ہوں گی؟
بالکل نہیں !! کیونکہ سٹاک محدود صرف عوام کے لیے ہے ، افسران اور حکمران کے لیے نہیں ۔
پاکستان میں سرکاری پٹرول کے استعمال کی فہرست بہت طویل ہے۔ سرکاری گاڑیاں صبح بچوں کو اسکول چھوڑنے جاتی ہیں، دوپہر کو بیگمات کی شاپنگ کے لیے استعمال ہوتی ہیں اور شام کو نجی تقریبات تک پہنچاتی ہیں۔ سرکاری پٹرول سے چلنے والی گاڑیاں صرف دفتری ضرورت نہیں بلکہ ایک عیاشی بن چکی ہیں ۔
جناب عوام قربانی کا بکرا بننے کو تیار ہیں ، مگر قربانی اگر واقعی ضروری ہے تو کیا وہ سب کے لیے یکساں ہوگی؟
ایک عام آدمی جو پہلے ہی مہنگی بجلی، مہنگی گیس اور مہنگی اشیائے خوردونوش کے بوجھ اور ماہانہ بلوں تلے دبا ہوا ہے۔۔۔ اس کے ساتھ آپ بھی تو کچھ قربانی دیجیے ۔
آصفہ عنبرین قاضی