17/09/2025
جنگ یرموک
(ساتویں صدی کی سب سے اہم ترین لڑائی)
یہ خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق رضی اللہ کی خلافت کا دور تھا جب حضرت خالد بن ولید رضی اللہ ایرانی سلطنت کے بارڈر کے علاقوں میں موجود چھوٹے شہروں کو یکے بعد دیگرے فتح کرتے جا رہے تھے کہ مرکز سے حکم ملا کہ شام پہنچیں نارمل طریقہ تو یہ تھا کہ فوج وہاں سے واپس آتی اور فلسطین سے ہوتی ہوئی شام تک جاتی لیکن خالد بن ولید رضی اللہ وہیں سے اپنی فوج لے کر صحرا کی طرف روانہ ہو گئے یہ صحرا ایرانی سلطنت کے علاقے عراق اور شام کے درمیان موجود تھا اس صحرا کو پار کرنے میں کئی دن لگ گئے راستے میں اونٹ ذبح کر کے ان کا گوشت اور اونٹوں میں موجود پانی سے سیراب ہوتے رہے حتی کہ شام پہنچ گئے
ان دنوں سلطنت ایران اور بازنطین کے درمیان صلح کا دور چل رہا تھا اس لئے بازنطینیوں نے شام کے علاقوں کو ایرانی سلطنت والی سائیڈ سے بالکل اوپن رکھا ہوا تھا یعنی وہاں کوئی بڑی فوج دفاع کیلئے موجود نہیں تھی بس تھوڑے بہت سپاہی شہروں کی دیواروں کے اندر موجود تھے چنانچہ مسلمان فوج نے آسانی کے ساتھ کئی علاقے فتح کئے بازنطانیوں کو اس طرف سے حملے کی بالکل توقع نہ تھی اس لئے وہ اچانک حملے پر اپنا دفاع نہ کر سکے خیر مسلمان فوج نے شام کے شہر دمشق کی طرف پیش قدمی کی دوسری طرف حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ کی قیادت میں مسلمان فوجیں عرب سے فلسطین میں داخل ہو کر فتح کرتے ہوئے شام میں داخل ہو چکی تھیں دونوں فوجوں نے مل کر دمشق فتح کر لیا دمشق والوں نے ہتھیار ڈال دئیے ابھی دمشق میں ہی تھے کہ مسلمانوں کی فتوحات کی خبر قیصر روم تک قسطنطنیہ پپہنچ گئی اس نے فوری طور پر ایک بڑا لشکر تیار کر کے شام کی طرف روانہ کر دیا یہاں سے خالد بن ولید رضی اللہ کے مشورے کے مطابق مسلمان فوج نے شام کا علاقہ خالی کر دیا اور فلسطین کا علاقہ بھی خالی کرتے ہوئے عرب کی طرف رخ کیا بازنطینی فوج بھی پیچھے تھے
خیر یرموک کے مقام پر دونوں فوجوں کا آمنا سامنا ہوا مسلمان تاریخ دان بازنطینی فوج کی تعداد لاکھ بتاتے ہیں کوئی دو لاکھ بھی بتاتے ہیں اور مسلمان فوج کی تعداد تیس ہزار یا پچیس ہزار بتاتے ہیں لیکن نیوٹرل ذرائع کے مطابق مسلمانوں کی تعداد تقریباً تیس ہزار اور بازطینیوں کی تعداد ساٹھ ہزار تھی یعنی کہ دو گنا لیکن اس جنگ میں بہت مشکل پیش آئی خواتین تک کو لڑنا پڑ گیا لیکن سخت محنت، بہترین قیادت اور خدا کی مدد سے آخرکار اپنے سے طاقتور اور تجربہ کار بازنطینی فوج کو مسلمانوں نے شکست دے دی اور فلسطین اور شام کا سارا علاقہ ہمیشہ کیلئے کنٹرول میں آ گیا
اس لڑائی کو ساتویں صدی کی سب سے اہم ترین لڑائی شمار کی جاتی ہے جس نے ہمیشہ کیلئے مشرق وسطی کی تاریخ بدل کر رکھ دی ۔