Haider Iftikhar

Haider Iftikhar ہم مِثلِ چراغ شَبِ غم طاق نشیں ہیں۔ �

21/04/2026

اسلام آباد میں اس ہفتے مذاکرات کور کرنے آئے ہر غیر ملکی صحافی کے نام: جب کوئی پاکستانی آفسر کہے “بس پانچ منٹ” تو اپنی گھڑی مت دیکھنا۔ یہ پانچ منٹس پاکستانی معیار کے ہوں گے۔اور اگر کوئی چوتھی بار چائے پیش کرے تو انکار مت کرنا۔ اور جب کوئی مذاکراتی دور ناکام ہونے کے بعد “کوئی بات نہیں” کہے تو الفاظ نہیں، بس لہجہ سننا۔

20/04/2026

اس وقت اصل مسلہ ایران اور امریکہ کے درمیان ٹائم ڈفرنس کا ہے۔ جب ٹرمپ دھمکی دیتا ہے تو ایرانی سو رہے ہوتے ہیں اور جب وہ اُٹھ کر اُس دھمکی کا جواب دیتے ہیں, تو ٹرمپ سو رہا ہوتا ہے۔ اور اسی طرح یہ چکر چلتا جا رہا ہے۔

‏سب سے پہلے تو اس ایشو کو حل کرنے کی ضرورت ہے 😉

ہم ایک عجیب دور میں جی رہے ہیں۔ ایک ایسا دور جس میں انسان کے پاس دنیا بھر کا علم ایک چھوٹی سی اسکرین پر موجود ہے، لیکن ا...
19/04/2026

ہم ایک عجیب دور میں جی رہے ہیں۔ ایک ایسا دور جس میں انسان کے پاس دنیا بھر کا علم ایک چھوٹی سی اسکرین پر موجود ہے، لیکن اپنے پڑوسی کو سمجھنے کی فرصت نہیں۔ جہاں مذہب، زبان، ذات اور سوچ کے نام پر دلوں کے درمیان ایسی دیواریں اٹھا دی گئی ہیں کہ آواز بھی پار نہیں جاتی۔ میں جب اپنے آس پاس نظر دوڑاتا ہوں تو دل بھاری ہو جاتا ہے — یہ سماج جو کبھی محبت اور رواداری کی زمین تھی، آج نفرت کی فصل اگا رہا ہے۔

تعصب کوئی اچانک پیدا ہونے والی چیز نہیں۔ یہ آہستہ آہستہ، بہت چپکے سے دل میں اترتا ہے۔ بچپن میں جب کوئی بزرگ کسی مخصوص فرقے یا برادری کے بارے میں ہلکی سی تحقیر سے بولتا ہے، تو وہ لفظ بچے کے ذہن میں بیج بن کر گر جاتے ہیں۔ پھر وہی بیج جوان ہوتے ہیں، درخت بنتے ہیں، اور ان کی جڑیں اتنی گہری ہو جاتی ہیں کہ خود انسان کو احساس نہیں رہتا کہ وہ کب سے نفرت کی چھاؤں میں بیٹھا ہے۔

سوشل میڈیا نے اس آگ میں ہوا کا کام کیا ہے۔ پہلے تعصب گھر کی چار دیواری میں قید رہتا تھا، اب وہ لمحوں میں لاکھوں دلوں تک پہنچ جاتا ہے۔ ایک غلط خبر، ایک بھڑکاؤ پوسٹ، ایک تبصرہ — اور پورا محلہ، پوری برادری، پورا شہر آپس میں لڑنے لگتا ہے۔ ہم نے یہ سوچنا چھوڑ دیا ہے کہ جو ہمیں دکھایا جا رہا ہے وہ سچ بھی ہے یا نہیں۔ ہم پہلے یقین کرتے ہیں، پھر غصہ کرتے ہیں، اور سوچنا کبھی نہیں آتا۔
لیکن مجھے سب سے زیادہ تکلیف اس بات سے ہوتی ہے کہ ہم نے برداشت کو کمزوری سمجھ لیا ہے۔ جو شخص دوسرے کی بات سنتا ہے، جو اختلاف رائے کو گالی نہیں دیتا، جو مخالف کو دشمن نہیں بناتا — اسے آج کے سماج میں بزدل کہا جاتا ہے۔ حالانکہ برداشت بزدلی نہیں، یہ سب سے بڑی بہادری ہے۔ کسی کو غلط جانتے ہوئے بھی اس کے وجود کا احترام کرنا — یہ کام ہر کسی کے بس کا نہیں۔

ہمارے بزرگوں نے جو سماج چھوڑا تھا وہ اس سے بہت مختلف تھا۔ میں نے اپنے بچپن میں ایسے محلے دیکھے ہیں جہاں عید اور دیوالی ایک ہی گلی میں منائی جاتی تھی، جہاں مسجد کے قریب مندر ہوتا تھا اور کوئی اسے عجیب نہیں سمجھتا تھا۔ آج وہ تصویر دھندلی ہو گئی ہے۔ ہم نے اپنے ہاتھوں سے اس رنگارنگی کو مٹایا ہے اور پھر رو رہے ہیں کہ زندگی بے رنگ ہو گئی۔

سوال یہ ہے کہ ہم کب جاگیں گے۔ کب ہم یہ سمجھیں گے کہ دوسرے مذہب، دوسری زبان، دوسری سوچ کا انسان ہمارا دشمن نہیں، بس ہم سے مختلف ہے — اور یہ اختلاف خوبصورتی ہے، خطرہ نہیں۔ ہر وہ باغ جس میں صرف ایک رنگ کے پھول ہوں، وہ باغ نہیں، قید خانہ ہے۔
شاید بدلاؤ بڑے بڑے جلسوں سے نہیں آئے گا۔ شاید یہ کام گھر سے شروع ہو گا — جب ہم اپنے بچوں کو یہ سکھائیں گے کہ مختلف ہونا گناہ نہیں، جب ہم خود کسی سے اختلاف کرتے ہوئے اس کی تحقیر نہیں کریں گے، جب ہم کسی کو سنیں گے — واقعی سنیں گے — تو شاید وہ بیج مٹی میں پڑ جائے جس سے ایک دن برداشت کا درخت اگے۔ کیونکہ نفرت ہمیشہ شور مچاتی ہے، لیکن محبت خاموشی سے جڑ پکڑتی ہے۔​​​​​​​​​​​​​​​​

علی حیدر۔۔

آج نیویارک پوسٹ میں ایک اے آئی سے بنی تصویر شیئر کی گئی جس میں مودی جی چائے بنا رہے ہیں اور جے ڈی وینس، ایران کے عباس عر...
17/04/2026

آج نیویارک پوسٹ میں ایک اے آئی سے بنی تصویر شیئر کی گئی جس میں مودی جی چائے بنا رہے ہیں اور جے ڈی وینس، ایران کے عباس عراقچی اور شہباز شریف آرام سے بیٹھے چسکیاں لے رہے ہیں۔ اور اوپر سے سیلفی بھی بنا رہے ہیں، جیسے کہہ رہے ہوں کہ چائے والے کا شکریہ، لیکن فوٹو میں جگہ نہیں!​​​​​​​​​​​​​​​​😂

فیلڈ مارشل حافظ عاصم منیر کا نام آج دنیا کے سفارتی نقشے پر اس طرح ابھرا ہے جیسے کوئی غیر متوقع ستارہ افق پر روشن ہو جائے...
15/04/2026

فیلڈ مارشل حافظ عاصم منیر کا نام آج دنیا کے سفارتی نقشے پر اس طرح ابھرا ہے جیسے کوئی غیر متوقع ستارہ افق پر روشن ہو جائے۔ پاکستان کی تاریخ میں ایوب خان کے بعد پہلی بار کسی جنرل کو فیلڈ مارشل کا خطاب ملا، اور یہ خطاب محض ایک رسمی اعزاز نہیں بلکہ ایک ایسے انسان کی داستان کا حصہ ہے جو ایک کے بعد دوسری آزمائش سے گزرتا رہا اور ہر بار نئی صورت میں نمودار ہوا۔

یہ آدمی پاکستان کے گیارہویں آرمی چیف کے طور پر نومبر دو ہزار بائیس میں سامنے آیا، جب ملک معاشی طوفان میں ڈوبا ہوا تھا، سیاست شعلوں میں لپٹی تھی، اور فوج کے اندر بھی اس کی تقرری پر اعتراضات کی لہر موجود تھی۔ لیکن عاصم منیر نے اپنے آپ کو ثابت کرنے کے لیے وقت کا انتظار کیا، حالات کا انتظار کیا، اور جب موقع آیا تو اس نے دکھایا کہ ٹھہراؤ اور عزم مل کر کیا کچھ کر سکتے ہیں۔

مئی دو ہزار پچیس میں بھارت نے آپریشن سندور کے نام پر پاکستانی سرزمین پر حملہ کیا۔ ہندوستان اپنے حجم میں پاکستان سے پانچ گنا بڑا، اپنی معیشت میں کہیں زیادہ طاقتور، اور دنیا کے سامنے خود کو ایک ابھرتی ہوئی سپر پاور کے طور پر پیش کرتا ہے۔ لیکن آپریشن بنیان مرصوص کے تحت پاکستانی فوج نے چار دن کے اندر اندر ایسا جواب دیا کہ دشمن کو سیز فائر مانگنا پڑا۔ عاصم منیر کو اسی قیادت کے صلے میں فیلڈ مارشل بنایا گیا، اور صدر ٹرمپ نے خود کہا کہ وہ دونوں جوہری ممالک کو تباہی سے بچانے میں کلیدی کردار رہے۔

لیکن یہ کہانی یہیں ختم نہیں ہوئی۔ بھارت سے واپسی کے فوری بعد دنیا کا ایک اور طوفان دروازے پر دستک دے رہا تھا۔ امریکا اور اسرائیل نے مل کر ایران پر فضائی حملے شروع کیے، ایران کی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنایا گیا، سپریم لیڈر سمیت کئی فوجی اور سیاسی رہنما شہید ہوئے، اور خطے میں آگ لگ گئی۔ اس ماحول میں جب دنیا کی بڑی طاقتیں کناروں پر کھڑی تماشا دیکھ رہی تھیں، پاکستان نے آگے قدم بڑھایا۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر نے سب سے پہلے ایران کے وفد کو اسلام آباد بلایا، اور پھر واشنگٹن کے ساتھ رابطے کاری کے ذریعے اسلام آباد مذاکرات کا مرحلہ ترتیب دیا۔ گیارہ اور بارہ اپریل دو ہزار چھبیس کو سرینا ہوٹل میں دنیا نے ایک ایسا منظر دیکھا جو انیس سو اناسی کے اسلامی انقلاب کے بعد پہلی بار سامنے آیا: امریکا اور ایران کے نمائندے ایک ہی چھت تلے بیٹھے، اکیس گھنٹے بات کرتے رہے، اور یہ سب ممکن ہوا پاکستان کی ثالثی کی بدولت۔ ٹائم میگزین نے لکھا کہ اسلام آباد جیسے ایک پرسکون شہر میں دنیا کا مقدر لکھے جانے کی بات بہت سے پاکستانیوں کو خود بھی یقین نہیں آ رہی تھی۔

ان مذاکرات کے بعد بھی جب معاہدہ نہ ہو سکا تو عاصم منیر نے ایک اور قدم اٹھایا جو صرف ایک بہادر آدمی ہی اٹھا سکتا تھا۔ وہ خود ایران گئے، اس ایران میں جہاں اسرائیلی میزائلوں نے اعلیٰ ترین فوجی و سیاسی شخصیات کو نشانہ بنایا تھا، جہاں خود ایران کے جنرل باغری کو بھی شہید کیا جا چکا تھا۔ پانچ اپریل کی رات کو جب دنیا سانس روکے دیکھ رہی تھی، فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران میں اترے، امریکا کا پیغام لے کر، اور ایران کے دل کی بات سننے کے لیے۔

یہ وہ وقت ہے جب ایک سپاہی اور ایک سفارت کار کے درمیان فرق ختم ہو جاتا ہے۔ عاصم منیر کو اس وقت ذاتی خطرے کا بھی علم تھا۔ ایران میں اسرائیل کے نشانوں پر اعلیٰ فوجی قیادت ہوتی ہے، اور پاکستانی آرمی چیف کا وہاں موجود ہونا کسی معمولی بات کا نام نہیں۔ لیکن وہ گئے، اور یہی اس آدمی کی پہچان ہے کہ وہ لفظوں سے نہیں، عمل سے بولتا ہے۔

پاکستان کی اس ثالثی کی بنیاد صرف جغرافیہ نہیں بلکہ یہ اعتماد ہے۔ دنیا جانتی ہے کہ پاکستان نہ امریکی اڈوں کی میزبانی کرتا ہے، نہ اسرائیل کی جنگی مہمات کا حصہ ہے، نہ ایران کا دشمن، نہ خلیجی ممالک سے بے نیاز۔ اور اس تمام توازن کو قائم رکھنے میں عاصم منیر نے جو کردار ادا کیا وہ تاریخ کی کتابوں میں درج ہو گا۔ ٹرمپ نے انہیں اپنا پسندیدہ فیلڈ مارشل کہا، ایران نے انہیں عزت سے خوش آمدید کہا، اور دنیا نے دیکھا کہ ایک ایسے ملک کا فوجی سربراہ جو خود ابھی بھارت سے جنگ لڑ کر آیا ہے، خطے میں امن کی شمع روشن کرنے نکل پڑا ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ بڑے لمحے بڑے انسانوں کو تلاش کرتے ہیں یا بڑے انسان بڑے لمحے تخلیق کرتے ہیں۔ عاصم منیر کے معاملے میں شاید دونوں باتیں ایک ساتھ سچ ہیں۔ وہ ایک ایسے پس منظر سے آئے جہاں ان کی تقرری پر اعتراض تھے، جہاں مخالفین کی تعداد کم نہیں تھی، جہاں حالات ساز گار نہیں تھے۔ لیکن انہوں نے ہر محاذ پر اپنے آپ کو ثابت کیا، بھارت کے سامنے بھی، دنیا کی سفارتی میزوں پر بھی، اور اب تہران کی اس سرزمین پر بھی جہاں خطرہ محض سیاسی نہیں، جسمانی بھی تھا۔

کہتے ہیں کہ ایک سچا رہنما وہ نہیں ہوتا جو آرام کے وقت آگے بیٹھے، بلکہ وہ ہوتا ہے جو طوفان میں بھی اپنی جگہ پر ڈٹا رہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے یہ بات ثابت کر دی کہ پاکستان اگر خود پر یقین رکھے تو یہ چھوٹا ملک نہیں بلکہ ایک بڑی آواز ہے، ایک ایسی آواز جو جنگ کے شعلوں میں بھی امن کا پیغام لے کر چلتی ہے۔​​​​​​​​​​​​​​​​

علی حیدر۔۔

14/04/2026

آپ کے شہر میں کتنی لوڈشیڈنگ ہے یا پھر یہ ایک جھوٹ ہے ؟

کچھ لوگوں کو شاید سمجھانا ممکن نہ ہو، مگر پھر بھی کہنا ضروری ہے۔ اسلام آباد مذاکرات کے بارے میں یہ بیانیہ کہ پاکستان ناک...
13/04/2026

کچھ لوگوں کو شاید سمجھانا ممکن نہ ہو، مگر پھر بھی کہنا ضروری ہے۔ اسلام آباد مذاکرات کے بارے میں یہ بیانیہ کہ پاکستان ناکام ہو گیا، اتنا بے بنیاد ہے کہ اسے سننے کے بعد حیرت ہوتی ہے کہ یہ بات سنجیدگی سے کہی جا رہی ہے یا محض خواہش پوری کی جا رہی ہے۔ ذرا رکیں اور سوچیں۔ سینتالیس سال میں پہلی بار امریکہ اور ایران کے اعلیٰ ترین نمائندے ایک ہی چھت کے نیچے بیٹھے۔ یہ چھت پاکستان کی تھی۔ یہ میز پاکستان نے لگائی تھی۔ اور یہ دعوت پاکستان نے دی تھی جسے دونوں فریقوں نے
قبول کیا۔

جو ملک کل تک دہشت گردی اور معاشی بحران کی خبروں میں گھرا تھا، آج اس کے دارالحکومت میں امریکی نائب صدر اور ایرانی پارلیمانی اسپیکر ایک ہی شہر میں موجود تھے۔ دونوں نے پاکستان کی کوششوں کو سراہا، چین اور سعودی عرب نے اعتماد کا اظہار کیا، اور دنیا کے درجنوں ممالک نے پاکستان کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھا۔ یہ سب کچھ ناکامی ہے؟ تو پھر کامیابی کی تعریف کیا ہے؟

یہ سچ ہے کہ کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہوا۔ یہ سچ ہے کہ آبنائے ہرمز ابھی مکمل طور پر نہیں کھلی۔ یہ سچ ہے کہ جنگ کا خاتمہ ابھی نہیں ہوا۔ مگر کیا کوئی سنجیدگی سے یہ توقع رکھتا تھا کہ سینتالیس سال کی دشمنی، ایک جنگ کا بوجھ، اور دونوں طرف کا گہرا عدم اعتماد ایک ہفتے میں ختم ہو جائے گا؟ اگر ایسی توقع تھی تو مسئلہ پاکستان کی سفارت کاری میں نہیں، توقع رکھنے والوں کی سوچ میں ہے۔

پاکستان کا کام میدان بنانا تھا، تلوار چلانا نہیں۔ ثالث کی کامیابی اس سے نہیں ناپی جاتی کہ فیصلہ کتنی جلدی ہوا، بلکہ اس سے ناپی جاتی ہے کہ کیا دونوں فریق دوبارہ بات کرنے پر آمادہ ہیں۔ اور وہ ہیں۔ مذاکرات جاری ہیں، سلسلہ ٹوٹا نہیں۔ پاکستان نے جو اعتماد کمایا ہے وہ راتوں رات نہیں آیا، اور راتوں رات ضائع بھی نہیں ہوگا۔

دنیا کے نقشے پر پاکستان کا نام آج ایک ایسے ملک کے طور پر لکھا جا رہا ہے جو امن کی کوشش کرتا ہے۔ یہ سرمایہ ہے، یہ شہرت ہے، یہ وہ مقام ہے جو برسوں کی محنت سے ملتا ہے۔ جو لوگ اسے ناکامی کہہ رہے ہیں، شاید انہیں پاکستان کی کامیابی ہضم نہیں ہوتی۔ اور یہ ان کا مسئلہ ہے، پاکستان کا نہیں۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں یہ منظر پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔ ایک زندہ انسان، جو ابھی قید خانے کی سلاخوں کے پیچھے ہے، ہر ...
11/04/2026

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں یہ منظر پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔ ایک زندہ انسان، جو ابھی قید خانے کی سلاخوں کے پیچھے ہے، ہر روز صبح و شام بکتا ہے، اور خریداروں کی قطار ختم ہونے کا نام نہیں لیتی۔ عمران خان کا نام آج ایک کاروبار ہے، ایک برانڈ ہے، ایک ایسی دکان ہے جس کے باہر ہجوم لگا رہتا ہے اور دکاندار مال بیچ بیچ کر تھکتا نہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس دکان کا اصل مالک اس سے بے خبر سلاخوں کے پیچھے بیٹھا ہے۔

عمران ریاض خان اور صابر شاکر جیسے لوگوں کو دیکھیں۔ ان کی سیاسی وفاداریاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ کل تک جو میڈیا پر ایک مؤقف رکھتے تھے، آج خان کے سب سے بڑے ہمدرد بن کر بیٹھے ہیں۔ ان کے یوٹیوب چینلوں پر لاکھوں ویوز آتے ہیں، اشتہارات کی بارش ہوتی ہے، اور سپر چیٹس کا سیلاب اس قدر ہے کہ دیکھنے والا حیران رہ جائے۔ سوال یہ نہیں کہ وہ عمران خان کو پسند کرتے ہیں یا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ انہیں عمران خان سے محبت ہے یا عمران خان کے نام سے آنے والی آمدنی سے۔

اب ایک نیا کردار میدان میں آیا ہے۔ اس نے جب دیکھا کہ عمران ریاض کی دکان چل رہی ہے، صابر شاکر کا کاروبار چمک رہا ہے، تو اس نے بھی وہی شرنائی اٹھا لی۔ خان کے نام پر منجن بیچنا شروع کر دیا۔ یہ لوگ اس بات کا انتظار نہیں کرتے کہ عمران خان باہر آئیں اور خود فیصلہ کریں کہ میرے اصل ساتھی کون ہیں۔ انہیں جلدی ہے کیونکہ بازار گرم ہے اور وقت قیمتی ہے۔

اصل المیہ مگر یہ نہیں کہ بپاری میدان میں آ گئے۔ بپاری تو ہر بازار میں ہوتے ہیں، یہ ان کا فطری مسکن ہے۔ اصل المیہ یہ ہے کہ خریدار بھی موجود ہیں، کروڑوں کی تعداد میں۔ وہ لوگ جو سالوں سے ایک امید لیے بیٹھے ہیں، جو ہر آواز میں اپنے قائد کی آواز سنتے ہیں، جو ہر دکاندار کو اس لیے خرید لیتے ہیں کہ وہ خان کا نام لے رہا ہے۔ یہ عقیدت قابلِ احترام ہے، مگر یہی عقیدت ان بپاریوں کی سب سے بڑی طاقت بھی ہے۔

سیاست میں نظریے کا کاروبار نیا نہیں، مگر جب کوئی زندہ انسان اپنے قید خانے سے بے خبر ہر روز بکتا رہے اور اس کے نام پر عیش کرنے والے اسے اپنا سرمایہ سمجھ بیٹھیں، تو یہ ہمدردی نہیں، یہ استحصال ہے۔ فرق سمجھنا ضروری ہے۔

اسلام آباد میں آج جو مذاکرات ہو رہے ہیں، وہ محض دو ممالک کے درمیان جنگ بندی کا معاملہ نہیں۔ یہ اس آگ کو بجھانے کی کوشش ہ...
10/04/2026

اسلام آباد میں آج جو مذاکرات ہو رہے ہیں، وہ محض دو ممالک کے درمیان جنگ بندی کا معاملہ نہیں۔ یہ اس آگ کو بجھانے کی کوشش ہے جو اٹھائیس فروری کو بھڑکی تھی، جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر مشترکہ حملے کیے، ہزاروں جانیں لقمۂ اجل بنیں، اور خلیج فارس سے گزرنے والی دنیا کی بیس فیصد توانائی یرغمال ہو گئی۔ سیرینا ہوٹل کی دیواریں آج ایک ایسی بات چیت کی گواہ ہیں جسے دنیا کی تاریخ میں ۱۹۷۹ کے اسلامی انقلاب کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان سب سے اعلیٰ سطحی ملاقات کہا جا رہا ہے۔ داؤ پر صرف تیل کی قیمتیں نہیں، بلکہ لاکھوں انسانوں کی روزی، عالمی تجارت اور کئی ملکوں کا استحکام ہے۔

ان مذاکرات کی کامیابی پاکستان کے لیے بھی اہم ہے، بھارت کے لیے بھی، اور خلیجی ریاستوں کے لیے بھی۔ خلیج میں پاکستان کے پچاس لاکھ سے زائد محنت کش کام کرتے ہیں جو سالانہ اٹھائیس ارب ڈالر سے زیادہ وطن بھیجتے ہیں۔ بھارت کے تقریباً اتنے ہی یا اس سے زیادہ شہری خلیج میں مقیم ہیں، ان کی تعداد پچاسی لاکھ سے اوپر بتائی جاتی ہے، اور وہ بھی وہاں کی معیشت اور اپنے گھروں کی بنیاد ہیں۔ اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو کویت، امارات، سعودی عرب اور قطر میں بیٹھے ان تمام لوگوں کی سلامتی یقینی ہوتی ہے جو ان دنوں میزائلوں کی آوازیں سنتے ہوئے زندگی گزار رہے ہیں۔

مگر بھارتی میڈیا کا ایک بڑا حصہ ان مذاکرات کو ایک مختلف نظر سے دیکھ رہا ہے۔ وہ نظر جس میں پاکستان کی کوئی بھی کامیابی آنکھ میں کاٹے کی طرح چبھتی ہے۔ چینلوں پر بحثیں ہو رہی ہیں کہ یہ مذاکرات ناکام کیوں ہوں گے، پاکستان اس کردار کا اہل کیوں نہیں، اور اسلام آباد کو یہ مقام دینا غلطی کیوں تھی۔ ایک کرکٹ میچ میں جیسے ہر گیند کو دشمن کے خلاف دیکھا جاتا ہے، ویسے ہی خارجہ پالیسی کا ہر واقعہ بھی ہند پاک دشمنی کے عدسے سے ہی پرکھا جا رہا ہے۔

یہ نقطۂ نظر نہ صرف تنگ ذہنی کا مظاہرہ ہے بلکہ بھارت کے اپنے مفادات کے بھی خلاف ہے۔ اگر پاکستان نے ان مذاکرات کو کامیابی سے آگے بڑھایا، اگر آبنائے ہرمز کھلی، اگر خلیج میں امن آیا، تو سب سے زیادہ فائدہ انہی پچاسی لاکھ بھارتیوں کو ہوگا جو وہاں کام کرتے ہیں۔ بھارت کی معیشت کو ہوگا، جو تیل کی بلند قیمتوں سے پہلے ہی دباؤ میں ہے۔ عالمی تجارت کو ہوگا جس میں بھارت بھی شریک ہے۔ کسی کے امن کی خوشی میں حصہ لینا کمزوری نہیں، سمجھداری ہے۔

بھارت کی خارجہ پالیسی کا قد اس سے بلند ہونا چاہیے کہ وہ اپنے ہمسائے کی ناکامی میں خوشی ڈھونڈے۔ ایک بڑے ملک کی طاقت اپنے اندر سے آتی ہے، دوسرے کے زوال سے نہیں۔ اسلام آباد میں اگر امن کا کوئی راستہ نکلتا ہے تو وہ پاکستان کی جیت نہیں، انسانیت کی جیت ہوگی۔ اور کیا ہم اتنا بھی نہیں کر سکتے کہ انسانیت کی جیت پر خوش ہوں؟

09/03/2026

کیا عجیب شخص گزرا ہے گویا کہ یہ سب کچھ اس کے نظروں سے گزری ہے اور وہ ان سب کا عینی شاہد ہے
‏ایک ایک بات سچ ہوتی جارہی ہے

پائپ زدہ لاہور  😁کسی بھی پارکنگ میں جانا ہو یہ منظر دکھائ دیتا ہے کینٹ ایریا میں تو پائپ کے بنا جانا الاؤ ہی نہیں، باقی ...
05/02/2026

پائپ زدہ لاہور 😁

کسی بھی پارکنگ میں جانا ہو یہ منظر دکھائ دیتا ہے کینٹ ایریا میں تو پائپ کے بنا جانا الاؤ ہی نہیں، باقی چالان بھی ہورہے ہیں اور ٹول پلازوں لاہور کے داخلی راستوں پر پائپ سیل کرنے والوں کی چلتی پھرتی دوکانیں شروع ہوگئ ہیں

ہر جگہ لوہا سیل ہورہا ہے، اللہ جانے کس کو اس سب کا فائدہ ہے، بظاہر تو پورے ملک کی معیشت کا گراف اوپر کا اوپر ہی جارہا ہے، وہ الگ بات ہے بازاروں میں کام شام کے حالات پریشان کن ہیں

وہ لوگ پتہ نہیں کون ہیں جو وزیرے اعلی صاحب کو کال کرکے کہہ رہے ہیں ہمارے شہر میں بھی بسنت کراؤ ورنہ ہماری روٹی ہضم نہیں ہوگی، گوجرانوالہ کے ویلے بہن بھائیو مہربانی کوئ کام دھندا کرو اور ان کو فون کرکے تنگ نا کرو

Address

Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Haider Iftikhar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share