26/12/2025
اک تو نگر نے قناعت پہ کہیں درس دیا
👍مفلسی چیخ اٹھی جا تیرے ادراک پہ خاک
✍️...یہ شعر اُس رویّے پر گہرا طنز ہے جو ہم اکثر معاشرے میں دیکھتے ہیں —
جہاں خوشحال لوگ غریبوں کو قناعت کا درس دیتے ہیں، مگر خود آسائشوں میں ڈوبے ہوتے ہیں۔
شاعر کہتا ہے کہ جب امیر شخص غریب کو صبر، شکر اور قناعت کی نصیحت کرتا ہے تو مفلسی خود چیخ اٹھتی ہے کہ:
تمہیں غربت کا اصل درد معلوم ہی نہیں،
تمہارے “ادراک” یعنی سمجھ پر خاک ہے۔
یعنی جو شخص بھوک، کرایہ، دوائی، فیس اور بے روزگاری کا عذاب نہ جھیلا ہو —
اس کا قناعت کا درس محض کھوکھلا فلسفہ بن جاتا ہے۔
یہ شعر ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ
قناعت اچھی چیز ہے، مگر اسے طاقتور کمزور پر بطور ہتھیار استعمال کرنا ظلم ہے۔
یہ صرف شعر نہیں —
یہ ہمارے سماجی رویّوں کا آئینہ ہے۔