VAB News

VAB News this our news page

"کچے مکان کی ٹوٹی چارپائی سے کروڑوں کی 'Haval' گاڑی اور ڈی ایچ اے کے بنگلے تک... کیا واقعی صرف ٹک ٹاک پر لپسنگ کرنے سے ا...
03/08/2026

"کچے مکان کی ٹوٹی چارپائی سے کروڑوں کی 'Haval' گاڑی اور ڈی ایچ اے کے بنگلے تک... کیا واقعی صرف ٹک ٹاک پر لپسنگ کرنے سے اتنی دولت مل سکتی ہے، یا اس چمکتے پردے کے پیچھے کچھ اور ب۔ک رہا ہے؟"

نئی چمچماتی گاڑی کے ساتھ کھڑی یہ لڑکی مشہور ٹک ٹاکر فاطمہ جتوئی ہے۔ وہی لڑکی جس کی غ۔ی۔ر ا۔خ۔ل۔ا۔ق۔ی ویڈیوز لیک ہوئیں تو اس نے سارا ملبہ ڈاکٹر عفان قیصر پر ڈال دیا۔ لیکن سچائی اس سے کہیں زیادہ خوفناک اور گھناؤنی ہے!

ڈاکٹر عفان کا قصور صرف یہ تھا کہ اس نے اس کی سگی ماں کو بے نقاب کیا تھا، جو مبینہ طور پر اپنی 16 سالہ نابالغ بیٹی سے غ۔ل۔ط ک۔ا۔ر۔ی کروا رہی تھی۔ حقائق یہ ہیں کہ اپنے ہی لوگوں نے اس کی عمر کاغذات میں بڑھائی اور اسے اس وقت دبئی پہنچایا گیا جب پورے پاکستان کے لیے ویزے مکمل بند تھے!

آج صرف ڈیڑھ سال کے اندر اس لڑکی نے ڈی ایچ اے میں عالی شان گھر اور مہنگی ترین Haval گاڑی خرید لی ہے۔ کمائی کا اصل ذریعہ دبئی تھا کیا۔لیکن کیمرے کے سامنے ٹک ٹاک کی کامیابی کا چورن بیچ کر ان ہزاروں معصوم لڑکیوں کی آنکھوں میں دھول جھونکی جا رہی ہے جو اسے اپنا رول ماڈل سمجھ رہی ہیں۔

ذرا سوچیں! اگر اس لڑکی کی جگہ کوئی باصلاحیت، پڑھا لکھا نوجوان رات دن محنت کر کے معلوماتی یا ادبی ویڈیوز بناتا، تو آج وہ گاڑی تو دور، ایک اچھا سمارٹ فون لینے کے لیے بھی دھکے کھا رہا ہوتا۔

آج ہمارے معاشرے میں کامیابی کا شارٹ کٹ صرف ج۔س۔م ن۔م۔ا۔ئ۔ی اور ب۔ے ح۔ی۔ا۔ئ رہ گئی ہے۔ ویوز اور ڈالرز کی ہوس اس قدر اندھی ہو چکی ہے کہ اب مرد حضرات چند روپوں اور سستی شہرت کی خاطر اپنی ہی بیویوں اور بہنوں کو چست لباس پہنا کر سکرین پر لا رہے ہیں!

کیا ہم بحیثیت قوم واقعی اتنے بے حس ہو چکے ہیں کہ اب محنت، تعلیم اور غیرت کی جگہ... ہماری نسلیں اس غ۔ل۔ا۔ظ۔ت کو کامیابی کی معراج سمجھ کر اپنائیں گی؟

اللہ ظالم کی رسی کو ڈھیل ضرور دیتا ہے لیکن اسے آزاد نہیں چھوڑتا ۔۔۔۔۔چوہدری عبداللہ طاہر سمیت 20 افراد کے قا۔تل زمان عرف...
03/08/2026

اللہ ظالم کی رسی کو ڈھیل ضرور دیتا ہے لیکن اسے آزاد نہیں چھوڑتا ۔۔۔۔۔چوہدری عبداللہ طاہر سمیت 20 افراد کے قا۔تل زمان عرف گھگی بٹ کے مظالم کی داستان۔۔۔۔ شہر میں خوف کی علامت بٹ فیملی کیسے برباد ہوئی ؟ آپ کو بتائیں کہ نارووال کی بٹ فیملی کا شمار علاقہ کی امیر اور بااثر ترین فیملیز میں ہوتا ہے یہ کئی بھائی تھے جن کے درمیان والد کی وفات کے بعد جائیداد کے تنازعات چل پڑے ، بھائی دو گروپوں میں تقسیم ہو گئے اور ایک دوسرے کو ذلیل و رسوا کرنا شروع کردیا ہے ، اطلاعات ہیں کہ کچھ بھائیوں نے جائیداد اپنے نام لگوانے کے لیے سگی والدہ کو قید رکھا اور اس پر ظلم کرتے رہے ۔انہی مظالم کا دکھ سہتی والدہ انتقال کر گئیں تو ان بھائیوں کا جہاں ہاتھ لگا اپنی ہی جائیداد مل بانٹ کھانے کی بجائے قبضہ کرتے رہے اور ایک دوسرے کے دشمن بن گئے۔ مصدقہ اطلاعات کے مطابق شہر کے قریب اس خاندان کی 100 ایکڑ زرعی اراضی تھی ، شہر کے اندر مکانات تھے ،اڈا تھا جسکی مالیت اربوں روپے میں ہے ، ٹرانسپورٹ تھی ، اگر یہ لوگ صلح صفائی سے معاملات حل کرتے ایک دوسرے کا حق نہ کھاتے تو انکی نسلیں کھاتی رہتی لیکن یہ وسائل ختم نہ ہوتے مگر لالچ چوہدراہٹ اور بدمعاشی کے ساتھ ایک دوسرے کا حق مارنے کی وجہ سے پورے خاندان پر زوال آگیا ، کچھ عرصہ قبل نارووال کا عمران بٹ نامی شخص ق.ت.ل ہوا جو اسی زمان بٹ المعروف گھگی کا بھائی تھا ، حیران کن بات ہے کہ عمران بٹ کے ق.ت.ل کا الزام زمان بٹ گھگی پر لگا ۔اب جس خاندان یا جن بھائیوں نے والدہ کو دکھ دیا ہو انکا انجام بخیر کیسے ہو سکتا ہے ۔۔یہی ان بھائیوں کےساتھ ہوا ۔ 2 بھائی تو پولیس کے ساتھ مقابلے میں پار ہوئے ، باقی ایک ق.ت.ل ہوا اور ایک پر اس ق.ت.ل کا الزام لگا ۔۔۔ عمران بٹ کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اس نے خود کو اتنا بڑا ڈان سمجھ لیا کہ اس نے باقی بھائیوں کو کمائی میں سے حصہ دینا بند کردیا ، دوسرے بھائیوں کی فیملی اور بچوں سے بدتمیزی کرتا مار پیٹ کرتا ۔ کئی سال قبل زمان بٹ بیرون ملک مقیم رہا وہاں کاروبار کرتا رہا اور بقول خود اسکے جو کماتا عمران کو بھیج دیتا اربوں روپے اسے بھجوائے مگر وہ سب ہضم کر گیا ۔ اس وقت حالات یہ ہیں کہ دو بھائی مقابلے میں پار ، ایک کو زمان بٹ نے ق۔ت۔ل کروایا یا کیا اور اپنے تعلقات اور پیسے کی بدولت سزا سے بچ گیا ۔ دو بھائی بیرون ملک ہوتے ہیں ، زمان بٹ بھی ان دنوں امریکہ میں بیٹھا ہے جب کہ اسکا ایک بھائی رضوان بٹ پاکستان میں موجود ہو سکتا ہے لیکن اب تک شاید حالات دیکھ کر وہ بھی کہیں غایب ہو چکا ہو ۔۔۔اب سوال یہ ہے کہ زمان بٹ کو امریکہ سے پاکستان کیسے لایا جائے گا ، اسکے لیے ظاہر ہے حکومت اور بین الاقوامی قوانین سے مدد لائی جائے گی اگر قانون اسکی گرفتاری اور یہاں لانے میں رکاوٹ بھی بنے تو ایک حکومت کے لیے ایک بدمعاش کو واپس لانا کوئی مسئلہ نہیں حکومتوں اور اداروں کے پاس سو راستے ہوتے ہیں ۔ زمان گھگی کی گھگی بند ہونیوالی ہے یہ نوشتہ دیوار ہے ۔۔ اللہ کریم ہر ظالم کے خلاف ہمارے اداروں کا حامی وناصر ہو آمین

Address

Lahore
5885

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when VAB News posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share