26/10/2025
🔥اچھا شُکروالا
قیام پاکستان کے بعد جلد ہی لاہور میں شہرت نے جسکے قدم چُومے وہ تھا اچھا شُوکر والا۔ چھوٹا قد، بھاری بھرکم بدن، گورا چٹا رنگ اور عقابی آنکھیں رکھنے والا پنجاب کا منی گورنر کہلایاجانے والا چوہدری اسلم المعروف اچھا شُوکر والا نے مختلف حوالوں سے اپنا نام پیدا کیا۔ چوہدری اسلم 1930 میں پیدا ہوئے اور برف کے کاروبار سے منسلک تھے۔ اپنے کثرتی بدن کی بدولت پہلوانی میں بھی شوق رکھتے تھے. پہلوانی کی بدولت اُن کو اچھا پہلوان کہا جاتا تھا اور اپنے والد چوہدری شُکر دین کے نام کی نسبت سے اچھا شوکر والا کے نام سے مشہور تھے۔
دیسی پن ٫ سادگی اور دلیری کی منفرد مثال اچھا شُوکر والا کا پہلا جھگڑا قیام پاکستان سے قبل ایک مسجد اور مندر کے تنازعے پر ہوا تھا۔ قیام پاکستان کے بعد کوئی بھی سرکاری و غیر سرکاری کام ہو ، صلح یا لڑائی جھگڑے کا معاملہ ہو لوگوں کے لئے جو راستہ سب سے سہل اور پر اعتماد تھا وہ لاہور کے دل میں واقع علاقہ قلعہ گجر سنگھ جاتا تھا جو کہ اچھا شُوکر والا کی اسٹیٹ سمجھا جاتا تھا۔
اچھا شُوکر والا کی دشمنی پروان چڑھی لاہور ہی کے ایک اور مشہور و معروف دلیری اور جی داری میں اپنا نام پیدا کرنے والے , اسلامیہ پارک کے چوہدری بڈھا گجر اور چوہدری شریف گجر المعروف جگا گجر سے جن کی زندگیوں پر بھی بے شمار فلمیں بن چکی ہیں. لیکن اس دشمنی میں بھی اچھا شُوکر والا کی اپنی ذات براہ راست انوالو نہیں تھی بلکہ اس دشمنی میں انکا چھوٹا بھائی چوہدری محمد اکرم چیمہ المعروف اَکّا پہلوان ملوث تھے۔
ساٹھ کی دہائی کے اخبارات کا جائزہ لیا جائے تو ایک ہائی پروفائل کیس پڑھنے کو ملے گا۔ "عارف شاہ قتل کیس"۔ مزنگ میں ایک جھگڑے کے دوران عارف شاہ قتل ہوا تھا جس کی ایف آئی آر اَکّا پہلوان ، مینا شوکر والا اور جگ علی کے نام درج ہوئی جنہیں منٹو پارک کے قریب سے گرفتار کر لیا گیا۔ یہاں سے یہ دشمنی مزید تب پروان چڑھی جب عارف شاہ قتل کیس میں موقع کا ایک گواہ لاہور ضلع کچہری کے احاطہ میں قتل ہوا۔ طفیل بھولا، میاں خورشید اسلم اور افضال شاہ طیش میں آ کر گواہ پر حملہ آور ہوئے جس میں گواہ کی موت واقع ہوئی۔ کوٹ لکھپت جیل میں جب اس "گواہ قتل کیس" کی کاروائی ہوتی تو لوگ جوق در جوق یہ کاروائی دیکھنے جاتے تھے۔ اس کیس کی سماعت ڈسٹرکٹ جج مسٹر فتح خان بندیال کی سربراہی میں ہوتی تھی۔ معزیزین شہر کی مداخلت کے باعث کئی بار ان دونوں خاندانوں میں صلح بھی ہوئی۔ یوں سمجھ لیں کہ لاہور شہر کا امن و امان ان دو خاندانوں کے رویوں پر ہی منحصر ہوتا تھا۔ یہی وہ دشمنی تھی جس میں جاری قتل و غارت کے باعث گورنر پنجاب موسٰی خان نے غنڈہ ایکٹ نافذ کی تھی۔ مشہور زمانہ غنڈہ ایکٹ۔
اسی غنڈہ کنٹرول آرڈینینس کی دفعہ 14 کے تحت اچھا شُوکر والا کو دو سال کے لئے لاہور چھوڑنے کا حکم صادر ہوا۔ وکیل صفائی کی طرف سے پیش کی جانیوالی تمام شہادتیں جو کہ مصطفی کمال پاشا ، آقا بیدار بخت اور حیدر علی مرزا کی تھیں ٫ کو ڈسٹرکٹ ٹربیونل مسٹر انور شائق نے یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ آقا بیدار بخت تو ایڈووکیٹ ہیں اور اچھا شُوکر والا کے علاقہ کے جو چئیرمین ہیں وہ اچھا شُوکر والا ہی کی بدولت ہی تو بلا مقابلہ منتخب ہوئے ہیں لہذا لاہور میں امن و امان کے لئے اچھا شُوکر والا لاہور چھوڑ دے۔ لیکن اس فیصلے پر مغربی پاکستان ہائی کورٹ کے جج مسٹر جسٹس محمد گل اور مسٹر جسٹس محمد افضل پر مشتمل ڈویژن بینچ نے اچھا شُوکر والا کی درخواست پر حکم امتناعی جاری کیا اور لاہور رہنے ک اجازت دے دی گئی۔
پروفیسر احمد عقیل روبی اپنی کتاب "کھرے کھوٹے" میں لکھتے ہیں کہ "میرا ایک پروفیسر دوست شاہ عالمی بازار کے ایک چالباز تاجر کے چنگل میں پھنس گیا۔ کسی سودے میں ایک لاکھ ایڈوانس ادائیگی کی ہوئی تھی جس سے وہ تاجر مکر گیا اور پیسے واپس کرنے سے انکار کرنے لگا۔ میرا وہ دوست دو سال تک جوتیاں گھساتا رہا لیکن کوئی پرسان حال نہ تھا۔ ایک دن مجھ سے ذکر کیا تو میں اسے اچھاشُوکر والا کے پاس قلعہ گجر سنگھ میں انکے ڈیرے پر لے گیا۔ پہلوان نے بڑے غور سے پہلے پوری بات سنی۔ پھر اپنے مخصوص انداز میں چٹکی مار کر سگریٹ کی راکھ بجھائی اور اس تاجر کا ایڈریس پوچھا۔ پروفیسر نے ایک کاغذ پر ایڈریس لکھ کر پہلوان جی کو دیا۔ انہوں نے اپنے ایک کارندے کو بلایا۔ اس کے ہاتھ میں ایڈریس تھمایا اور کان میں کچھ ہدایات جاری کیں جو ہمیں سنائی نہ دیں۔ تھوڑی دیر بعد وہ کارندہ اس تاجر کو ہمراہ لئے واپس آ گیا۔ پروفیسر نے فوراً کہا کہ یہی ہے وہ جو میرے پیسے واپس نہیں کر رہا۔ پہلوان جی نے اس سے پو چھا "کیوں اوئے.. لِتے نیں پیسے" پتا نہیں ان پانچ الفاظ میں کیا دہشت تھی کہ اس تاجر نے فوراً کہا کہ ہاں جی پہلوان جی لئے ہیں اور جلد واپس کر دوں گا۔ پہلوان جی نے کہا کہ نہیں ابھی واپس کرو۔ اس تاجر نے گھر فون کر کے پیسے منگوائے اور موقع پر ادائیگی کی"۔
اچھا شُوکر والا کو فلم انڈسٹری میں بھی بہت دلچسپی تھی۔ ایورنیو فلم اسٹوڈیو میں آغا طالش کے آفس کے سامنے سے گزر کر امن پارک کے ساتھ اچھا شُوکر والا کا دفتر تھا جس کے سامنے باغیچے میں دس بارہ بندوں کے ساتھ وہ محفل جمائے رکھتے۔ عصر اور مغرب کی نماز وہ اسٹوڈیو میں ہی پڑھتے تھے۔ وہ کبھی بھی اکیلے نہیں چلتے تھے بلکہ انکے دائیں بائیں گروہ کی شکل میں دس بارہ آدمی انکے ساتھ ساتھ ہوتے۔ انہوں نے چوہدری فلمز کے نام سے ادارہ قائم کیا اور اس ادارے کے بینر تلے "ملنگی" جیسی شاہکار فلم تخلیق کی جس نے اپنے وقت میں پنجابی سینما میں ایک نئی تاریخ رقم کی۔"ملنگی" کے علاوہ "واہ بھئی واہ، ہر فن مولا، امام دین گوہاویہ" جیسی فلموں نے بھی زبرست کامیابیاں سمیٹیں۔ اچھا شُوکر والا کے َتعلقات ہمیشہ وقت کے گورنرز ، صدور اور وزرائے اعظم کے ساتھ رہے۔ لاہور کی یہ کرشماتی شخصیت نے دشمنیوں کی طویل داستانوں کے باوجود طبعی وفات پائی اور 28 جون 1990 کے دن اس جہان فانی سے رخصت ہوئے۔ انہوں نے اپنی زندگی میں ہی اپنے بھانجے چوہدری اعجاز کامران کو اپنا جانشین مقرر کر دیا تھا جنہوں نے 1982 میں ہی فلم انڈسٹری میں قدم رکھ دیا تھا۔
اچھا شُوکر والا کی وفات کے بعد چوہدری اعجاز کامران نے انکی زندگی پر فلم بنانے کا ارادہ کیا اور کہانی لکھنے کا کام سکیدار کے سپرد کیا جو کہ اچھا شُوکر والا کے ساٹھ کی دہائی سے دوست رہے تھے۔ سکیدار نے جو کہانی لکھی تھی وہ بہت حد تک اچھا شُوکر والا کی ہنگامہ خیز زندگی کا احاطہ کرتی تھی۔ لیکن اس فلم کے ہدایتکار حسن عسکری مرحوم نے اس کہانی کو تبدیل کر دیا اور جناب رشید ساجد کے ذمہ کہانی سپرد کی۔ چوہدری اعجاز کامران نے مجھ خاکسار سے گفتگو کرتے ہوئے یہ انکشاف کیا تھا کہ فلم "اچھا شُوکر والا" میں جو کہانی فلمبند کی گئی ہے وہ ہماری دی ہوئی کہانی نہیں تھی بلکہ ہماری کہانی کو عسکر ی صاحب نے تبدیل کر دیا تھا۔
فلم "اچھا شوکر والا" میں مرکزی کردار اداکار یوسف خان نے ادا کیا اور اچھا پہلوان کے ساتھ دوستی اور انکے ساتھ گزرے ہوئے وقت کی بدولت اس قدر نیچرل اداکاری کی کہ یوسف خان پر اچھا شُوکر والا کا ہی گمان ہونے لگا۔ وہی لب و لہجہ ، وہی اچکن، وہی انداز غرض یوسف خان نے اس فلمی کردار میں اس قدر جان ڈال دی تھی کہ انکے علاوہ شائد یہ کردار کوئی دوسرا ادا کر ہی نہیں سکتا تھا۔
اچھا شُوکر والا کے چھوٹے بھائی محمد اکرم چیمہ عرف اَکّا پہلوان کا کردار سلطان راہی نے ادا کیا اور فلم کو چار چاند لگا دئے۔ یوسف خان، سلطان راہی، صائمہ شاہدہ منی، انور خان، ہمایوں قریشی اور راشد محمود نے اس فلم میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔ فلم کا آغاز اسی مشہور زمانہ گواہ قتل کیس سے ہوا جس کو پہلے بیان کیا گیا ہے۔ وہ قتل جو احاطہ عدالت میں ہوا تھا۔ اسکے بعد غنڈہ ایکٹ کی خبر ریڈیو پر چلا کر پولیس کی غنڈہ ایکٹ پر نافذ عملی دکھا کر جو فریم اوپن ہوتا ہے وہ انتہائی خوبصورتی سے فلمایا گیا جس میں اداکار افضل خان ملنگ کے کردار میں ہیں اور انکے تکیہ پر یوسف خان اچھا شُوکر والا کے روپ میں سفید چادر اوڑھے آنکھیں بند کئے ہوئے سرور میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ یہاں سے گرفتارہونے کے بعد جیل میں انکے پاس ایک صحافی کے کردار میں اداکار راشد محمود آتے ہیں اور یہاں سے فلیش بیک میں اچھا شُوکر والا کی زندگی کی مکمل کہانی بیان کی جاتی ہے۔ فلم میں سلطان راہی کا انٹری سین بھی انکے پرستاروں کی خواہشات کے عین مطابق فُل ایکشن فلمایا گیا جب وہ اپنے بڑے بھائی کے احکامات پر عملدرآمد کے لئے ایک فلور مل پر دھاوا بولتے ہیں۔ عارف شاہ کو فلم میں نادر شاہ دکھایا گیا اور اس کردار کو انور خان نے بخوبی نبھایا۔ ہمایوں قریشی نے بھی اپنے کردار کو بڑے احسن انداز میں نبھایا۔ الیاس کشمیری گورنر کے کردار میں مہمان اداکار کے طور پر جلوہ گر ہوئے.
مجموعی طور پر یہ ایک ایکشن فلم تھی اور اگر فلمساز کے دئیے ہوئے اسکرپٹ کو فلمایا جاتا تو ایک بلاک بسٹر فلم ثابت ہو سکتی تھی۔ تاہم موجودہ اسکرپٹ کے ساتھ بھی اس فلم نے پنجاب سرکٹ میں رش لیا اور یوم آزادی جمعہ 14 اگست 1992 کے موقع پر ریلیز ہو کر زبردست رش لینے میں کامیاب رہی۔ حقیقی کرداروں اچھا شُوکر والا ٫ اکّا پہلوان اور عارف شاہ کو بالترتیب یوسف خان ، سلطان راہی اور انور خان کی صورت میں حقیقی کہانی میں ردوبدل کر کے پیش کیا گیا اور کمرشل تقاضے پورے کرنے کے لئے اداکارہ صائمہ ، شاہدہ منی اور اداکار شہباز اکمل کو فلم میں خصوصی کردار دئیے گئے۔ ہدایت کار حسن عسکری کی مضبوط ڈائریکشن اور موسیقار ماسٹر عبد اللہ جو کہ ہمیشہ سے چوہدری فلمز کے منظور ِنظر تھے کی موسیقی بھی فلم کا ایک مسحور کن اور اہم جزو تھی۔
لاہور کی مشہور شخصیت اچھا شُوکر والا کی زندگی کے حقیقی واقعات اور فلم "اچھا شُوکر والا
ساجد آرائیں / Film Walay فلم والے
تصاویر بشکریہ : چوہدری اعجاز کامران (سابقہ چئیرمین فلم ڈسٹری بیوشن ایسوسی ایشن پاکستان)