28/09/2024
*آہ ۔۔۔ مقصود ایڈووکیٹ بھی چل بسا*
خندہ پیشانی ، دمکتا چہرہ ، چڑھتی ہوئی جوانی ، اٹھتا ہوا شباب ، خوش اخلاق ، اعلیٰ کردار حب ، میانہ قد ، صوم و صلوٰۃ کا پابند ، با ادب ، طبیعت میں متانت و سنجیدگی ، پروقار اور دھیما مزاج اور وہ صلح جُو انسان جو بچپن ہی سے نیک تھا ، بلا مبالغہ وہ ان اوصاف کا مالک تھا ۔
میری اس سے آخری ملاقات آج سے چھ ماہ قبل عید الفطر کے موقع پر اپنے موضع (رتنے والا) میں ہوئی ۔ اس ملاقات میں علمی ،ادبی ،معاشرتی ،عدالتی اور خاندانی موضوعات کے مختلف پہلو زیر بحث رہے ۔ بالخصوص اسلام کا عدالتی نظام ، انگریز کا عدالتی نظام اور پاکستان کا عدالتی نظام ہمارا دلچسپ موضوع بنا رہا ۔ میں جب بھی اٹھنے لگتا تو وہ کوئی نئی بات شروع کر کے بٹھا لیتا تھا ۔ گویا مجلس برخاست کرنے کو اس کا دل ہی نہیں چاہتا تھا ۔ بلآخر اس نے عشائیہ کی دعوت بھی دے دی ۔ میں خود حیران تھا کہ اس کے دل میں اس قدر زیادہ عقیدت کیوں امڈی ہوئی ہے لیکن یہ تو اب پتا چلا ہے کہ وہ ہماری آخری ملاقات تھی ۔
اس کو میرے سفر حج کا پتا تھا اس لیے بھی وہ مسلسل میرے سے دعاؤں کے لیے رابطے میں رہتا ۔ میں حج سے واپس آیا تب بھی میرے سے رابطے میں رہتا حتی کہ اللّٰہ تعالیٰ نے ربیع الاول میں مجھے پھر عمرے کے لیے بلا لیا ۔جب میں مکہ سے طائف جارہا تھا تو اس کے چھوٹے بھائی محبوب کا میسیج ملا کہ مقصود کی طبیعت خراب ہو گئی ہے اس کے لیے خصوصی دعا کریں ۔ میں قرن المنازل سے اگلے عمرے کے لیے جب احرام باندھ کر دوبارا مکہ میں داخل ہو رہا تھا تو محبوب نے پھر میسیج کیا کہ مقصود کی طبیعت زیادہ خراب ہو چکی ہے خصوصی دعا کریں ۔
19 ربیع الاول 1446ھ بمطابق 23اور 24ستمبر 2024ء کی درمیانی شب ، رات کے بارہ بجے کعبے کے طواف کے دوران بالخصوص حجر اسود اور رکن یمانی کے درمیان میں نے اللّٰہ تعالیٰ کے حضور مقصود کا نام لے لے کر دعائیں کیں ۔ پھر جب سعی کے لیے صفا پہاڑی پر پہنچا ادھر ابھی دعائیں جاری تھیں تو میرے موبائل کا تہجد والا الارم بجا تو میں نے اسے بند کرنے کے لیے اپنے پرس سے موبائل نکالا تو دیکھا کہ میرے چھوٹے بھائی حبیب الرحمٰن کا وائس میسیج آیا ہوا تھا ۔ میں نے اس نظر انداز کر دیا اور مروہ پہاڑی کی طرف نکلا ۔اس دوران یاد آیا کہ رات کے اس وقت حبیب الرحمٰن کی وائس سننی چاہیے ۔ موبائل آن کیا تو وہ روتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ "بھائی ! مقصود فوت ہو گیا ہے"، اس کے ساتھ ہی آنسوؤں کا سلسلہ جاری ہو گیا ۔ رونا ختم ہی نہیں ہو رہا تھا ۔ میری بیگم اور بچے میرے سے بار بار پوچھ رہے تھے لیکن مجھ سے بتایا بھی نہیں جا رہا تھا ۔
یہ ص