15/08/2026
جاپانی سائنسدان نے وہ کروموسوم ہی ختم کردیا جو بچوں میں ڈاون سینڈرم کی وجھہ بنتا ہے !
کبھی کسی پاکستانی گھر میں Down syndrome کے بچے کو محبت سے "سائیں" کہا جاتا ہے…
کوئی اسے اللہ کی خاص عطا سمجھتا ہے، کوئی اسے گھر کا سب سے معصوم فرد کہتا ہے، اور کوئی اس کی معصوم مسکراہٹ میں ایسی دنیا دیکھتا ہے جہاں بناوٹ نہیں، صرف محبت ہوتی ہے۔
لیکن آج سائنس نے انسانی جینیات کی دنیا میں ایک ایسا قدم اٹھایا ہے جس نے ماہرین کو بھی چونکا دیا ہے۔
جاپان کی Mie University کے محققین نے CRISPR-Cas9 نامی gene-editing technology استعمال کرتے ہوئے Down syndrome سے متاثرہ انسانی خلیات میں موجود اضافی chromosome 21 کو ہٹانے کا تجربہ کیا۔ Down syndrome عموماً chromosome 21 کی تین copies کی موجودگی سے وابستہ ہوتا ہے، جبکہ عام طور پر دو copies ہوتی ہیں۔
یہ تجربہ ابھی لیبارٹری میں خلیات کی سطح پر ہے۔
مگر اس تجربے کی اہمیت اس لیے بہت بڑی ہے کہ سائنس دانوں نے پہلی مرتبہ یہ دکھانے کی سمت میں اہم پیش رفت کی ہے کہ ایک مکمل اضافی chromosome کو مخصوص انداز میں target کرکے خلیے سے الگ کیا جا سکتا ہے۔
ایک انسانی خلیہ!
اس کے اندر موجود microscopic دنیا!
اور وہاں موجود DNA کا وہ نظام جسے ہم اپنی آنکھ سے دیکھ بھی نہیں سکتے۔
انسان آج اس کو سمجھنے اور تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
مگر اسی مقام پر ہمیں اپنے معاشرے کے ان بچوں کو بھی دیکھنا چاہیے جنہیں ہم محبت سے "سائیں" کہتے ہیں۔
ان بچوں کی قدر صرف اس لیے نہیں کہ مستقبل میں سائنس شاید ان کی genetic condition کو بہتر طور پر سمجھ لے گی۔
بلکہ اس لیے کہ وہ آج بھی مکمل عزت، محبت اور انسان ہونے کا حق رکھتے ہیں۔
Down syndrome کسی بچے کی انسانیت کم نہیں کرتا۔
وہ بچہ بھی ہنستا ہے، محبت کرتا ہے، رشتے پہچانتا ہے، خوش ہوتا ہے، اداس ہوتا ہے اور اپنے خاندان کے لیے بے شمار یادیں بناتا ہے۔
ہمیں ایسے بچوں کو ترس کی نگاہ سے نہیں بلکہ محبت، احترام اور شمولیت کی نگاہ سے دیکھنا چاہیے۔
اور ان معصوم بچوں کے لیے ہماری دعا یہی ہونی چاہیے:
اللہ ان کے لیے آسانیاں پیدا فرمائے، ان کے والدین کو حوصلہ دے، اور انسانیت کو ایسی سائنس عطا فرمائے جو کمزوروں کو مزید مضبوط کرے، نہ کہ انہیں دنیا سے الگ کر دے۔