Advocate Azhar Siddique

Advocate Azhar Siddique MUHAMMAD AZHAR SIDDIQUE
Advocate, Supreme Court of Pakistan
Chairman (Judicial Activism Panel)

MAS
(1)

‏اسلام آباد ہائیکورٹ اور بارش!!
04/06/2026

‏اسلام آباد ہائیکورٹ اور بارش!!

03/06/2026

کیا پی ٹی آئی اپنی لیڈرشپ سے نالاں ہے؟ محمد زبیر، مفتاح اسماعیل، شاہد خاقان عباسی کو سن لیں سب کچھ طشت از بام ہو جائے گا۔ کیا ن لیگ آج مفت ادویات اور تعلیم دے رہی ہے؟ پنجاب اور کے پی کا موازنہ کر لیں، کے پی پنجاب سے بہت بہتر ہے۔ دعوے کیے جا رہے ہیں کہ لاہور میں عید قربان کے موقع پر بہت صفائی کا کام کیا گیا ہے مگر حقیقت اس کے برعکس ہے اور ہم قانونی نوٹس بھی دے چکے ہیں۔ پی ٹی آئی کے 22 ناراض اراکین اسٹیبلشمنٹ کی ایماء پر کام کر رہے ہیں۔ علی امین گنڈا پور کو شرم آنی چاہیے اور وہ ناراض اراکین کے پیچھے ہیں۔


مکمل پروگرام لنک:
https://youtu.be/In5Xc1K2cas?si=cGDUzd7NcvfVEQcY

03/06/2026

پی ڈی ایل کو ہم نے چیلنج کیا تھا۔ پی ڈی ایل طے کرنا وزیر اعظم کا کام نہیں بلکہ پارلیمان کا اختیار ہے۔ ساتھ جولائی کو کیس فائل کیا تھا اور کل یہ کیس دوبارہ سماعت کے لیے مقرر ہوا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کا کوئی فارمولا ہی نہیں ہے اور یہ میکانزم بھی ہم نے طلب کیا ہے۔ آئینی ترامیم اور آئینی عدالت سے کوئی بہتری نہیں آئی ہے۔ سپریم کورٹ 184/3 کے تحت بڑے بڑے معاملات خود ہی عدالت میں لے آتی تھی۔ آئینی عدالت میں بینچ کون بناتا ہے؟ پھر کیا آئینی بینچز ہائیکورٹس میں بنائے تو جواب ہے کہ نہیں۔ ججز کو بہت زیادہ طاقتور کر دیا ہے کہ وہ کیسز سنگل بینچ، ڈی بی اور اپنی مرضی کے جج کو بھیج دیتے ہیں۔ جس جج کو چاہیئیں باہر کر دیتے ہیں۔ ایسی ٹرانسفر اور پوسٹنگ ہو رہی ہے جو تاریخ میں نہیں ہوئی ہے۔ بائیو میٹرک سسٹم سے لاہور ہائی کورٹ میں انصاف دروازے بند کر دیے ہیں۔ GRD کے نام پہ انصاف کے دروازے بند ہو چکے ہیں۔ 1963 کی ججمنٹ کے مطابق "جب ترںاق دور ممالک سے لایا جائے گا تو تریاق کے آنے سے پہلے ہی سانپ کا ڈسا اس کی زہر سے مر جائے گا۔ یہی چھبیسویں اور ستائیسویں آئینی کا حال ہے۔


مکمل پروگرام لنک:
https://youtu.be/D6X2S8gcX2Q?si=AFvq6JU4pm32g3dw

03/06/2026

نواز شریف کے معاملے پر یہ واضح ہے کہ جب پاناما پیپرز سامنے آئے تو ان کے مالی معاملات اور آف شور کمپنیوں کے حوالے سے سنگین سوالات اٹھے۔ پارلیمان نے 62(1)(f) جیسے اصولوں کے تحت یہ طے کیا تھا کہ عوامی عہدہ رکھنے والے شخص کے لیے سچائی اور دیانت داری لازم ہے۔ اسی بنیاد پر یہ موقف سامنے آیا کہ انہوں نے اپنے اثاثے اور آمدن درست طریقے سے ظاہر نہیں کیے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے اپنے بیٹے کی کمپنی میں ملازمت اور وہاں سے تنخواہ لینے کے باوجود اسے ڈکلئیر نہ کرنا قانونی اور اخلاقی طور پر بڑا سوال تھا، جس نے ان کی اہلیت اور دیانت پر شدید ضرب لگائی۔ اسی وجہ سے انہیں سیاسی اور قانونی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا اور بالآخر ان کی حکومت کا خاتمہ ہوا۔

اس سارے عمل کو اس وقت کے سیاسی اور عدالتی فیصلوں کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان کے خلاف کارروائی کسی اتفاقی الزام کی بنیاد پر نہیں بلکہ دستاویزی شواہد اور قانونی نکات کے تحت ہوئی، جس نے ان کی سیاسی ساکھ کو بری طرح متاثر کیا۔ یہ موقف بھی درست ہے کہ انہیں نکالا جانا محض اتفاقیہ نہیں تھا بلکہ ایک درست عمل تھا۔


مکمل پروگرام لنک:
https://youtu.be/DdAgAOTGC7c?si=g0FKQ0ZYAsiHXkyE

03/06/2026
03/06/2026

آرگینک نظام چلنے دینا چاہیے۔ گلگت بلتستان کے انتخابات کی بھی قطعاً ضرورت نہیں ہے، سیٹوں کی نیلامی کر دینی چاہیے۔ عوامی ووٹ پہ اگر بات آ گئی تو ان کو ایک بھی سیٹ نہیں ملے گی۔

مکمل پروگرام لنک:
https://youtu.be/qqaiyqiXlKo?si=dtispjkN16rPacka

03/06/2026

پراپرٹی ڈویلپمنٹ میں ملک ریاض کا بہت بڑا نام ہے۔ ملک ریاض نے دبئی میں بھی بڑا پروجیکٹ شروع کر دیا ہے۔ ملک ریاض پہ لوگ اعتماد کرتے ہیں۔ ملک ریاض کو ملک سے باہر جانے پہ مجبور کر کے کیا ملا ہے؟ جنرل فیض اس میں ملوث تھا؟ 900 ارب روپے لگا دیا ہاؤسنگ سوسائٹی پر، جبکہ 460 ارب بلوچستان کا بجٹ ہے۔ ملک ریاض نے جو زمین خریدی اس کی قیمت پچیس ارب روپے تھی۔ راوی کے قریب RUDA کا منصوبہ بھی ملک ریاض کی ذہنی اختراع تھی۔ 8 لاکھ فی ایکڑ زمین پر ایک کروڑ روپیہ ایک کینال کا مانگا گیا تھا۔

مکمل پروگرام لنک:
https://youtu.be/ZavnSQ9iWyI?si=r_g-EPQgSbM24J-9

Address

Lahore
54000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Advocate Azhar Siddique posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Advocate Azhar Siddique:

Share