Advocate Azhar Siddique

Advocate Azhar Siddique MUHAMMAD AZHAR SIDDIQUE
Advocate, Supreme Court of Pakistan
Chairman (Judicial Activism Panel)

MAS

04/09/2026

عمران خان کے متعلق جسٹس خادم حسین سومرو کا فیصلہ آ چکا ہے اور اس حوالے سے کیسز میں ہم بھی عدالت میں پیش ہوتے رہے ہیں اور اس سے قبل ہم
Nelson Mandela's Rule, Cairo Declaration, CCPR and Human Rights
کے حوالے سے بھی ہم باتیں کرتے آ رہے ہیں۔ عمران خان عدالتی حکم سے ہسپتال منتقل ہو گا اور اس کے بعد بنی گالا شفٹ ہوں گے۔ اس درمیان اب دو کیسز رہ جاتے ہیں ایک تو ایک سو نوے ملین پاؤنڈز کیس جو کہ کیس ہی نہیں بنتا۔ اس میں جان بوجھ کے سقم چھوڑے گئے ہیں کہ ریمانڈ ہو جائے مگر ہم نے کہا تھا کہ ریمانڈ نہیں کرانا جیتنا ہے۔ اس کی اپیل آئینی عدالت میں لگائی گئی ہے؟ دوسرا توشہ خانہ کا کیس ہے۔ آئینی عدالت کی مخالفت کرتے ہیں جن آج تک کوئی فیصلہ بر مبنی انصاف اور حکومت مخالف ہو نہیں آیا۔ سپریم کورٹ 184/3 کے تحت از خود نوٹس لیتی تھی تو اس اختیار کو تو ختم کرنے کے لیے سپریم کورٹ بنائی گئی ہے۔ اختیار 175(ای)(3) کے تحت کوئی اختیار نہیں لیا۔ آئینی عدالت کے متعلق کہا گیا کہ یہ سپریم کورٹ سے اوپر ہو گی۔ اگر یہ اتنی ہی اہم ہے تو آئینی بینچز سندھ ہائی کورٹ کے علاوہ کیوں نہیں بنائے گئے۔ فوجداری اور سول کیسز سننے والے آئینی معاملات سنتے ہیں۔

مکمل پروگرام لنک
https://youtu.be/FV-HGVt6vwY?si=emOnYV56TMoqb8nb

04/09/2026

شہباز شریف اور نواز شریف کا طرز عمل ہے معطل کرنا اور پھر کئی تو بہتر جگہوں پر پہنچ جاتے ہیں۔ تعیناتیاں میرٹ پہ ہونی چاہیے اور سب سے زیادہ میرٹ کی دھجیاں ن لیگ نے بکھیری ہیں۔


مکمل پروگرام لنک
https://youtu.be/70owqGENz7o?si=mfCkNaru5kSl3jp3

04/09/2026

عمران خان سے ہماری آخری ملاقات 19 ستمبر 2024 کو ہوئی تھی۔
عدالتیں کل بھی اہم تھیں، آج بھی ہیں اور کل بھی اہم ہوں گی۔ گزشتہ ایک سال سے ہم کہہ رہے ہیں کہ ستمبر ستمگر ہو گا اور حالات بدلیں گے۔ 1956 سے 1958 تک تین وزیر اعظم بدلے گئے، آئی آئی چندریگر، سہروردی اور ملک فیروز خان نون۔ ذوالفقار علی بھٹو نے 1973 کا بہترین آئین دیا اور اس کو پامال کرنے کی ہر دفعہ کوشش کی گئی۔ ترامیم سے بھی دل نہیں بھر رہا کہ اب اٹھائیسویں آئینی ترمیم لانا چا رہے ہیں۔ ملکی تاریخ کا سب سے قصور وار شخص میاں نواز شریف ہے۔ آئینی تباہی میں اس شخص کا سب سے بڑا کردار ہے۔ 58(2)(ب) نواز شریف کی مرضی سے ضیاء الحق نے آئین میں داخل کی تھی۔ دو حکومتیں اس کی گرائی گئیں اور اس میں ایک سپریم کورٹ نے بحال کر دی۔ اس بحالی کے باوجود اسمبلی نہیں چل سکی اور ضیاء الحق سے مشرف تک حکومتیں اوسطاً اٹھارہ سے چوبیس ماہ تک قائم رہتیں اور کوئی بھی پانچ سال پورے نہیں کر سکتا۔ پھر لندن میں بیٹھ کے میثاق جمہوریت کیا۔ اس شخص نے بھیانک ترین تین ترامیم کیں، نگران سیٹ اپ اور الیکشن کمیشن کی تعیناتی، اور چئیر مین نیب کے حوالے سے۔ آج تک کوئی وزیراعظم پانچ سال پورے نہیں کر سکا، یوسف رضا گیلانی بھی ہماری پٹیشن پر فارغ ہوئے تھے۔سسٹم نے اب انگڑائی لینی ہے اور عمران خان جانتا ہے کہ یہ تین چار سال تک زیادہ سے زیادہ نظام کو کھینچ سکتے ہیں اور اس کے بعد میں اس نظام کی ضرورت بنوں گا۔
ان کو سپریم کورٹ کا فیصلہ ماننا چاہیے۔ توہین عدالت کا فیصلہ تو سولہ ستمبر ہو گا۔ یوسف رضا گیلانی نے خط لکھنے کے حوالے سے توہین عدالت کی تھی اور نا اہل ہو گئے تھے۔ شہباز شریف کو ہماری جانب سے نوٹس دیا گیا ہے کہ آپ نے توہین عدالت کی ہے۔
Federal Government means PM and the cabinet.
اس طرح اب یہ بھی طے ہو گا توہین عدالت کا رخ کس جانب ہو گا؟؟ محسن نقوی کو اس لیے نامزد نہیں کیا گیا کہ سپریم کورٹ کا آرڈر منسٹر کے لیے نہیں تھا؟


مکمل پروگرام لنک
https://youtu.be/8AeRYWaAYW4?si=KAw1eTrz4Crq--Je

جوڈیشل ایکٹیوزم فورم کی درخواست پر سماعت کے دوران اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیاکہ سادہ قانون سازی کے ذریعے سپریم...
04/09/2026

جوڈیشل ایکٹیوزم فورم کی درخواست پر سماعت کے دوران اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیاکہ سادہ قانون سازی کے ذریعے سپریم کورٹ کے آئینی اختیار کو ختم نہیں کیا جا سکتا،جسٹس ارباب محمد طاہر نے استفسار کیاکہ آپ نے قانون کو کن گراؤنڈز پر چیلنج کیا ہے ؟ وکیل اظہر صدیق نے کہا نیب کیسز میں ہائیکورٹ کے بعد آئین کے آرٹیکل 185 کے تحت معاملہ سپریم کورٹ جاتا ہے ،وفاقی آئینی عدالت کو 175 ایف کے تحت صرف آئینی معاملات دیکھنے کے لئے بنایا گیا،اب اس سادہ قانون سازی کے ذریعے نیب کرمنل کیسز بھی وفاقی آئینی عدالت کو دئیے گئے

اسلام آباد(اپنے رپورٹر سے)اسلام آباد ہائیکورٹ نے نیب کیسز میں ہائیکورٹ کے بعد سپریم کورٹ کی بجائے آئینی عدالت میں اپیل کا حق دینے اور نیب آرڈیننس میں 32 اے شامل کرنے کی...

04/09/2026

عمران خان سے متعلقہ کیس!!
پانچ مارچ کو حکومت قانون سازی کرتی ہے کہ اور نیب آرڈیننس کی شق 32 اے شامل کی جاتی ہے جس کے تحت دوسری اپیل میں معاملہ سپریم کورٹ نہیں بلکہ وفاقی آئینی عدالت جائے گا، جس سے پی ٹی آئی کو بڑا جھٹکا لگا کہ نیب کے بنائے ہوئے کیس وفاقی آئینی عدالت کو بھیجے جانے کی قانون سازی کی بات ہوئی اور اس طرح 190 ملین پاؤنڈز کیس نیب کا کیس ہے اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں اس کی اپیل زیر التواء ہے، اب یہ معاملہ سپریم کورٹ کی بجائے وفاقی آئینی عدالت میں بھیجنے کی تیاری ہونے لگی اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھی یہ کیس تیزی سے آگے بڑھنے لگا اور ڈائریکٹ اپیل سننے کی بات عدالت نے کر ڈالی اگرچہ بیرسٹر سلمان صفدر نے بھی عدالت کے سامنے رکھا کی سزا معطلی کی اپیلیں پہلے رکھی جائیں تب عدالت نے سزا معطلی کو مسترد کر دیا۔ تب سے یہ خدشہ ہے کہ اگر معاملہ وفاقی آئینی عدالت گیا تو عمران خان کی سزا پر پکی نہر بھی ثبت ہو سکتی ہے۔ اس 32 اے کو پی ٹی آئی نے چیلنج بھی نہیں کیا اور یہ معاملہ Person Specific بھی واضح طور پر لگ رہا تھا اور ایڈووکیٹ محمد اظہر صدیق نے اس متعلق مراسلات کی بھی لکھے اور جسٹس ارباب محمد طاہر نے فیصلہ بھی دیا ہے۔

مکمل پروگرام لنک
https://youtu.be/go83Q-jwQzQ?si=o223jm3pCZ6tc1r5

‏20 اگست کو ڈیزل کی قیمت میں 32 روپے 63 پیسے فی لیٹر کی بڑی کمی کی گئی۔ اس وقت ڈیزل تقریباً 363 روپے فی لیٹر تھا۔‏آج ڈیز...
04/09/2026

‏20 اگست کو ڈیزل کی قیمت میں 32 روپے 63 پیسے فی لیٹر کی بڑی کمی کی گئی۔ اس وقت ڈیزل تقریباً 363 روپے فی لیٹر تھا۔

‏آج ڈیزل دوبارہ بڑھ کر 374 روپے 31 پیسے تک پہنچ چکا ہے۔ یعنی جو قیمت 32 روپے سے زیادہ کم کر کے عوام کو ریلیف دیا گیا تھا، چند ہی دنوں میں اس سے بھی اوپر پہنچا دیا گیا۔

‏اسی طرح پٹرول جو اس دوران تقریباً 337 روپے فی لیٹر تھا، آج بڑھ کر 349 روپے فی لیٹر ہو چکا ہے۔

‏سوال صرف قیمت بڑھنے کا نہیں، قیمتوں کے اس طریقۂ کار کا ہے۔

‏اگر عالمی مارکیٹ میں قیمت کم ہونے پر ڈیزل میں 32 روپے سے زیادہ کمی کی جا سکتی ہے، تو پھر چند دن بعد اتنی تیزی سے اضافہ کیوں؟
‏عوام کو دیا گیا ریلیف واپس کیوں لے لیا گیا؟
‏پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا فارمولا کیا ہے؟
‏اور سب سے بڑھ کر، کون ان فیصلوں کا حساب لے گا؟

‏یہ صرف پٹرول اور ڈیزل کا معاملہ نہیں۔ اس کا براہِ راست اثر ٹرانسپورٹ، بجلی، زراعت، صنعت، کاروبار اور ہر عام پاکستانی کی زندگی پر پڑتا ہے۔

‏آخر کوئی تو ان سے پوچھنے والا ہونا چاہیے کہ یہ ملک اور اس کے عوام کے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟
‏⁦‪‬⁩ ⁦‪‬⁩ ⁦‪‬⁩

‏میجر جنرل فیصل نصیر ڈی جی سی کی نئی تعیناتی کو بعض حلقوں کی جانب سے غیر معمولی تقرری قرار دیا جا رہا ہے!!
04/09/2026

‏میجر جنرل فیصل نصیر ڈی جی سی کی نئی تعیناتی کو بعض حلقوں کی جانب سے غیر معمولی تقرری قرار دیا جا رہا ہے!!

‏عمران خان اور بشریٰ بی بی کے مقدمات میں عدالتی احکامات پر مکمل عملدرآمد کے لیے جوڈیشل ایکٹیوزم پینل کی آئینی نمائندگی‏م...
04/09/2026

‏عمران خان اور بشریٰ بی بی کے مقدمات میں عدالتی احکامات پر مکمل عملدرآمد کے لیے جوڈیشل ایکٹیوزم پینل کی آئینی نمائندگی

‏محمد اظہر صدیق ایڈووکیٹ سپریم کورٹ کی جانب سے جوڈیشل ایکٹیوزم پینل کی طرف سے صدر، وزیراعظم، گورنر و وزیراعلیٰ پنجاب اور متعلقہ وفاقی و صوبائی حکام کو آئینی نمائندگی جمع

‏اسلام آباد ہائیکورٹ کے یکم ستمبر 2026 کے فیصلے اور سپریم کورٹ کے 18 اگست 2026 کے عبوری حکم پر فوری، مکمل اور من و عن عملدرآمد کا مطالبہ

‏عمران خان اور بشریٰ بی بی کی قید بنیادی انسانی اور آئینی حقوق سے محرومی کا جواز نہیں بن سکتی، آئینی نمائندگی

‏عدالتی احکامات پر انتظامی یا سیکیورٹی ہدایات کو حاوی نہ ہونے دیا جائے، متعلقہ حکام کو مطالبہ

‏عمران خان کو خاندان، وکلاء اور بچوں سے عدالتی حکم کے مطابق ملاقات اور رابطے کی سہولت فوری فراہم کی جائے

‏عمران خان کے بیٹوں سے ہفتے میں دو مرتبہ ٹیلی فونک یا ویڈیو رابطہ یقینی بنایا جائے

‏عمران خان کے لیے ہفتہ وار خاندانی ملاقات، مناسب انسانی میل جول اور مکمل طبی سہولیات یقینی بنانے کا مطالبہ

‏عمران خان کا مکمل میڈیکل ریکارڈ اور علاج سے متعلق تمام معلومات عدالتی احکامات کے مطابق فراہم کی جائیں

‏بشریٰ بی بی کو غیر قانونی یا طویل تنہائی میں رکھنے سے فوری طور پر روکا جائے

‏بشریٰ بی بی کو خاندان اور وکلاء سے ملاقات، ورزش، اخبارات، کتب اور بامعنی انسانی رابطے کی سہولت دی جائے

‏اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کے لیے روزانہ ورزش اور بامعنی انسانی میل جول یقینی بنایا جائے

‏عمران خان اور بشریٰ بی بی کو اخبارات، رسائل، کتب اور دیگر مطالعاتی مواد فراہم کیا جائے

‏اڈیالہ جیل میں عدالتی احکامات کے مطابق فعال ٹی وی کی سہولت فوری بحال کی جائے

‏میڈیکل بورڈ نے خاندانی اور سماجی رابطے کی کمی اور اخبارات و ٹی وی تک عدم رسائی سے پیدا ہونے والی بے چینی کی نشاندہی کی، نمائندگی

‏طبی شواہد عدالتی احکامات پر مجموعی اور مسلسل عملدرآمد کی ضرورت کو واضح کرتے ہیں، نمائندگی

‏سپریم کورٹ کے 18 اگست کے عبوری حکم اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے یکم ستمبر کے فیصلے پر بیک وقت مکمل عملدرآمد کیا جائے

‏عدالتی احکامات پر جزوی، منتخب یا من پسند عملدرآمد ناقابلِ قبول ہے، جوڈیشل ایکٹیوزم پینل

‏قید کسی شخص کے بنیادی حقوق ختم نہیں کرتی، آئین انسانی وقار اور بنیادی حقوق کا تحفظ کرتا ہے، اظہر صدیق

‏آئین کے آرٹیکل 4، 9، 14 اور 35 قیدیوں کے بنیادی حقوق اور انسانی وقار کا تحفظ کرتے ہیں

‏پرزنز ایکٹ 1894 اور پاکستان پریزن رولز 1978 کے تحت قیدیوں کے قانونی حقوق یقینی بنائے جائیں

‏سیکیورٹی کا جواز انسانی رابطے، خاندانی ملاقات، طبی سہولیات، ورزش اور مطالعاتی مواد سے مکمل محرومی کا جواز نہیں بن سکتا

‏Nelson Mandela Rules، ICCPR اور دیگر عالمی انسانی حقوق کے اصولوں کے مطابق قیدیوں سے انسانی اور باوقار سلوک کیا جائے

‏وفاقی و صوبائی حکام یقینی بنائیں کہ کوئی انتظامی یا سیکیورٹی ہدایت عدالتی احکامات کی راہ میں رکاوٹ نہ بنے

‏سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل عدالتی احکامات کے مطابق ملاقات، رابطے، ورزش، اخبارات، کتب، ٹی وی اور طبی سہولیات کی فوری فراہمی یقینی بنائے

‏اسلام آباد ہائیکورٹ میں 15 روز کے اندر دونوں عدالتی احکامات پر جامع اور مشترکہ کمپلائنس رپورٹ جمع کرانے کا مطالبہ

‏عدالتی احکامات کی خلاف ورزی، تاخیر، عدم تعمیل یا روح کے برخلاف عملدرآمد پر توہینِ عدالت کی کارروائی کا عندیہ

‏عدالتی احکامات انتظامیہ کی صوابدید نہیں بلکہ آئینی اور قانونی طور پر لازم ہیں، محمد اظہر صدیق ایڈووکیٹ

‏جوڈیشل ایکٹیوزم پینل: عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد میں کوئی انتظامی رکاوٹ، تاخیر یا غیر قانونی پابندی برداشت نہیں کی جائے گی ⁦‪‬⁩ ⁦‪‬⁩ ⁦‪‬⁩ ⁦‪‬⁩ ⁦‪‬⁩ ⁦‪‬⁩ ⁦‪‬⁩ ⁦‪‬⁩

04/09/2026
During the hearing of the petition filed by citizen Munir Ahmed, Advocate Azhar Siddique pointed out that the issue had ...
04/09/2026

During the hearing of the petition filed by citizen Munir Ahmed, Advocate Azhar Siddique pointed out that the issue had already been examined by the National Assembly’s Standing Committee on Health last year.

He told the court that the committee had written to the Prime Minister and the Speaker regarding the condition of Pims, but no action appeared to have followed the recommendations. He also referred to a letter written by Standing Committee chairman Amjad Khan.

Asks authorities to explain whether buildings were being allowed to operate without mandatory safety clearances despite a regulatory framework.

Address

Lahore
54000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Advocate Azhar Siddique posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Advocate Azhar Siddique:

Shortcuts

Share