10/04/2026
مشرکین کا طریقہ: اللہ اور رسول کی اطاعت کو الگ کر کے دو دین بنا لینا اور پھر ہزاروں کتابیں لکھ کر دین کو تباہ کر دینا
🔴 مقدمہ: ایک کھلی حقیقت
دین اسلام ایک ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔ لیکن گمراہی تب شروع ہوتی ہے جب لوگ اللہ اور رسول کی اطاعت کو الگ الگ کر دیتے ہیں اور یوں دو دین بنا لیتے ہیں:
· ایک اللہ کا دین (جو صرف قرآن پر مبنی ہے)
· اور ایک رسول کے نام پر بنایا گیا دین (جس میں ہزاروں کتابیں، اماموں کے اقوال، بزرگوں کی تحریریں، اور من گھڑت روایات شامل ہیں)
یہی وہ طریقہ ہے جسے مشرکین نے اپنایا، اور یہی وہ گمراہی ہے جس نے امت مسلمہ کو یہود و نصاریٰ سے بھی زیادہ تباہ کر دیا۔
📖 پہلا باب: قرآن میں اطاعت کا تصور – اللہ اور رسول لازم و ملزوم
آیت اطاعت کی حقیقت
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
"یٰۤاَیُّهَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۤا اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَاَطِیۡعُوا الرَّسُوۡلَ وَاُولِی الۡاَمْرِ مِنۡکُمْ"
"اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اپنے میں سے اہلِ امر (حکمرانوں) کی۔" (النساء: 59)
غور طلب ہے کہ اللہ نے "اطیعوا اللہ" اور "اطیعوا الرسول" کو الگ الگ ذکر کیا، لیکن اہلِ امر کے لیے صرف ایک بار "اطیعوا" کا لفظ استعمال کیا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ رسول کی اطاعت اللہ کی اطاعت کے ساتھ لازم و ملزوم ہے، جبکہ اہلِ امر کی اطاعت مشروط ہے - صرف اس وقت جب وہ اللہ اور رسول کے حکم کے مطابق ہو۔
اطاعت لازم و ملزوم
اللہ تعالیٰ مزید واضح فرماتے ہیں:
"مَن یُّطِعِ الرَّسُوۡلَ فَقَدۡ اَطَاعَ اللّٰہَ"
"جس نے رسول کی اطاعت کی، اس نے اللہ کی اطاعت کی۔" (النساء: 80)
یہ آیت اس غلط فہمی کو مکمل طور پر ختم کر دیتی ہے کہ رسول کی اطاعت کو اللہ کی اطاعت سے الگ کیا جا سکتا ہے۔ اللہ نے خود اعلان کر دیا کہ رسول کی اطاعت درحقیقت اللہ ہی کی اطاعت ہے۔
اطاعت کا اجر
"وَ مَنۡ یُّطِعِ اللّٰہَ وَ الرَّسُوۡلَ فَاُولٰٓئِکَ مَعَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمَ اللّٰہُ عَلَیۡہِمۡ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَ الصِّدِّیۡقِیۡنَ وَ الشُّہَدَآءِ وَ الصّٰلِحِیۡنَ"
"اور جو اللہ اور رسول کی اطاعت کرے گا، تو وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جن پر اللہ نے انعام کیا ہے - انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین میں سے۔" (النساء: 69)
📚 دوسرا باب: مشرکین کا طریقہ – اطاعت کو الگ کر کے دو دین بنا لینا
مشرکین کا اصل گمراہ کن طریقہ کار یہ ہے:
1. اللہ کے دین کو تو مانتے ہیں، مگر رسول کے لائے ہوئے احکام کو رد کر دیتے ہیں
2. یا رسول کے نام پر ایک نیا دین بنا لیتے ہیں جو اصل دین سے ہٹ کر ہوتا ہے
3. یا اطاعت کو تقسیم کر کے کچھ معاملات میں اللہ کی اطاعت اور کچھ میں دوسروں کی اطاعت کو لازم قرار دیتے ہیں
اللہ تعالیٰ نے صراحت فرمائی:
"اَفَتُؤۡمِنُوۡنَ بِبَعۡضِ الۡکِتٰبِ وَ تَکۡفُرُوۡنَ بِبَعۡضٍ"
"تو کیا تم کتاب کے کچھ حصے پر ایمان لاتے ہو اور کچھ کا انکار کرتے ہو؟" (البقرہ: 85)
رسول کی اطاعت سے انکار کا انجام
"وَ مَنۡ یَّعۡصِ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ فَاِنَّ لَہٗ نَارَ جَہَنَّمَ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَاۤ اَبَدًا"
"اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا، تو اس کے لیے دوزخ کی آگ ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔" (الجن: 23)
📖 تیسرا باب: فرقہ بندی کی مذمت – دین کو توڑنا
اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے بارے میں جو دین کو ٹکڑوں میں تقسیم کرتے ہیں، سخت الفاظ میں فرماتے ہیں:
"اِنَّ الَّذِیۡنَ فَرَّقُوۡا دِیۡنَہُمۡ وَ کَانُوۡا شِیَعًا لَّسۡتَ مِنۡہُمۡ فِیۡ شَیۡءٍ"
"بیشک جن لوگوں نے اپنا دین توڑ ڈالا اور گروہ گروہ ہو گئے، آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں۔" (الانعام: 159)
اور متحد رہنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا:
"وَ اعۡتَصِمُوۡا بِحَبۡلِ اللّٰہِ جَمِیۡعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوۡا"
"اور اللہ کی رسی کو سب مل کر مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔" (آل عمران: 103)
"اللہ کی رسی" سے مراد قرآن مجید ہے۔ جب کوئی گروہ اللہ اور رسول کی اطاعت کو الگ کرتا ہے، تو درحقیقت وہ اس رسی کو چھوڑ کر تفرقہ پیدا کرتا ہے۔
🔥 چوتھا باب: شرک بالاطاعت – ایک نظر انداز کیا جانے والا شرک
شرک بالاطاعت کا تصور
علماء نے شرک کی دو بڑی اقسام بیان کی ہیں:
1. شرک فی العبادت (عبادت میں شرک)
2. شرک فی الطاعت (اطاعت میں شرک)
شرک بالاطاعت کا مطلب ہے کسی انسان یا ہستی کو اللہ اور اس کے رسول کے برابر درجہ دے کر اس کی اطاعت کرنا، یا اللہ کے بتائے ہوئے احکام کے خلاف کسی اور کے بنائے ہوئے قوانین کو ماننا۔
قرآن مجید میں اہل کتاب کے بارے میں فرمایا گیا:
"اتَّخَذُوۡۤا اَحۡبَارَہُمۡ وَ رُہۡبَانَہُمۡ اَرۡبَابًا مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ"
"انہوں نے اپنے عالموں اور درویشوں کو اللہ کے سوا رب بنا لیا۔" (التوبہ: 31)
نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ یہ شرک اس طرح نہیں تھا کہ وہ ان کی عبادت کرتے تھے، بلکہ یہ کہ وہ اللہ کی حرام کردہ چیزوں کو ان کے کہنے پر حلال کر لیتے تھے اور حلال چیزوں کو حرام کر لیتے تھے۔ یہی شرک بالاطاعت ہے۔
📕 پانچواں باب: مشرکین نے صرف یہاں نہیں چھوڑا – ہزاروں کتابیں لکھ ڈالیں
مشرکین کا یہ طریقہ کار صرف اطاعت کو الگ کرنے تک محدود نہیں رہا۔ انہوں نے "دین کی حفاظت" اور "رسول کی سنت کو سمجھنے" کے جھوٹے دعووں کے تحت ایک نیا مذہبی نظام کھڑا کر دیا۔
پہلا قدم: "بس" نہیں کیا
انہوں نے کہا کہ "قرآن تو صرف حکم ہے، اسے سمجھنے کے لیے دوسری کتابیں ضروری ہیں"۔
حالانکہ اللہ نے فرمایا:
"وَ ہٰذَا کِتٰبٌ اَنۡزَلۡنٰہُ مُبٰرَکٌ مُّصَدِّقُ الَّذِیۡ بَیۡنَ یَدَیۡہِ"
"اور یہ ایک بابرکت کتاب ہے جو ہم نے نازل کی ہے، اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی۔" (الانعام: 92)
اور فرمایا:
"اَفَغَیۡرَ اللّٰہِ اَبۡتَغِیۡ حَکَمًا وَّ ہُوَ الَّذِیۡۤ اَنۡزَلَ اِلَیۡکُمُ الۡکِتٰبَ مُفَصَّلًا"
"تو کیا میں اللہ کے سوا کوئی اور حاکم تلاش کروں؟ حالانکہ وہی ہے جس نے تمہاری طرف یہ واضح کتاب نازل کی ہے؟" (الانعام: 114)
دوسرا قدم: رسول کے نام پر ہزاروں کتابیں
مشرکین نے رسول کے نام پر ہزاروں کتابیں لکھ ڈالیں:
· ہزاروں احادیث کی کتابیں (جن میں سے اکثر جھوٹی ہیں، جیسا کہ محدثین خود مانتے ہیں)
· لاکھوں فقہی کتابیں
· کروڑوں فتاویٰ کے مجموعے
· ہزاروں تفاسیر (جو قرآن کو نہیں بلکہ اماموں کے اقوال کو سمجھاتی ہیں)
تیسرا قدم: اماموں اور بزرگوں کی کتابیں
پھر وہاں بس نہیں کیا۔ انہوں نے رسول کے نام سے نکل کر اپنے من گھڑت اولیاء اور بزرگوں کے نام پر بھی کتابیں لکھ ڈالیں:
· "فتوحات مکیہ" (ابن عربی)
· "احیاء علوم الدین" (غزالی – جسے انہوں نے قرآن کے قریب کر دیا)
· "دلائل الخیرات" (بدعات کی کتاب)
· اور ہزاروں رسالے "وظیفہ"، "مراقبہ"، "تصوف" کے نام پر
چوتھا قدم: یہود و نصاریٰ سے بھی آگے نکل گئے
یہود و نصاریٰ نے اپنی کتابوں میں ردوبدل کیا، لیکن:
· یہودیوں کی بدعت: تلمود (زبانی شریعت) – ایک کتاب
· عیسائیوں کی بدعت: پولس کے خطوط، متی، مرقس، لوقا، یوحنا – چند کتابیں
· مسلمانوں کی بدعت: ہزاروں حدیثیں، لاکھوں فقہی کتابیں، کروڑوں فتاویٰ
اللہ نے فرمایا:
"قُلۡ اَىُّ شَیۡءٍ اَکۡبَرُ شَہَادَۃً ؕ قُلِ اللّٰہُ ۟ شَہِیۡدٌۢ بَیۡنِیۡ وَ بَیۡنَکُمۡ ۟ وَ اُوۡحِیَ اِلَیَّ ہٰذَا الۡقُرۡاٰنُ لِاُنۡذِرَکُمۡ بِہٖ وَ مَنۡۢ بَلَغَ"
"کہہ دیجیے: سب سے بڑی گواہی کس کی ہے؟ کہہ دیجیے: اللہ کی، وہ میرے اور تمہارے درمیان گواہ ہے، اور میری طرف یہ قرآن وحی کیا گیا ہے تاکہ میں تمہیں اور جس تک یہ پہنچے، اسے ڈراؤں۔" (الانعام: 19)
📖 چھٹا باب: قرآن کو "خالی حکم" بنا دینا
مشرکین کا سب سے بڑا کرتوت یہ ہے کہ انہوں نے قرآن کو خالی حکم بنا دیا:
· قرآن صرف پڑھا جاتا ہے، سمجھا نہیں جاتا
· قرآن صرف برکت کے لیے پڑھا جاتا ہے، حکم کے لیے نہیں
· قرآن صرف مرنے والوں کو پڑھایا جاتا ہے، زندہ لوگوں کو نہیں
اللہ نے فرمایا:
"اَفَلَا یَتَدَبَّرُوۡنَ الۡقُرۡاٰنَ اَمۡ عَلٰی قُلُوۡبٍ اَقۡفَالُہَا"
"تو کیا یہ قرآن پر غور نہیں کرتے؟ یا دلوں پر ان کے تالے لگ گئے ہیں؟" (محمد: 24)
اور فرمایا:
"کِتٰبٌ اَنۡزَلۡنٰہُ اِلَیۡکَ مُبٰرَکٌ لِّیَدَّبَّرُوۡۤا اٰیٰتِہٖ وَ لِیَتَذَکَّرَ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ"
"یہ بابرکت کتاب ہے جو ہم نے تمہاری طرف نازل کی ہے تاکہ لوگ اس کی آیات پر غور کریں اور عقل والے نصیحت حاصل کریں۔" (ص: 29)
🔥 ساتواں باب: صحیح عقیدہ – اطاعت میں توحید
اسلام کا صحیح عقیدہ یہ ہے کہ اطاعت میں توحید لازم ہے - یعنی اطاعت صرف اللہ کی ہے، اور رسول کی اطاعت اس لیے واجب ہے کہ وہ اللہ کا حکم لے کر آیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے بارے میں فرمایا:
"وَ مَا یَنۡطِقُ عَنِ الۡہَوٰی ؕ اِنۡ ہُوَ اِلَّا وَحۡیٌ یُّوۡحٰی"
"اور وہ اپنی خواہش سے نہیں بولتا، یہ تو صرف وحی ہے جو اس پر نازل کی جاتی ہے۔" (النجم: 3-4)
نجات کی راہ
اللہ تعالیٰ نے نجات کی راہ واضح فرما دی ہے:
"فَلَا وَ رَبِّکَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوۡکَ فِیۡمَا شَجَرَ بَیۡنَہُمۡ ثُمَّ لَا یَجِدُوۡا فِیۡۤ اَنۡفُسِہِمۡ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیۡتَ وَ یُسَلِّمُوۡا تَسۡلِیۡمًا"
"تو تمہارے رب کی قسم! یہ اس وقت تک مومن نہیں ہوں گے جب تک اپنے باہمی جھگڑوں میں تمہیں حاکم نہ مان لیں، پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو اس پر اپنے دلوں میں کوئی تنگی نہ پائیں اور پوری طرح تسلیم کر لیں۔" (النساء: 65)
📊 خلاصہ: اصل دین اسلام بمقابلہ مشرکین کا طریقہ
اصل دین اسلام مشرکین کا طریقہ
اللہ اور رسول کی اطاعت لازم و ملزوم اللہ اور رسول کی اطاعت کو الگ کرنا
اطاعت میں توحید اطاعت کو تقسیم کرنا
دین ایک ہے - اسلام دو دین بنا لینا
صرف قرآن پر عمل قرآن کو خالی کر کے ہزاروں کتابیں لانا
رسول کی اطاعت = اللہ کی اطاعت رسول کے نام پر نیا دین بنا لینا
قرآن مکمل اور مفسر قرآن کو نامکمل قرار دے کر دوسری کتابیں لانا
کوئی اور کتاب ضروری نہیں اماموں، بزرگوں، اولیاء کی کتابیں لازمی قرار دین
🔴 آخری پیغام: اے مشرکو! اپنے دین اسلام کی طرف واپس آؤ
اللہ تعالیٰ نے صرف ایک کتاب بھیجی، اور وہ قرآن ہے۔
اللہ تعالیٰ نے صرف ایک دین دیا، اور وہ اسلام ہے۔
اللہ تعالیٰ نے صرف ایک رسول بھیجا، اور وہ محمد ﷺ ہیں۔
کسی امام، کسی بزرگ، کسی ولی، کسی پیر، کسی عالم کی کوئی کتاب قرآن کے برابر نہیں، نہ اس کے قریب، نہ اس کے ساتھ۔
"اِنۡ ہُوَ اِلَّا ذِکۡرٌ لِّلۡعٰلَمِیۡنَ"
"یہ (قرآن) تو سارے جہانوں کے لیے ایک نصیحت ہے۔" (ص: 87)
اور آخری انتباہ:
"وَ مَنۡ یَّبۡتَغِ غَیۡرَ الۡاِسۡلَامِ دِیۡنًا فَلَنۡ یُّقۡبَلَ مِنۡہُ ۚ وَ ہُوَ فِی الۡاٰخِرَۃِ مِنَ الۡخٰسِرِیۡنَ"
"اور جو شخص اسلام کے علاوہ کوئی اور دین تلاش کرے گا، تو وہ اس سے قبول نہ کیا جائے گا، اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔" (آل عمران: 85)
🤲 دعا
اے اللہ! ہمیں سیدھے راستے پر گامزن رکھ۔ ہمیں شرک بالاطاعت سے بچا۔ ہمیں قرآن کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ ہمیں ان مشرکانہ طریقوں سے بچا جو رسول کے نام پر دین میں بدعات لے آئے۔ ہمیں اپنی رحمت سے ان لوگوں میں شامل فرما جو تیری اور تیرے رسول کی اطاعت کرتے ہیں، اور ہمیں ان لوگوں میں سے نہ کرنا جنہوں نے دین کو توڑا اور گروہ گروہ ہو گئے۔
آمین یا رب العالمین
اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ صحیح جانتا ہے۔