Quran and Adam

Quran and Adam Quran is the best example for the whole of humanity to live by

مشرکین کا طریقہ: اللہ اور رسول کی اطاعت کو الگ کر کے دو دین بنا لینا اور پھر ہزاروں کتابیں لکھ کر دین کو تباہ کر دینا🔴 م...
10/04/2026

مشرکین کا طریقہ: اللہ اور رسول کی اطاعت کو الگ کر کے دو دین بنا لینا اور پھر ہزاروں کتابیں لکھ کر دین کو تباہ کر دینا

🔴 مقدمہ: ایک کھلی حقیقت

دین اسلام ایک ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔ لیکن گمراہی تب شروع ہوتی ہے جب لوگ اللہ اور رسول کی اطاعت کو الگ الگ کر دیتے ہیں اور یوں دو دین بنا لیتے ہیں:

· ایک اللہ کا دین (جو صرف قرآن پر مبنی ہے)
· اور ایک رسول کے نام پر بنایا گیا دین (جس میں ہزاروں کتابیں، اماموں کے اقوال، بزرگوں کی تحریریں، اور من گھڑت روایات شامل ہیں)

یہی وہ طریقہ ہے جسے مشرکین نے اپنایا، اور یہی وہ گمراہی ہے جس نے امت مسلمہ کو یہود و نصاریٰ سے بھی زیادہ تباہ کر دیا۔

📖 پہلا باب: قرآن میں اطاعت کا تصور – اللہ اور رسول لازم و ملزوم

آیت اطاعت کی حقیقت

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

"یٰۤاَیُّهَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۤا اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَاَطِیۡعُوا الرَّسُوۡلَ وَاُولِی الۡاَمْرِ مِنۡکُمْ"

"اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اپنے میں سے اہلِ امر (حکمرانوں) کی۔" (النساء: 59)

غور طلب ہے کہ اللہ نے "اطیعوا اللہ" اور "اطیعوا الرسول" کو الگ الگ ذکر کیا، لیکن اہلِ امر کے لیے صرف ایک بار "اطیعوا" کا لفظ استعمال کیا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ رسول کی اطاعت اللہ کی اطاعت کے ساتھ لازم و ملزوم ہے، جبکہ اہلِ امر کی اطاعت مشروط ہے - صرف اس وقت جب وہ اللہ اور رسول کے حکم کے مطابق ہو۔

اطاعت لازم و ملزوم

اللہ تعالیٰ مزید واضح فرماتے ہیں:

"مَن یُّطِعِ الرَّسُوۡلَ فَقَدۡ اَطَاعَ اللّٰہَ"

"جس نے رسول کی اطاعت کی، اس نے اللہ کی اطاعت کی۔" (النساء: 80)

یہ آیت اس غلط فہمی کو مکمل طور پر ختم کر دیتی ہے کہ رسول کی اطاعت کو اللہ کی اطاعت سے الگ کیا جا سکتا ہے۔ اللہ نے خود اعلان کر دیا کہ رسول کی اطاعت درحقیقت اللہ ہی کی اطاعت ہے۔

اطاعت کا اجر

"وَ مَنۡ یُّطِعِ اللّٰہَ وَ الرَّسُوۡلَ فَاُولٰٓئِکَ مَعَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمَ اللّٰہُ عَلَیۡہِمۡ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَ الصِّدِّیۡقِیۡنَ وَ الشُّہَدَآءِ وَ الصّٰلِحِیۡنَ"

"اور جو اللہ اور رسول کی اطاعت کرے گا، تو وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جن پر اللہ نے انعام کیا ہے - انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین میں سے۔" (النساء: 69)

📚 دوسرا باب: مشرکین کا طریقہ – اطاعت کو الگ کر کے دو دین بنا لینا

مشرکین کا اصل گمراہ کن طریقہ کار یہ ہے:

1. اللہ کے دین کو تو مانتے ہیں، مگر رسول کے لائے ہوئے احکام کو رد کر دیتے ہیں
2. یا رسول کے نام پر ایک نیا دین بنا لیتے ہیں جو اصل دین سے ہٹ کر ہوتا ہے
3. یا اطاعت کو تقسیم کر کے کچھ معاملات میں اللہ کی اطاعت اور کچھ میں دوسروں کی اطاعت کو لازم قرار دیتے ہیں

اللہ تعالیٰ نے صراحت فرمائی:

"اَفَتُؤۡمِنُوۡنَ بِبَعۡضِ الۡکِتٰبِ وَ تَکۡفُرُوۡنَ بِبَعۡضٍ"

"تو کیا تم کتاب کے کچھ حصے پر ایمان لاتے ہو اور کچھ کا انکار کرتے ہو؟" (البقرہ: 85)

رسول کی اطاعت سے انکار کا انجام

"وَ مَنۡ یَّعۡصِ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ فَاِنَّ لَہٗ نَارَ جَہَنَّمَ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَاۤ اَبَدًا"

"اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا، تو اس کے لیے دوزخ کی آگ ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔" (الجن: 23)

📖 تیسرا باب: فرقہ بندی کی مذمت – دین کو توڑنا

اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے بارے میں جو دین کو ٹکڑوں میں تقسیم کرتے ہیں، سخت الفاظ میں فرماتے ہیں:

"اِنَّ الَّذِیۡنَ فَرَّقُوۡا دِیۡنَہُمۡ وَ کَانُوۡا شِیَعًا لَّسۡتَ مِنۡہُمۡ فِیۡ شَیۡءٍ"

"بیشک جن لوگوں نے اپنا دین توڑ ڈالا اور گروہ گروہ ہو گئے، آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں۔" (الانعام: 159)

اور متحد رہنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا:

"وَ اعۡتَصِمُوۡا بِحَبۡلِ اللّٰہِ جَمِیۡعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوۡا"

"اور اللہ کی رسی کو سب مل کر مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔" (آل عمران: 103)

"اللہ کی رسی" سے مراد قرآن مجید ہے۔ جب کوئی گروہ اللہ اور رسول کی اطاعت کو الگ کرتا ہے، تو درحقیقت وہ اس رسی کو چھوڑ کر تفرقہ پیدا کرتا ہے۔

🔥 چوتھا باب: شرک بالاطاعت – ایک نظر انداز کیا جانے والا شرک

شرک بالاطاعت کا تصور

علماء نے شرک کی دو بڑی اقسام بیان کی ہیں:

1. شرک فی العبادت (عبادت میں شرک)
2. شرک فی الطاعت (اطاعت میں شرک)

شرک بالاطاعت کا مطلب ہے کسی انسان یا ہستی کو اللہ اور اس کے رسول کے برابر درجہ دے کر اس کی اطاعت کرنا، یا اللہ کے بتائے ہوئے احکام کے خلاف کسی اور کے بنائے ہوئے قوانین کو ماننا۔

قرآن مجید میں اہل کتاب کے بارے میں فرمایا گیا:

"اتَّخَذُوۡۤا اَحۡبَارَہُمۡ وَ رُہۡبَانَہُمۡ اَرۡبَابًا مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ"

"انہوں نے اپنے عالموں اور درویشوں کو اللہ کے سوا رب بنا لیا۔" (التوبہ: 31)

نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ یہ شرک اس طرح نہیں تھا کہ وہ ان کی عبادت کرتے تھے، بلکہ یہ کہ وہ اللہ کی حرام کردہ چیزوں کو ان کے کہنے پر حلال کر لیتے تھے اور حلال چیزوں کو حرام کر لیتے تھے۔ یہی شرک بالاطاعت ہے۔

📕 پانچواں باب: مشرکین نے صرف یہاں نہیں چھوڑا – ہزاروں کتابیں لکھ ڈالیں

مشرکین کا یہ طریقہ کار صرف اطاعت کو الگ کرنے تک محدود نہیں رہا۔ انہوں نے "دین کی حفاظت" اور "رسول کی سنت کو سمجھنے" کے جھوٹے دعووں کے تحت ایک نیا مذہبی نظام کھڑا کر دیا۔

پہلا قدم: "بس" نہیں کیا

انہوں نے کہا کہ "قرآن تو صرف حکم ہے، اسے سمجھنے کے لیے دوسری کتابیں ضروری ہیں"۔

حالانکہ اللہ نے فرمایا:

"وَ ہٰذَا کِتٰبٌ اَنۡزَلۡنٰہُ مُبٰرَکٌ مُّصَدِّقُ الَّذِیۡ بَیۡنَ یَدَیۡہِ"

"اور یہ ایک بابرکت کتاب ہے جو ہم نے نازل کی ہے، اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی۔" (الانعام: 92)

اور فرمایا:

"اَفَغَیۡرَ اللّٰہِ اَبۡتَغِیۡ حَکَمًا وَّ ہُوَ الَّذِیۡۤ اَنۡزَلَ اِلَیۡکُمُ الۡکِتٰبَ مُفَصَّلًا"

"تو کیا میں اللہ کے سوا کوئی اور حاکم تلاش کروں؟ حالانکہ وہی ہے جس نے تمہاری طرف یہ واضح کتاب نازل کی ہے؟" (الانعام: 114)

دوسرا قدم: رسول کے نام پر ہزاروں کتابیں

مشرکین نے رسول کے نام پر ہزاروں کتابیں لکھ ڈالیں:

· ہزاروں احادیث کی کتابیں (جن میں سے اکثر جھوٹی ہیں، جیسا کہ محدثین خود مانتے ہیں)
· لاکھوں فقہی کتابیں
· کروڑوں فتاویٰ کے مجموعے
· ہزاروں تفاسیر (جو قرآن کو نہیں بلکہ اماموں کے اقوال کو سمجھاتی ہیں)

تیسرا قدم: اماموں اور بزرگوں کی کتابیں

پھر وہاں بس نہیں کیا۔ انہوں نے رسول کے نام سے نکل کر اپنے من گھڑت اولیاء اور بزرگوں کے نام پر بھی کتابیں لکھ ڈالیں:

· "فتوحات مکیہ" (ابن عربی)
· "احیاء علوم الدین" (غزالی – جسے انہوں نے قرآن کے قریب کر دیا)
· "دلائل الخیرات" (بدعات کی کتاب)
· اور ہزاروں رسالے "وظیفہ"، "مراقبہ"، "تصوف" کے نام پر

چوتھا قدم: یہود و نصاریٰ سے بھی آگے نکل گئے

یہود و نصاریٰ نے اپنی کتابوں میں ردوبدل کیا، لیکن:

· یہودیوں کی بدعت: تلمود (زبانی شریعت) – ایک کتاب
· عیسائیوں کی بدعت: پولس کے خطوط، متی، مرقس، لوقا، یوحنا – چند کتابیں
· مسلمانوں کی بدعت: ہزاروں حدیثیں، لاکھوں فقہی کتابیں، کروڑوں فتاویٰ

اللہ نے فرمایا:

"قُلۡ اَىُّ شَیۡءٍ اَکۡبَرُ شَہَادَۃً ؕ قُلِ اللّٰہُ ۟ شَہِیۡدٌۢ بَیۡنِیۡ وَ بَیۡنَکُمۡ ۟ وَ اُوۡحِیَ اِلَیَّ ہٰذَا الۡقُرۡاٰنُ لِاُنۡذِرَکُمۡ بِہٖ وَ مَنۡۢ بَلَغَ"

"کہہ دیجیے: سب سے بڑی گواہی کس کی ہے؟ کہہ دیجیے: اللہ کی، وہ میرے اور تمہارے درمیان گواہ ہے، اور میری طرف یہ قرآن وحی کیا گیا ہے تاکہ میں تمہیں اور جس تک یہ پہنچے، اسے ڈراؤں۔" (الانعام: 19)

📖 چھٹا باب: قرآن کو "خالی حکم" بنا دینا

مشرکین کا سب سے بڑا کرتوت یہ ہے کہ انہوں نے قرآن کو خالی حکم بنا دیا:

· قرآن صرف پڑھا جاتا ہے، سمجھا نہیں جاتا
· قرآن صرف برکت کے لیے پڑھا جاتا ہے، حکم کے لیے نہیں
· قرآن صرف مرنے والوں کو پڑھایا جاتا ہے، زندہ لوگوں کو نہیں

اللہ نے فرمایا:

"اَفَلَا یَتَدَبَّرُوۡنَ الۡقُرۡاٰنَ اَمۡ عَلٰی قُلُوۡبٍ اَقۡفَالُہَا"

"تو کیا یہ قرآن پر غور نہیں کرتے؟ یا دلوں پر ان کے تالے لگ گئے ہیں؟" (محمد: 24)

اور فرمایا:

"کِتٰبٌ اَنۡزَلۡنٰہُ اِلَیۡکَ مُبٰرَکٌ لِّیَدَّبَّرُوۡۤا اٰیٰتِہٖ وَ لِیَتَذَکَّرَ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ"

"یہ بابرکت کتاب ہے جو ہم نے تمہاری طرف نازل کی ہے تاکہ لوگ اس کی آیات پر غور کریں اور عقل والے نصیحت حاصل کریں۔" (ص: 29)

🔥 ساتواں باب: صحیح عقیدہ – اطاعت میں توحید

اسلام کا صحیح عقیدہ یہ ہے کہ اطاعت میں توحید لازم ہے - یعنی اطاعت صرف اللہ کی ہے، اور رسول کی اطاعت اس لیے واجب ہے کہ وہ اللہ کا حکم لے کر آیا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے بارے میں فرمایا:

"وَ مَا یَنۡطِقُ عَنِ الۡہَوٰی ؕ اِنۡ ہُوَ اِلَّا وَحۡیٌ یُّوۡحٰی"

"اور وہ اپنی خواہش سے نہیں بولتا، یہ تو صرف وحی ہے جو اس پر نازل کی جاتی ہے۔" (النجم: 3-4)

نجات کی راہ

اللہ تعالیٰ نے نجات کی راہ واضح فرما دی ہے:

"فَلَا وَ رَبِّکَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوۡکَ فِیۡمَا شَجَرَ بَیۡنَہُمۡ ثُمَّ لَا یَجِدُوۡا فِیۡۤ اَنۡفُسِہِمۡ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیۡتَ وَ یُسَلِّمُوۡا تَسۡلِیۡمًا"

"تو تمہارے رب کی قسم! یہ اس وقت تک مومن نہیں ہوں گے جب تک اپنے باہمی جھگڑوں میں تمہیں حاکم نہ مان لیں، پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو اس پر اپنے دلوں میں کوئی تنگی نہ پائیں اور پوری طرح تسلیم کر لیں۔" (النساء: 65)

📊 خلاصہ: اصل دین اسلام بمقابلہ مشرکین کا طریقہ

اصل دین اسلام مشرکین کا طریقہ
اللہ اور رسول کی اطاعت لازم و ملزوم اللہ اور رسول کی اطاعت کو الگ کرنا
اطاعت میں توحید اطاعت کو تقسیم کرنا
دین ایک ہے - اسلام دو دین بنا لینا
صرف قرآن پر عمل قرآن کو خالی کر کے ہزاروں کتابیں لانا
رسول کی اطاعت = اللہ کی اطاعت رسول کے نام پر نیا دین بنا لینا
قرآن مکمل اور مفسر قرآن کو نامکمل قرار دے کر دوسری کتابیں لانا
کوئی اور کتاب ضروری نہیں اماموں، بزرگوں، اولیاء کی کتابیں لازمی قرار دین

🔴 آخری پیغام: اے مشرکو! اپنے دین اسلام کی طرف واپس آؤ

اللہ تعالیٰ نے صرف ایک کتاب بھیجی، اور وہ قرآن ہے۔

اللہ تعالیٰ نے صرف ایک دین دیا، اور وہ اسلام ہے۔

اللہ تعالیٰ نے صرف ایک رسول بھیجا، اور وہ محمد ﷺ ہیں۔

کسی امام، کسی بزرگ، کسی ولی، کسی پیر، کسی عالم کی کوئی کتاب قرآن کے برابر نہیں، نہ اس کے قریب، نہ اس کے ساتھ۔

"اِنۡ ہُوَ اِلَّا ذِکۡرٌ لِّلۡعٰلَمِیۡنَ"

"یہ (قرآن) تو سارے جہانوں کے لیے ایک نصیحت ہے۔" (ص: 87)

اور آخری انتباہ:

"وَ مَنۡ یَّبۡتَغِ غَیۡرَ الۡاِسۡلَامِ دِیۡنًا فَلَنۡ یُّقۡبَلَ مِنۡہُ ۚ وَ ہُوَ فِی الۡاٰخِرَۃِ مِنَ الۡخٰسِرِیۡنَ"

"اور جو شخص اسلام کے علاوہ کوئی اور دین تلاش کرے گا، تو وہ اس سے قبول نہ کیا جائے گا، اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔" (آل عمران: 85)

🤲 دعا

اے اللہ! ہمیں سیدھے راستے پر گامزن رکھ۔ ہمیں شرک بالاطاعت سے بچا۔ ہمیں قرآن کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ ہمیں ان مشرکانہ طریقوں سے بچا جو رسول کے نام پر دین میں بدعات لے آئے۔ ہمیں اپنی رحمت سے ان لوگوں میں شامل فرما جو تیری اور تیرے رسول کی اطاعت کرتے ہیں، اور ہمیں ان لوگوں میں سے نہ کرنا جنہوں نے دین کو توڑا اور گروہ گروہ ہو گئے۔

آمین یا رب العالمین

اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ صحیح جانتا ہے۔

درباروں کی نیاز اور قرآن کی توحید — مشرکین کی سب سے بڑی چال بے نقابمشرکین کی ایک عجیب عادت ہے۔ جب تک درباروں پر چڑھاوے، ...
07/04/2026

درباروں کی نیاز اور قرآن کی توحید — مشرکین کی سب سے بڑی چال بے نقاب
مشرکین کی ایک عجیب عادت ہے۔ جب تک درباروں پر چڑھاوے، نیازیں اور مرے ہوئے بزرگوں کے نام کی دیگیں چلتی رہیں تب تک سب کچھ ٹھیک ہے۔ لیکن جیسے ہی قرآن کی آیات سامنے آتی ہیں تو فوراً معصوم بن جاتے ہیں اور کہتے ہیں:
“ہم تو بزرگوں کو خدا نہیں مانتے، ہم تو صرف وسیلہ سمجھتے ہیں۔”
یعنی زبان پر توحید اور عمل میں غیر اللہ کی نذر و نیاز۔
قرآن نے اسی چال کو صدیوں پہلے بے نقاب کر دیا تھا۔
مشرکین کی پرانی دلیل
مکہ کے مشرکین بھی یہی کہتے تھے:
سورۃ الزمر آیت 3
ہم ان کی عبادت صرف اس لیے کرتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ کے قریب کر دیں۔
یہ وہی جملہ ہے جو آج بھی سننے کو ملتا ہے:
“ہم تو بس وسیلہ بناتے ہیں، ہم تو بس محبت میں کرتے ہیں، ہم تو بس بزرگوں کے نام کی نیاز دیتے ہیں۔”
لیکن قرآن نے اس دلیل کو توحید نہیں بلکہ شرک قرار دیا۔
اصل سوال جس سے بھاگا جاتا ہے
جب درباروں کی نیاز کا سوال اٹھتا ہے تو مشرک فوراً بات گھما دیتا ہے۔
کہتا ہے:
“اگر کوئی رسول اللہ ﷺ کے لیے قربانی کر دے اور اللہ کا نام لے کر ذبح کرے تو جانور حلال ہے۔”
یہ وہی پرانی چال ہے — سوال کچھ اور، جواب کچھ اور۔
مسئلہ قربانی کا نہیں ہے۔
مسئلہ مرے ہوئے انسانوں کے نام پر نذر و نیاز کا ہے۔
قرآن کا صاف اعلان
قرآن نے عبادت کے تمام بڑے اعمال صرف اللہ کے لیے مقرر کیے ہیں۔
سورۃ الانعام آیت 162
کہہ دو بے شک میری نماز اور میری قربانی اور میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ ہی کے لیے ہے جو سارے جہانوں کا رب ہے۔
یہاں قربانی، عبادت اور زندگی سب کو اللہ کے لیے خاص کر دیا گیا۔
غیر اللہ کے نام کی چیز کا حکم
قرآن کا اصول واضح ہے:
سورۃ البقرہ آیت 173
تم پر حرام کیا گیا مردار اور خون اور خنزیر کا گوشت اور وہ چیز جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام لیا گیا ہو۔
اور دوبارہ فرمایا:
سورۃ المائدہ آیت 3
اور وہ چیز بھی حرام ہے جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام لیا گیا ہو۔
یعنی جس چیز کو اللہ کے علاوہ کسی اور کے نام یا مقصد سے منسوب کیا جائے وہ اللہ کے نزدیک قبول نہیں۔
مشرکین کا طریقہ کیا تھا؟
قرآن نے ان کا طریقہ بھی بیان کر دیا:
سورۃ الانعام آیت 136
انہوں نے اللہ کے لیے بھی حصہ مقرر کیا اور اپنے شریکوں کے لیے بھی حصہ مقرر کیا۔
یعنی کچھ اللہ کے لیے اور کچھ اپنے معبودوں کے لیے۔
آج بھی یہی منظر ہے:
کچھ اللہ کے لیے اور کچھ درباروں کے لیے۔
درباروں کی نیاز کی حقیقت
اگر سچائی سے دیکھا جائے تو درباروں پر جو کچھ ہوتا ہے وہ یہی ہے:
کسی بزرگ کے نام کی دیگ
کسی ولی کے نام کی نیاز
کسی مرے ہوئے شخص کے نام کا چڑھاوا
اور پھر کہا جاتا ہے:
“ہم مشرک نہیں ہیں۔”
حالانکہ یہی کام مکہ کے مشرکین بھی کرتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم تو صرف اللہ کی قربت چاہتے ہیں۔
قرآن کا فیصلہ
قرآن کے بعد کوئی تاویل نہیں چلتی۔
توحید کا اصول بہت سادہ ہے:
عبادت صرف اللہ کے لیے
دعا صرف اللہ سے
نذر صرف اللہ کے لیے
قربانی صرف اللہ کے لیے
جو چیز اللہ کے علاوہ کسی کے نام سے منسوب ہو جائے وہ توحید نہیں بلکہ شرک کے دروازے کی طرف پہلا قدم ہے۔
آخری حقیقت
مشرکین چاہے کتنی بھی لفظی چالاکیاں کر لیں،
چاہے قربانی کا نام لے کر درباروں کی نیاز کو چھپانے کی کوشش کریں،
چاہے وسیلہ اور محبت کے خوبصورت الفاظ استعمال کریں —
لیکن قرآن کا فیصلہ واضح ہے۔
توحید میں کسی انسان، کسی قبر اور کسی دربار کا کوئی حصہ نہیں۔
اور جو چیز اللہ کے سوا کسی کے نام سے منسوب ہو جائے، قرآن اسے قبول نہیں کرتا۔

ٹ🔴 غیر اللہ کا مطلب کیا ہے؟غیر اللہ کا سیدھا اور واضح مطلب ہے: اللہ کے سوا ہر چیز۔جس طرح دو انسان الگ الگ ہوتے ہیں، مثلا...
06/04/2026

ٹ🔴 غیر اللہ کا مطلب کیا ہے؟
غیر اللہ کا سیدھا اور واضح مطلب ہے: اللہ کے سوا ہر چیز۔
جس طرح دو انسان الگ الگ ہوتے ہیں، مثلاً:
عبداللہ اور احمد دو مختلف شخصیتیں ہیں۔
احمد عبداللہ نہیں ہے اور عبداللہ احمد نہیں ہے۔
اسی طرح:
اللہ خالق ہے
اور تمام انسان مخلوق ہیں
اس لئے ہر انسان، ہر نبی، ہر ولی، ہر فرشتہ — سب اللہ کے علاوہ ہیں۔
اسی کو غیر اللہ کہا جاتا ہے۔
قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“اور اللہ کے سوا جنہیں تم پکارتے ہو وہ تمہاری کوئی مدد نہیں کر سکتے اور نہ اپنی مدد کر سکتے ہیں۔”
(سورۃ الاعراف 197)
مشرک کون ہے؟
مشرک وہ ہے جو اللہ کو ماننے کے باوجود اس کے ساتھ دوسروں کو شریک بنا دے۔
یعنی وہ یہ سمجھنے لگے کہ:
🚨کوئی اور بھی ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے ۔یعنی الحی القیوم ہے ۔مرنے کے بعد بھی فریادیں سنتا ہے
کوئی اور بھی مشکل کشا ہے
کوئی اور بھی حاجت روا ہے
کوئی اور بھی غیب جانتا ہے
یا کسی اور کو اللہ کی صفات میں اختیار حاصل ہے۔
قرآن فرماتا ہے:
“اور اکثر لوگ اللہ کو مانتے ہیں مگر اس کے ساتھ شرک بھی کرتے ہیں۔”
(سورۃ یوسف 106)
اسی طرح اللہ تعالیٰ نے واضح کیا:
“اور مسجدیں اللہ کے لئے ہیں، پس اللہ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو۔”
(سورۃ الجن 18)
کافر کون ہے؟
کافر وہ ہے جو اللہ کے حکم کو ماننے سے انکار کر دے۔
یعنی:
اللہ کے پیغام کو جھٹلا دے
اللہ کے رسولوں کو نہ مانے
یا اللہ کی ہدایت کو قبول نہ کرے
قرآن میں فرمایا گیا:
“جن لوگوں نے انکار کیا ان کے لئے برابر ہے چاہے آپ انہیں ڈرائیں یا نہ ڈرائیں، وہ ایمان نہیں لائیں گے۔”
(سورۃ البقرہ 6)
اصل معیار کیا ہے؟
قرآن کے مطابق اصل دین یہ ہے:
“اور تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔”
(سورۃ البقرہ 163)
اور اسی لئے اللہ نے حکم دیا:
“کہہ دو میں تو صرف اپنے رب کو پکارتا ہوں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا۔”
(سورۃ الجن 20)
✅ حقیقت :
غیر اللہ = اللہ کے سوا ہر مخلوق
مشرک = جو اللہ کے ساتھ کسی اور کو اختیار والا سمجھ لے
کافر = جو اللہ کے پیغام کو ماننے سے انکار کر دے

06/04/2026
06/04/2026

Address

Lahore
54810

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Quran and Adam posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Quran and Adam:

Share

Category