16/01/2026
بڑا کمرہ
دادا دادی کا یہ کمرہ گھر کا مرکزی کمرہ تھا ـ اس جگہ کو وہی مقام حاصل تھا جو نیوکلیئس کو ایٹم کے اندر حاصل ہوتا ہے ـ دادا دادی پروٹون اور نیوٹران کی مانند نیوکلیئس کی جان تھے جبکہ ہم باقی افراد الیکڑانز کی مانند اس نیوکلیئس کے گرد مختلف مداروں میں گردش کرتے تھے ـ اس کمرے کو وہی مقام حاصل تھا جو نظامِ شمسی میں سورج کو حاصل ہے ـ عامۃ الناس کی نظر میں اسے ٹی وی لاونج کہا جاتا ہے مگر میں آج بھی اسے "بڑا کمرہ" کہہ کر یاد کرتا ہوں اور پھر پیدائش سے لے کر جوانی کی دہلیز پر قدم رکھنے تک زندگی کا ایک بڑا حصہ اسی کمرے میں گزرا ہے ـ اس بڑے کمرے کو اگر ہمارے گھر کی راجدھانی کہا جائے تو غلط نہ ہو گا ـ
کمرے کے تقریباً وسط میں دادا دادی کے پلنگ ہوتے تھے ـ میں آج بھی اگر ذہن میں اس کمرے کا خاکہ لاؤں تو سب سے پہلے مجھے دادا اپنے پلنگ پر بیٹھے نظر آتے ہیں ـ سردیوں کی شاموں میں دادا رضائی لیے اپنے پلنگ پر براجمان مونگپھلی سے لطف اندوز ہوتے تھے ـ ریوڑی ہمیشہ مونگپھلی کے ساتھ رہی ـ عقب میں ایک بڑی الماری تھی جس کا ایک حصہ دادی کی اشیاء کے لیے مختص تھا جبکہ دوسرا حصہ دادا کے تصرف میں تھا ـ تبت سنو کریم دادی کی الماری کی سب سے خاص شے ہوا کرتی تھی ـ دادا سے ریاضی کے سوالات سمجھنے ہوتے تو ہم یہیں دادا کے پاس بیٹھ جاتے ـ مجھے یاد ہے ایک بار کسی بات پر میری اور بہن کی لڑائی ہو گئی ـ بہن نے رونا شروع کر دیا ـ دادا مجھے تھوڑا سا ناراض ہوئے تو میں نے جھٹ سے کہا "ابا جی (دادا) یہ اپنے آپ کو سچا ثابت کرنے کے لیے رو رہی ہے" ـ پوتے میں وکالت کے ابتدائی جراثیم دیکھ کر وکیل دادا کے چہرے پر ایک خوشگوار مسکراہٹ پھیل گئی ـ
ہمارا گھر علاقے کے اُن اولین گھروں میں تھا جہاں ٹیلیفون کی سہولت میسر تھی ـ اُس دور کے رواج کے مطابق عَزِیز و اَقارِب اور اہلِ محلہ میں کسی کو ضروری کال کرنی ہوتی تو وہ ہمارے گھر تشریف لاتے ـ ٹیلی فون بھی اسی بڑے کمرے میں دادا دادی کی الماری کے ایک سمت میں باورچی خانے سے متصل ایک کونے میں نصب تھا ـ ابتداء میں بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی بھی ہوا کرتا تھاـ بعد میں رنگین ٹی وی نے اس پرانے ٹی وی کی جگہ لے لی ـ ٹی وی کو بھی اسی بڑے کمرے میں جگہ دی گئی تھی ـ گھر میں ایک غیر تحریری قانون نافذ تھا کہ جیسے ہی فون کی گھنٹی بجے ، ٹی وی کی آواز بند کر دینی ہے ـ غالباً ہمارے ابا اس اصول کے خالق تھے ـ میں نے ہوش سنبھالتے ہی اس جابرانہ قانون کے خلاف ایک خاموش بغاوت کا اظہار کر دیا تھا ـ بارہا ایسا ہوتا کہ ڈرامے کی آخری قسط ہوتی اور سین اپنے جوبن پر ہوتا کہ فون کی گھنٹی بج اٹھتی ـ یکایک والد صاحب قبلہ اٹھتے اور ٹی وی کو خاموش کروا دیا جاتا ـ یوٹیوب تو دور کی بات یہ وہ وقت تھا جب ڈرامہ دوبارہ نہیں دکھایا جاتا تھا ـ اگر آپ کا کوئی سین رہ گیا ہے تو بس یہی صورت باقی بچتی تھی کہ آپ لاہور جائیں اور ہال روڈ سے اس ڈرامے کی ویڈیو کیسٹ بنوائیں ـ نہ جانے کتنے اہم سین ہم نے بغیر آواز کے دیکھے اور پھر تصور میں ڈائیلاگ دہرائے کہ ہوسکتا ہے قوی خان نے یہ کہا ہو ، ہو سکتا ہے عظمیٰ گیلانی نے یہ بات اس انداز میں کی ہو یا شاید اداکار شکیل کے منہ سے یہ الفاظ نکلے ہوں ـ بہرحال ایک فائدہ یہ ہوا کہ چہرہ دیکھ کر دماغ میں گھومنے والے خیالات کا اندازہ ہونے لگ گیا ـ والد صاحب اس جدید دور میں بھی اس خود ساختہ قانون کو ساتھ لے کر چل رہے ہیں ـ
جاری ہے
تحریر : سید محمد نقی عباس