AaliJaa Productions

AaliJaa Productions Aali Jaa: If you're visible, you're credible! AaliJaa is a platform for every Generation. AaliJaa P

28/08/2026
28/08/2026
27/08/2026

یہ تو ہوگا ۔۔۔
۔




25/08/2026

پاکستان ایک ایک ڈالر کے لیے آئی ایم ایف کے دروازے پر کھڑا ہے، زرمبادلہ بچانے کے لیے درآمدات، توانائی اور اخراجات پر دباؤ ہے، مگر اسی ملک کے ریٹائرڈ اعلیٰ سرکاری افسران کے لیے بیرون ملک رہتے ہوئے غیر ملکی کرنسی میں پنشن کا معاملہ ایک تلخ سوال بن کر سامنے آیا ہے۔۔۔تازہ د رپورٹ کے مطابق 33 ریٹائرڈ سینئر افسران بیرون ملک مقیم ہیں اور اپنی پنشن متعلقہ ملک کی غیر ملکی کرنسی میں وصول کر رہے ہیں۔۔۔اہم بات یہ ہے کہ بیرون ملک پنشن کی ادائیگی کا قانونی طریقہ موجود ہے؛ وزارت خزانہ کی دستاویزات میں 2024 میں اس حوالے سے باقاعدہ سرکلر بھی درج ہے۔۔۔ تو سوال یہ نہیں کہ قانون اجازت دیتا ہے یا نہیں؛ سوال یہ ہے کہ کیا معاشی بحران میں اشرافیہ کے لیے قانون اور عام پنشنر کے لیے قانون ایک ہی ہے؟۔
۔




25/08/2026

بیوی ہراسگی سے فوجی آفیسر کی گرفتاری تک
الائیڈ ہیلتھ سائنسز ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ ڈاکٹر جدون خان نے اخلاقی حدود کو پامال کرتے ہوئے شعبہ اسٹوڈنٹ افیئرز کی سربراہ ڈاکٹر آئینہ کو ہراساں کیا۔ ڈاکٹر آئینہ نے اس ناانصافی پر خاموش رہنے کے بجائے قانون اور اصول کا راستہ چنا اور انتظامیہ کے پاس باقاعدہ شکایت درج کرائی۔ یونیورسٹی نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ایچ او ڈی کو معطل کر دیا اور واقعے کی شفاف تحقیقات کے لیے ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی۔
معطل شدہ ایچ او ڈی کی بحالی کے لیے طلبہ کی ایک بڑی تعداد نے یونیورسٹی میں احتجاج شروع کر دیا۔ ڈاکٹر آئینہ ، مظاہرین سے بات چیت کرنے اور صورتحال کو سنبھالنے کے لیے خود ان کے پاس گئیں۔ مگر وہاں قانون اور احترام کی دھجیاں اڑا دی گئیں۔ بات چیت تلخ کلامی میں بدلی اور بپھرے ہوئے ہجوم میں سے ایک لڑکے نے تمام حدیں پار کرتے ہوئے ڈاکٹر آئینہ کے گریبان پر ہاتھ ڈال دیا اور سرِعام دھمکی دی کہ "آج ہم تمہاری عزت خراب کر دیں گے۔" ڈاکٹر آئینہ نے اس ہجوم سے، جہاں یونیورسٹی کے گارڈز بے بس اور ناکافی ثابت ہو رہے تھے، بمشکل اپنی جان اور عزت بچائی۔
ڈاکٹر آئینہ نے اپنے شوہر کو فون کیا، جو پاک فوج میں ایک افسر ہیں۔ جب ایک غیرت مند شوہر اور فوجی افسر کے کانوں میں یہ الفاظ پڑے کہ اس کی شریکِ حیات کے گریبان پر ہاتھ ڈالا گیا ہے، تو اس کا دماغ گھوم گیا۔ غصے اور غیرت کی اس شدید لہر میں وہ یہ بھی بھول گئے کہ وہ ایک فوجی افسر ہیں انہوں نے نہ تو پولیس کو اطلاع دی اور نہ ہی اپنے ساتھ کوئی دستہ یا جوان لیے۔ وہ یہ سوچے بغیر کہ وہاں درجنوں بپھرے ہوئے طلبہ ان پر حملہ کر سکتے ہیں، تنِ تنہا یونیورسٹی کی طرف روانہ ہو گئے۔ ایسے حالات میں ایک غیور انسان کا دماغ نہیں، بلکہ اس کا دل اور جذبات فیصلہ کرتے ہیں۔

جیسے ہی یہ فوجی افسر یونیورسٹی پہنچے، ڈاکٹر آئینہ سہمے ہوئے قدموں سے بھاگتی ہوئی ان کے پاس گئیں اور روتے ہوئے اس نوجوان کی طرف اشارہ کیا جس نے ان کی عزت پر ہاتھ ڈالا تھا۔ فوجی افسر سیدھے اس لڑکے کی طرف بڑھے اور اسے جھنجھوڑتے ہوئے کہا: "تمہیں شرم نہیں آتی؟" اور ایک بڑے بزرگ کی طرح، جو کسی چھوٹے کو غلطی پر تنبیہ کرتا ہے، انہوں نے اپنی اسٹک سے اسے ایک دو بار ہلکا سا مارا۔
مگر وہ ہجوم تو پہلے ہی سے کسی اشتعال کے انتظار میں تھا۔ طلبہ نے فوری طور پر اس فوجی افسر کو چاروں طرف سے گھیر لیا۔ افسر نے انہیں سمجھانے اور بات کرنے کی کوشش کی، لیکن نوجوان مار پیٹ پر اتر آئے اسی دھکم پیل میں کسی نے ڈاکٹر آئینہ کو زور دار دھکا دیا اور دو لڑکوں نے آگے بڑھ کر ان کے بازو پکڑنے کی کوشش کی۔ اپنی بیوی کو اس حال میں دیکھ کر وہ افسر ان کے سامنے ڈھال بن گیا، لیکن اس کوشش میں ڈاکٹر آئینہ زمین پر گر گئیں۔
بیوی کو زمین پر گرا دیکھ کر اور دانستہ طور پر اپنی فوجی وردی کو پھٹتا دیکھ کر افسر کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ اپنی اور اپنی زوجہ کی جان کو شدید خطرے میں پا کر، انہوں نے دفاعی طور پر اپنی پستول نکالی، ہجوم کو پیچھے دھکیلا اور انہیں ڈرانے کے لیے ہوائی فائرنگ کی تاکہ بپھرا ہوا ہجوم پیچھے ہٹ سکے۔ یہ ہے پوری اور اصل کہانی ۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر فوجی افسر پلاننگ سے یہ سب کرنے جاتا تو ساتھ درجن بھر جوان لے جاتا

سرحد یونیورسٹی کے معاملات سے واقف صحافی ندیم عارف بٹ کی فیسبک پوسٹ


Address

Lahore
54000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when AaliJaa Productions posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to AaliJaa Productions:

Shortcuts

Share