08/04/2026
زنا پر اُبھارنے والا جادو
امام ابن الجوزی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب "ذمّ الہویٰ" (ص 259–260) میں روایت کیا ہے:
ایک انصاری نوجوان سے ایک انصاری عورت کو محبت ہوگئی۔ اُس نے اسے اپنے عشق کی شکایت لکھ کر بھیجی، ملاقات کی درخواست کی اور اسے فحاشی کی دعوت دی، حالانکہ وہ پہلے ہی شادی شدہ تھی۔ نوجوان نے اسے جواب میں لکھا:
بے شک حرام وہ راستہ ہے جس پر میں کبھی نہیں چلتا،
اور جب تک میں لوگوں میں زندہ ہوں، اس پر گزرتا نہیں۔
اگر تمہیں ملامت کرنی ہے تو کرو، میں تمہاری خواہشات کا پیرو نہیں،
لہٰذا تم اس سے مایوس ہو جاؤ۔
میں تمہارے بارے میں اُن لوگوں کی حفاظت کروں گا جو تمہاری عزت کی حفاظت کرتے ہیں،
پس جاہل اور وسوسہ میں مبتلا شخص نہ بنو۔
👀 جب اُس عورت نے یہ خط پڑھا تو اس نے دوبارہ اسے لکھا:
اس بات کو چھوڑ دو جس کا تم ذکر کرنے لگے ہو،
اور میری حاجت کی طرف آ جاؤ اے سخت دل شخص!
نیک بننے کا دعویٰ چھوڑ دو، میں ایسی نہیں ہوں جو اس سے باز آ جاؤں،
اور جو کچھ تم نے ظاہر کیا ہے وہ میرے دل میں داخل نہیں ہو سکتا۔
💬 نوجوان نے یہ معاملہ اپنے ایک دوست کو بتایا۔ اس نے مشورہ دیا کہ اگر تم اپنے گھر والوں میں سے کسی کو اس کے پاس بھیجو جو اسے نصیحت کرے اور ڈانٹے تو امید ہے وہ باز آجائے گی۔
نوجوان نے کہا:
اللہ کی قسم! میں ایسا ہرگز نہیں کروں گا، اور نہ ہی دنیا میں اپنی رسوائی کا سبب بنوں گا۔
دنیا کی رسوائی آخرت کی آگ سے بہتر ہے۔
پھر اس نے کہا:
دنیا کی مدت میں آنے والی رسوائی اور اس کی قلت ختم ہو جائے گی،
مگر وہ چیز باقی رہتی ہے جو رسوائی کے سبب مجھے تکلیف دیتی ہے۔
جب تک مجھ میں جان ہے، آگ ختم نہیں ہوگی،
اور میں ایسا مردہ نہیں کہ وہ مجھے فنا کر دے۔
لیکن میں آزاد انسان کی طرح صبر کروں گا، ثواب کی نیت سے،
شاید میرا رب مجھے فردوس کے قریب کر دے۔
◀️ راوی کہتے ہیں: اس نے اس عورت سے تعلق ختم کر دیا۔
لیکن وہ عورت مایوس نہ ہوئی اور کہنے لگی: یا تو تم میرے پاس آؤ یا مجھے اپنے پاس بلاؤ۔ نوجوان نے اسے جواب دیا:
اپنے معاملے میں خود پر رحم کرو، اور اس کام میں جلد بازی چھوڑ دو۔
جب وہ اس سے مکمل طور پر مایوس ہوگئی تو وہ ایک ایسی عورت کے پاس گئی جو جادو کرتی تھی۔ اس نے اسے اس نوجوان کے دل میں اُبھار پیدا کرنے کے بدلے بہت کچھ دیا۔
چنانچہ اس جادوگرنی نے اُس پر عمل کیا۔ ایک رات جب وہ اپنے والد کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا، اچانک اس عورت کا خیال اس کے دل میں آیا، اور اس پر ایک ایسی کیفیت طاری ہوئی جو اس نے پہلے کبھی نہ دیکھی تھی۔ وہ بےچین اور مضطرب ہوگیا۔
وہ اپنے والد کے سامنے سے فوراً اٹھا، نماز پڑھی، اللہ سے پناہ مانگی اور رونے لگا، مگر کیفیت بڑھتی ہی جا رہی تھی۔
اس کے والد نے پوچھا:
اے میرے بیٹے! تمہارا کیا حال ہے؟
اس نے کہا:
اے ابا جان! مجھے باندھ دیجیے، مجھے لگتا ہے کہ میں اپنی عقل پر قابو کھو بیٹھا ہوں۔
والد رونے لگے اور کہا: بیٹا! مجھے پورا واقعہ بتاؤ۔
اس نے سارا ماجرا بیان کر دیا۔ پھر والد نے اسے باندھ دیا اور ایک کمرے میں بند کر دیا۔
وہ نوجوان تڑپتا رہا، بیل کی طرح بلبلاتا رہا، پھر کچھ دیر بعد خاموش ہوگیا۔ جب دیکھا تو وہ وفات پا چکا تھا، اور اس کی ناک سے خون بہہ رہا تھا۔
ہم اللہ تعالیٰ سے عفو و عافیت کا سوال کرتے ہیں۔ ــــــ
✭ نوٹ:- مزید دلچسپ اور ایمان افروز واقعات و حکایات کے لئے ہمیں فالو کر لیں مہربانی ہوگی شکریہ