03/03/2026
فرقہ پرستی اقتدارِ اذہان حاصل کرنے اور اس کے نتیجے میں مسندِ اقتدار کو طول دینے کا ایک ہتھیار تھی۔
جو لوگ تھوڑے سے دنیاوی فائدے کے لیے یہ سب کر رہے تھے، وہ بھی کسی بڑی گیم کو سمجھ کر یا ناسمجھی میں محض ایک ٹول کا کردار ادا کر رہے تھے۔
نوجوانو!
فرقہ پرستی سے انکار کر دو۔
تمہارے پیارے نبی ﷺ کی زندگی عملی پہلوؤں پر مشتمل تھی؛ سوچ، سمجھ، معیشت، معاشرت، اخلاقیات اور جنگی نظم و ضبط کا عملی نمونہ تھی، نہ کہ ان معمولی باتوں پر جھگڑنا کہ نماز میں ہاتھ اٹھانا ہے یا نہیں۔
اپنے نبی ﷺ کی جنگی حکمتِ عملی کو پڑھو۔
تمہیں یہ تو بتایا گیا کہ بدر میں فرشتے آئے تھے، لیکن اس سے پہلے مکہ سے مدینہ ہجرت کیسے ہوئی؟
وہاں ریاست کی بنیاد کیسے رکھی گئی؟
معیشت کو پہلے ستون کے طور پر کیسے سنجیدہ لیا گیا؟
بدر میں سپلائی لائن پر حملہ کیسے کیا گیا؟
تمہیں یہ سب نہیں پڑھایا گیا۔
حضرت عمرؓ کی جنگی حکمتِ عملی کو پڑھو۔ حضرت خالد بن ولیدؓ نے جن جن جنگوں میں حصہ لیا، انہیں پڑھو۔ وہ جب مسلمان نہیں تھے تب بھی فاتح رہے اور جب مسلمان ہوئے تب بھی فاتح رہے۔
انہوں نے سپر پاورز کو کیسے زیر کیا؟ وہ سب عملی حکمت تھی؛ ایمان کے ساتھ ساتھ عقل اور ٹیکنالوجی کا بہترین استعمال تھا۔
انہوں نے اس وقت کی سپر پاورز، رومن ایمپائر اور پرشین ایمپائر، کو شکست کیسے دی؟
ہو سکے تو یہ تاریخ صرف مسلمانوں کی کتابوں سے نہیں، بلکہ دیگر اقوام کی کتابوں سے بھی پڑھو، تاکہ تمہیں اندازہ ہو کہ تمہارا دین کتنا پریکٹیکل، کتنا جدید اور ساتھ کتنا جدت پسند ہے۔
ان چھوٹے چھوٹے مسلکی مسائل میں الجھا کر تمہیں تاریخ سے مٹانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
چیزوں کو بڑے کینوس پر دیکھنا شروع کرو، تاکہ تمہاری اپنے مسلکی مخالف سے نفرت چھوٹی چھوٹی باتوں پر باقی ہی نہ رہے۔
اور تم ایک بڑے تناظر کو سامنے رکھتے ہوئے اُس کام پر زیادہ توجہ دے سکو جو واقعی اہم ہے۔
غیرت، ثابت قدمی اور جدت!
غیرت ایمانی کا ہونا، ہر جنگ میں ثابت قدم رہنا، اور ماڈرن وار فئر کو اپنانا، ان تین چیزوں کے علاوہ، تمہیں اسلامی جنگوں میں چوتھی چیز ملے تو مجھے ضرور بتانا۔
- ایم تنویر نانڈلہ