Punjab University News Time

Punjab University News Time Punjab University News Page Unofficial

جونی سن کل جمیعت کے پروگرام میں شرکت کرنے کے لیئے منصورہ پہنچ گئے ، پروگرام کے بعد ہر جماعتئے کے گھر کا دورہ کریں گے ، ج...
02/11/2025

جونی سن کل جمیعت کے پروگرام میں شرکت کرنے کے لیئے منصورہ پہنچ گئے ، پروگرام کے بعد ہر جماعتئے کے گھر کا دورہ کریں گے ، جماعتیوں کے گھروں میں خوشی کی لہر ۔

25/10/2025

پنجاب یونیورسٹی میں تشدد کا واقعہ — مذہبی تنظیم کے طلبہ ملوث

لاہور: پنجاب یونیورسٹی میں مذہبی تنظیم سے تعلق رکھنے والے طلبہ نے ہاسٹل کے سیکیورٹی گارڈ پر تشدد کیا۔ واقعے کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملوث طلبہ کی ہاسٹل الاٹمنٹ منسوخ کر دی ہے۔

وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی، ڈاکٹر محمد علی شاہ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے یقین دہانی کروائی ہے کہ کسی بھی ملازم پر تشدد برداشت نہیں کیا جائے گا، اور ذمہ دار طلبہ کے خلاف مزید تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

شکریہ وائس چانسلر صاحب
پنجاب یونیورسٹی کے اس اقدام سے یہ واضح پیغام جاتا ہے کہ کسی بھی قسم کی گنڈہ گردی یا تشدد کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ہم وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی شاہ کے بروقت ایکشن اور یونیورسٹی میں امن و نظم قائم رکھنے کے عزم کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ ان کے اس فیصلے نے ملازمین اور طلبہ دونوں کا اعتماد بحال کیا ہے۔

15/10/2025

Jahanzaib Wazir ❤️
کونسل کا میت Punjab University Events University of the Punjab Times - PU Times Pashtoon Education Development Movement - PEDM Punjab University, Lahore. Unofficial: Punjab University News Alert Punjab University Today All Universities Alerts

05/10/2025

یونیورسٹی ملازمین کا جناح اسپتال میں زخمی سیکیورٹی گارڈز سے اظہارِ یکجہتی

یونیورسٹی ملازمین نے پختون طلبہ کی جانب سے سیکیورٹی اسٹاف پر حملے کی سخت مذمت کی ہے۔ اس موقع پر ملازمین جناح اسپتال پہنچے جہاں زخمی سیکیورٹی گارڈز زیرِ علاج ہیں۔ انہوں نے زخمی محافظوں کی عیادت کی اور اُن کے اہلخانہ سے اظہارِ یکجہتی کیا۔

ملازمین کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی عملہ یونیورسٹی کا محافظ ہے اور اُن پر حملہ دراصل یونیورسٹی کے امن اور تعلیمی ماحول پر حملہ ہے، جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ انتظامیہ واقعے میں ملوث عناصر کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کرے تاکہ آئندہ ایسے واقعات نہ ہوں۔

یاد رہے کہ اس سارے واقعے کے پیچھے جمیعت کی گنڈا گرد سوچ اور اُن کی پھیلائی گئی گندگی ہے، جس نے پختون طلبہ کو بھی استعمال کر کے یونیورسٹی کے ماحول کو خراب کیا۔

04/10/2025

یونیورسٹی میں غیر متعلقہ افراد کو داخل ہونے سے روکنے پر کچھ پختون طلبہ کو مشتعل کرنے کی کوشش کی گئی۔ عینی شاہدین کے مطابق اس پورے واقعے میں جمیعت کے گنڈے پختون طلبہ کے درمیان گھس آئے اور دانستہ طور پر اشتعال انگیزی پھیلائی۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ چند ناسمجھ پختون طلبہ ان کے جھانسے میں آ کر ملوث ہو گئے اور یوں سنجیدہ اور محنتی پختون طلبہ کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کیا گیا۔ یہ سب کچھ دراصل جمیعت کے اشارے پر ہوا، جس کا مقصد یونیورسٹی میں امن و امان کو سبوتاژ کرنا تھا۔

جامعہ سرخ ہے   کونسل کا میت Sh*trol group pu
04/10/2025

جامعہ سرخ ہے

کونسل کا میت Sh*trol group pu

پنجاب یونیورسٹی میں جو افسوسناک واقعہ پیش آیا، اس کے پیچھے کوئی اور نہیں بلکہ جمیعت ہی ہے۔ انتظامیہ پر حملہ، محافظوں کو ...
04/10/2025

پنجاب یونیورسٹی میں جو افسوسناک واقعہ پیش آیا، اس کے پیچھے کوئی اور نہیں بلکہ جمیعت ہی ہے۔ انتظامیہ پر حملہ، محافظوں کو لہو لہان کرنا، یونیورسٹی کے امن کو تاراج کرنا—یہ سب جمیعت کے منصوبے اور اشارے پر ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ جمیعت نے اپنی سیاست اور بدمعاشی کو زندہ رکھنے کے لیے پختون طلبہ کو بطور ہتھیار استعمال کیا۔

افسوس اس بات کا ہے کہ پختون طلبہ کے اپنے ہی چند بکے ہوئے نام نہاد لیڈر جمیعت کے ساتھ جا ملے۔ انہوں نے اپنی ہی قوم کے نوجوانوں کو دھوکے میں رکھا اور انہیں تعلیم کے بجائے جمیعت کی غنڈہ گردی کا حصہ بنا دیا۔ اصل میں یہ حملہ پختون طلبہ کا نہیں، بلکہ جمیعت کا تھا—بس چہرہ پختون طلبہ کا آگے کر دیا گیا۔

کیا تعلیم کے لیے آنے والے نوجوان صرف اس لیے قربان ہوں کہ جمیعت اپنی دہشت اور قبضہ قائم رکھ سکے؟ کیا پختون طلبہ کا مستقبل اتنا سستا ہے کہ چند پیسے اور مفاد کی خاطر ان کے اپنے لیڈر انہیں غلط راہوں پر ڈال دیں؟

اب فیصلہ شریف پختون طلبہ کے ہاتھ میں ہے: کیا وہ جمیعت کے غلام بن کر اپنی شناخت کھو دیں گے، یا پھر جمیعت اور ان کے بکے ہوئے ایجنٹوں کو مسترد کر کے اپنی تعلیم اور مستقبل کو بچائیں گے؟

جمیعت نے پختون طلبہ کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر کے پنجاب یونیورسٹی کی انتظامیہ پر حملہ کروا دیا اور یونیورسٹی کے محا...
04/10/2025

جمیعت نے پختون طلبہ کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر کے پنجاب یونیورسٹی کی انتظامیہ پر حملہ کروا دیا اور یونیورسٹی کے محافظوں کو لہو لہان کر دیا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ پختون طلبہ کے پنجاب یونیورسٹی کے نام نہاد "لیڈر" بھی جمیعت کے ہاتھوں بک گئے ہیں اور انہوں نے اپنی ہی قوم کے نوجوانوں کو غلط راہ پر ڈال دیا۔

پختون طلبہ، جو پہلے ہی بڑے مشکل مراحل سے گزر رہے تھے، آج جمیعت جیسی غنڈہ گرد تنظیم کے ہاتھوں استعمال ہو کر اپنے مستقبل کو داؤ پر لگا بیٹھے ہیں۔ کیا تعلیم کے لیے آنے والے یہ نوجوان صرف اس لیے قربان ہوں کہ جمیعت اپنی سیاست اور بدمعاشی کو زندہ رکھ سکے؟

اب وقت ہے کہ شریف پختون طلبہ اس سب پر سوچیں—کیا وہ بھی انہی چند بکے ہوئے نام نہاد لیڈروں کے پیچھے چلیں گے یا اپنی تعلیم، اپنے مستقبل اور اپنی شناخت کو بچائیں گے؟

جمیعت نے پختون طلبہ کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر کے پنجاب یونیورسٹی کی انتظامیہ پر حملہ کروا دیا اور یونیورسٹی کے محا...
04/10/2025

جمیعت نے پختون طلبہ کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر کے پنجاب یونیورسٹی کی انتظامیہ پر حملہ کروا دیا اور یونیورسٹی کے محافظوں کو لہو لہان کر دیا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ پختون طلبہ کے پنجاب یونیورسٹی کے نام نہاد "لیڈر" بھی جمیعت کے ہاتھوں بک گئے ہیں اور انہوں نے اپنی ہی قوم کے نوجوانوں کو غلط راہ پر ڈال دیا۔

پختون طلبہ، جو پہلے ہی بڑے مشکل مراحل سے گزر رہے تھے، آج جمیعت جیسی غنڈہ گرد تنظیم کے ہاتھوں استعمال ہو کر اپنے مستقبل کو داؤ پر لگا بیٹھے ہیں۔ کیا تعلیم کے لیے آنے والے یہ نوجوان صرف اس لیے قربان ہوں کہ جمیعت اپنی سیاست اور بدمعاشی کو زندہ رکھ سکے؟

اب وقت ہے کہ شریف پختون طلبہ اس سب پر سوچیں—کیا وہ بھی انہی چند بکے ہوئے نام نہاد لیڈروں کے پیچھے چلیں گے یا اپنی تعلیم، اپنے مستقبل اور اپنی شناخت کو بچائیں گے؟

04/10/2025

پنجاب یونیورسٹی میں پختون طلبہ نے ڈانس پروگرام کے بہانے سے نہ صرف یونیورسٹی انتظامیہ پر حملہ کر دیا بلکہ یونیورسٹی کے گارڈز پر بھی دھاوا بول دیا اور محافظوں کو لہو لہان کر دیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا اپنی ہی درسگاہ کو نقصان پہنچانا انقلاب ہے؟ وہی درسگاہ جہاں پختون طلبہ کے لیے خصوصی نشستیں مختص ہیں، جہاں انہیں الگ سے وظائف دیے جاتے ہیں، اور جہاں انہیں باقی صوبوں کے طلبہ کی نسبت زیادہ سہولتیں میسر ہیں۔

کیا یہ کھلی احسان فراموشی نہیں کہ جن سہولتوں کا مقصد تعلیم اور ترقی تھا، انہی کو بہانہ بنا کر ہنگامہ آرائی، تشدد اور بربادی کی جائے؟ اگر "انقلاب" کا مطلب ڈنڈے، خون خرابہ، توڑ پھوڑ اور انتشار ہے تو پھر تعلیم کا مقصد کیا رہ جاتا ہے؟

اصل انقلاب علم، شعور اور مثبت سوچ سے آتا ہے—نہ کہ اپنے ہی ادارے کے گارڈز کو زخمی کر کے اور درسگاہ کو تباہ کر کے

❓کب تک جمیعت پنجاب یونیورسٹی کے ہاسٹلز پر قبضہ کر کے معصوم طلبہ کو بلیک میل کرتی رہتی؟❓کب تک جمیعت بھتہ خوری کے نام پر ط...
04/10/2025

❓کب تک جمیعت پنجاب یونیورسٹی کے ہاسٹلز پر قبضہ کر کے معصوم طلبہ کو بلیک میل کرتی رہتی؟
❓کب تک جمیعت بھتہ خوری کے نام پر طلبہ کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالتی رہتی؟
❓کب تک جمیعت تعلیمی ادارے کو ڈنڈوں، تشدد اور خوف کی فیکٹری بنائے رکھتی؟
❓کب تک جمیعت کے ٹھیکیدار طلبہ کے مستقبل کے ساتھ کھیلتے رہتے؟
❓کب تک جمیعت یونیورسٹی کو اپنی ذاتی جاگیر اور نظریاتی اکھاڑا سمجھتی رہتی؟
❓کب تک والدین اپنے بچوں کو پنجاب یونیورسٹی بھیجنے سے خوفزدہ رہتے؟

یہ سب سوالات ہر طالبعلم اور ہر والدین کے دل کی آواز تھے۔ اور ان سب کا جواب صرف ایک شخصیت ہے:
👉 ڈاکٹر محمد علی شاہ

انہوں نے جمیعت کے ناجائز قبضے توڑے، ہاسٹلز طلبہ کو واپس دلائے، بھتہ خوری کا دروازہ بند کیا، اور یونیورسٹی کو ڈنڈے کے کلچر سے نکال کر قلم اور کتاب کی طرف واپس لائے۔

آج جمیعت کی چیخ و پکار دراصل اپنی مراعات کھونے کا رونا ہے، جبکہ اصل طلبہ اور ان کے والدین ڈاکٹر محمد علی شاہ کی پالیسیوں پر فخر کرتے ہیں۔

👏 سلام ڈاکٹر محمد علی شاہ – آپ نے پنجاب یونیورسٹی کو جمیعت کی دہشت گردی سے آزاد کرایا۔


پنجاب یونیورسٹی میں جمیعت کا واویلا صرف اس لیے ہے کہ ان کی ناجائز کمائیاں اور قبضہ گیری ختم ہو گئی ہے۔یہ بات کسی سے ڈھکی...
04/10/2025

پنجاب یونیورسٹی میں جمیعت کا واویلا صرف اس لیے ہے کہ ان کی ناجائز کمائیاں اور قبضہ گیری ختم ہو گئی ہے۔
یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ بوائز ہاسٹل نمبر 16، جو گرلز ہاسٹل نمبر 11 کے قریب واقع ہے، سالوں تک جمیعت کے دہشتگرد عناصر کے قبضے میں رہا۔ وہاں وہی عناصر رہائش پذیر تھے جو بھتہ خوری، غنڈہ گردی اور غیر قانونی دھندوں میں ملوث تھے۔ جب قانون نافذ کرنے والے اداروں نے آپریشن کیا تو انہی کمروں سے دہشتگرد پکڑے گئے۔

آج یہی لوگ پنجاب یونیورسٹی میں واویلا مچاتے ہیں، کیونکہ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد علی اور ڈی جی ریحان شیخ نے ان کی کالی کمائی اور غنڈہ گردی کا مکمل خاتمہ کر دیا ہے۔ ہاسٹلز میں بھتہ خوری بند کرائی گئی، قبضے چھڑوائے گئے اور طلبہ کو ایک پرامن اور تعلیمی ماحول مہیا کیا گیا۔

جمیعت کی اصل تکلیف یہ ہے کہ اب وہ دوبارہ وہی پرانا دہشت اور خوف کی فضا قائم نہیں کر سکتے۔ وہ چاہتے ہیں کہ یونیورسٹی پھر سے ان کے قبضے کا گڑھ بنے، مگر اس بار طلبہ، انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ایک پیج پر ہیں۔ پوری یونیورسٹی انتظامیہ وائس چانسلر محمد علی اور ڈی جی ریحان شیخ کی قیادت میں مضبوطی سے کھڑی ہے، اور کسی قیمت پر بھی جمیعت کے ان دہشتگرد عزائم کو کامیاب نہیں ہونے دے گی۔

Address

University Of The Punjab Lahore
Lahore
54000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Punjab University News Time posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share