25/04/2026
نمائش اور دکھاوے کی زندگی تھکا دینے والی ہوتی ہے۔ دوسروں کو متاثر کرنے کے لیے پہنا گیا مصنوعی نقاب انسان کے اپنے چہرے کو ہی اجنبی بنا دیتا ہے۔ ہم کتنا وقت اس سوچ میں ضائع کر دیتے ہیں کہ دنیا ہمیں کیسا دیکھنا چاہتی ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کا ہر شخص اپنی ہی الجھنوں میں گرفتار ہے۔ اس ذہنی قید سے نکلنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ آپ جیسے ہیں، اسے تسلیم کریں اور اسی میں خوش رہنا سیکھیں۔