Media Express HD

Media Express HD Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Media Express HD, TV Channel, Lahore.

پاکستان کی سیاست، حکومتی فیصلوں اور عالمی پاور گیم کا گہرا تجزیہ۔
میڈیا ایکسپریس پر ہم شور نہیں کرتے، ہم حقیقت، پس منظر اور اثرات بیان کرتے ہیں۔
باخبر رہیں، آگے رہیں۔

🚨 تماشا میں ببرک شاہ پر تنقید، عدنان صدیقی نے زیب کو ٹوک دیااے آر وائی ڈیجیٹل کے مقبول ریئلٹی شو ’’تماشا سیزن 5‘‘ میں بب...
19/09/2026

🚨 تماشا میں ببرک شاہ پر تنقید، عدنان صدیقی نے زیب کو ٹوک دیا

اے آر وائی ڈیجیٹل کے مقبول ریئلٹی شو ’’تماشا سیزن 5‘‘ میں ببرک شاہ، زیب اور ڈاکٹر زی خان کے درمیان جاری تنازع ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ حالیہ دنوں ایک ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگا، جس میں ببرک شاہ کے حوالے سے نامناسب اور تحقیر آمیز گفتگو کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق زیب نے ببرک شاہ کو ’’غریب‘‘ اور ’’لو کلاس‘‘ جبکہ ڈاکٹر زی نے انہیں ’’تھرڈ کلاس‘‘ قرار دیا۔ اسی دوران فصیح کی جانب سے بھی ببرک شاہ کے لیے ’’درندہ‘‘ اور ’’کیکڑا‘‘ جیسے الفاظ استعمال کیے جانے کا ذکر سامنے آیا۔ اس گفتگو کے بعد تماشا کے بادشاہ سلامت کے کردار میں موجود عدنان صدیقی نے گھر کے شرکا کو سخت انداز میں مخاطب کیا۔

عدنان صدیقی نے شرکا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کسی شخص کو ’’تھرڈ کلاس‘‘ یا ’’آؤٹ ڈیٹڈ‘‘ کہنا، اس کے فالوورز پر سوال اٹھانا یا اس کے چپل پہننے کا مذاق اڑانا مناسب رویہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوام سب کچھ دیکھ رہی ہے اور یہ کسی ایک شخص کا گھر نہیں جہاں کسی دوسرے کو کم تر سمجھا جائے۔

عدنان صدیقی کا کہنا تھا کہ وہ جانتے ہیں کہ گھر کے اندر شرکا ایک دوسرے کے لیے کس طرح کی زبان استعمال کر رہے ہیں، تاہم وہ اس موقع پر مہذب الفاظ استعمال کر رہے ہیں۔ ان کی سخت گفتگو کے دوران ببرک شاہ سے متعلق کیے جانے والے تبصروں پر خاص طور پر توجہ دی گئی۔

تماشا سیزن 5 کے دوران گھر کے اندر ہونے والی گفتگو اور اختلافات کے کئی کلپس سوشل میڈیا پر بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ 24/7 لائیو فیڈ کی وجہ سے ناظرین کو شرکا کی باہمی گفتگو اور مختلف معاملات کی جھلکیاں ملتی رہتی ہیں، جن پر سوشل میڈیا پر فوری ردعمل بھی سامنے آتا ہے۔

عدنان صدیقی کی اس مداخلت کے بعد بعض سوشل میڈیا صارفین نے ان کے اقدام کو سراہا اور ببرک شاہ کے دفاع میں بات کرنے پر ان کی تعریف کی۔ کچھ صارفین کا کہنا تھا کہ اگر گھر میں کسی شریک کے خلاف نامناسب زبان استعمال کی گئی تھی تو اس پر کارروائی ضروری تھی۔

دوسری جانب کچھ صارفین نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر عدنان صدیقی کو معلوم تھا کہ یہ الفاظ کن شرکا کی جانب سے استعمال کیے گئے، تو انہیں نام لے کر اس معاملے کی نشاندہی کرنی چاہیے تھی۔ یہ تمام ردعمل سوشل میڈیا صارفین کی انفرادی آراء ہیں، جنہیں مجموعی عوامی رائے قرار نہیں دیا جا سکتا۔

تماشا جیسے ریئلٹی شوز میں شرکا کے درمیان اختلافات اور مقابلہ پروگرام کا حصہ ہوتے ہیں، تاہم اس واقعے نے دوبارہ یہ بحث چھیڑ دی ہے کہ تفریحی مقابلے میں ذاتی تضحیک اور نامناسب زبان کے استعمال کی حد کہاں ہونی چاہیے۔

آپ کے خیال میں تماشا میں اختلافِ رائے کے دوران شرکا کو ایک دوسرے کے لیے زبان کے استعمال میں کن حدود کا خیال رکھنا چاہیے؟

📌 میڈیا ایکسپریس کو فالو کریں تاکہ آپ تک اہم اور مستند خبریں بروقت پہنچتی رہیں۔

📌 خبر پسند آئے تو اسے اپنے دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں۔

🔎 تصدیقی نوٹ: ببرک شاہ، زیب اور عدنان صدیقی سے متعلق زیرِ بحث واقعے کی تفصیلات 19 ستمبر 2026 کی Reviewit رپورٹ میں بیان کی گئی ہیں۔ عدنان صدیقی کی گفتگو اور سوشل میڈیا صارفین کے ردعمل کو اسی رپورٹ کے مطابق پیش کیا گیا ہے، جبکہ صارفین کی آراء کو انفرادی ردعمل کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔

#تماشا5 #زیب

🚨 صبا قمر کا فلمی ساتھی اداکار سے محبت کا انکشافپاکستانی اداکارہ صبا قمر نے لندن میں ایک ملاقات کے دوران اپنی ماضی کی ای...
19/09/2026

🚨 صبا قمر کا فلمی ساتھی اداکار سے محبت کا انکشاف

پاکستانی اداکارہ صبا قمر نے لندن میں ایک ملاقات کے دوران اپنی ماضی کی ایک دلچسپ محبت کا ذکر کیا، تاہم انہوں نے اس فلمی ساتھی اداکار کا نام بتانے سے گریز کیا۔ صبا قمر ان دنوں برطانیہ میں موجود ہیں جہاں انہوں نے SKT Welfare کے لیے منعقدہ ایک چیریٹی ایونٹ اور میٹ اینڈ گریٹ میں شرکت کی۔

ملاقات کے دوران صبا قمر نے بتایا کہ چند سال قبل انہیں ایک فلم میں کام کرنے والے اپنے ساتھی اداکار سے محبت ہو گئی تھی۔ ان کے مطابق یہ کسی ڈرامے کے ساتھی اداکار نہیں بلکہ فلم کے اداکار تھے، جبکہ اب وہ شخص شادی شدہ ہیں، اسی لیے صبا نے ان کی شناخت ظاہر نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

صبا قمر نے ہنستے ہوئے بتایا کہ انہوں نے اس معاملے کا ذکر اپنی بھانجی سے بھی کیا تھا۔ بھانجی نے انہیں سمجھایا کہ ممکن ہے جنگل میں فلم کی شوٹنگ اور مسلسل ساتھ کام کرنے کی وجہ سے وقتی طور پر جذبات پیدا ہوئے ہوں، اس لیے انہیں اس معاملے کو بھول کر اپنی زندگی میں آگے بڑھنا چاہیے۔

اداکارہ کے مطابق انہوں نے اپنی بھانجی کی بات سے اتفاق کیا اور اس معاملے کو وہیں ختم کردیا۔ صبا نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ جس اداکار کی بات کر رہی ہیں وہ ٹی وی نہیں بلکہ فلمی اداکار ہیں۔

صبا قمر نے اداکار کا نام ظاہر نہ کرنے کی وجہ بھی بتائی اور کہا کہ چونکہ وہ اب شادی شدہ ہیں، اس لیے ان کا نام سامنے لانے سے ان کی اہلیہ کے لیے مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اداکارہ نے اپنی گفتگو میں کسی مخصوص نام کی تصدیق نہیں کی۔

صبا کے اس انکشاف کے بعد سوشل میڈیا پر مداحوں نے مختلف ناموں کے اندازے لگانا شروع کردیئے۔ بعض صارفین نے حمزہ خواجہ کا نام لیا، کیونکہ صبا قمر اور حمزہ خواجہ نے 2022 کی فلم ’’کملی‘‘ میں ایک ساتھ کام کیا تھا۔ فلم میں حمزہ خواجہ نے املتاس جبکہ صبا قمر نے حنا کا کردار ادا کیا تھا۔

تاہم یہ بات اہم ہے کہ حمزہ خواجہ یا کسی اور اداکار کا نام صبا قمر نے خود ظاہر یا تصدیق نہیں کیا۔ اس لیے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ناموں کو فی الحال صرف مداحوں کے اندازے کے طور پر ہی دیکھا جا سکتا ہے، نہ کہ صبا قمر کے بیان کی تصدیق کے طور پر۔

صبا قمر کے بیان میں جس فلمی ساتھی کا ذکر ہے، اس کی شناخت ابھی غیر واضح ہے۔ اداکارہ نے خود نام نہ بتانے کا فیصلہ کیا، جبکہ سوشل میڈیا پر مختلف قیاس آرائیاں جاری ہیں۔

آپ کے خیال میں صبا قمر کے اس انکشاف کے بعد سوشل میڈیا پر ناموں کے یہ اندازے محض قیاس آرائیاں ہیں یا کسی اداکار سے متعلق کوئی مضبوط اشارہ بھی موجود ہے؟

📌 میڈیا ایکسپریس کو فالو کریں تاکہ آپ تک اہم اور مستند خبریں بروقت پہنچتی رہیں۔

📌 خبر پسند آئے تو اسے اپنے دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں۔

🔎 تصدیقی نوٹ: صبا قمر کے لندن ایونٹ میں دیے گئے بیان کی تفصیلات متعدد میڈیا رپورٹس میں سامنے آئی ہیں۔ تاہم جس اداکار کا ذکر کیا گیا، اس کا نام صبا قمر نے ظاہر نہیں کیا، اس لیے حمزہ خواجہ یا کسی دوسرے اداکار سے متعلق سوشل میڈیا قیاس آرائی کی آزادانہ تصدیق موجود نہیں۔

#کملی

🚨 ’’درِ نجات‘‘ میں ابو بکر کا کردار ناظرین کی توجہ کا مرکز بن گیااُمیرہ احمد کے تحریر کردہ اور ثاقب خان کے ہدایت کردہ ڈر...
19/09/2026

🚨 ’’درِ نجات‘‘ میں ابو بکر کا کردار ناظرین کی توجہ کا مرکز بن گیا

اُمیرہ احمد کے تحریر کردہ اور ثاقب خان کے ہدایت کردہ ڈرامہ ’’درِ نجات‘‘ کی 14ویں قسط میں شہریار منور کے کردار ابو بکر نے ایک اہم موقع پر زریاب کا ساتھ دیا، جس کے بعد سوشل میڈیا پر اس کردار کے حوالے سے مختلف تبصرے سامنے آئے ہیں۔ ڈرامے میں شہریار منور ابو بکر، درِ فشاں سلیم زریاب اور نعمر نواز خان زمیل کے کردار ادا کر رہے ہیں۔

18 ستمبر 2026 کو نشر ہونے والی 14ویں قسط میں کہانی ایک ایسے موڑ پر پہنچی جہاں زریاب کو زمیل کی والدہ کی جانب سے سخت طعنوں اور الزام تراشی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ریویوِٹ کی رپورٹ کے مطابق زریاب شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو کر گھبراہٹ کی کیفیت میں چلی جاتی ہے اور ابو بکر اس موقع پر وہاں پہنچ کر اسے سنبھالتا ہے۔

قسط کے اس حصے میں ابو بکر زریاب کو پرسکون کرنے اور اسے دوبارہ خود کو سنبھالنے میں مدد کرتا ہے۔ اسی منظر کو ریویوِٹ نے ابو بکر کی جانب سے زریاب کی زندگی میں ایک مثبت کردار کے طور پر بیان کیا ہے۔

اس منظر کے بعد سوشل میڈیا پر بھی ابو بکر کے کردار کو لے کر ناظرین کے تبصرے سامنے آئے۔ بعض صارفین نے اسے پسند کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی زندگی میں بھی ابو بکر جیسے شخص کی خواہش رکھتے ہیں، جبکہ کچھ نے اسے صرف افسانوی کردار قرار دیا۔

ایک اور صارف نے کردار کو پسند کرنے کے باوجود یہ نکتہ اٹھایا کہ حقیقی زندگی میں خواتین کو خود اپنے لیے آواز اٹھانا اور اپنے مسائل سے نکلنے کے راستے تلاش کرنا چاہییں۔ یہ تبصرے سوشل میڈیا صارفین کی انفرادی آرا ہیں اور انہیں تمام ناظرین کی متفقہ رائے قرار نہیں دیا جا سکتا۔

’’درِ نجات‘‘ میں زریاب، زمیل اور ابو بکر کے کرداروں کے ذریعے رشتوں، سماجی رویوں، مذہبی و معاشرتی اقدار اور ذاتی فیصلوں جیسے موضوعات کو کہانی کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔ ARY Digital کے مطابق ڈرامہ ہر جمعہ اور ہفتہ رات 8 بجے نشر ہوتا ہے، جبکہ 14ویں قسط بھی اس کے آفیشل پلیٹ فارم پر دستیاب ہے۔

ابو بکر کے کردار کو ناظرین کی جانب سے ملنے والا ردعمل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اس کردار کے حالیہ اقدامات نے ڈرامے کی بحث میں ایک نیا پہلو شامل کیا ہے۔ تاہم کردار کے بارے میں ’’مثالی‘‘ یا ’’حقیقت سے دور‘‘ ہونے جیسے تبصرے بنیادی طور پر ناظرین کی ذاتی آرا ہیں۔

آپ نے ’’درِ نجات‘‘ کی 14ویں قسط دیکھی؟ ابو بکر کا یہ کردار آپ کو کیسا لگا؟

📌 میڈیا ایکسپریس کو فالو کریں تاکہ آپ تک اہم اور مستند خبریں بروقت پہنچتی رہیں۔

📌 خبر پسند آئے تو اسے اپنے دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں۔

تصدیقی نوٹ: 14ویں قسط کی تاریخ، کاسٹ اور کریڈٹس ARY Digital کے آفیشل مواد سے تصدیق کیے گئے ہیں۔ قسط کے مخصوص مناظر اور سوشل میڈیا ردعمل کی تفصیل 19 ستمبر 2026 کی ریویوِٹ رپورٹ پر مبنی ہے۔ سوشل میڈیا صارفین کے تبصرے انفرادی آرا ہیں، کسی باقاعدہ سروے کے نتائج نہیں۔

🚨 CSS امتحان میں پاسنگ مارکس 40 فیصد کرنے کی تجویز سامنے آگئیپاکستان میں سول سروس کے مجوزہ اصلاحاتی پیکیج کے تحت CSS امت...
19/09/2026

🚨 CSS امتحان میں پاسنگ مارکس 40 فیصد کرنے کی تجویز سامنے آگئی

پاکستان میں سول سروس کے مجوزہ اصلاحاتی پیکیج کے تحت CSS امتحان اور سرکاری افسران کی بھرتی کے طریقۂ کار میں کئی بڑی تبدیلیاں زیرِ غور ہیں۔ ان میں CSS امتحان کے پاسنگ مارکس 33 فیصد سے بڑھا کر 40 فیصد کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔

مجوزہ اصلاحات کے مطابق امیدواروں کو CSS کے لازمی پرچوں میں اردو یا انگریزی میں امتحان دینے کا اختیار دینے کی تجویز ہے۔ دستیاب رپورٹس کے مطابق پورا امتحان اردو میں دینے کا آپشن بھی زیرِ غور ہے، جبکہ انگریزی زبان کی اہلیت کو سرکاری ذمہ داریوں کے لیے ضروری قرار دیتے ہوئے اسے غیر ضروری رکاوٹ نہ بنانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔

حکومت CSS اور سول سروس میں بھرتی کے پورے عمل کو ڈیجیٹل بنانے اور اسے تقریباً چھ ماہ یا اس سے کم مدت میں مکمل کرنے کی تجویز بھی زیرِ غور لا رہی ہے۔ موجودہ نظام میں بھرتی کا عمل اس سے کہیں زیادہ وقت لیتا ہے، اس لیے اصلاحات میں رفتار اور ڈیجیٹلائزیشن کو اہم حصہ بنایا گیا ہے۔

مجوزہ نظام میں مختلف شعبوں کے لیے خصوصی بھرتی کا طریقہ بھی شامل ہے۔ اس مقصد کے لیے کلسٹر بیسڈ امتحانات یا مختلف پیشہ ورانہ گروپس کے لیے الگ ٹیسٹ متعارف کرانے کی تجاویز زیرِ غور ہیں، تاکہ مخصوص شعبوں کے لیے متعلقہ مہارت رکھنے والے امیدواروں کو بھرتی کیا جا سکے۔ تاہم اس معاملے پر اصلاحاتی کمیٹی کے اندر مکمل اتفاقِ رائے کی تفصیلات مختلف رپورٹس میں مختلف انداز سے بیان ہوئی ہیں۔

اسی اصلاحاتی پیکیج میں گریڈ 20 اور اس سے اوپر کی بعض وفاقی آسامیوں کے لیے ’’نیشنل ایگزیکٹو سروس‘‘ قائم کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔ اس تصور کے تحت سرکاری افسران کے علاوہ نجی شعبے اور اکیڈمیا سے تعلق رکھنے والے افراد کو بھی مخصوص اعلیٰ عہدوں کے لیے مقابلے کا موقع دینے کی بات کی گئی ہے۔ تاہم اس تجویز پر بھی اصلاحاتی کمیٹی میں اختلافِ رائے کی نشاندہی کی گئی ہے۔

وزارتِ منصوبہ بندی کے مطابق وزیراعظم کی قائم کردہ سول سروس اصلاحات کمیٹی نے مجموعی طور پر 46 سفارشات تیار کی ہیں، جن میں سے 43 پر وسیع اتفاقِ رائے سامنے آیا ہے جبکہ چند اہم معاملات مزید مشاورت کے لیے باقی ہیں۔ 19 ستمبر 2026 کو وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی زیرِ صدارت ہونے والے مشاورتی اجلاس میں بھی ان اصلاحات پر سیاسی رہنماؤں، ماہرین اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی گئی۔

اصلاحات کا دائرہ صرف CSS امتحان تک محدود نہیں بلکہ سرکاری افسران کی تربیت، کارکردگی کے جائزے، ترقی، معاوضوں اور انتظامی ڈھانچے میں تبدیلیوں تک پھیلا ہوا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ مقصد زیادہ خصوصی مہارت رکھنے والی، جواب دہ اور ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ سول سروس تشکیل دینا ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ یہ تبدیلیاں اس وقت **مجوزہ اصلاحات** کی حیثیت رکھتی ہیں؛ انہیں موجودہ CSS قواعد میں نافذ شدہ تبدیلی سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ حتمی منظوری اور عمل درآمد کے بعد ہی یہ واضح ہوگا کہ کون سی سفارشات کس شکل میں نافذ ہوتی ہیں۔

اگر یہ اصلاحات منظور ہو جاتی ہیں تو CSS امیدواروں کے لیے امتحان کی زبان، پاسنگ معیار اور بھرتی کے پورے عمل میں نمایاں تبدیلیاں آ سکتی ہیں۔

📌 میڈیا ایکسپریس کو فالو کریں تاکہ آپ تک اہم اور مستند خبریں بروقت پہنچتی رہیں۔

📌 خبر پسند آئے تو اسے اپنے دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں۔

تصدیقی نوٹ: 43 میں سے 46 سفارشات پر اتفاقِ رائے اور اصلاحاتی پیکیج سے متعلق بنیادی معلومات وزارتِ منصوبہ بندی کے 19 ستمبر 2026 کے سرکاری بیان سے تصدیق کی گئی ہیں۔ CSS میں 33 سے 40 فیصد پاسنگ تھریش ہولڈ، اردو یا انگریزی میں امتحان، ڈیجیٹل بھرتی اور چھ ماہ کے سائیکل سے متعلق تفصیلات حالیہ پاکستانی میڈیا رپورٹس میں مجوزہ اصلاحات کے طور پر بیان ہوئی ہیں۔ نیشنل ایگزیکٹو سروس اور خصوصی بھرتی کے بعض پہلوؤں پر اختلافِ رائے موجود ہونے کے باعث انہیں حتمی فیصلے کے طور پر پیش نہیں کیا گیا۔

#پاکستان

🚨 ٹیکنالوجی میں ورچوئل گلے کا تجربہ، ’’ہگ شرٹ‘‘ متعارفٹیکنالوجی کی دنیا میں انسانی لمس کو فاصلے کے باوجود محسوس کرانے کی...
19/09/2026

🚨 ٹیکنالوجی میں ورچوئل گلے کا تجربہ، ’’ہگ شرٹ‘‘ متعارف

ٹیکنالوجی کی دنیا میں انسانی لمس کو فاصلے کے باوجود محسوس کرانے کی کوشش نئی بات نہیں، لیکن لندن کی فیشن ٹیک کمپنی CuteCircuit کی ’’HugShirt‘‘ اس تصور کو پہننے کے قابل لباس کی شکل دیتی ہے۔

کمپنی کے مطابق ’’HugShirt‘‘ میں ایسے سینسرز اور ہَیپٹک ایکچویٹرز نصب ہیں جو گلے ملنے کے دوران لمس اور دباؤ سے متعلق معلومات کو ریکارڈ کرتے ہیں۔ یہ ڈیٹا موبائل فون اور HugShirt ایپ کے ذریعے دوسرے شخص تک منتقل کیا جا سکتا ہے، جہاں لباس موجود سگنلز کو ٹچ اور وائبریشن جیسی جسمانی کیفیت میں دوبارہ پیش کرتا ہے۔

یعنی اگر دو افراد ایک دوسرے سے دور ہوں تو ایک شخص HugShirt کے مخصوص حصوں کو چھو کر یا خود کو گلے لگا کر ’’ہگ‘‘ ریکارڈ کر سکتا ہے۔ ایپ کے ذریعے یہ ڈیٹا دوسرے صارف کے فون تک پہنچتا ہے اور وہاں سے شرٹ اسے ہَیپٹک احساسات کی صورت میں منتقل کرتی ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ عمل حقیقی وقت میں بھی کیا جا سکتا ہے، اگر دونوں صارفین ایپ کے ذریعے منسلک ہوں۔

CuteCircuit کے مطابق شرٹ کے اندر موجود ٹیکنالوجی کو اس انداز میں تیار کیا گیا ہے کہ یہ لمس کے مقام اور دباؤ سمیت گلے کے مختلف پہلوؤں کو محسوس کرکے انہیں دوسرے لباس میں دوبارہ تخلیق کر سکے۔ کمپنی اسے ’’touch telecommunication‘‘ یعنی فاصلے پر لمس منتقل کرنے والی ٹیکنالوجی کے طور پر بیان کرتی ہے۔

اس ٹیکنالوجی کا مقصد صرف تفریح نہیں بلکہ ان لوگوں کو بھی ایک مختلف تجربہ فراہم کرنا ہے جو کام، تعلیم یا دیگر وجوہات کی بنا پر اپنے خاندان، دوستوں یا شریکِ حیات سے دور رہتے ہیں۔ CuteCircuit خود واضح کرتی ہے کہ HugShirt انسانی رابطے کی جگہ لینے کے لیے نہیں بلکہ دوری کے دوران اپنوں سے جڑے رہنے کا ایک اضافی ذریعہ ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ’’HugShirt‘‘ کوئی بالکل نئی ایجاد نہیں۔ CuteCircuit کے مطابق اسے پہلی بار 2002 میں متعارف کرایا گیا تھا اور 2006 میں TIME میگزین نے اسے اپنی ’’Best Inventions of the Year‘‘ فہرست میں شامل کیا تھا۔ کمپنی اس ٹیکنالوجی کو گزشتہ برسوں میں مزید جدید شکل دیتی رہی ہے۔

موجودہ ورژن میں کمپنی نے لباس کو اسمارٹ ٹیکسٹائل اور وائرلیس کنیکٹیویٹی کے ساتھ تیار کیا ہے، جبکہ اس کی موجودہ ویب سائٹ پر HugShirt کو پری آرڈر کے لیے بھی پیش کیا جا رہا ہے۔ کمپنی کے مطابق موجودہ ڈیزائن میں روایتی تاروں کے بجائے اسمارٹ فیبرک اور ہَیپٹک ایکچویٹرز استعمال کیے گئے ہیں۔

یوں ویڈیو کال، وائس میسج اور ایموجی کے بعد ٹیکنالوجی اب جذباتی رابطے کے ایک اور پہلو یعنی ’’لمس‘‘ کو بھی ڈیجیٹل دنیا میں منتقل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

اگر آپ اپنے کسی دور رہنے والے عزیز کو صرف ایک کلک سے ’’ورچوئل گلے‘‘ بھیج سکیں تو کیا آپ یہ ٹیکنالوجی استعمال کریں گے؟

📌 میڈیا ایکسپریس کو فالو کریں تاکہ آپ تک اہم اور مستند خبریں بروقت پہنچتی رہیں۔

📌 خبر پسند آئے تو اسے اپنے دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں۔

تصدیقی نوٹ: ’’HugShirt‘‘ اور اس کی ٹیکنالوجی سے متعلق معلومات CuteCircuit کی آفیشل ویب سائٹ اور کمپنی کے موجودہ پروڈکٹ مواد سے تصدیق کی گئی ہیں۔ ایک اہم تصحیح یہ ہے کہ یہ ٹیکنالوجی 2026 میں پہلی بار متعارف نہیں ہوئی؛ CuteCircuit کے مطابق اصل HugShirt کا تصور 2002 میں متعارف ہوا تھا۔ موجودہ ورژن اسی ٹیکنالوجی کی جدید شکل ہے۔

🚨 اقرار الحسن کی جمائما خان کے لیے نیک تمنائیں، بیٹوں کی پرورش کی تعریفٹی وی میزبان اور عوام راج تحریک کے سربراہ اقرار ا...
19/09/2026

🚨 اقرار الحسن کی جمائما خان کے لیے نیک تمنائیں، بیٹوں کی پرورش کی تعریف

ٹی وی میزبان اور عوام راج تحریک کے سربراہ اقرار الحسن نے جمائما خان کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے ان کی عمران خان کے ساتھ سابقہ ازدواجی زندگی اور اپنے بیٹوں کی پرورش کو سراہا ہے۔

19 ستمبر 2026 کو سامنے آنے والے ایک پوڈکاسٹ میں اقرار الحسن نے کہا کہ جمائما خان نے عمران خان کا بہت ساتھ دیا، پاکستان آئیں اور یہاں رہیں۔ انہوں نے جمائما گولڈ اسمتھ کو ایک ’’عزت دار خاتون‘‘ کی مثال بھی قرار دیا۔

اقرار الحسن نے کہا کہ ان کے خیال میں جمائما نے اپنے بیٹوں سلیمان اور قاسم کی اچھی پرورش کی ہے۔ انہوں نے دونوں نوجوانوں کے اندازِ گفتگو کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ لوگ ان کی باتوں سے اختلاف کر سکتے ہیں۔

اقرار الحسن نے جمائما کے حالیہ ازدواجی فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنی زندگی کے فیصلے کرنے اور آگے بڑھنے کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے جمائما کو زندگی کے نئے سفر پر مبارکباد دیتے ہوئے ان کے لیے خوشیوں اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

جمائما گولڈ اسمتھ نے ستمبر 2026 میں آسٹریلوی نژاد آئرش فنانسر کیمرون اورائلی کے ساتھ اپنی شادی کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کی تھیں۔ یہ ان کی دوسری شادی ہے۔ اس سے قبل ان کی شادی عمران خان سے ہوئی تھی، جو 1995 سے 2004 تک قائم رہی۔ دونوں کے دو بیٹے سلیمان خان اور قاسم خان ہیں۔

اقرار الحسن نے اس موقع پر جمائما کے بیٹوں اور ان کی بیٹی کی شادی کی تقریب میں موجودگی کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ انہیں یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ خاندان کے افراد اس موقع پر ان کے ساتھ تھے۔

یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جمائما کی دوسری شادی کے بعد پاکستان میں بھی ان کے حوالے سے تبصرے اور ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔ اقرار الحسن کا بیان بنیادی طور پر جمائما کے ذاتی فیصلے، ان کی سابقہ ازدواجی زندگی اور بچوں کی پرورش کے حوالے سے ان کی ذاتی رائے پر مشتمل ہے۔

واضح رہے کہ اقرار الحسن اس وقت سیاسی سرگرمیوں میں بھی فعال ہیں، اس لیے ان کے بیان کو ان کی ذاتی رائے اور سیاسی و عوامی گفتگو کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔

📌 میڈیا ایکسپریس کو فالو کریں تاکہ آپ تک اہم اور مستند خبریں بروقت پہنچتی رہیں۔

📌 خبر پسند آئے تو اسے اپنے دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں۔

تصدیقی نوٹ: اقرار الحسن کے بیان اور جمائما خان کی نئی شادی سے متعلق تفصیلات 19 ستمبر 2026 کو شائع ہونے والی اردوپوائنٹ اور پاکستان پوائنٹ کی رپورٹس سے تصدیق کی گئی ہیں۔ جمائما کی سابقہ شادی اور ان کے دو بیٹوں سے متعلق بنیادی معلومات بھی دستیاب معتبر رپورٹس سے مطابقت رکھتی ہیں۔ اقرار الحسن کی جانب سے جمائما اور ان کے بیٹوں کے بارے میں کیے گئے بعض تعریفی تبصرے ان کی ذاتی رائے ہیں، جنہیں خبر میں اسی حیثیت سے پیش کیا گیا ہے۔

#اقرارالحسن #جمائماخان

🚨 تماشا سے باہر بھی دوستی برقرار، رمشا صلاح الدین کی ثاقب سمیر سے ملاقات’’تماشا‘‘ سے حال ہی میں ایلیمینیٹ ہونے والی رمشا...
19/09/2026

🚨 تماشا سے باہر بھی دوستی برقرار، رمشا صلاح الدین کی ثاقب سمیر سے ملاقات

’’تماشا‘‘ سے حال ہی میں ایلیمینیٹ ہونے والی رمشا صلاح الدین نے شو کے ساتھی کنٹسٹنٹ ثاقب سمیر اور ان کی اہلیہ سے ملاقات کی، جس کی جھلکیاں انہوں نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر شیئر کی ہیں۔

رمشا صلاح الدین نے ایک ریل میں بتایا کہ وہ اپنی بیٹی کے ہمراہ ثاقب سمیر کے گھر جا رہی تھیں اور اس ملاقات کے بارے میں انہوں نے پہلے سے ثاقب یا ان کے اہلِ خانہ کو نہیں بتایا تھا۔ ان کے مطابق ’’تماشا‘‘ ہاؤس میں قیام کے دوران دونوں نے کافی پر ملاقات کرنے کا وعدہ کیا تھا، جس کے بعد انہوں نے اچانک گھر جا کر انہیں سرپرائز دینے کا فیصلہ کیا۔

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ رمشا کے گھر پہنچنے پر ثاقب سمیر کے بچوں نے دروازہ کھولا اور انہیں گرمجوشی سے گلے لگایا۔ اس کے بعد ثاقب سمیر بھی ان سے ملنے آئے، جبکہ رمشا نے ان کی اہلیہ سے بھی ملاقات کی۔

رمشا کے مطابق ملاقات کے دوران دونوں خاندانوں نے ایک ساتھ وقت گزارا۔ ’’تماشا‘‘ میں رمشا اور ثاقب سمیر کے درمیان دوستانہ تعلق نمایاں رہا تھا اور شو سے باہر آنے کے بعد بھی ان کی یہ دوستی برقرار دکھائی دے رہی ہے۔

رمشا صلاح الدین ’’تماشا‘‘ کی حالیہ سیزن کی نمایاں کنٹسٹنٹس میں شامل رہی ہیں۔ شو سے باہر ہونے کے بعد وہ مختلف انٹرویوز میں بھی نظر آ رہی ہیں اور اپنی اداکاری کے حوالے سے بھی خبروں میں ہیں۔ ریویوِٹ کی 19 ستمبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق وہ جیو ٹی وی کے ڈراموں ’’خارا‘‘ اور ’’نشتر‘‘ میں اداکاری پر بھی توجہ حاصل کر رہی ہیں۔

دوسری جانب ثاقب سمیر بھی ’’تماشا‘‘ کے گھر میں رمشا کے ساتھی کنٹسٹنٹ رہے۔ دونوں کی حالیہ ملاقات کی ویڈیو میں ان کے اہلِ خانہ کی شرکت نے اس ملاقات کو مزید خوشگوار بنا دیا۔

شو کے دوران بننے والی دوستیاں اکثر پروگرام ختم ہونے کے بعد بھی برقرار رہتی ہیں، اور رمشا اور ثاقب سمیر کی یہ ملاقات بھی اسی تعلق کی ایک جھلک پیش کرتی ہے۔

📌 میڈیا ایکسپریس کو فالو کریں تاکہ آپ تک اہم اور مستند خبریں بروقت پہنچتی رہیں۔
📌 خبر پسند آئے تو اسے اپنے دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں۔

تصدیقی نوٹ: رمشا صلاح الدین اور ثاقب سمیر کی ملاقات سے متعلق معلومات رمشا کی جانب سے شیئر کی گئی انسٹاگرام ریل کی تفصیل اور 19 ستمبر 2026 کو شائع ہونے والی ریویوِٹ کی رپورٹ پر مبنی ہیں۔ ملاقات، بچوں کی جانب سے استقبال اور اہلِ خانہ کے ساتھ وقت گزارنے کی تفصیلات اسی رپورٹ میں بیان کی گئی ہیں۔

#تماشا

اداکار نبیل ظفر کا زندگی اور موت کے حوالے سے معنی خیز پیغاماداکار و میزبان نبیل ظفر نے سوشل میڈیا پر زندگی، موت اور انسا...
19/09/2026

اداکار نبیل ظفر کا زندگی اور موت کے حوالے سے معنی خیز پیغام

اداکار و میزبان نبیل ظفر نے سوشل میڈیا پر زندگی، موت اور انسان کے مقصدِ حیات کے حوالے سے ایک معنی خیز پیغام شیئر کیا، جس نے مداحوں کی توجہ حاصل کی۔

شیئر کیے گئے پیغام میں انسان کو اس حقیقت کی طرف متوجہ کیا گیا کہ بالآخر ہر شخص نے اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ اس تناظر میں زندگی کو غفلت کے بجائے شعور، اچھے کردار، نیکی اور مقصد کے ساتھ گزارنے کی تلقین کی گئی۔

نبیل ظفر کی جانب سے شیئر کیا گیا یہ مختصر پیغام زندگی کی عارضی حیثیت اور وقت کی قدر کرنے کی یاد دہانی کراتا ہے۔ پیغام کا مرکزی مفہوم یہی ہے کہ انسان کو اپنی روزمرہ مصروفیات کے ساتھ ساتھ اپنے اعمال، رویے اور دوسروں کے ساتھ برتاؤ پر بھی غور کرنا چاہیے۔

دستیاب حالیہ رپورٹس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ نبیل ظفر حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر فکری اور زندگی سے متعلق پیغامات شیئر کر رہے ہیں۔ 16 ستمبر 2026 کو ان کی جانب سے منٹو سے منسوب ایک پیغام بھی شیئر کیے جانے کی رپورٹ سامنے آئی تھی، جس میں دنیا داری، مکاری، اداکاری اور غداری جیسے موضوعات کا ذکر تھا۔

تاہم اس مخصوص پیغام کے اصل الفاظ اور مکمل Instagram Story کا براہِ راست عوامی ریکارڈ دستیاب نہ ہونے کے باعث اس کے الفاظ کو نبیل ظفر کا براہِ راست قول قرار دینے کے بجائے اسے ان کی جانب سے شیئر کیا گیا پیغام کہنا زیادہ محتاط طرزِ صحافت ہے۔

زندگی مختصر ہے اور وقت واپس نہیں آتا، اس لیے انسان کے لیے اپنے وقت، کردار اور اعمال کا جائزہ لیتے رہنا ہی اس پیغام کا بنیادی سبق قرار دیا جا سکتا ہے۔

آپ کے خیال میں زندگی میں کامیابی کے ساتھ ساتھ اچھے کردار اور دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنا کتنا ضروری ہے؟

📌 میڈیا ایکسپریس کو فالو کریں تاکہ آپ تک اہم اور مستند خبریں بروقت پہنچتی رہیں۔
📌 خبر پسند آئے تو اسے اپنے دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں۔

نوٹ: یہ خبر دستیاب سوشل میڈیا مواد اور حالیہ عوامی رپورٹس کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ اس مخصوص Instagram Story کے مکمل اصل متن کی آزادانہ تصدیق دستیاب نہیں ہوسکی، اس لیے اس کے مفہوم کو بیان کیا گیا ہے اور غیرمصدقہ تفصیلات شامل نہیں کی گئیں۔

#نبیلظفر

🚨 فیاض چوہان کا دعویٰ، علیم خان نے 22 غیرملکی دورے ذاتی خرچ پر کیےاستحکامِ پاکستان پارٹی کے رہنما فیاض الحسن چوہان نے دع...
19/09/2026

🚨 فیاض چوہان کا دعویٰ، علیم خان نے 22 غیرملکی دورے ذاتی خرچ پر کیے

استحکامِ پاکستان پارٹی کے رہنما فیاض الحسن چوہان نے دعویٰ کیا ہے کہ وفاقی وزیر عبدالعلیم خان نے 22 غیرملکی سرکاری دورے کیے اور ان تمام دوروں کے اخراجات ذاتی طور پر برداشت کیے۔

فیاض الحسن چوہان کے مطابق عبدالعلیم خان نے ان دوروں کے لیے ذاتی طیارہ بھی استعمال کیا اور قومی خزانے پر ان سفری اخراجات کا بوجھ نہیں ڈالا۔ انہوں نے اس طرزِ عمل کو دیگر صاحبِ حیثیت سیاستدانوں کے لیے قابلِ تقلید قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ روایت دوسرے مالدار سیاستدانوں کے لیے بھی مشعلِ راہ ہے۔

عبدالعلیم خان اس وقت وفاقی وزیرِ مواصلات ہیں اور سرکاری سطح پر مختلف ممالک کے دورے بھی کرتے رہے ہیں۔ ان کی سرکاری سرگرمیوں میں روس، چین اور دیگر ممالک کے حکام اور کاروباری وفود کے ساتھ ملاقاتیں شامل رہی ہیں۔ ان کی سرکاری ویب سائٹ پر بھی متعدد غیرملکی ملاقاتوں اور دوروں کی تفصیلات موجود ہیں۔

تاہم ’’22 غیرملکی سرکاری دورے‘‘، ان تمام دوروں کے ذاتی طیارے سے کیے جانے اور مکمل اخراجات ذاتی طور پر برداشت کرنے سے متعلق مخصوص اعداد و شمار کی آزادانہ سرکاری تصدیق دستیاب ذرائع میں نہیں مل سکی۔ اس لیے یہ معلومات فی الحال فیاض الحسن چوہان کے بیان سے منسوب ہیں، حتمی طور پر ثابت شدہ سرکاری اعداد و شمار کے طور پر پیش نہیں کی جا سکتیں۔

قومی اسمبلی کے حوالے سے ایک الگ سرکاری وضاحت میں یہ اصول سامنے آ چکا ہے کہ بعض پارلیمانی مذہبی دوروں کے اخراجات اراکین خود برداشت کرتے ہیں، لیکن اس وضاحت کا عبدالعلیم خان کے مذکورہ 22 غیرملکی دوروں سے براہِ راست تعلق ثابت نہیں ہوتا۔

اگر عبدالعلیم خان کے تمام غیرملکی سرکاری دوروں، ان کے سفری ذرائع اور اخراجات کی مکمل سرکاری تفصیلات سامنے آتی ہیں تو اس دعوے کی مزید واضح طور پر جانچ ممکن ہوگی۔

📌 میڈیا ایکسپریس کو فالو کریں تاکہ آپ تک اہم اور مستند خبریں بروقت پہنچتی رہیں۔
📌 خبر پسند آئے تو اسے اپنے دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں۔

تصدیقی نوٹ: فیاض الحسن چوہان کے بیان میں 22 غیرملکی دوروں اور ذاتی اخراجات کا دعویٰ موجود ہے، تاہم دستیاب معتبر سرکاری ذرائع سے اس مخصوص دعوے کی مکمل آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔ عبدالعلیم خان کے مختلف سرکاری غیرملکی دوروں کی موجودگی سرکاری مواد سے ظاہر ہوتی ہے، مگر 22 دوروں کی تعداد اور تمام اخراجات ذاتی طور پر ادا کرنے کی تفصیل الگ سے تصدیق طلب ہے۔

🚨 ہارون شاہد کا انکشاف، ’’ورنہ‘‘ کے لیے کرینہ کپور پہلی پسند تھیںپاکستانی اداکار و گلوکار ہارون شاہد نے انکشاف کیا ہے کہ...
19/09/2026

🚨 ہارون شاہد کا انکشاف، ’’ورنہ‘‘ کے لیے کرینہ کپور پہلی پسند تھیں

پاکستانی اداکار و گلوکار ہارون شاہد نے انکشاف کیا ہے کہ ان کی ڈیبیو فلم ’’ورنہ‘‘ میں مرکزی خاتون کردار کے لیے بالی ووڈ اداکارہ کرینہ کپور سے بھی بات چیت ہوئی تھی اور وہ اس کردار کے لیے ابتدائی پسند تھیں۔

ہارون شاہد نے حال ہی میں وصی شاہ کے پروگرام ’’زبردست‘‘ میں شرکت کی، جہاں انہوں نے اپنی 2017 کی فلم ’’ورنہ‘‘ سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ہدایت کار شعیب منصور نے ابتدا میں کرینہ کپور سے فلم کے لیے بات کی تھی۔ ان کے مطابق اس وقت شعیب منصور کے بھارت میں اچھے روابط تھے اور ان کی فلمیں ’’خدا کے لیے‘‘ اور ’’بول‘‘ وہاں بھی جانی جاتی تھیں۔

ہارون شاہد کے مطابق کرینہ کپور اس منصوبے کا حصہ بننے والی تھیں، تاہم اس دوران وہ اپنے بچے کی توقع کر رہی تھیں، جس کے باعث انہوں نے فلم سے علیحدگی اختیار کرلی۔ اس کے بعد شعیب منصور نے ہارون شاہد سے کہا کہ کرینہ یہ فلم نہیں کر سکتیں، لیکن مہیرہ خان کے بارے میں کیا خیال ہے۔

ہارون شاہد نے بتایا کہ وہ مہیرہ خان کے انتخاب پر بھی خوش تھے کیونکہ ان کے بقول دونوں اداکارائیں اپنے مقام پر بڑی اسٹارز تھیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ فلم کی شوٹنگ کے دوران مہیرہ خان کے رویے اور پیشہ ورانہ انداز سے متاثر ہوئے اور انہیں محنتی اور معاون اداکارہ قرار دیا۔ یہ تمام تفصیلات ہارون شاہد کے حالیہ انٹرویو میں دیے گئے بیان پر مبنی ہیں۔

’’ورنہ‘‘ 2017 میں شعیب منصور کی تحریر، ہدایت اور پروڈکشن میں ریلیز ہونے والی پاکستانی فلم تھی۔ فلم میں مہیرہ خان نے سارا کا مرکزی کردار ادا کیا جبکہ ہارون شاہد نے آمی کا کردار نبھایا۔ فلم 17 نومبر 2017 کو ریلیز ہوئی تھی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ فلم کی ریلیز سے قبل 2017 میں دی نیوز کے ’’انسٹیپ‘‘ نے بھی رپورٹ کیا تھا کہ مہیرہ خان کے فلم کا حصہ بننے سے پہلے ایک دوسری اداکارہ کے ساتھ بات چیت ہوئی تھی، تاہم اس وقت اس اداکارہ کا نام ظاہر نہیں کیا گیا تھا۔

بعد میں مہیرہ خان ہی ’’ورنہ‘‘ کی مرکزی اداکارہ بنیں اور فلم کے آفیشل ٹریلر اور دیگر پروموشنل مواد میں بھی ان کا نام نمایاں طور پر شامل رہا۔

ہارون شاہد نے گفتگو کے دوران یہ بھی کہا کہ اگر انہیں کرینہ کپور اور مہیرہ خان میں سے انتخاب کرنا ہو تو وہ مہیرہ خان کو ترجیح دیں گے، کیونکہ وہ ان کے ساتھ متعدد مرتبہ کام کر چکے ہیں۔

یوں تقریباً نو برس بعد ہارون شاہد کے اس انکشاف نے ’’ورنہ‘‘ کی کاسٹنگ کے حوالے سے ایک پرانی مگر کم معروف بات دوبارہ سامنے لے آئی ہے۔ تاہم کرینہ کپور کے فلم کے لیے ابتدائی انتخاب سے متعلق تازہ تفصیل بنیادی طور پر ہارون شاہد کے اپنے بیان پر مبنی ہے، جبکہ 2017 کی ایک رپورٹ میں صرف کسی دوسری اداکارہ سے ابتدائی رابطے کا ذکر موجود تھا۔

📌 میڈیا ایکسپریس کو فالو کریں تاکہ آپ تک اہم اور مستند خبریں بروقت پہنچتی رہیں۔

📌 خبر پسند آئے تو اسے اپنے دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں۔

تصدیقی نوٹ: ’’ورنہ‘‘ کی کاسٹ، ڈائریکٹر اور ریلیز سے متعلق معلومات متعدد دستیاب ذرائع سے تصدیق شدہ ہیں۔ کرینہ کپور کے ابتدائی انتخاب اور ان کے فلم سے الگ ہونے کی مخصوص تفصیل ہارون شاہد کے ستمبر 2026 کے انٹرویو میں دیے گئے بیان سے منسوب ہے؛ اس دعوے کی آزادانہ طور پر مکمل دستاویزی تصدیق دستیاب ذرائع میں نہیں ملی۔

#ورنہ

Address

Lahore
54000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Media Express HD posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share