05/05/2026
*جیب میں پیسے ہونے کے باوجود، بازار سے گزرنے ہوئے*
*اپنی ذاتی خواہش پوری نہ کرنے والا کنجوس نہیں*
*بلکہ باپ ہوتا ہے۔*
---
*باپ...*
یہ لفظ سنتے ہی دل کیوں بھر آتا ہے؟
*بازار سے گزرتا ہے...*
جیب میں تنخواہ پڑی ہے۔ مہینے کی پہلی تاریخ ہے۔ سامنے دکان پر گرم گرم جلیبیاں تلی جا رہی ہیں۔ بچپن سے شوق تھا۔ دل چاہتا ہے 2 پلیٹ کھا لے۔ مگر اگلے ہی لمحے بیٹی کے ٹوٹے ہوئے سکول کے جوتے یاد آ جاتے ہیں۔ جلیبی چھوڑ کر وہ موچی کی دکان کی طرف مڑ جاتا ہے۔
*یہ کنجوسی نہیں... یہ باپ ہے۔*
*عید آتی ہے...*
سب نئے کپڑے پہنتے ہیں۔ وہ اپنا پرانا کرتا نکالتا ہے۔ بیوی کہتی ہے: "اس بار تو لے لو، 3 سال ہو گئے۔" مسکرا کر ٹال دیتا ہے: "مجھے کون دیکھتا ہے؟ بیٹے کو تو کالج میں دوستوں کے سامنے جانا ہے۔"
*یہ غربت نہیں... یہ باپ ہے۔*
*دوا کی پرچی جیب میں ہے...*
گھٹنوں میں درد ہے۔ ڈاکٹر نے کہا تھا دوا مت چھوڑنا۔ میڈیکل سٹور سے گزرتے ہوئے قدم رُک جاتے ہیں۔ پھر یاد آتا ہے: "بیٹے کی فیس کی تاریخ قریب ہے۔" دوا وہیں چھوڑ کر، درد دبا کر، مسکراتا ہوا گھر آ جاتا ہے۔
*یہ بے وقوفی نہیں... یہ باپ ہے۔*
*باپ روتا نہیں...*
لوگ کہتے ہیں باپ سخت ہوتا ہے۔ ارے نہیں! باپ روتا ہے، رات کو جب سب سو جاتے ہیں۔ تکیے میں منہ چھپا کر روتا ہے کہ "یا اللہ! میرے بچوں کو کبھی میری طرح ترسنا نہ پڑے۔" صبح اٹھ کر پھر وہی مضبوط چہرہ لے کر نکل جاتا ہے۔
*نبی کریم ﷺ نے فرمایا:* _’’باپ جنت کے دروازوں میں سے بیچ کا دروازہ ہے۔‘‘_ [ترمذی: 1900]
اور ہم اس دروازے کو بوسہ دینے کے بجائے اکثر دھکا دے دیتے ہیں۔
*اے میرے باپ!*
تیرے پھٹے ہوئے جوتے دیکھ کر میں شرمندہ ہوں۔
تیری سفید ہوتی داڑھی دیکھ کر میں قرض دار ہوں۔
تو نے اپنے شوق مار کر میرے خواب پالے۔
تو نے اپنی بھوک مٹا کر میری پلیٹ بھری۔
آج جب میں اپنے بچوں کے لیے بازار سے کھلونے لے کر گزرتا ہوں، تو تیری قمیض کی گھسی ہوئی کہنیاں یاد آتی ہیں۔ تب سمجھ آتا ہے کہ *"کنجوس" کہلانے والا شخص دنیا کا سب سے بڑا "سخی" تھا۔*
*کاش!*
میں ایک بار تیرے ماتھے کا پسینہ پونچھ سکتا۔
ایک بار تیرے کانپتے ہاتھ تھام کر کہہ سکتا: "ابا، آج آپ جلیبی کھاؤ، فیس میں دے دوں گا۔"
مگر اب تو تو قبر میں سو گیا ہے... اور میں تیری قبر پر کھڑا سوچ رہا ہوں کہ *باپ کے "نہیں" میں بھی "ہاں" چھپی ہوتی ہے۔*
*اے اللہ!*
جس باپ نے اپنی خواہشیں مار کر ہمیں پالا،
اس کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنا دے۔
اور جس کے باپ زندہ ہیں، انہیں توفیق دے کہ وہ باپ کے پاؤں دھو کر پیے... کیونکہ *باپ کی رضا میں رب کی رضا ہے۔* [ترمذی: 1899]