Mass communication books

Mass communication books ماس کیمونیکیشن کے لئے سرگودھا یونیورسٹی پنجاب یونیورس?

28/08/2020
پرانے پاکستان سے نئے پاکستان تکصاحب زادہ محمد زابر سعید بدریہ ان دنوں کی بات ہے جب ہم سب پرانے پاکستان میں رہتے تھے۔سکون...
28/08/2020

پرانے پاکستان سے نئے پاکستان تک

صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر

یہ ان دنوں کی بات ہے جب ہم سب پرانے پاکستان میں رہتے تھے۔سکون کا دور دورہ تھا زندگی کے ہر شعبے میں مروت، دیانت، وضع داری اور تہذیبی روایات کا تسلسل ابھی موجود تھا۔ صحافت کے پیشے میں بھی سینئرز کا لحاظ اس حد تک تھا کہ آج کے صحافی اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔آج سے ٹھیک انیس برس ادھر کی بات ہے کہ شام کو میری شادی تھی اور میں لاہور کے ایک موقر روزنامے کے نیوز روم میں اپنی ڈیوٹی پر تھا اور میرے ساتھی محمد اقبال بالا، جعفر چوہدری، شجاع الدین، فاطر ولید اور تجمل شیخ مجھے شادی کی مبارک باد دے رہے تھے، آج کے ہمارے جونئیر صحافی حیران ہونگے کیونکہ وہ تو شادی کے لیے ایک ایک ماہ چھٹی مانگنے کو اپنا حق سمجھتے ہیں اور نہ ملنے پر سخت واویلا مچاتے ہیں ان کو اندازا ہی نہیں کہ اخبار کے دفتر میں آنے کا تو وقت ہوتا ہے لیکن جانا کب ہے یہ بتانا بے حد مشکل ہے، مجھے یاد ہے کہ جب روزنامہ جنگ لاہور کے نیوز روم میں کام کر رہا تھا تو افغان امریکہ اور پھر عراق جنگ کے دوران ایک ماہ تک چھٹی کا کوئی تصور ہی نہیں تھا لیکن ہم سب صحافت کو ایک پیشہ نہیں بلکہ ایک مشن ایک عبادت سمجھ کر کرتے تھے، اپنے سینئرز کی بہت عزت کرتے تھے ان کی کسی بات کو رد کرنے یا ان کے سامنے اپنی علمیت و قابلیت جھاڑنے کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے کیونکہ ہمیں یہی بتایا گیا تھا کہ باادب بامراد، بے ادب بے مراد مزید براں علامہ اقبال رحمتہ اللہ کے اس ارشاد پر ہمیشہ عمل پیرا رہتے تھے کہ ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں، اس زمانے کی صحافت اور آج کی صحافت میں وہی فرق ہے جو دن اور رات میں ہے، آج کا صحافی کچھ سیکھنا ہی نہیں چاہتا،وہ سمجھتا ہے کہ گوگل سے سب کچھ ملتا ہے جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے گوگل سے آپ کو سطحی نوعیت کا علم تو ملتا ہے لیکن گہرائی کے لیے مشقت کرنا پڑتی ہے کتاب کو دوست بنانا پڑتا ہے، تحقیق کرنا پڑتی ہے، جستجو کرنا پڑتی ہے اب جس قسم کی صحافت ہو رہی ہےخواہ وہ اخبارات میں ہو یا ٹی وی چینلز میں، بھلے اس کو کہا تو صحافت ہی جا رہا ہے لیکن جاننے والے جانتے ہیں کہ یہ صحافت نہیں بلکہ شر انگیزی ہے جو اخلاقیات، سماجیات اور روایات کا بڑی شان سے جنازہ نکال رہی ہے۔ایک ایسا شخص جس کو تاریخ ،سیاست، معاشرت، فنون لطیفہ، نفسیات، معاشرت کا علم ہی نہیں وہ ہمیں اپنے کالموں یا ٹی وی پروگرام میں بھاشن دیتا نظر آتا ہے، انیس برس میں ہم پرانے پاکستان سے نئے پاکستان تک تو پہنچ گیے لیکن یقین مانیے کہ وہ پرانا پاکستان بہت یاد آتا ہے جس میں تہذیب تھی، روایات تھیں، ادب تھا، بھرم تھا۔ کاش کہ وہ پرانا پاکستان لوٹ آئے۔

https://jang.com.pk/amp/541345

14/04/2017

شاہسوار چغتائی کا انصاف اور مورخین کی ناانصافی

صاحبزادہ محمد زابر سعید بدر

شاہان مغلیہ میں نورالدین محمد جہانگیر کا مقام عدل و انصاف اور ان کی خود نوشت سوانح عمری "تزک جہانگیری" کے حوالے سےممتاز ہے.دانائے راز حضرت علامہ اقبال جہانگیر کو ان کے عدل و انصاف کی وجہ سے شاہسوار چغتائی کہتے ہیں.دنیا میں ایسے کتنے شہنشاہ گزرے ہیں جو عدل و انصاف کے حوالے سے معروف ہیں ان معدود چند ناموں میں جہانگیر کا نام نمایاں ترین ہے.عدل جہانگیری,جہانگیر کا انصاف,زنجیر عدل ایسے الفاظ ضرب و مثل ہیں. ایک طرف جہانگیر کا یہ ضرب و مثل انصاف ہے تو دوسری طرف ہمارے چند نام نہاد روشن خیال مورخین کی ان سے روا رکھی جانے والی ناانصافی.زمانے نے جن لوگوں کو ان کا صحیح مقام عطا نہیں کیا ان میں سے ایک جہانگیر بھی ہے.اگر ان کو شہنشاہ ہند کی بجائے شاعری اور ادب میں پڑھایا جاتا تو ان کا مقام اتنا بلند ہوتا کہ برصغیر پاکستان و ہند بجا طور پر ناز کرتا.اگر نیچرل سائینس کے محقق کی حثیت سے شہنشاہ کے مقام کا تعین کیا جائے تو بھی وہ ان علوم میں حیرت انگیز انکشافات کا موجد ہوتے.خطاطی اور مصوری کے پیشے کو اختیار کرتے تو بہت بڑے خطاط اور مصور ہوتے جو ان فنون لطیفہ کی باریکیوں پر گہری نظر بھی رکھتے.بہادر اتنے کہ ایک گولی سے شیر کا شکار کرلیتے.تن تنہا جنگلوں میں نکل جاتے اور ببر شیروں کا سامنا کرتے.اپنے وقت کے بہترین نشانہ باز اور ماہر تیغ و سناں اور ایک طرف علم و ادب,شاعری,مصوری کا یہ جنوں..یہ ان ہمہ جہت مغل شہنشاہ کا مختصر تعارف ہے جنہیں یورپی اور ہندو مورخین نے ایک شرابی کاہل اور عیاش شہنشاہ قرار دیا.اور ہمارے یہاں کے اندھی تقلید کرنے والے دانشوروں اور مورخین نے انہی تعصب سے بھری کتابوں کے تراجم کر کے ہمارے اذہان کو آلودہ کر دیا.آج کے نام نہاد دانشور ٹی وی پروگراموں میں آ کر جب اپنی ہی تہذیب و تمدن کا مزاق اڑاتے ہیں تو دل خون کے آنسو روتا ہے.اگر ہم صرف توزک جہانگیری ہی کا مطالعہ کر لیں تو ہماری آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہو گا.اس روزنامچے میں وہ پورے برصغیر کے چپے چپے کے حالات,پرندوں درندوں کی عادات, مختلف علاقوں کی تاریخ بیان کرتے نظر آتے ہیں اور کہیں نت نئے تجربات کرا رہے ہیں تو کہیں زمیں کی پیمائش, کہیں شعر و شاعری کی محافل بپا کرنے میں اننکا کوئی ثانی نہیں اور خود بھی طبع آزمائی فرما کر بڑے بڑے جغادریوں سر داد و تحسین وصول کر رہے ہیں.علم حیوانات اور نباتات پر گویا بیش بہا معلومات کا خزینہ ہے جو ان کے قلم سے نکنے کے لیے باچین ہے.یہ تبحر علمی اور اس کے ساتھ ساتھ ریاستی امور پر یہ کڑی گرفت کہ چڑیا بھی پر نہیں مار رہی ذرا ان مورخین کی ناانصافی تو ملاحظی کیجیے کہ ایسے شخص کو ایک کاہل اور شرابی حکمران کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے بھلا ایک شرابی کیونکر اتنی بڑی سلطنت پر اپنی آہنی گرفت رکھ سکتا ہے مگر دوسری طرف وسیع الظرف ہندو مورخ ڈاکٹر بینی پرشاد بھی تو ہیں جو بعد از تحقیق اعتراف کرتےہوئے کہتےہیں" بلاشبہ جہانگیر تاریخ ہند کی جاذب نظر ترین ہستیوں میں سے ایک ہے"انصاف کے معاملے میں اپنی چہیتی ملکہ نور جہاں کا بھی لحاظ نہ کرتےجو شہنشاہ کے دل و دماغ کے ساتھ ساتھ پوری سلطنت مغلیہ پر حکومت کرتی تھیں.
منشی محمد دین فوق کے مطابق اس شہنشاہ کے دور میں پوری سلطنت کا ہر حصہ جہانگیر کے مزاج کی تقلید میں ثقافت,تہذیب,معارف اور علوم و فنون کا مرکز بن گیا تھا.لاہور سے شہنشاہ کو بہت محبت تھی اس لیے لاہور کا بچہ بچہ ان دنوں شعر و ادب کا مزاق رکھتا.علمی باتیں کرتا اس دور کے کاریگر ہاتھوں سے ریشم رنگتے لیکن محفل کو اپنی رنگین بیانی سے بیخود کر دیتے وہ گلکاری کا پیشہ اختیار کرتے مگر ساتھ علم و ادب کے گلدستے سنوارتے,سپاہی میدان جنگ میں شمشیر زنی کرتے لیکن محفلوں میں اس کی زبان کی تیغ سب کو مسخر کر لیتی. حال ہی میں اس زمانے کا ایک گراں قدر نادر نسخہ دریافت ہوا ہے جس میں شہنشاہ کی مجالس کی تفصیل بیان کی گئی ہے.ان کو پڑھ شہنشاہ پر ایک شب بیدار صوفی کا گمان گزرتا ہے.شہنشاہ کو کتابیں مصور کروانے کا بھی بے حد شوق تھا انہوں نے ان فن کو بہت فروغ دیا اب وقت آگیا ہے کہ مسخ شدہ تاریخ کو اصل صورت میں نئی نسل تک پہنچایا جائے.

(صاحبزادہ محمد زابر سعید بدر پچاس کتابوں کے مصنف ہونے کے ساتھ ساتھ ممتاز صحافی،محقق اور ابلاغ عامہ کی درس و تدریس سے وابستہ ہیں)
http://urdu.geo.tv/latest/163884-sheswar-chugtai-ka-insaf-aur-morkheen-ki-na-insafi

05/03/2017

لاہور
Lahore
اچے برج لاہور دے

30/01/2017

Address

Lahore
5400

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mass communication books posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share