Urdu Vibes

Urdu Vibes اردو نیوز ، حال احوال، شاعری، افسانے،ناول اور کہانیاں۔

10/06/2026
10/06/2026

💔میں سمجھی میرا شوہر مجھے دھوکا دے رہا ہے۔۔ مگر Unknown نمبر کے پیچھے جو سچ نکلا، اُس نے مجھے بے وفائی سے بھی زیادہ رُلایا۔” 🥀

میرا نام حرا ہے۔
عمر چھتیس سال۔

میری شادی احسن سے چودہ سال پہلے ہوئی تھی۔
احسن کم گو آدمی ہے۔
نہ زیادہ ہنستا ہے، نہ زیادہ روتا ہے۔

میں اکثر کہتی ہوں:
“تمہارے اندر دل ہے بھی یا نہیں؟”

وہ مسکرا کر کہتا:
“ہے، بس شور نہیں کرتا۔”

ہماری زندگی بہت عام ہے۔

ایک چھوٹا سا گھر۔
قسطوں پر لی ہوئی گاڑی۔
ہر مہینے کا بجٹ۔

بجلی کا بل دیکھ کر ماتھا پکڑنا۔

اور ہمارا بیٹا، یحییٰ۔

یحییٰ بارہ سال کا تھا جب وہ ہم سے جدا ہوا۔
سکول وین کا حادثہ تھا۔

ایک عام سا دن تھا۔
صبح اس نے جاتے ہوئے کہا تھا:

“امی، آج آلو والے پراٹھے رکھنا۔ واپسی پر بہت بھوک لگتی ہے۔”

وہ واپس آیا۔

مگر بھوک کے ساتھ نہیں۔
ایک سفید چادر میں۔

اس دن کے بعد ہمارے گھر کی آواز بدل گئی۔
پہلے اس گھر میں یحییٰ کی گیند دیوار سے ٹکراتی تھی۔
اس کی پنسلیں میز کے نیچے ملتی تھیں۔
اس کے جوتے ہمیشہ الٹے پڑے ہوتے تھے۔
اور اس کی آواز ہر جگہ ہوتی تھی:

“امی، پانی!”

“بابا، یہ question سمجھا دیں!”
“امی، میری white shirt کہاں ہے؟”

پھر اچانک گھر میں سب کچھ اپنی جگہ رہنے لگا۔

جوتے سیدھے۔
کتابیں بند۔
میز صاف۔

اور خاموشی اتنی گہری کہ کبھی کبھی مجھے اپنے سانس لینے کی آواز بھی بری لگتی۔

میں نے یحییٰ کی چیزیں آہستہ آہستہ سمیٹ دیں۔

لوگ کہتے تھے:
“حرا، چیزیں سامنے رہیں گی تو زخم تازہ رہے گا۔”

میں نے مان لیا۔

اس کا بیگ، یونیفارم، ٹرافیاں، کتابیں، سب ایک بڑے carton میں رکھ کر سٹور میں بند کر دیا۔

احسن نے کچھ نہیں کہا۔
بس اس دن رات کو بہت دیر تک سٹور کے دروازے کے سامنے بیٹھا رہا۔

میں نے پوچھا:
“کیا کر رہے ہو؟”

وہ بولا:
“کچھ نہیں۔”

احسن کا “کچھ نہیں” ہمیشہ بہت کچھ ہوتا تھا۔

دو سال گزر گئے۔

لوگوں نے سمجھ لیا کہ ہم سنبھل گئے ہیں۔
میں نے بھی سمجھ لیا تھا کہ شاید یہی زندگی ہے۔

زخم کو دل میں دبا کر چائے بناتے رہنا۔
کپڑے تہہ کرنا۔

مہمانوں کے سامنے مسکرا دینا۔
اور رات کو تکیہ بدل لینا تاکہ آنسوؤں کا داغ نظر نہ آئے۔

پچھلے مہینے کی بات ہے۔

احسن اپنا موبائل کچن میں چارجنگ پر لگا کر چھت پر چلا گیا۔

میں نے فون اٹھایا کہ side پر رکھ دوں۔

اسی وقت screen روشن ہوئی۔

ایک missed call تھی۔

نام لکھا تھا:

Unknown

پہلے میں نے دھیان نہیں دیا۔

مگر پھر call history کھل گئی۔

وہی نمبر۔

بار بار۔

رات کے ایک بجے۔
صبح فجر سے پہلے۔
دوپہر میں۔

کبھی صرف دس سیکنڈ کی call۔
کبھی ایک منٹ۔
کبھی missed call۔
میرے ہاتھ ٹھنڈے ہو گئے۔

دو سال سے میں سمجھ رہی تھی ہمارا غم ایک ہے۔

اور اب مجھے لگا شاید احسن کی زندگی میں کوئی ایسا حصہ ہے جس تک میری رسائی نہیں۔

میں نے اُس رات کچھ نہیں پوچھا۔
بس غور کرنا شروع کیا۔
احسن واقعی بدل گیا تھا۔
وہ فون ہمیشہ اپنے پاس رکھتا۔

کبھی کبھی رات کو اٹھ کر باہر چلا جاتا۔
واپس آتا تو آنکھیں سرخ ہوتیں۔

میں پوچھتی:
“طبیعت ٹھیک ہے؟”

وہ کہتا:

“نیند نہیں آ رہی تھی۔”

ایک رات مجھے برداشت نہیں ہوا۔

احسن سو چکا تھا۔
میں نے آہستہ سے اس کا فون اٹھایا۔

Unknown کا نمبر کھولا۔
انگلی call کے نشان پر رکھ دی۔

دل اتنا زور سے دھڑک رہا تھا جیسے میں کوئی گناہ کرنے جا رہی ہوں۔

پھر میں نے کال ملا دی۔
چند لمحے خاموشی رہی۔
پھر میرے کان میں گھنٹی بجی۔

اور اسی وقت ہمارے گھر کے اندر کہیں سے ایک اور گھنٹی کی آواز آئی۔

بہت ہلکی۔
بہت دبی ہوئی۔
مگر صاف۔
میں جم گئی۔

یہ آواز باہر سے نہیں آ رہی تھی۔
یہ ہمارے گھر کے اندر تھی۔
میں نے فوراً کال کاٹ دی۔

کمرہ خاموش ہو گیا۔

مگر میری نیند ہمیشہ کیلئے ٹوٹ چکی تھی۔

اگلے دن میں نے پورا گھر دیکھا۔

الماریاں۔
درازیں۔
احسن کی فائلیں۔
کچن کی اوپر والی shelf۔
کچھ نہیں ملا۔

آخر میں میری نظر سٹور پر گئی۔

وہی سٹور جہاں یحییٰ کی چیزیں بند تھیں۔

میں نے دو سال میں وہ دروازہ شاید تین بار کھولا تھا۔
اور ہر بار اتنی جلدی بند کیا جیسے اندر کوئی سانس لے رہا ہو۔

اس بار میں نے ہمت کی۔
دروازہ کھولا۔
دھول کی بو آئی۔

ایک کونے میں یحییٰ کا carton رکھا تھا۔
اسی پر وہ پرانا نیلا بیگ رکھا تھا جو حادثے کے بعد ہمیں واپس ملا تھا۔
میں نے بیگ اٹھایا۔
چین کھولی۔
اندر کتابیں نہیں تھیں۔
ایک چھوٹا سا فون تھا۔

یحییٰ کا فون۔

وہی فون جو احسن نے اسے اس لیے دیا تھا کہ school van late ہو تو call کر سکے۔

مجھے بتایا گیا تھا کہ accident میں فون ٹوٹ گیا تھا۔

گم ہو گیا تھا۔
ملا ہی نہیں تھا۔
مگر وہ یہاں تھا۔
میرے گھر میں۔

میرے بیٹے کے بیگ میں۔

دو سال سے۔

میں نے کانپتے ہاتھوں سے screen روشن کی۔

battery پوری تھی۔

یعنی احسن اسے charge کرتا رہا تھا۔

call logs کھولے۔

ساری calls احسن کی تھیں۔

Unknown سے۔

درجنوں نہیں۔

سینکڑوں۔

میں نے messages کھولے۔

پرانے message تھے۔

یحییٰ کے۔

“بابا، واپسی پر samosa لیتے آنا.”

“امی کو مت بتانا، maths test میں 8/10 آئے ہیں.”

“بابا، آپ best ہیں لیکن امی کو مت بتانا ورنہ وہ کہیں گی کیا میں نہیں ہوں؟”

ایک voice recording بھی تھی۔

میں نے play کر دی۔

یحییٰ کی آواز کمرے میں پھیل گئی:

“بابا، اگر میں call نہ اٹھاؤں تو سمجھ جانا میں game کھیل رہا ہوں۔ غصہ نہ ہونا۔”

میرے ہاتھ سے فون تقریباً گر گیا۔

دو سال بعد میرے بیٹے کی آواز میرے سامنے زندہ کھڑی تھی۔

میں زمین پر بیٹھ گئی۔
رو بھی نہیں پا رہی تھی۔
صرف سن رہی تھی۔

پھر پیچھے سے احسن کی آواز آئی:

“تمہیں یہ نہیں سننا چاہیے تھا۔”

میں مڑی۔

وہ دروازے میں کھڑا تھا۔

اس کے چہرے پر شرمندگی نہیں تھی۔

صرف وہ تھکن تھی جو آدمی تب اٹھاتا ہے جب وہ اکیلے روتا رہے۔

میں نے پوچھا:

“یہ فون تمہارے پاس تھا؟”

وہ خاموش رہا۔

“تم نے مجھ سے چھپایا؟”

اس نے آہستہ سے کہا:

“تم نے کہا تھا اس کی چیزیں سامنے نہیں رکھنی۔ تم ہر بار ٹوٹ جاتی تھیں۔ میں نے سوچا کم از کم ایک چیز میرے پاس رہنے دو۔”

میں نے فون سینے سے لگا لیا۔

“اور Unknown کیوں save کیا؟ یحییٰ کیوں نہیں؟”

احسن کی آنکھیں بھر آئیں۔

وہ دیوار سے لگ کر بیٹھ گیا۔

“کیونکہ میں اپنے فون میں اس کا نام دیکھ نہیں سکتا تھا۔ جب یحییٰ لکھتا تھا تو لگتا تھا ابھی call اٹھا لے گا۔ اس لیے Unknown کر دیا۔”

وہ پہلی بار میرے سامنے رویا۔

خاموش نہیں۔

سچ مچ۔

بچوں کی طرح نہیں، باپوں کی طرح۔

جیسے اندر بہت سالوں سے رکھا ہوا پتھر آخر ٹوٹ گیا ہو۔

“میں رات کو اسے call کرتا تھا۔ گھنٹی سنتا تھا۔ بس چند سیکنڈ۔ پھر کاٹ دیتا تھا۔ لگتا تھا گھر میں اس کی کوئی چیز ابھی بھی جواب دینے کے قابل ہے۔”

میں نے پوچھا:

“مجھے کیوں نہیں بتایا؟”

وہ بولا:

“کیونکہ تم نے رونا چھوڑ دیا تھا حرا۔ میں تمہیں دوبارہ روتا نہیں دیکھ سکتا تھا۔”

میں نے اس کی طرف دیکھا۔

“اور تم؟ تم کس کے سامنے روتے تھے؟”

وہ خاموش ہو گیا۔

اس خاموشی میں دو سال کا ظلم تھا۔

نہ اس نے مجھ پر کیا تھا۔

نہ میں نے اس پر۔

ہم دونوں نے اپنے غم پر کیا تھا۔

ہم نے ایک دوسرے کو بچانے کے چکر میں ایک دوسرے سے یحییٰ چھپا لیا تھا۔

میں نے فون کھولا۔

یحییٰ کی recording دوبارہ چلائی۔

اس بار احسن نے بھی سن لیا۔

ہم دونوں سٹور کے فرش پر بیٹھے رہے۔

دھول، پرانے cartons، ٹوٹی ہوئی ٹرافی، school bag، اور ہمارے بیٹے کی آواز کے درمیان۔

کافی دیر بعد میں نے کہا:

“احسن، کل سے یہ فون Unknown نہیں رہے گا۔”

اس نے میری طرف دیکھا۔

میں نے فون اس کے ہاتھ میں دیا۔

“اس کا نام واپس لکھو۔ یحییٰ۔”

احسن کے ہاتھ کانپے۔

اس نے contacts کھولے۔

Unknown delete کیا۔

Yahya لکھا۔

پھر فون بند کر کے میرے حوالے کر دیا۔

اس رات ہم نے یحییٰ کی چیزیں دوبارہ نہیں چھپائیں۔

نہ سب باہر رکھیں۔

بس اس کا ایک photo frame lounge میں رکھا۔

اس کی favourite pencil میری dressing table پر آ گئی۔

اور وہ چھوٹا phone احسن کی الماری میں نہیں، ہمارے دونوں کے drawer میں رکھا گیا۔

اب کبھی کبھی ہم اسے call نہیں کرتے۔

صرف چارج کر دیتے ہیں۔

جیسے کسی یاد کو مرنے نہیں دیتے۔

لوگ سمجھتے ہیں غم کو چھپانے سے گھر چل جاتا ہے۔

مگر غم چھپتا نہیں۔

وہ Unknown بن کر فون میں save ہو جاتا ہے۔

رات کے ایک بجے ring کرتا ہے۔

اور ایک دن سٹور کے بند دروازے سے آواز دیتا ہے:

“مجھے نام سے پکارو۔”

آج بھی جب کوئی کہتا ہے:

“اولاد کا غم وقت کے ساتھ کم ہو جاتا ہے”

تو میں صرف اتنا کہتی ہوں:

“نہیں، کم نہیں ہوتا۔ بس انسان اس کا نام بدل دیتا ہے۔”

اور جس دن آپ دوبارہ اس کا اصل نام لینے لگیں..

اسی دن healing شروع ہوتی ہے۔ ❤️

Urdu Vibes

~ Faizaan ~

10/06/2026

میں 25 سالہ نوجوان ہوں۔ مجھے 2021 میں ایک پٹھان لڑکی سے محبت ہوئی، جو مالی طور پر بہت مستحکم اور دنیا کی سب سے خوبصورت لڑکی ہے۔ ہم دونوں الگ الگ شہروں میں رہتے ہیں۔ میری ذات راجپوت ہے اور میں ایک لوئر مڈل کلاس فیملی سے تعلق رکھتا ہوں، لیکن میں برسرِ روزگار (جاب ہولڈر) ہوں۔ اس کے گھر کا ماحول بہت سخت ہے، خاص طور پر اس کے والد اور بھائی وغیرہ کا۔ ہم نے 5 سال ایک دوسرے کے ساتھ گزارے، جس میں زیرو ویڈیو کالز اور زیرو الٹی سیدھی تصاویر وغیرہ شامل ہیں۔ ہماری بات صرف وائس نوٹس اور فون کالز پر ہوتی تھی۔

​ہم ایک دوسرے کو بہت زیادہ چاہتے ہیں، بہت زیادہ۔ میں نے کبھی اس سے ایک روپے کی بھی چیز نہیں منگوائی، جیسا کہ کچھ لڑکے ایسا شوق رکھتے ہیں۔ کبھی بھی نہیں! مختصراً یہ کہ ہماری لڑائی اکثر اس بات پر ہوتی تھی کہ اسے مجھے گفٹ دینے کا شوق رہتا تھا اور میں صرف اس وجہ سے نہیں لیتا تھا کیونکہ مجھے یہ مناسب نہیں لگتا تھا۔

​ہمارا نکاح ممکن نہیں تھا؛ دو الگ ذاتیں، الگ کلاس۔ اس کے والد عام لوگوں کو ایک کیڑا سمجھتے ہیں، انہیں صرف پیسے اور پاور کا شوق ہے۔ اس کی فیملی میں کوئی ایسا نہیں تھا جو اسے اس رشتے میں سپورٹ کرتا۔ اس کی امی آؤٹ آف کاسٹ (دوسری برادری) سے تھیں، جن سے اس کے بابا نے زبردستی شادی کی تھی۔ گھر میں لڑائی جھگڑے، ایک حادثے میں جوان بھائی کی موت—وہ اپنی زندگی میں بہت سے ٹراما (صدمات) سے گزر چکی تھی۔ پھر اس کی ماں کی طلاق ہو گئی، اور اس کی چچی/تائی کی طرف سے اس پر تشدد کیا گیا۔ لیکن وفاداری اس پر آ کر ختم ہو جاتی ہے، وہ بے حد وفادار تھی۔

​پھر وہی ہوا جو ہونا تھا۔ اس کی شادی اس کی فیملی میں ہی کر دی گئی۔ اس نے شادی سے پہلے مجھے سب کچھ بتایا ہوا تھا اور میں نے اسے بولا ہوا تھا کہ شادی کے بعد میں آؤٹ آف کانٹیکٹ (رابطے سے باہر) ہو جاؤں گا، پر وہ نہیں مانی۔ اب وہ شادی کے بعد مجھے کنٹینیو (مسلسل) کالز پر کالز کرتی ہے اور میں نہیں چاہتا کہ اس کا یہ معاملہ سامنے آئے اور اسے مار دیا جائے یا ٹارچر کیا جائے۔ اگر یہ سب نہ بھی ہوا، تو اسے بدکرداری کا الزام لگا کر ایک غلام کی حیثیت سے ٹریٹ کیا جائے گا۔ اس کا فون وغیرہ بھی مسلسل چیک ہوتا ہے۔

​میں خود بھی انتہائی اذیت میں ہوں—اس کا دور ہو جانا، قسمت کا فیصلہ، اور صبر کرنے کے لیے کوششیں کرتے رہنا۔ میں بہت اذیت میں ہوں، خیر یہ اللہ کا نظام ہے۔

​آپ سے ریکویسٹ ہے، کائنڈلی مجھے سوچ کے بتائیے گا کہ کیا مجھے اس سے ان کانٹیکٹ (رابطے میں) رہنا چاہیے؟ کیا اس سے کالز پر بات کر لینی چاہیے؟ پلیز اپنی رائے ضرور دیجیے گا۔

Urdu Vibes

10/06/2026

💥 “تین دن پہلے مجھے سکول سے نکال دیا گیا کیونکہ میں اپنے پراٹھے کے پیچھے بھاگ رہا تھا تو۔۔۔۔” 🥀💔

میرا نام حمزہ ہے۔
عمر نو سال۔

اور میں یہ بات اپنی اردو کی کاپی میں اس لیے لکھ رہا ہوں کہ مس ثمینہ کہتی ہیں:

“جس بچے کے دل میں بات پھنس جائے، وہ شرارت میں بدل جاتی ہے۔ اسے لکھ دیا کرو۔”

میرے دل میں بات پھنسی ہوئی ہے۔

کیونکہ تین دن پہلے مجھے سکول سے معطل کر دیا گیا تھا۔

قصور یہ تھا کہ میں نے سکول کا پرانا ہارمونیم توڑ دیا تھا۔

سچ کہوں تو میں نے ہارمونیم توڑنے کا ارادہ نہیں کیا تھا۔

میں تو اپنے پراٹھے کے پیچھے بھاگ رہا تھا۔

میری امی ہسپتال کی کینٹین میں کام کرتی ہیں۔

صبح اندھیرے میں اٹھتی ہیں، آٹا گوندھتی ہیں، میرے لیے ٹفن بناتی ہیں، پھر خود بس پکڑ کر کام پر چلی جاتی ہیں۔

اس دن میرے ٹفن میں آلو کا پراٹھا تھا۔

آلو کا پراٹھا ہمارے گھر میں روز نہیں بنتا۔

جب بنتا ہے تو مجھے لگتا ہے جیسے امی نے میرے ڈبے میں عید رکھ دی ہے۔

تفریح کے وقت تیمور نے میرا ڈبہ اٹھا لیا۔

تیمور ہماری کلاس کا سب سے لمبا لڑکا ہے۔

وہ لڑتا کم ہے، چھینتا زیادہ ہے۔

اور جس بچے کا لنچ وہ لے لے، وہ بچہ عموماً دو باتوں میں سے ایک کرتا ہے:

یا تو روتا ہے۔

یا پھر بھوکا رہتا ہے۔

میں نے تیسری بات کی۔

میں اس کے پیچھے بھاگا۔

وہ ہنستا ہوا برآمدے سے ہوتا ہوا بڑے ہال کی طرف مڑا۔

ہال میں پرانا ہارمونیم رکھا تھا۔

لکڑی کا۔

بھورا۔

کونے سے تھوڑا ٹوٹا ہوا۔

اس پر ہمیشہ سفید کپڑا پڑا رہتا تھا، جیسے کوئی بوڑھا آدمی لحاف اوڑھے بیٹھا ہو۔

میں نے تیمور کو پکڑنے کیلئے تیز قدم بڑھایا، مگر فرش پر کسی نے پانی گرا رکھا تھا۔

میرا پاؤں پھسلا۔

میں سیدھا ہارمونیم پر جا گرا۔

ایک عجیب سی آواز نکلی۔

نہ ساز کی، نہ لکڑی کی۔

جیسے کسی نے بہت پرانی سانس توڑ دی ہو۔

کپڑا نیچے گرا۔

دو تین بٹنز اندر دھنس گئے۔

پچھلی لکڑی کھل گئی۔

اور ہال میں اچانک ایسی خاموشی ہو گئی جیسے سب بچوں کو ایک ساتھ ڈانٹ پڑ گئی ہو۔

پرنسپل صاحب آئے۔

مس ثمینہ آئیں۔

چوکیدار چاچا آئے۔

تیمور غائب ہو گیا۔

میرا ٹفن بھی۔

پرنسپل صاحب کا چہرہ غصے سے سرخ تھا۔

“حمزہ! تمہیں پتا بھی ہے یہ کیا تھا؟”

میں نے سر ہلا دیا۔

مجھے نہیں پتا تھا۔

میرے لیے وہ بس ایک پرانا ساز تھا جسے کوئی بجاتا نہیں تھا۔

بعد میں پتا چلا کہ یہ ہارمونیم سکول کے پہلے music teacher کا تھا۔

نام تھا استاد رحمت علی۔

چالیس سال پہلے اسی سکول میں بچوں کو نعت، ملی نغمے اور اسمبلی کی دعا سکھاتے تھے۔

ان کے انتقال کے بعد ان کے گھر والوں نے یہ ہارمونیم سکول کو دے دیا تھا۔

تب سے وہ ہال میں رکھا تھا۔

استعمال کم ہوتا تھا، عزت زیادہ کی جاتی تھی۔

اور بعض چیزیں ہمارے ہاں اسی طرح مر جاتی ہیں۔

انہیں سنبھال کر رکھ دیا جاتا ہے، مگر زندہ نہیں رکھا جاتا۔

امی کو سکول بلایا گیا۔

وہ اپنی کینٹین والی نیلی قمیض میں ہی آ گئیں۔

ہاتھوں میں آٹے کا نشان تھا۔

بال جلدی میں باندھے ہوئے تھے۔

پرنسپل صاحب نے کہا:

“بچہ بہت لاپروا ہے۔ نقصان ہوا ہے۔ گھر والوں کو بھی ذمہ داری سمجھنی چاہیے۔”

امی نے میری طرف دیکھا۔

میں نے سر جھکا لیا۔

واپسی پر رکشے میں امی نے مجھے نہیں مارا۔

نہ زیادہ ڈانٹا۔

بس اتنا پوچھا:

“بھاگ کیوں رہے تھے؟”

میں نے کہا:

“تیمور میرا پراٹھا لے گیا تھا۔”

امی نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔

پھر آہستہ سے بولیں:

“اچھا۔”

یہ “اچھا” بہت تھکا ہوا تھا۔

رات کو میں نے امی کو کمرے کے کونے میں بیٹھے دیکھا۔

وہ پیسے گن رہی تھیں۔

دو سو، پچاس، بیس، دس۔

پھر دوبارہ گن رہی تھیں۔

میں نے پوچھا:

“امی، ہارمونیم بہت مہنگا ہو گا؟”

امی نے پیسے دوپٹے میں باندھے۔

میرے پاس آئیں۔

میرے بال سہلائے۔

“بیٹا، جو چیز کسی کی یاد ہو، وہ پیسوں سے مہنگی ہوتی ہے۔”

مجھے اس بات کی پوری سمجھ نہیں آئی۔

مگر میں رو پڑا۔

اگلے دن مس ثمینہ نے مجھے معذرت کا خط لکھوایا۔

میں نے لکھا:

“استاد رحمت علی کے گھر والوں کے نام۔ مجھے افسوس ہے۔ میں نے آپ کے ابا کا ہارمونیم توڑ دیا۔ میں جان بوجھ کر نہیں ٹوٹا۔ میں اپنے پراٹھے کے پیچھے بھاگ رہا تھا۔”

مس ثمینہ نے پڑھا تو ہنسی نہیں۔

بس آخری لائن پر پنسل رکھ کر بولیں:

“یہ بھی لکھ دو کہ تم اسے ٹھیک کروانے میں مدد کرو گے۔”

میں نے لکھ دیا۔

دو دن بعد ایک خاتون سکول آئیں۔

سادہ سفید دوپٹہ۔

ہاتھ میں میرا خط۔

آنکھوں میں عجیب سا پانی۔

وہ ہال میں گئیں۔

ہارمونیم کے پاس بیٹھیں۔

کپڑا ہٹایا۔

اور اس کے ٹوٹے ہوئے حصے پر ہاتھ پھیرنے لگیں۔

جیسے کوئی ماں بیمار بچے کا ماتھا دیکھتی ہے۔

پرنسپل صاحب نے کہا:

“یہ استاد رحمت علی صاحب کی بیٹی ہیں، رابعہ صاحبہ۔”

میں فوراً بول پڑا:

“آنٹی، میں نے جان بوجھ کر نہیں کیا۔”

وہ میری طرف دیکھ کر مسکرائیں۔

“مجھے معلوم ہے۔ تم نے خط میں پراٹھے والی بات لکھی تھی۔ جھوٹ بولنے والا بچہ پراٹھے کا ذکر نہیں کرتا۔”

مجھے پہلی بار کسی بڑے کی بات پر ہنسی آئی، مگر میں ہنسا نہیں۔

رابعہ آنٹی نے ہارمونیم کی پھٹی ہوئی پیٹھ دیکھی۔

دو بٹن دبائے۔

اندر سے بےسری سی آواز نکلی۔

وہ رو پڑیں۔

میں ڈر گیا۔

مجھے لگا اب وہ کہیں گی کہ تم نے میرے ابو کی نشانی خراب کر دی۔

مگر انہوں نے کہا:

“میں پچھلے سال سے یہاں نہیں آئی تھی۔ ابو کے جانے کے بعد یہ ساز دیکھنے کی ہمت نہیں ہوئی۔”

پھر انہوں نے میری طرف دیکھا۔

“تم نے اسے توڑا نہیں، بیٹا۔ تم نے مجھے واپس بلا لیا۔”

میں کچھ نہ سمجھا۔

بڑے لوگ کبھی کبھی روتے ہوئے بھی ایسی بات کرتے ہیں جس کا جواب بچوں کے پاس نہیں ہوتا۔

رابعہ آنٹی نے ہارمونیم ٹھیک کروایا۔

پتا چلا نقصان اتنا بڑا نہیں تھا جتنا پرنسپل صاحب کے چہرے سے لگ رہا تھا۔

دو بٹنز پھنس گئے تھے۔

اندر کی ایک پٹی ہل گئی تھی۔

لکڑی کا ایک جوڑ کھل گیا تھا۔

مستری آیا، اس نے پیچ کس چلایا، سریش لگائی، پٹیاں بٹھائیں۔

میں پاس کھڑا دیکھتا رہا۔

رابعہ آنٹی نے کہا:

“حمزہ، کپڑا پکڑو۔”

میں نے کپڑا پکڑا۔

“یہاں دھول صاف کرو۔”

میں نے صاف کی۔

“یہ بٹن آہستہ دباؤ۔”

میں نے دبایا۔

ہارمونیم نے ایک لمبی، کانپتی ہوئی سانس لی۔

جیسے بہت عرصے بعد کسی نے اسے جگایا ہو۔

رابعہ آنٹی ہر منگل سکول آنے لگیں۔

پہلے انہوں نے مجھے ہارمونیم کے پاس بیٹھنا سکھایا۔

پھر سانس دینا۔

پھر ایک ایک سر۔

میں بہت خراب بجاتا تھا۔

کبھی آواز بھاگ جاتی۔

کبھی بٹن غلط دب جاتا۔

کبھی بیلو اتنا زور سے کھینچتا کہ ہارمونیم کراہ اٹھتا۔

رابعہ آنٹی کہتیں:

“ساز کو دھکا نہیں دیتے، اسے مناتے ہیں۔”

ایک دن تیمور ہال کے دروازے پر کھڑا تھا۔

میں نے اسے دیکھا تو دل کیا کہ کہہ دوں:

“چلے جاؤ۔”

مگر رابعہ آنٹی نے اسے بھی بلا لیا۔

“تم بھی سنو گے؟”

وہ ہنسا۔

“میں گانا نہیں گاتا۔”

رابعہ آنٹی نے کہا:

“گانا ضروری نہیں۔ کبھی کبھی سننا بھی شروع ہوتا ہے۔”

تیمور اندر آ گیا۔

چپ چاپ بیٹھ گیا۔

اس دن کے بعد وہ ہر منگل دروازے کے پاس کھڑا رہتا۔

پھر ایک دن اندر آ کر بیٹھ گیا۔

پھر ایک دن اُس نے پوچھا:

“یہ جو آواز نکلی تھی، اسے دوبارہ کیسے نکالتے ہیں؟”

رابعہ آنٹی نے اس کا ہاتھ بٹن پر رکھا۔

اس نے دبایا۔

ہارمونیم سے نرم سی آواز نکلی۔

تیمور نے میری طرف دیکھا۔

اس کے چہرے پر وہ والی ہنسی نہیں تھی جس سے وہ بچوں کو تنگ کرتا تھا۔

یہ دوسری ہنسی تھی۔

شاید وہ ہنسی جو کسی بچے کو پہلی بار ملتی ہے جب وہ کوئی چیز توڑنے کے بجائے بجا لیتا ہے۔

کچھ ہفتوں بعد رابعہ آنٹی نے پرنسپل صاحب سے کہا:

“اس ساز کو کونے میں رکھنے سے بہتر ہے بچوں کو سکھایا جائے۔”

پرنسپل صاحب پہلے ہچکچائے۔

“بچے سنجیدہ نہیں ہوتے۔”

رابعہ آنٹی نے کہا:

“بچے سنجیدہ نہیں ہوتے، مگر سچے ہوتے ہیں۔ سنجیدگی بعد میں آ جاتی ہے۔”

اس طرح ہمارے سکول میں منگل کی music class شروع ہوئی۔

فیس نہیں تھی۔

صرف ایک شرط تھی:

“کسی کا مذاق نہیں اڑانا۔”

پہلے پانچ بچے آئے۔

پھر آٹھ۔

پھر بارہ۔

تیمور بھی آیا۔

اس نے ایک دن اپنا lunch box کھولا اور آدھا پراٹھا میری طرف بڑھایا۔

“لے، آج دو آئے ہیں۔”

میں نے پوچھا:

“چوری نہیں کیا؟”

وہ بولا:

“نہیں۔ امی نے دیا ہے۔”

پھر تھوڑی دیر بعد آہستہ سے کہنے لگا:

“اس دن تیرا پراٹھا میں نے کھا لیا تھا۔ اچھا تھا۔”

میں نے کہا:

“معلوم ہے۔”

ہم دونوں ہنس پڑے۔

سکول کا ہال بدل گیا۔

پہلے وہاں سالانہ فنکشن کی chairs پڑی رہتی تھیں۔

اب ہر منگل وہاں بچے بیٹھتے تھے۔

کوئی سر پکڑتا۔

کوئی تال بھول جاتا۔

کوئی صرف دیکھتا۔

کوئی گاتا نہیں تھا مگر چپ بھی نہیں رہتا تھا۔

ہارمونیم کی آواز کبھی سیدھی، کبھی ٹیڑھی، کبھی روتی، کبھی ہنستی نکلتی۔

رابعہ آنٹی کہتیں:

“بس، یہی زندگی ہے۔ ہر آواز پہلی بار صاف نہیں نکلتی۔”

سال کے آخر میں assembly میں ہم نے ایک چھوٹی سی حمد پڑھی۔

میں نے ہارمونیم پر پہلی line پکڑی۔

تیمور نے ساتھ میں سر لگایا۔

رابعہ آنٹی سامنے بیٹھی تھیں۔

ان کی آنکھوں میں آنسو تھے۔

پرنسپل صاحب نے بعد میں کہا:

“رحمت علی صاحب ہوتے تو خوش ہوتے۔”

رابعہ آنٹی نے جواب دیا:

“وہ تو آج پہلی بار واقعی خوش ہوئے ہوں گے۔ پہلے اُن کا ہارمونیم صرف رکھا ہوا تھا، آج بجا ہے۔”

میں نے اُس دن سمجھا کہ کچھ چیزیں ٹوٹنے سے ختم نہیں ہوتیں۔

کبھی کبھی ٹوٹ کر لوگوں کو یاد دلاتی ہیں کہ انہیں بنایا کس لیے گیا تھا۔

میں نے ہارمونیم توڑا تھا۔

یہ سچ ہے۔

مجھے سزا بھی ملی۔

یہ بھی ٹھیک تھا۔

مگر اس ٹوٹنے کے بعد ایک کمرہ کھلا۔

ایک بیٹی اپنے باپ کی یاد کے پاس واپس آئی۔

ایک ضدی لڑکا تیمور سننا سیکھ گیا۔

اور میں نے جان لیا کہ غلطی اگر مان لی جائے، تو وہ انسان کو چھوٹا نہیں کرتی۔

کبھی کبھی وہ اسے کسی نئے کام کے قابل بنا دیتی ہے۔

اب بھی جب کوئی چیز میرے ہاتھ سے ٹوٹ جائے تو امی کہتی ہیں:

“حمزہ!”

میں فوراً کہتا ہوں:

“امی، دیکھتا ہوں اسے ٹھیک کیسے کرنا ہے۔”

کیونکہ میں نے ایک پرانے ہارمونیم سے سیکھا ہے:

ہر ٹوٹی ہوئی چیز کو پھینکا نہیں جاتا۔

کچھ چیزیں دوبارہ جوڑ دی جائیں تو پہلے سے زیادہ لوگوں کی ہو جاتی ہیں۔ ❤️

©️ Urdu Vibes

10/06/2026

💔 “چھ سال تک میری بہو کہتی رہی کہ میرا بیٹا دبئی میں مزدوری کر رہا ہے… ہر مہینے پیسے بھی آتے رہے، مگر ۔۔۔۔” 🥀

میرا نام زبیدہ ہے۔
عمر چون سال۔

میں ایک سرکاری سکول کے باہر نان چنے اور آلو والے پراٹھے بیچتی ہوں۔

میرا گھر چھوٹا سا ہے۔

دو کمرے۔

ایک تنگ سا صحن۔

اور صحن کے کونے میں نیم کا پرانا درخت، جس کے نیچے میرے شوہر شام کو چارپائی ڈال کر بیٹھا کرتے تھے۔

شوہر کو گئے آٹھ سال ہو گئے۔

اُن کے بعد گھر کا اصل سہارا میرا بڑا بیٹا صارم تھا۔

صارم کم بولتا تھا، مگر کام بہت کرتا تھا۔

صبح کبھی رکشہ چلاتا، شام کو کبھی دکان پر حساب لکھ دیتا، کبھی رات کو شادی ہال میں ویٹر بن جاتا۔

کہتا تھا:

“امی، ایک دن باہر جاؤں گا۔ آپ کو اس چولہے کے سامنے کھڑا نہیں ہونے دوں گا۔”

میں ہنس دیتی۔

“بیٹا، ماں کا چولہا اولاد کی کمائی سے نہیں، اولاد کی خیریت سے ٹھنڈا ہوتا ہے۔”

وہ کہتا:

“بس دعا کریں۔”

پھر ایک دن واقعی اُس نے کہا کہ دبئی کا ویزا لگ گیا ہے۔

میرے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔

میں نے کہا:

“اتنی دور؟”

اس نے میرے پاؤں دبائے۔

“امی، دور نہیں جا رہا۔ بس آپ کیلئے تھوڑا بڑا ہونے جا رہا ہوں۔”

اس وقت اُس کی بیوی حنا کے ہاں پہلا بچہ ہونے والا تھا۔

حنا خاموش طبیعت لڑکی تھی۔

نہ زیادہ شکایت کرتی، نہ زیادہ ہنستی۔

بس صارم کو ایسے دیکھتی جیسے اُس کے جانے سے پہلے ہی اُسے یاد کرنے لگی ہو۔

جس دن صارم نے جانا تھا، اُس نے مجھ سے کہا:

“امی، میں رات کو نکلوں گا۔ agent نے منع کیا ہے زیادہ لوگوں کو بتانے سے۔”

میں نے اُس کیلئے دو جوڑے کپڑے رکھے۔

پرانا رومال رکھا۔

اور آخر میں اُس کے بیگ میں گڑ کی ڈلی ڈال دی۔

وہ ہنسا۔

“امی، دبئی میں گڑ نہیں ملے گا کیا؟”

میں نے کہا:

“مل جائے گا، مگر ماں کے ہاتھ کا نہیں ملے گا۔”

اُس رات میں سو نہیں سکی۔

صبح حنا نے آ کر بتایا:

“امی، صارم پہنچ گیا ہے۔ کہہ رہا تھا ابھی بات نہیں کر سکتا، کچھ دن میں فون کرے گا۔”

میں نے شکر کیا۔

پھر کچھ ہفتوں بعد پہلی رقم آئی۔

روپوں میں تھی۔

بینک میں جمع ہوئی تھی۔

ساتھ reference میں لکھا تھا:

“امی ہمت نہ ہارنا۔”

میرا دل بھر آیا۔

میں نے سمجھا، میرا بیٹا پردیس پہنچ گیا۔

میرا صارم کامیاب ہو گیا۔

پھر ہر مہینے رقم آنے لگی۔

کبھی تیس ہزار۔

کبھی پچیس۔

کبھی عید پر پچاس۔

ہر بار وہی جملہ:

“امی ہمت نہ ہارنا۔”

اور میں واقعی نہیں ہاری۔

نہ اُس وقت جب محلے والیوں نے کہا:

“زبیدہ، باہر جا کر لڑکے بدل جاتے ہیں۔”

نہ اُس وقت جب حنا نے بیٹے کو جنم دیا، اور میں نے اُس کے چہرے میں صارم کی آنکھیں دیکھیں۔

نہ اُس وقت جب صارم کا فون کبھی براہ راست نہ آیا۔

حنا کہتی:

“امی، وہاں بہت سختی ہے۔ کبھی نمبر بدل جاتا ہے، کبھی کام والی جگہ فون نہیں رکھنے دیتے۔”

میں مان لیتی۔

ماں کبھی کبھی سچ پر نہیں، امید پر زندہ رہتی ہے۔

چھ سال گزر گئے۔

حنا میرے ساتھ ہی رہی۔

شروع میں وہ مجھے “امی” کہتی تھی۔

پھر “اماں جی” کہنے لگی۔

پھر کبھی کبھی صرف “آپ”۔

میں نے دل پر نہیں لیا۔

میں سمجھتی تھی جوان عورت ہے، شوہر پردیس میں ہے، بچہ چھوٹا ہے، دل تنگ ہو جاتا ہو گا۔

مگر پچھلے کچھ مہینوں سے حنا بدل گئی تھی۔

رات کو دیر تک جاگتی۔

صبح آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے ہوتے۔

کبھی ہاتھوں پر آٹے کے نشان، کبھی انگلیوں پر سوئی کے زخم۔

میں پوچھتی:

“حنا، کچھ کام کرتی ہو؟”

وہ فوراً کہتی:

“نہیں اماں جی، بس گھر کا کام ہے۔”

ایک دن میں نے اُس کے دوپٹے میں سے سلائی کے دھاگے نکالے۔

ایک دن کچن میں بڑے بڑے برتن دیکھے جو ہمارے گھر کے نہیں تھے۔

ایک دن اس کے پرس میں ایک چھوٹا سا receipt دیکھا:

“حنا فوڈز”

میں نے پوچھا:

“یہ کیا ہے؟”

وہ گھبرا گئی۔

“محلے کی ایک عورت کا ہے۔ غلطی سے میرے پرس میں رہ گیا۔”

میں پھر خاموش ہو گئی۔

بوڑھی عورت کی خاموشی ہمیشہ بےخبری نہیں ہوتی۔

کبھی کبھی وہ ڈرتی ہے کہ جو پوچھے گی، وہ سن بھی سکے گی یا نہیں۔

پچھلے منگل رقم نہیں آئی۔

یہ چھ سال میں پہلی بار ہوا تھا۔

میں سارا دن پریشان رہی۔

حنا سے کہا:

“چلو بینک چلتے ہیں۔”

وہ بولی:

“آپ چلی جائیں اماں جی۔ میرا سر درد کر رہا ہے۔”

میں اکیلی بینک گئی۔

وہاں لمبی قطار تھی۔

پنشن لینے والی عورتیں۔

بل جمع کروانے والے مرد۔

ایک لڑکا جو فارم غلط بھر کر دوبارہ قطار میں لگا ہوا تھا۔

میری باری آئی تو میں نے کاؤنٹر پر بیٹھے لڑکے سے کہا:

“بیٹا، دیکھو میرے صارم کی رقم آئی یا نہیں؟”

لڑکے نے کمپیوٹر پر کچھ دیکھا۔

پھر میری طرف دیکھا۔

پھر دوبارہ screen پر جھکا۔

اس کے چہرے پر وہی تذبذب تھا جو اچھے لوگ تب کرتے ہیں جب سچ اُن کے پاس ہو مگر کہنا مشکل ہو۔

اس نے آہستہ سے پوچھا:

“خالہ، آپ کا بیٹا باہر ہوتا ہے؟”

میں نے کہا:

“ہاں بیٹا، دبئی میں ہے۔ چھ سال سے وہیں ہے۔”

لڑکا کچھ لمحے خاموش رہا۔

پھر اس نے آواز مزید ہلکی کر لی۔

“خالہ، یہ پیسے باہر سے نہیں آتے۔”

مجھے لگا میری سماعت نے غلط سنا ہے۔

“کیا مطلب؟”

وہ بولا:

“یہ local transfer ہیں۔ یہی شہر، یہی برانچ۔ کبھی cash deposit، کبھی ایک business account سے۔”

میرے ہاتھ counter پر جم گئے۔

“کون سا account؟”

لڑکے نے ادھر اُدھر دیکھا۔

پھر ایک چھوٹا سا پرنٹ نکالا، اسے موڑ کر میری طرف بڑھا دیا۔

میں نے کاغذ کھولا۔

Account name:

حنا فوڈز اینڈ ٹفن سروس

Address:

گلی نمبر تین، پرانی ڈسپنسری کے پیچھے۔

گلی نمبر تین۔

میرے گھر سے تین گلی چھوڑ کر۔

میری بہو۔

چھ سال سے جو رقم میں اپنے بیٹے کی محنت سمجھ کر دعا دیتی رہی، وہ حنا کے account سے آ رہی تھی۔

میں بینک سے نکلی تو دنیا ویسی ہی تھی۔

سکول کے بچے ice cream کھا رہے تھے۔

سبزی والا آواز لگا رہا تھا۔

رکشے دھواں چھوڑ رہے تھے۔

مگر مجھے لگ رہا تھا پورا شہر مجھے دیکھ کر جھوٹ بول رہا ہے۔

میں گھر پہنچی تو دروازہ آدھا کھلا تھا۔

اندر فینائل کی تیز بو تھی۔

بہت تیز۔

میں نے آواز دی:

“حنا؟”

کوئی جواب نہیں آیا۔

میں آہستہ سے اندر گئی۔

صارم کا کمرہ کھلا ہوا تھا۔

وہ کمرہ جسے میں نے چھ سال سے ویسے ہی رکھا تھا۔

دیوار پر اُس کی پرانی شرٹ لٹکی تھی۔

الماری کے اوپر اُس کا cricket bat رکھا تھا۔

اور کونے سے حنا ایک بیلچہ نکال رہی تھی۔

میرے پاؤں وہیں رک گئے۔

“یہ کیا کر رہی ہو؟”

حنا چونک گئی۔

اس کا رنگ اڑ گیا۔

بیلچہ اُس کے ہاتھ سے تقریباً چھوٹ گیا۔

“اماں جی…”

میں نے کاغذ اُس کے سامنے پھینک دیا۔

“یہ کیا ہے؟”

وہ پرنٹ دیکھتے ہی دیوار سے لگ گئی۔

اس کی آنکھوں میں خوف نہیں تھا۔

ایک ایسی تھکن تھی جو بہت دیر تک کوئی بوجھ اکیلے اٹھانے کے بعد آتی ہے۔

میں نے کانپتی آواز میں پوچھا:

“صارم کہاں ہے؟”

حنا نے آنکھیں بند کر لیں۔

میں چیخی:

“میرا بیٹا کہاں ہے؟”

صحن میں میرا پوتا کھیلتے کھیلتے رک گیا۔

حنا نے فوراً اسے اندر بھیج دیا۔

پھر بہت دیر بعد بولی:

“اماں جی… صارم دبئی نہیں پہنچا تھا۔”

میری سانس رک گئی۔

“کیا؟”

وہ زمین پر بیٹھ گئی۔

بیلچہ ایک طرف رکھ دیا۔

“وہ کراچی پہنچا تھا۔ وہاں agent نے پیسے اور پاسپورٹ لے لیے۔ صارم نے دو دن مجھے فون کیا۔ کہا امی کو نہ بتانا، میں سنبھال لوں گا۔ پھر وہ ایک گودام میں کام کرنے لگا، جب تک paper دوبارہ بنیں۔”

میں دیوار پکڑ کر کھڑی رہی۔

حنا کی آواز ٹوٹ رہی تھی۔

“تیسرے ہفتے گودام میں آگ لگی۔ صارم اندر پھنسے دو لڑکوں کو نکالنے گیا۔ ایک بچ گیا، دوسرا بھی… مگر صارم باہر نہیں آ سکا۔”

میرے کانوں میں شور بھر گیا۔

میں نے صرف ایک لفظ سنا:

“نہیں۔”

حنا روتی رہی۔

“مجھے فون آیا تھا۔ میں گئی تھی۔ جب پہنچی تو سب ختم ہو چکا تھا۔ لاش قابلِ شناخت نہیں تھی۔ صرف اس کی انگوٹھی، گھڑی، اور جلی ہوئی قمیض کا ٹکڑا ملا۔”

میں زمین پر بیٹھ گئی۔

میرا صارم۔

میرا بیٹا۔

چھ سال پہلے مر چکا تھا۔

اور میں ہر عید اس کے لیے کپڑے الگ رکھتی رہی۔

ہر رمضان اس کے نام کی دعا کرتی رہی کہ یا اللہ پردیس میں آسانی دے۔

ہر deposit پر کہتی رہی:

“اللہ میرے بیٹے کی کمائی میں برکت دے۔”

میں نے حنا کی طرف دیکھا۔

“تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں؟”

وہ پھوٹ کر رو دی۔

“بتانے آئی تھی اماں جی۔ اسی رات۔ آپ صحن میں اس کے بیٹے کے کپڑے سی رہی تھیں۔ آپ کہہ رہی تھیں: حنا، صارم کو کہنا بیٹا ہو یا بیٹی، مجھے فرق نہیں پڑتا، بس وہ واپس آئے تو اپنے ہاتھ سے اذان دے۔”

وہ روتے روتے بولی:

“میں آپ کو کیسے بتاتی کہ جس کے آنے کا آپ انتظار کر رہی ہیں، وہ دفن بھی ہو چکا ہے؟”

میں نے سر پکڑ لیا۔

“اور یہ پیسے؟”

حنا نے صحن کی طرف دیکھا۔

“صارم کے مرنے کے بعد compensation کے تھوڑے پیسے ملے۔ میں نے سب ایک ساتھ آپ کو نہیں دیے۔ پھر وہ ختم ہو گئے۔ پھر میں نے کھانا پکانا شروع کیا۔ پہلے دو گھروں کو ٹفن دیا۔ پھر سکول کے teachers کو۔ پھر چھوٹا سا کام بن گیا۔”

وہ ہنسنے کی کوشش کر کے رو پڑی۔

“آپ ہر ماہ پیسے لے کر کہتی تھیں: میرا بیٹا مجھے بھولا نہیں۔ اماں جی، میں جھوٹ بولتی رہی… مگر ہر بار دل میں کہتی تھی: صارم، آج بھی تمہاری ماں نے ہمت نہیں ہاری۔”

میں نے پوچھا:

“اور یہ بیلچہ؟”

حنا نے صحن کے نیم کے درخت کی طرف اشارہ کیا۔

“آج آپ بینک گئی تھیں تو مجھے لگا اب سچ چھپے گا نہیں۔ میں وہ صندوق نکالنے جا رہی تھی جو میں نے نیم کے نیچے دفن کیا تھا۔ اس میں صارم کی انگوٹھی، گھڑی، جلی ہوئی قمیض کا ٹکڑا… اور وہ کاغذ ہے جس پر اس کے آخری الفاظ لکھے ہیں۔”

میرے اندر کچھ ٹوٹا۔

اور کچھ کھل بھی گیا۔

میں نے بیلچہ اٹھایا۔

حنا نے گھبرا کر کہا:

“اماں جی، میں نکال دیتی ہوں۔”

میں نے کہا:

“نہیں۔ ماں ہوں۔ اپنے بیٹے کا آخری نشان خود نکالوں گی۔”

ہم دونوں نے نیم کے نیچے مٹی کھودی۔

حنا روتی رہی۔

میں خاموش رہی۔

کبھی کبھی دکھ اتنا بڑا ہوتا ہے کہ آنسو بھی اس کے سامنے چھوٹے لگتے ہیں۔

تھوڑی دیر بعد لوہے کا چھوٹا صندوق نکل آیا۔

زنگ آلود۔

بھاری نہیں تھا۔

مگر میرے لیے پہاڑ تھا۔

میں نے اسے کھولا۔

اندر کپڑے میں لپٹی ہوئی صارم کی گھڑی تھی۔

ایک انگوٹھی۔

کالی پڑ چکی تھی۔

جلی ہوئی قمیض کا ایک ٹکڑا۔

اور ایک پرچی۔

اس پر صرف تین لفظ لکھے تھے:

“امی ہمت نہ ہارنا۔”

میری چیخ نکل گئی۔

چھ سال سے جو جملہ ہر deposit کے ساتھ آتا تھا، وہ صارم کا آخری جملہ تھا۔

حنا نے اسے reference نہیں بنایا تھا۔

اس نے میرے بیٹے کی آخری آواز کو ہر مہینے میرے گھر بھیجا تھا۔

میں نے صندوق سینے سے لگا لیا۔

اور پہلی بار حنا سے پوچھا:

“تم نے یہ سب اکیلے کیسے اٹھایا؟”

وہ میرے پاؤں کے پاس بیٹھ گئی۔

“میں بہو تھی اماں جی۔ بیٹی بنتی تو شاید پہلے دن رو کر بتا دیتی۔ بہو تھی، ڈرتی رہی کہ آپ کہیں گی میرے بیٹے کو کھا گئی۔”

میں نے اس کا چہرہ ہاتھوں میں لیا۔

چھ سال میں پہلی بار مجھے اُس کی عمر نظر آئی۔

وہ ابھی جوان تھی۔

مگر آنکھوں میں بوڑھی عورت رہتی تھی۔

وہ بیوہ بھی تھی۔

ماں بھی۔

کمائی کرنے والی بھی۔

جھوٹ اٹھانے والی بھی۔

اور میں اسے کبھی کبھی صرف خرچ مانگنے والی بہو سمجھتی رہی۔

اس رات ہمارے گھر میں کوئی نہیں سویا۔

میں نے صارم کا نام لے کر پہلی بار ماتم کیا۔

حنا نے پہلی بار کھل کر رویا۔

میرا پوتا میرے پاس بیٹھا رہا، سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ آج اس کا باپ اچانک اتنا قریب کیسے آ گیا ہے، جب وہ ہمیشہ دور بتایا جاتا تھا۔

اگلے دن میں بینک نہیں گئی۔

نہ کسی سے جھگڑا کیا۔

نہ حنا کو بددعا دی۔

ہاں، میں نے ایک کام کیا۔

سکول کے باہر اپنی ریڑھی پر ایک چھوٹا سا کاغذ چپکا دیا:

“صارم فوڈز”

لوگوں نے پوچھا:

“یہ نیا نام کیوں؟”

میں نے کہا:

“میرے بیٹے کا کاروبار ہے۔ چھ سال سے چل رہا تھا، مجھے دیر سے پتا چلا۔”

حنا اب بھی ٹفن بناتی ہے۔

میں صبح پراٹھے لگاتی ہوں۔

میرا پوتا سکول جاتا ہے۔

نیم کے نیچے اب صندوق نہیں دفن۔

وہ میرے کمرے میں رکھا ہے۔

میں اسے روز نہیں کھولتی۔

صرف جمعرات کو۔

صارم کی گھڑی کو ہاتھ میں لے کر کافی دیر بیٹھتی ہوں۔

انگوٹھی دیکھتی ہوں۔

اور وہ پرچی پڑھتی ہوں:

“امی ہمت نہ ہارنا۔”

اب مجھے معلوم ہے، میرا بیٹا دبئی نہیں گیا تھا۔

مگر وہ جھوٹا بھی نہیں تھا۔

وہ واقعی مجھے ہر مہینے ہمت بھیجتا رہا۔

بس راستہ بدل گیا تھا۔

کبھی بہو کے ہاتھ سے۔

کبھی ٹفن کے پیسوں سے۔

کبھی اس جملے سے جو اس نے جاتے ہوئے نہیں، جاتے جاتے چھوڑا تھا۔

لوگ کہتے ہیں جھوٹ ہمیشہ برا ہوتا ہے۔

شاید ٹھیک کہتے ہیں۔

مگر کچھ جھوٹ ایسے ہوتے ہیں جو کسی کے لالچ سے نہیں، کسی کی ٹوٹی ہوئی سانس بچانے کیلئے بولے جاتے ہیں۔

وہ جھوٹ بھی آخرکار سچ مانگتا ہے۔

مگر جب سچ سامنے آتا ہے تو انسان سمجھتا ہے:

کبھی کبھی جسے ہم دھوکا سمجھتے ہیں، وہ کسی اور کی چھ سالہ قربانی نکلتی ہے۔

اور جس بہو کو ہم پرایا سمجھتے رہے…

وہی ہمارے بیٹے کی آخری بات نبھاتی رہی ہوتی ہے۔ ❤️

10/06/2026
🥀 میری عدت ختم ہونے کے ٹھیک ایک ہفتے بعد، میرا بیٹا کچن میں داخل ہوا—ساتھ میں دو غل مچاتے ہوئے پلے تھے جنہیں دیکھ کر اس ...
10/06/2026

🥀 میری عدت ختم ہونے کے ٹھیک ایک ہفتے بعد، میرا بیٹا کچن میں داخل ہوا—ساتھ میں دو غل مچاتے ہوئے پلے تھے جنہیں دیکھ کر اس نے کہا، "امی! اب جبکہ ابا فوت ہو چکے ہیں، آپ ہمارے پالتو جانور سنبھال لیا کریں جب بھی ہم سفر پر جائیں۔" میں نے ایک روایتی، صابر مشرقی بیوہ کی طرح مسکرا کر سر ہلا دیا۔ لیکن میرے اندر سے ایک آواز آئی، "میں وہ زندگی نہیں گزاروں گی جو تم لوگوں نے میرے لیے طے کر دی ہے۔" طلوعِ آفتاب تک میرا جہاز کراچی کی بندرگاہ چھوڑ چکا ہوتا—اور میرا خالی کمرہ ان کی زندگی کی پہلی سزا بن جاتا۔ 🥀
جب غضنفر صاحب کا دل کا دورہ پڑنے سے انتقال ہوا، تو لاہور میں بیٹھے ہر رشتے دار نے میری زندگی کا فیصلہ ان کی تدفین سے پہلے ہی کر دیا تھا۔
میرا نام واحدہ زبیری ہے۔
میری عمر اڑسٹھ سال تھی۔
ایک بیوہ۔
دو بچوں کی ماں۔
چار نواسے نواسیوں کی نانی اور دادی۔
اور بظاہر ایک ایسی مفت کی ملازمہ جس کا مقدر اب صرف سفید چادر اور تاریک مستقبل تھا۔
میں نے ان کے جنازے اور قل کا سارا انتظام خود سنبھالا۔
میں سورتوں کی تلاوت، لبان کی خوشبو، مولوی صاحب کی دعاؤں اور تعزیت کے لیے آنے والے رشتے داروں کے درمیان بیٹھی رہی جو میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہہ رہے تھے، "واحدہ باجی! حوصلہ رکھیں۔ اللہ صبر دے گا۔"
میں نے اپنے بیٹے دانیال اور بیٹی مروہ کو اپنے سر پر کھڑے ہو کر یوں باتیں کرتے سنا جیسے میں کوئی انسان نہیں، گھر کا فرنیچر ہوں۔
"امی دو مہینے ہمارے پاس رہ لیں گی، پھر دو مہینے تمہارے پاس چلی جائیں گی۔"
"نہیں نہیں، بچوں کے بورڈ کے امتحانات آ رہے ہیں۔ بہتر ہے امی اپنے ہی گھر میں رہیں۔"
"ہاں، یہ ٹھیک ہے۔ وہ بچوں کو اکیڈمی سے پک بھی کر لیا کریں گی۔"
"انہیں ماسی اور خانساماں کے سارے شیڈول کا پتا ہے۔"
"ویسے بھی اس عمر میں انہیں فارغ نہیں بیٹھنا چاہیے۔"
ایک بار بھی کسی نے مجھ سے نہیں پوچھا کہ میں کیا چاہتی ہوں۔
اور میں خاموش رہی۔
کیونکہ غضنفر کے انتقال سے تین ماہ پہلے، میں نے ایک ٹکٹ خریدا تھا۔
بالکل خفیہ طور پر۔
ایک سال کا سمندری سفر (Cruiseline continuous tour)۔
کراچی سے دبئی۔
دبئی سے سنگاپور۔
سنگاپور سے جاپان۔
پھر آسٹریلیا، جنوبی افریقہ، یونان، اٹلی، سپین اور وہ تمام مقامات جن کے نام میں نے پرانے رسالوں میں صرف اس وقت اپنی انگلیوں سے چھوئے تھے جب پورا خاندان سو رہا ہوتا تھا۔
یہ کوئی پاگل پن نہیں تھا۔
نہ ہی یہ کوئی ڈراما تھا۔
یہ میری بقا کی جنگ تھی۔
چھالیس سال تک میں نے کھانا پکایا، صفائی کی، بچے پالے، سسرال والوں کی خدمت کی، لنچ باکس تیار کیے، طنز کے تیر سہے، مہمانوں کے سامنے مسکرائی اور سب سے آخر میں سوئی۔
میں نے سب کا خیال رکھا۔
سوائے اپنے۔
غضنفر جانتے تھے۔
وہ کوئی رومانوی انسان نہیں تھے۔
نہ انہوں نے کبھی شاعری لکھی۔
نہ کبھی پھول لائے۔
لیکن ٹکٹ بک کرنے سے دو ہفتے پہلے، انہوں نے مجھے اخبار میں اس بحری سفر کا اشتہار گھورتے ہوئے دیکھ لیا تھا۔
انہوں نے اخبار کو تہہ کیا، اسے میری چائے کی پیالی کے پاس رکھا اور کہا، "ایک بار جاؤ واحدہ۔ اس سے پہلے کہ یہ بچے تمہیں اپنی مفت کی آیا بنا دیں۔"
میں اس وقت ہنس پڑی تھی۔
وہ نہیں ہنسے۔
انہوں نے سنجیدگی سے کہا، "مجھ سے وعدہ کرو۔"
چنانچہ میں نے وعدہ کر لیا۔
اور جب وہ فوت ہوئے، تو میں نے یہ سفر منسوخ کرنے کا سوچا تھا۔
تقریباً منسوخ کر ہی دیا تھا۔
لیکن پھر میرے بچے آ گئے۔
تدفین کے بعد کے ہفتے میں دانیال دو بار آیا۔
پہلی بار، وہ ایک فائل لے کر آیا۔
"امی، بس کچھ قانونی کاغذی کارروائی ہے،" اس نے بغیر پوچھے غضنفر صاحب کی مخصوص کرسی پر بیٹھتے ہوئے کہا۔ "مکان کے کاغذات، بینک کے نامزدگی فارم، لاکر کی چابیاں۔ ہمیں سب کچھ سنبھال لینا چاہیے اس سے پہلے کہ کوئی الجھن کھڑی ہو۔"
الجھن۔
اس کے باپ کو انتقال کیے ابھی پانچ دن ہوئے تھے۔
دوسری بار، وہ اپنی بیوی رانیہ اور پالتو جانوروں کے دو پلاسٹک کیریئرز کے ساتھ آیا۔
ان کے اندر دو چھوٹے چھوٹے پلے تھے، جو کانپ رہے تھے، بھونک رہے تھے اور قید الارم کی طرح شور مچا رہے تھے۔
ان کے پیچھے میری پوتیاں کھڑی تھیں جن کے ہاتھوں میں گلابی پانی کی بوتلیں تھیں لیکن ان جانوروں میں کوئی دلچسپی نہیں تھی جن کے لیے انہوں نے ضد کی تھی۔
رانیہ بناوٹی انداز میں مسکرائی۔
"ہم یہ بچوں کے لیے لائے ہیں۔ ذمہ داری کا احساس ہونا چاہیے نا؟"
بچیاں پہلے ہی صوفے پر بیٹھ کر موبائل پر ریلز دیکھ رہی تھیں۔
اصل ذمہ داری میں تھی۔
دانیال نے پہلا پلاسٹک کیریئر کھولا اور کلے کو کچن کے فرش پر چھوڑ دیا۔
اس نے فوراً ہی گیس سلنڈر کے پاس پیشاب کر دیا۔
میں نے اس پیلے رنگ کے گندے پانی کو دیکھا۔
رانیہ ہنس پڑی، "ارے، وہ بس نیا ماحول دیکھ کر گھبرا گیا ہے۔"
پھر میرے بیٹے نے وہ بات کہی۔
نہایت لاپرواہی سے۔
جیسے کسی ملازمہ کو ہدایات دے رہا ہو۔
"اب جبکہ ابا فوت ہو چکے ہیں، آپ انہیں رکھ لیا کریں جب بھی ہم باہر جائیں۔ ویسے بھی آپ اکیلی ہیں، آپ کا دل بہل جایا کرے گا۔"
کافی فلٹر پر میری گرفت مضبوط ہو گئی۔
پلوں کی وجہ سے نہیں بلکہ اس کے لہجے کی وجہ سے۔
اس نے یہ نہیں کہا تھا، "کیا آپ رکھ لیں گی؟"
نہ ہی یہ کہا، "امی، پلیز۔"
وہ میری زندگی کا فیصلہ پہلے ہی کر چکا تھا۔
مروہ نے ویڈیو کال پر جوائن کیا۔
اس کا چہرہ اسکرین پر نمودار ہوا، سونے کے جھمکے ہل رہے تھے۔
"ہاں امی، یہ تو بہت اچھا ہے۔ آپ کا مصروف رہنا ضروری ہے۔ بیوگی کے بعد زیادہ فارغ وقت صحت کے لیے اچھا نہیں ہوتا۔"
بیوگی۔
جیسے یہ کوئی بیماری ہو۔
اور اس کا علاج کچن میں پلوں کی گندگی صاف کرنا اور بچوں کو اکیڈمی سے لانا ہو۔
میں مسکرائی۔
میں نے بحث نہیں کی۔
میں روئی نہیں۔
میں نے آواز بلند نہیں کی۔
میں نیچے جھکی، کیریئر کو چھوا اور نرمی سے پوچھا، "ہر بار جب تم لوگ سفر پر جاؤ گے؟"
دانیال نے کندھے اچکائے۔
"ظاہر ہے امی۔ آپ نے ہمیشہ سب کچھ اکیلے ہی تو سنبھالا ہے۔"
اس نے یہ بات تعریف کے انداز میں کہی تھی۔
لیکن یہ میرے لیے عمر قید کی سزا کی طرح تھی۔
رانیہ نے اضافہ کیا، "اگلے مہینے ہم بالی جا رہے ہیں۔ صرف دس دن کے لیے۔ اس کے بعد ستمبر میں یورپ کا ارادہ ہے۔ آپ سنبھال لیں گی نا؟"
میں نے اپنے بیٹے کو دیکھا۔
وہ لڑکا جس کی انجینئرنگ کی فیس میں نے اپنی شادی کے کنگن بیچ کر ادا کی تھی۔
وہ بیٹی جو فون پر تھی، جس کی پہلی ڈیلیوری کے وقت ہسپتال میں مجھ پر اس سے زیادہ قیامت گزری تھی۔
وہ نواسے نواسے جو مجھے صرف اس وقت یاد کرتے تھے جب انہیں آلو کے پراٹھے چاہیے ہوتے تھے یا نیٹ فلکس کا پاس ورڈ۔
اور اچانک، میرے اندر کا دکھ ایک نئی شکل اختیار کر گیا۔
وہ بالکل صاف، تیز اور کارآمد ہو گیا۔
"ہاں،" میں نے کہا۔ "میں سنبھال لوں گی۔"
دانیال خوش نظر آنے لگا۔
یہی اس کی سب سے بڑی غلطی تھی۔
اس رات، جب وہ پلے، ان کے برتن، چبانے والے کھلونے، دوائیاں اور اپنا حق جتلانے کا انداز میرے کچن میں چھوڑ کر چلے گئے، میں نے سامنے کا دروازہ لاک کر دیا۔
پھر میں اپنے بیڈ روم میں گئی۔
ڈریسنگ ٹیبل پر غضنفر صاحب کی تصویر رکھی تھی، جس کے گرد صندل کا ہار اب سوکھ رہا تھا۔
میں نے الماری کا نچلا دراز کھولا۔
اندر ایک گہرے نیلے رنگ کا فولڈر تھا۔
پاسپورٹ۔
بحری جہاز کا ٹکٹ۔
ٹریول انشورنس۔
غیر ملکی کرنسی۔
دو نئے سوتی لباس جو میں نے پرانی ساڑھیوں اور چادروں کے نیچے چھپا کر رکھے تھے اور غضنفر کا ایک خط۔
میں اسے بیس بار پڑھ چکی تھی۔
اس رات، میں نے اسے پھر پڑھا۔
واحدہ، جب وہ تمہارا وقت بانٹنا شروع کر دیں، تو اس سے پہلے نکل جاؤ کہ وہ تمہاری روح کو بانٹ دیں۔
میں نے اس کاغذ کو اپنے سینے سے لگا لیا۔
پھر میں نے پیکنگ کی۔
زیادہ سامان نہیں تھا۔
دو سوٹ کیس۔
ایک ہینڈ بیگ۔
میری دوائیاں۔
میکے سے ملی چاندی کی تسبیح۔
اور وہ چھوٹا سا لوہے کا ڈبہ جس میں غضنفر نے ستائیس سال سے کسی ہنگامی ضرورت کے لیے نقد رقم چھپا کر رکھی تھی۔
صبح کے چار بج کر دس منٹ پر پورا شہر اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔
پلے یوٹیلٹی روم میں سو رہے تھے۔
میں نے انہیں کھانا اور پانی دیا، اور تازہ ہوا کے لیے بالکونی کی جالی کھول دی۔
پھر میں نے بلڈنگ کے چوکیدار کو بلایا۔
"ماجد،" میں نے کہا، "دانیال صاحب صبح آئیں گے۔ انہیں یہ لفافہ دے دینا۔"
میرے سوٹ کیس دیکھ کر وہ پریشان ہو گیا۔
"واحدہ باجی، آپ اتنی صبح کہاں جا رہی ہیں؟"
میں مسکرائی۔
"ساکت زندگی سے آزاد ہونے۔"
صبح پانچ بج کر پچیس منٹ پر، میں کراچی انٹرنیشنل کروز ٹرمینل پر موجود تھی، سفید ماتمی چادر کے بجائے ہلکے نیلے رنگ کی شال اوڑھے ہوئے ہجوم میں کھڑی تھی۔
سمندر کی ہوا میں نمک، ڈیزل اور ایک نئی خوشبو تھی۔
آزادی کی خوشبو۔
خاندان چشمے لگائے اور سامان پر ٹیگ لگائے قطاروں میں کھڑے تھے۔
ایک نوجوان جوڑا پاسپورٹ پر بحث کر رہا تھا۔
ایک عمر رسیدہ پارسی شخص فون پر ہنس رہا تھا۔
ایک بچے نے جہاز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے چیخ کر کہا، "امی! یہ تو ہماری بلڈنگ سے بھی بڑا ہے!"
میں وہاں اکیلی کھڑی تھی۔
اور چھالیس سالوں میں پہلی بار، کسی کو مجھ سے چائے کی طلب نہیں تھی۔
کسی نے نہیں پوچھا کہ میری جرابیں کہاں ہیں۔
کسی نے مجھے قربانی دینے اور سمجھوتہ کرنے کو نہیں کہا۔
صبح چھ بج کر تین منٹ پر میرا فون تھرتھرانے لگا۔
دانیال کی کال تھی۔
میں نے اسے بجنے دیا۔
پھر مروہ۔
پھر رانیہ۔
پھر دوبارہ دانیال۔
آخر کار ایک میسج آیا:
امی، آپ کہاں ہیں؟ پلے رو رہے ہیں۔ ہم آپ کے گھر کے باہر کھڑے ہیں۔ دروازہ کھولیں۔
میں نے سمندر کے اوپر سورج کو آہستہ آہستہ ابھرتے ہوئے دیکھا۔
ایک اور میسج آیا:
یہ کوئی مذاق نہیں ہے۔ ہماری فلائٹ کا وقت ہو رہا ہے۔
پھر مروہ کا میسج:
امی، بچوں کی طرح ضد نہ کریں۔ ابھی ابا کا انتقال ہوا ہے، لوگ باتیں بنائیں گے۔
لوگ باتیں بنائیں گے۔
اس ایک جملے کا استعمال کر کے انہوں نے میری فیملی میں تین نسلوں سے عورتوں کو قید کر رکھا تھا۔
میں نے صرف ایک جواب ٹائپ کیا:
بنانے دو۔
اور پھر فون بند کر دیا۔
صبح چھ بج کر چالیس منٹ پر، بورڈنگ سے ٹھیک پہلے، میں نے سیکیورٹی لائن کے پاس ایک شناسا چہرہ دیکھا۔
میرے وکیل۔
ذوالقرنین مہتا صاحب۔
گرے سوٹ، ہاتھ میں چمڑے کا بیگ، اور آنکھوں میں سنجیدگی۔
ایک سیکنڈ کے لیے مجھے لگا کہ کچھ غلط ہو گیا ہے۔
"واحدہ باجی،" انہوں نے دھیمی آواز میں کہا، "میں اس لیے آیا کیونکہ کل آپ کا بیٹا میرے آفس آیا تھا۔"
میری مسکراہٹ غائب ہو گئی۔
"دانیال؟"
انہوں نے اثبات میں سر ہلایا۔
"وہ پوچھ رہا تھا کہ کیا غضنفر بھائی کے انتقال کے بعد آپ کے ذہنی توازن اور فٹنس پر قانونی سوال اٹھایا جا سکتا ہے؟"
سمندری ہوا اچانک برف کی طرح ٹھنڈی ہو گئی۔
ذوالقرنین صاحب نے اپنا بیگ کھولا اور کچھ فوٹو کاپیاں نکالیں۔
"وہ یہ بھی پوچھ رہا تھا کہ اگر ایک بیوہ 'غیر مستحکم' ہو جائے، تو بچے کتنی جلدی اس کے گھر اور جائیداد کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے سکتے ہیں۔"
میں نے ان کاغذات کو دیکھا۔
وہاں میرے بیٹے کے دستخط موجود تھے۔
یہ کوئی شک نہیں تھا۔
نہ ہی کوئی غلط فہمی تھی۔
یہ ایک پورا منصوبہ تھا۔
میرے ہاتھ نہیں کانپے۔ اس بات نے مجھے خود حیران کر دیا۔
وکیل صاحب نے آواز اور دھیمی کر لی۔
"ابھی اور بھی ہے۔"
انہوں نے مجھے ایک اور صفحہ دیا۔
ایک ڈرافٹ درخواست، جو تیار تھی لیکن ابھی جمع نہیں کرائی گئی تھی۔
درخواست برائے ہنگامی سرپرستی (Guardianship) مسمات واحدہ زبیری
میرے اپنے بچوں نے صرف میرا وقت نہیں بانٹا تھا۔
انہوں نے میری قید کا انتظام کر رکھا تھا۔
ٹرمینل پر بورڈنگ کا آخری اعلان گونجا۔
مسافر آگے بڑھنے لگے۔
ذوالقرنین صاحب نے میری طرف دیکھا۔
"میں اسے قانونی طور پر روک سکتا ہوں، لیکن مجھے آپ کی باقاعدہ اجازت اور ہدایات کی ضرورت ہوگی۔"
میں نے بحری جہاز کو دیکھا۔
پھر اپنے ہینڈ بیگ میں موجود غضنفر کے خط کو دیکھا۔
اور پھر اس شہر کی طرف دیکھا جو میں پیچھے چھوڑ رہی تھی، جہاں میرے بچے اس وقت میرے مقفل گھر کے باہر دو بھونکتے ہوئے پلوں کے ساتھ کھڑے تھے اور ان کا شکار وہاں سے جا چکا تھا۔
میں نے وکیل صاحب کے ہاتھ سے پین لیا۔
اور اس ہدایت نامے پر ایک جملہ لکھ دیا:
دوسری وصیت آج ہی جاری کر دیں۔
وکیل صاحب حیرت سے ساکت رہ گئے۔
"آپ کو یقین ہے؟"
میں مسکرائی۔
اس بار ایک ماں کی طرح نہیں بلکہ ایک ایسی عورت کی طرح جو مردہ حالت سے زندگی کی طرف لوٹی تھی۔
"جی ہاں۔"
کیونکہ دل کا دورہ پڑنے سے چھ ماہ پہلے، غضنفر اور میں نے سب کچھ بدل دیا تھا۔
وہ بنگلہ۔
فکسڈ ڈپازٹس۔
زیورات۔
کاروبار کے شیئرز۔
سب کچھ۔
اور میرے بچے اب یہ جاننے والے تھے کہ جس ماں کو وہ ذہنی مریضہ قرار دینے چلے تھے، اس ماں نے انہیں اپنی زندگی سے بہت پہلے ہی عاق کر کے مردہ قرار دے دیا تھا۔
جیسے ہی میں نے جہاز کے راستے پر قدم رکھا، میرے ہینڈ بیگ کے اندر میرا فون غلطی سے آن ہو گیا۔
اسکرین پر ایک آخری میسج چمکا۔
دانیال کی طرف سے تھا:
امی، ابھی دروازہ کھولیں، ورنہ میں اسے توڑ دوں گا۔
اور پھر اس کے نیچے وکیل صاحب کا جواب پہنچا:
دانیال صاحب، آپ کی والدہ اس وقت دستیاب نہیں ہیں۔ اور ہاں، ذرا میرے آفس تشریف لائیں۔ آپ کے والد آپ کے لیے ایک ویڈیو پیغام چھوڑ گئے ہیں۔

Address

Lahore

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Urdu Vibes posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Urdu Vibes:

Share