10/06/2026
💔میں سمجھی میرا شوہر مجھے دھوکا دے رہا ہے۔۔ مگر Unknown نمبر کے پیچھے جو سچ نکلا، اُس نے مجھے بے وفائی سے بھی زیادہ رُلایا۔” 🥀
میرا نام حرا ہے۔
عمر چھتیس سال۔
میری شادی احسن سے چودہ سال پہلے ہوئی تھی۔
احسن کم گو آدمی ہے۔
نہ زیادہ ہنستا ہے، نہ زیادہ روتا ہے۔
میں اکثر کہتی ہوں:
“تمہارے اندر دل ہے بھی یا نہیں؟”
وہ مسکرا کر کہتا:
“ہے، بس شور نہیں کرتا۔”
ہماری زندگی بہت عام ہے۔
ایک چھوٹا سا گھر۔
قسطوں پر لی ہوئی گاڑی۔
ہر مہینے کا بجٹ۔
بجلی کا بل دیکھ کر ماتھا پکڑنا۔
اور ہمارا بیٹا، یحییٰ۔
یحییٰ بارہ سال کا تھا جب وہ ہم سے جدا ہوا۔
سکول وین کا حادثہ تھا۔
ایک عام سا دن تھا۔
صبح اس نے جاتے ہوئے کہا تھا:
“امی، آج آلو والے پراٹھے رکھنا۔ واپسی پر بہت بھوک لگتی ہے۔”
وہ واپس آیا۔
مگر بھوک کے ساتھ نہیں۔
ایک سفید چادر میں۔
اس دن کے بعد ہمارے گھر کی آواز بدل گئی۔
پہلے اس گھر میں یحییٰ کی گیند دیوار سے ٹکراتی تھی۔
اس کی پنسلیں میز کے نیچے ملتی تھیں۔
اس کے جوتے ہمیشہ الٹے پڑے ہوتے تھے۔
اور اس کی آواز ہر جگہ ہوتی تھی:
“امی، پانی!”
“بابا، یہ question سمجھا دیں!”
“امی، میری white shirt کہاں ہے؟”
پھر اچانک گھر میں سب کچھ اپنی جگہ رہنے لگا۔
جوتے سیدھے۔
کتابیں بند۔
میز صاف۔
اور خاموشی اتنی گہری کہ کبھی کبھی مجھے اپنے سانس لینے کی آواز بھی بری لگتی۔
میں نے یحییٰ کی چیزیں آہستہ آہستہ سمیٹ دیں۔
لوگ کہتے تھے:
“حرا، چیزیں سامنے رہیں گی تو زخم تازہ رہے گا۔”
میں نے مان لیا۔
اس کا بیگ، یونیفارم، ٹرافیاں، کتابیں، سب ایک بڑے carton میں رکھ کر سٹور میں بند کر دیا۔
احسن نے کچھ نہیں کہا۔
بس اس دن رات کو بہت دیر تک سٹور کے دروازے کے سامنے بیٹھا رہا۔
میں نے پوچھا:
“کیا کر رہے ہو؟”
وہ بولا:
“کچھ نہیں۔”
احسن کا “کچھ نہیں” ہمیشہ بہت کچھ ہوتا تھا۔
دو سال گزر گئے۔
لوگوں نے سمجھ لیا کہ ہم سنبھل گئے ہیں۔
میں نے بھی سمجھ لیا تھا کہ شاید یہی زندگی ہے۔
زخم کو دل میں دبا کر چائے بناتے رہنا۔
کپڑے تہہ کرنا۔
مہمانوں کے سامنے مسکرا دینا۔
اور رات کو تکیہ بدل لینا تاکہ آنسوؤں کا داغ نظر نہ آئے۔
پچھلے مہینے کی بات ہے۔
احسن اپنا موبائل کچن میں چارجنگ پر لگا کر چھت پر چلا گیا۔
میں نے فون اٹھایا کہ side پر رکھ دوں۔
اسی وقت screen روشن ہوئی۔
ایک missed call تھی۔
نام لکھا تھا:
Unknown
پہلے میں نے دھیان نہیں دیا۔
مگر پھر call history کھل گئی۔
وہی نمبر۔
بار بار۔
رات کے ایک بجے۔
صبح فجر سے پہلے۔
دوپہر میں۔
کبھی صرف دس سیکنڈ کی call۔
کبھی ایک منٹ۔
کبھی missed call۔
میرے ہاتھ ٹھنڈے ہو گئے۔
دو سال سے میں سمجھ رہی تھی ہمارا غم ایک ہے۔
اور اب مجھے لگا شاید احسن کی زندگی میں کوئی ایسا حصہ ہے جس تک میری رسائی نہیں۔
میں نے اُس رات کچھ نہیں پوچھا۔
بس غور کرنا شروع کیا۔
احسن واقعی بدل گیا تھا۔
وہ فون ہمیشہ اپنے پاس رکھتا۔
کبھی کبھی رات کو اٹھ کر باہر چلا جاتا۔
واپس آتا تو آنکھیں سرخ ہوتیں۔
میں پوچھتی:
“طبیعت ٹھیک ہے؟”
وہ کہتا:
“نیند نہیں آ رہی تھی۔”
ایک رات مجھے برداشت نہیں ہوا۔
احسن سو چکا تھا۔
میں نے آہستہ سے اس کا فون اٹھایا۔
Unknown کا نمبر کھولا۔
انگلی call کے نشان پر رکھ دی۔
دل اتنا زور سے دھڑک رہا تھا جیسے میں کوئی گناہ کرنے جا رہی ہوں۔
پھر میں نے کال ملا دی۔
چند لمحے خاموشی رہی۔
پھر میرے کان میں گھنٹی بجی۔
اور اسی وقت ہمارے گھر کے اندر کہیں سے ایک اور گھنٹی کی آواز آئی۔
بہت ہلکی۔
بہت دبی ہوئی۔
مگر صاف۔
میں جم گئی۔
یہ آواز باہر سے نہیں آ رہی تھی۔
یہ ہمارے گھر کے اندر تھی۔
میں نے فوراً کال کاٹ دی۔
کمرہ خاموش ہو گیا۔
مگر میری نیند ہمیشہ کیلئے ٹوٹ چکی تھی۔
اگلے دن میں نے پورا گھر دیکھا۔
الماریاں۔
درازیں۔
احسن کی فائلیں۔
کچن کی اوپر والی shelf۔
کچھ نہیں ملا۔
آخر میں میری نظر سٹور پر گئی۔
وہی سٹور جہاں یحییٰ کی چیزیں بند تھیں۔
میں نے دو سال میں وہ دروازہ شاید تین بار کھولا تھا۔
اور ہر بار اتنی جلدی بند کیا جیسے اندر کوئی سانس لے رہا ہو۔
اس بار میں نے ہمت کی۔
دروازہ کھولا۔
دھول کی بو آئی۔
ایک کونے میں یحییٰ کا carton رکھا تھا۔
اسی پر وہ پرانا نیلا بیگ رکھا تھا جو حادثے کے بعد ہمیں واپس ملا تھا۔
میں نے بیگ اٹھایا۔
چین کھولی۔
اندر کتابیں نہیں تھیں۔
ایک چھوٹا سا فون تھا۔
یحییٰ کا فون۔
وہی فون جو احسن نے اسے اس لیے دیا تھا کہ school van late ہو تو call کر سکے۔
مجھے بتایا گیا تھا کہ accident میں فون ٹوٹ گیا تھا۔
گم ہو گیا تھا۔
ملا ہی نہیں تھا۔
مگر وہ یہاں تھا۔
میرے گھر میں۔
میرے بیٹے کے بیگ میں۔
دو سال سے۔
میں نے کانپتے ہاتھوں سے screen روشن کی۔
battery پوری تھی۔
یعنی احسن اسے charge کرتا رہا تھا۔
call logs کھولے۔
ساری calls احسن کی تھیں۔
Unknown سے۔
درجنوں نہیں۔
سینکڑوں۔
میں نے messages کھولے۔
پرانے message تھے۔
یحییٰ کے۔
“بابا، واپسی پر samosa لیتے آنا.”
“امی کو مت بتانا، maths test میں 8/10 آئے ہیں.”
“بابا، آپ best ہیں لیکن امی کو مت بتانا ورنہ وہ کہیں گی کیا میں نہیں ہوں؟”
ایک voice recording بھی تھی۔
میں نے play کر دی۔
یحییٰ کی آواز کمرے میں پھیل گئی:
“بابا، اگر میں call نہ اٹھاؤں تو سمجھ جانا میں game کھیل رہا ہوں۔ غصہ نہ ہونا۔”
میرے ہاتھ سے فون تقریباً گر گیا۔
دو سال بعد میرے بیٹے کی آواز میرے سامنے زندہ کھڑی تھی۔
میں زمین پر بیٹھ گئی۔
رو بھی نہیں پا رہی تھی۔
صرف سن رہی تھی۔
پھر پیچھے سے احسن کی آواز آئی:
“تمہیں یہ نہیں سننا چاہیے تھا۔”
میں مڑی۔
وہ دروازے میں کھڑا تھا۔
اس کے چہرے پر شرمندگی نہیں تھی۔
صرف وہ تھکن تھی جو آدمی تب اٹھاتا ہے جب وہ اکیلے روتا رہے۔
میں نے پوچھا:
“یہ فون تمہارے پاس تھا؟”
وہ خاموش رہا۔
“تم نے مجھ سے چھپایا؟”
اس نے آہستہ سے کہا:
“تم نے کہا تھا اس کی چیزیں سامنے نہیں رکھنی۔ تم ہر بار ٹوٹ جاتی تھیں۔ میں نے سوچا کم از کم ایک چیز میرے پاس رہنے دو۔”
میں نے فون سینے سے لگا لیا۔
“اور Unknown کیوں save کیا؟ یحییٰ کیوں نہیں؟”
احسن کی آنکھیں بھر آئیں۔
وہ دیوار سے لگ کر بیٹھ گیا۔
“کیونکہ میں اپنے فون میں اس کا نام دیکھ نہیں سکتا تھا۔ جب یحییٰ لکھتا تھا تو لگتا تھا ابھی call اٹھا لے گا۔ اس لیے Unknown کر دیا۔”
وہ پہلی بار میرے سامنے رویا۔
خاموش نہیں۔
سچ مچ۔
بچوں کی طرح نہیں، باپوں کی طرح۔
جیسے اندر بہت سالوں سے رکھا ہوا پتھر آخر ٹوٹ گیا ہو۔
“میں رات کو اسے call کرتا تھا۔ گھنٹی سنتا تھا۔ بس چند سیکنڈ۔ پھر کاٹ دیتا تھا۔ لگتا تھا گھر میں اس کی کوئی چیز ابھی بھی جواب دینے کے قابل ہے۔”
میں نے پوچھا:
“مجھے کیوں نہیں بتایا؟”
وہ بولا:
“کیونکہ تم نے رونا چھوڑ دیا تھا حرا۔ میں تمہیں دوبارہ روتا نہیں دیکھ سکتا تھا۔”
میں نے اس کی طرف دیکھا۔
“اور تم؟ تم کس کے سامنے روتے تھے؟”
وہ خاموش ہو گیا۔
اس خاموشی میں دو سال کا ظلم تھا۔
نہ اس نے مجھ پر کیا تھا۔
نہ میں نے اس پر۔
ہم دونوں نے اپنے غم پر کیا تھا۔
ہم نے ایک دوسرے کو بچانے کے چکر میں ایک دوسرے سے یحییٰ چھپا لیا تھا۔
میں نے فون کھولا۔
یحییٰ کی recording دوبارہ چلائی۔
اس بار احسن نے بھی سن لیا۔
ہم دونوں سٹور کے فرش پر بیٹھے رہے۔
دھول، پرانے cartons، ٹوٹی ہوئی ٹرافی، school bag، اور ہمارے بیٹے کی آواز کے درمیان۔
کافی دیر بعد میں نے کہا:
“احسن، کل سے یہ فون Unknown نہیں رہے گا۔”
اس نے میری طرف دیکھا۔
میں نے فون اس کے ہاتھ میں دیا۔
“اس کا نام واپس لکھو۔ یحییٰ۔”
احسن کے ہاتھ کانپے۔
اس نے contacts کھولے۔
Unknown delete کیا۔
Yahya لکھا۔
پھر فون بند کر کے میرے حوالے کر دیا۔
اس رات ہم نے یحییٰ کی چیزیں دوبارہ نہیں چھپائیں۔
نہ سب باہر رکھیں۔
بس اس کا ایک photo frame lounge میں رکھا۔
اس کی favourite pencil میری dressing table پر آ گئی۔
اور وہ چھوٹا phone احسن کی الماری میں نہیں، ہمارے دونوں کے drawer میں رکھا گیا۔
اب کبھی کبھی ہم اسے call نہیں کرتے۔
صرف چارج کر دیتے ہیں۔
جیسے کسی یاد کو مرنے نہیں دیتے۔
لوگ سمجھتے ہیں غم کو چھپانے سے گھر چل جاتا ہے۔
مگر غم چھپتا نہیں۔
وہ Unknown بن کر فون میں save ہو جاتا ہے۔
رات کے ایک بجے ring کرتا ہے۔
اور ایک دن سٹور کے بند دروازے سے آواز دیتا ہے:
“مجھے نام سے پکارو۔”
آج بھی جب کوئی کہتا ہے:
“اولاد کا غم وقت کے ساتھ کم ہو جاتا ہے”
تو میں صرف اتنا کہتی ہوں:
“نہیں، کم نہیں ہوتا۔ بس انسان اس کا نام بدل دیتا ہے۔”
اور جس دن آپ دوبارہ اس کا اصل نام لینے لگیں..
اسی دن healing شروع ہوتی ہے۔ ❤️
Urdu Vibes
~ Faizaan ~