02/06/2026
ٹیلی فون کے احکام
میرے والد ماجد حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے معارف القرآن میں سورۃ النور کی تفسیر میں ٹیلی فون استعمال کرنے کے احکام بھی لکھے ہیں ،
وہ یہ کہ جب تم کسی کو ٹیلی فون کرو تو یہ دیکھو کہ میں ایسے وقت میں ٹیلی فون تو نہیں کر رہا ہوں جو اس کی تکلیف کا سبب ہو، بسا اوقات لوگ اس کا خیال نہیں کرتے۔
بس دماغ میں خیال آیا کہ فلاں سے فلاں بات کرنی ہے اور اسی وقت فون کر دیا۔
یہ دیکھے بغیر کہ اس وقت یہ اس کے آرام کا وقت ہوگا
یا نماز کا وقت ہوگا ،
یا دوسری ضروریات کا وقت ہوگا۔
یہ بیچارہ ” مولوی تو ساری دنیا کی میراث ہے،
اس سے ملاقات اور اس سے بات کرنے کے لیے کسی قاعدے اور قانون کی ضرورت نہیں ۔
چنانچہ میرے پاس تو رات کے 2 بجے ٹیلی فون آ جاتا ہے۔
ایک مرتبہ رات کے 2 بجے فون آیا، میں نے پوچھا کہ فون کرنے سے پہلے گھڑی میں ٹائم دیکھا تھا،
اس وقت کیا ٹائم ہو رہا ہے؟
جواب دیا کہ ہاں دیکھی تو تھی لیکن یہ خیال تھا کہ شاید آپ اس وقت تہجد کے لیے اُٹھے ہوں گے
لہذا اس وقت آپ کو فون کر لیں۔
اب 2 بجے رات کو فون کر رہے ہیں اور مسئلہ بھی کوئی ایسا نہیں تھا جس کی فوری ضرورت ہو بلکہ عام مسئلہ کے لیے رات کے 2 بجے فون کر رہے ہیں ۔
آج اس بات کا خیال بھی دل سے اُٹھ گیا کہ اگر کسی کو فون کریں تو ایسے وقت میں کریں کہ جس سے سامنے والے کو تکلیف نہ ہو۔
مفتی محمد تقی عثمانی صاحب