Urdu Adab

Urdu Adab Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Urdu Adab, Digital creator, Lahore.

Urdu Adab is a Place where you can read, listen All about Urdu literature especially Urdu novels, Urdu Stories, Islamic Stories, Moral Stories and Audio books in Hindi and Urdu

‏کہتے ہیں اصل بات شوق کی ہوتی ہے ۔۔ شوق کا کوی دام نہی ہوتا ۔۔ یہ چھوٹی سا بچہ  پچاس لالھ میں فروخت ہوا ہے ۔ اور اس کے ا...
28/05/2026

‏کہتے ہیں اصل بات شوق کی ہوتی ہے ۔۔ شوق کا کوی دام نہی ہوتا ۔۔

یہ چھوٹی سا بچہ پچاس لالھ میں فروخت ہوا ہے ۔ اور اس کے اماں ابا کا تعلق فردوس نسل کی بھنیس سے ہے ۔۔

اور اس کے دادا دادی پاکستان میں مسلسل بہترین نسل کے ایوارڈ جیت چکے ہیں ۔ بقول اس مالک کے اس کی ماں اج بھی پاکستان میں نمبر ون ہے دودھ دینے میں ۔

اس سب خصوصیات کے باوجود بھی قیمت بہت زیادہ لگ رہی ہے ۔۔ زمیندار بھای ہی بہتر بتا سکتے ہیں یا جو بھنیس پالنے کا شوق رکھتے ہیں وہ روشنی ڈال سکتے ہیں اس قیمت پر ۔۔

‏اس قوم کے نوجوانوں کا خواب‼️
28/05/2026

‏اس قوم کے نوجوانوں کا خواب‼️

‏وہ  بھی ملتا جو گلے سے تو خوشی عید کی تھی کوئی   رہ  رہ   کے   نصیر   آج    بہت    یاد    آیاپیر نصیر الدین نصیرؒ
28/05/2026

‏وہ بھی ملتا جو گلے سے تو خوشی عید کی تھی
کوئی رہ رہ کے نصیر آج بہت یاد آیا

پیر نصیر الدین نصیرؒ

‏سعید انور، وہ مایہ ناز کھلاڑی جن کے بیٹ سے ایک حسین ووڈن ساؤنڈ نکلتی تھی۔ ایسا لگتا تھا جیسے بلا خود گھوم رہی ہو۔انہوں ...
28/05/2026

‏سعید انور، وہ مایہ ناز کھلاڑی جن کے بیٹ سے ایک حسین ووڈن ساؤنڈ نکلتی تھی۔ ایسا لگتا تھا جیسے بلا خود گھوم رہی ہو۔
انہوں نے عامر سہیل کے ساتھ اوپننگ کا نیا سٹائل متعارف کروایا۔
1997 میں انڈیا کے خلاف 194 رنز بنا کر ون ڈے کرکٹ کا ورلڈ ریکارڈ قائم کیا۔ ان کی گاڑی کا نمبر بھی Saeed Anwar 194 رکھا گیا۔
لیکن زندگی نے انہیں ایک بہت بڑا امتحان دیا۔
ان کی پیاری بیٹی بسمہ انور طویل علالت کے بعد 2001 میں اللہ کو پیاری ہو گئیں۔
اس سانحے نے سعید بھائی کو دنیا سے دور کر دیا۔
انضمام الحق اور مشتاق احمد نے انہیں دین کی طرف راغب کیا۔ سعید انور اللہ کی طرف ایسے کھوئے کہ دنیا کی کوئی خبر نہ رہی۔ اللہ نے ان کے دل کو صبر سے بھر دیا اور چہرے پر نور آ گیا۔
ایک عظیم کرکٹر، ایک صابر مومن۔
سعید انور — آپ کی بیٹنگ بھی یاد ہے، آپ کا صبر بھی یاد ہے ❤️
‎ ‎ ‎

28/05/2026
‏اِنّا لِلّٰهِ وَاِنّا اِلَيْهِ رَاجِعُون۔سرگودھا سے تعلق رکھنے والے طالب علم عمر فاروق باجوہ نے اپنی والدہ کو شدید جگر ...
28/05/2026

‏اِنّا لِلّٰهِ وَاِنّا اِلَيْهِ رَاجِعُون۔
سرگودھا سے تعلق رکھنے والے طالب علم عمر فاروق باجوہ نے اپنی والدہ کو شدید جگر کی بیماری سے بچانے کے لیے اپنا جگر عطیہ کیا۔ یہ ٹرانسپلانٹ سرجری شیخ زاید ہسپتال میں اس امید کے ساتھ کی گئی تھی کہ ان کی والدہ کو زندگی کا دوسرا موقع مل سکے گا۔

لیکن افسوسناک طور پر آپریشن کے بعد پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کے باعث عمر فاروق اپنی جان کی بازی ہار گئے۔ ان کی قربانی نے ہزاروں دلوں کو غمگین کر دیا ہے اور یہ ماں کے لیے اولاد کی بے لوث محبت کی ایک عظیم مثال بن گئی ہے۔ ایک ایسا بیٹا جس نے اپنی جان کا حصہ اس ماں کے لیے قربان کر دیا جس نے اسے زندگی دی تھی۔

اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل دے۔ آمین۔

‏یہ ابھی نور جہاں کے بارے میں پڑھا ہے کیا واقعی ایسا منظر تھا انکے جنازے کے وقت ؟؟جس روز کراچی میں میڈم نور جہاں کا انتق...
28/05/2026

‏یہ ابھی نور جہاں کے بارے میں پڑھا ہے کیا واقعی ایسا منظر تھا انکے جنازے کے وقت ؟؟
جس روز کراچی میں میڈم نور جہاں کا انتقال ہوا یہ 26 رمضان المبارک کا دن تھا رات ہوئی زمزمہ کے علاقے میں ایک مسجد میں نماز تراویح کی ادائیگی ہو گئی تو امام مسجد نے اعلان کیا کہ سب میڈم نور جہاں کا جنازہ پڑھ کر جائیں اور ثواب دارین حاصل کریں نمازی باہر نکلے تو یہ دیکھ کر سب حیران ہوئے کہ پورے آسمان پر جیسے نور چھایا ہوا ہو وہاں موجود لوگوں کے مطابق اتنی پر نور رات انہوں نے زندگی میں نہیں دیکھی لوگ تو میڈم نور جہاں کو گانے گانے والی سمجھتے تھے مگر نہ جانے ان کی کون سی ادا اللہ کریم کو بھائی کہ جنازے کا سارا منظر ہی نورانی نورانی سا لگ رہا تھا

‏قصور پتوکی کے ایک چھوٹے سے گاؤں “چھوٹا سرسنگھ” سے آج ایک ایسی خبر سامنے آئی جس نے دل خوش بھی کیا اور آنکھیں نم بھی کر د...
28/05/2026

‏قصور پتوکی کے ایک چھوٹے سے گاؤں “چھوٹا سرسنگھ” سے آج ایک ایسی خبر سامنے آئی جس نے دل خوش بھی کیا اور آنکھیں نم بھی کر دیں۔ 💔

ایک باپ تھا…
بشیر نمبردار۔
جس نے ساری زندگی اپنے گاؤں کی خدمت کی، لوگوں کے دکھ سکھ میں شریک رہا، انصاف اور عزت کی روایت قائم رکھی۔
مگر معاشرے کے کچھ لوگ شاید اس بات پر افسوس کرتے تھے کہ اُس کے ہاں “بیٹا” نہیں تھا… صرف بیٹیاں تھیں۔

وقت گزرتا رہا…
شاید کئی بار یہ جملہ بھی سنا ہوگا:
“کاش ایک بیٹا ہوتا جو نمبرداری سنبھالتا…”

لیکن قدرت کو کچھ اور منظور تھا۔ 🥀

آج اُس باپ کی بیٹی “بشرا بشیر احمد” نے اپنے والد کی روایت کو صرف سنبھالا نہیں بلکہ تاریخ رقم کر دی۔
بشرا بشیر احمد تحصیل پتوکی کی پہلی اور پنجاب کی دوسری خاتون نمبردار بن گئی ہیں۔

یہ صرف ایک نوٹیفکیشن نہیں…
یہ اُن تمام سوچوں پر خاموش طمانچہ ہے جو بیٹی کو کمزور سمجھتی ہیں۔
یہ اُن باپوں کے لیے فخر کا لمحہ ہے جو بیٹیوں کو بوجھ نہیں، اپنی عزت سمجھتے ہیں۔

آج اگر بشیر نمبردار زندہ ہوتے تو شاید ان کی آنکھوں میں آنسو ہوتے…
مگر یہ کمزوری کے نہیں، فخر کے آنسو ہوتے۔ ❤️

بیٹیاں واقعی عجیب ہوتی ہیں…
وہ باپ کے گھر میں محبت بنتی ہیں،
اور وقت آنے پر اُس کا نام، اُس کی عزت اور اُس کی پہچان بھی سنبھال لیتی ہیں۔

سلام ہے اُس باپ کی تربیت کو…
اور سلام ہے اُس بیٹی کے حوصلے کو جس نے ثابت کر دیا کہ
“نام روشن کرنے کے لیے بیٹا نہیں، اچھی اولاد چاہیے ہوتی ہے…” 🖤

‏گوشت ہٹانے کے بعد ان ہڈیوں کو  یہاں سے توڑا جاتا ہے وہ اس لیے کے یہ ہڈیاں اگر ثابت اسی طرح پھینک دی جائیں اور کسی غلط ب...
27/05/2026

‏گوشت ہٹانے کے بعد ان ہڈیوں کو یہاں سے توڑا جاتا ہے وہ اس لیے کے یہ ہڈیاں اگر ثابت اسی طرح پھینک دی جائیں اور کسی غلط بندے کے ہاتھ لگ جائیں تو وہ ان ہڈیوں کو جادو کے لیے استعمال کرتا ہے لیکن اگر یہ ثابت نہ ہوں اور اس طرح ٹوٹی ہوئی ہوں تو پھر یہ اس کی کام کی نہیں رہتی اس لیے ان کو توڑا جاتا ہے

‏فیصل آباد کے ایک کچے گھر میں آج بھی ہر مہینے 'برطانوی حکومت' کی طرف سے ایک ضعیف عورت کے نام سرکاری خط اور پینشن آتی ہے۔...
27/05/2026

‏فیصل آباد کے ایک کچے گھر میں آج بھی ہر مہینے 'برطانوی حکومت' کی طرف سے ایک ضعیف عورت کے نام سرکاری خط اور پینشن آتی ہے۔ آخر کیوں؟ اس کے پیچھے دوسری عالمی جنگ کی ایک رلا دینے والی داستان چھپی ہے!

یہ کہانی ہے پیٹی نمبر 3622 کے حوالدار 'برکت علی' کی، جو 1936 میں 18 سال کی عمر میں برطانوی فوج میں بھرتی ہوئے۔ 1939 کی دوسری عالمی جنگ میں وہ لڑتے لڑتے جاپانی فوج کی قید میں آ گئے۔ قید کے وہ 5 سال کسی جہنم سے کم نہ تھے۔ جاپانی قیدیوں سے درخت کٹواتے، ذرا سی غلطی پر آرے مشین میں قیدی کا بازو کاٹ دیا جاتا، اور روٹی کے اندر 'شیشہ' پیس کر کھلایا جاتا تاکہ وہ تڑپ تڑپ کر مریں۔

5 سال کی اس وحشت ناک قید کے بعد جب برکت علی رہا ہوئے، تو برطانوی گورے آفیسرز نے انہیں سمندر پر سلیوٹ کیا اور شرمندگی سے کہا: "تم مسلمانوں نے بڑی دلیری سے جنگ لڑی، تم نے ہمارے لیے بہت سہا ہے!" گوروں نے آفر کی کہ ہمارے ساتھ برطانیہ چلو، شہریت لو اور عیش کی زندگی گزارو۔ مگر اس کڑیل جوان نے کہا: "میرے بوڑھے ماں باپ چک جھمرہ (فیصل آباد) میں میرے لیے راتوں کو روتے ہیں، مجھے میری مٹی اور میرے لوگ بلا رہے ہیں۔"

برکت علی واپس آ گئے۔ 2002 میں ان کا انتقال ہو گیا، مگر برطانوی حکومت کی وفا دیکھیے!

آج دوسری عالمی جنگ کو 80 سال گزرنے کے بعد بھی، برطانیہ اپنے اس وفادار سپاہی کو نہیں بھولا۔ آج بھی برکت علی کی ضعیف بیوہ ارشاد بیگم کو ہر ماہ باقاعدگی سے برطانیہ سے پینشن (تقریباً 12 ہزار روپے) آتی ہے، جس کے لیے وہ اپنے بیٹے کے ساتھ جی پی او (GPO) فیصل آباد جاتی ہیں۔ (ان کے علاوہ جڑانوالہ کی مزید دو بیواؤں کو بھی یہ اعزاز حاصل ہے)۔

‏💔 شارجہ کی اُس عمارت کی پندرہویں منزل سے جب ایک ماں نے اپنی پانچ سالہ بیٹی کو نیچے پھینکا… تو لوگوں نے صرف دو جسم گرتے ...
27/05/2026

‏💔 شارجہ کی اُس عمارت کی پندرہویں منزل سے جب ایک ماں نے اپنی پانچ سالہ بیٹی کو نیچے پھینکا… تو لوگوں نے صرف دو جسم گرتے نہیں دیکھے تھے، انہوں نے ایک خاموش ٹوٹتی ہوئی زندگی کو آخری بار بکھرتے دیکھا تھا۔ اور سب سے زیادہ دردناک بات یہ تھی کہ وہ ننھی بچی ہر صبح بالکونی سے لوگوں کو ہاتھ ہلا کر “بائے” کہا کرتی تھی۔ اُس دن بھی شاید اُسے معلوم نہیں تھا کہ زندگی اُس سے اتنی جلدی الوداع لینے والی ہے۔ 🕯️

شارجہ کے علاقے النہدہ کی وہ عمارت اب بھی وہیں کھڑی ہے۔

وہی لفٹیں۔
وہی سفید دیواریں۔
وہی بالکونیاں۔

مگر کہتے ہیں بعض حادثوں کے بعد عمارتیں بھی خاموش ہو جاتی ہیں۔

اُسی عمارت کی پندرہویں منزل پر کیرالہ سے تعلق رکھنے والا ایک بھارتی خاندان رہتا تھا۔

بارہ سال کی شادی۔

سات برس سے ایک ہی فلیٹ۔

شوہر دبئی ایئرپورٹ سے وابستہ ایک محکمے میں ملازم تھا۔

اور اُن کی پانچ سالہ بیٹی…

جسے پورا فلور جانتا تھا۔

کیونکہ وہ ہر صبح اسکول جاتے ہوئے بالکونی سے ہاتھ ہلا کر سب کو “بائے” کہتی تھی۔

بعض بچے محلے کی پہچان بن جاتے ہیں۔

اور جب وہ اچانک دنیا سے چلے جائیں… تو گلیاں بھی یتیم لگنے لگتی ہیں۔

پڑوسی کہتے ہیں کہ پچھلے کچھ مہینوں سے گھر کے اندر خاموش کشیدگی رہتی تھی۔

کبھی اونچی آوازیں۔
کبھی دروازے زور سے بند ہونے کی آواز۔
کبھی کئی کئی دن مکمل خاموشی۔

اور وہ عورت…

جو کبھی لفٹ میں لوگوں کو مسکرا کر سلام کیا کرتی تھی…

آہستہ آہستہ لوگوں سے نظریں چرانے لگی تھی۔

بعض لوگ ڈپریشن کو صرف “اداسی” سمجھتے ہیں۔

حالانکہ بعض اوقات انسان باہر سے زندہ ہوتا ہے… مگر اندر سے مسلسل ڈوب رہا ہوتا ہے۔

پھر وہ صبح آئی۔

ایک عام سی صبح۔

لوگ کام پر جا رہے تھے۔

بچے اسکول کے لیے نکل رہے تھے۔

کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ چند لمحوں بعد پوری عمارت چیخوں سے بھر جائے گی۔

پھر اچانک…

ایک خوفناک آواز آئی۔

لوگ بھاگ کر نیچے آئے۔

اور وہاں…

زمین پر ایک ماں اور اُس کی پانچ سالہ بیٹی پڑی تھیں۔

زندگی کبھی کبھی اتنی بے رحم ہو جاتی ہے کہ انسان خبر پڑھتے ہوئے بھی یقین نہیں کر پاتا۔

پولیس آئی۔
ایمبولینس آئی۔
لوگ جمع ہو گئے۔

اور پھر آہستہ آہستہ حقیقت سامنے آنے لگی۔

کہ ماں نے پہلے اپنی بچی کو نیچے پھینکا…

پھر خود کود گئی۔

یہ صرف ایک “خبر” نہیں تھی۔

یہ ایک ایسا سوال تھا جس کا جواب شاید اب کبھی مکمل نہ مل سکے۔

ایک ماں آخر اُس مقام تک کیسے پہنچتی ہے جہاں اُسے موت زندگی سے زیادہ آسان لگنے لگتی ہے؟

کیا وہ واقعی ظالم تھی؟

یا وہ خود ایک ایسی خاموش بیماری سے ہار گئی تھی جسے دنیا نے وقت پر سنجیدگی سے نہیں لیا؟

لوگ اکثر کہتے ہیں:

“پتا نہیں اُس کے دماغ میں کیا آیا ہوگا…”

مگر سچ یہ ہے…

کوئی انسان ایک دن میں نہیں ٹوٹتا۔

انسان آہستہ آہستہ اندر سے بکھرتا ہے۔

خاموشیوں میں۔
تنہائی میں۔
نظرانداز کیے جانے میں۔
اور اُن جملوں میں جہاں لوگ کہتے ہیں:

“یہ سب تمہارے دماغ کا وہم ہے…”

اس واقعے نے پورے یو اے ای میں مقیم بھارتی کمیونٹی کو ہلا کر رکھ دیا۔

کیونکہ پردیس میں رہنے والے لوگ اکثر ایک خوبصورت تصویر نظر آتے ہیں…

اچھی نوکری۔
اچھی عمارت۔
اچھی تنخواہ۔

مگر اُن تصویروں کے پیچھے کتنے لوگ ذہنی دباؤ، تنہائی، ازدواجی مسائل اور خاموش ڈپریشن سے لڑ رہے ہوتے ہیں… یہ کوئی نہیں دیکھ پاتا۔

اور سب سے دردناک بات؟

اُس ننھی بچی کو شاید آخری لمحے تک یہی لگا ہوگا کہ اُس کی ماں اُسے اپنی بانہوں میں لیے ہوئے ہے۔

بچے اپنی ماؤں پر اندھا یقین کرتے ہیں۔

وہ نہیں جانتے کہ بعض اوقات ماں خود اپنے درد کے نیچے دفن ہو چکی ہوتی ہے۔

یہ افسانہ نہیں۔

یہ ہماری دنیا کی ایک تلخ حقیقت ہے۔

اس لیے اگر آپ کے آس پاس کوئی شخص خاموش ہو گیا ہے…
لوگوں سے کٹنے لگا ہے…
مسکرانا چھوڑ چکا ہے…
یا بار بار “میں تھک گیا ہوں” کہتا ہے…

تو صرف نصیحت نہ کریں۔

اُس کا حال واقعی پوچھیں۔

کیونکہ بعض اوقات انسان کو دوا سے پہلے “دیکھے جانے” کی ضرورت ہوتی ہے۔
انتخاب

Address

Lahore

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Urdu Adab posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Urdu Adab:

Share