Urdu Adab

Urdu Adab Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Urdu Adab, Digital creator, Lahore.

Urdu Adab is a Place where you can read, listen All about Urdu literature especially Urdu novels, Urdu Stories, Islamic Stories, Moral Stories and Audio books in Hindi and Urdu

08/09/2026

ایک بار نصیر الدین طوسی نے ہلاکو خان کو ایک رصدگاہ تعمیر کرنے کا مشورہ دیا۔

ہلاکو خان، جو علم و حکمت کی باریکیوں سے زیادہ واقف نہ تھا، بولا:
“اس سے کیا حاصل ہو گا؟”

طوسی نے جواب دیا:
“اس کے ذریعے ہم ستاروں کی گردش اور زمانے کے تغیرات کو سمجھ سکیں گے، اور آنے والے حالات کا اندازہ لگا سکیں گے۔”

ہلاکو نے پوچھا:
“اگر کسی جنگ میں میری شکست مقدر ہو، تو کیا تم اسے فتح میں بدل سکتے ہو؟”

طوسی نے نہایت سکون سے کہا:
“تقدیر کو بدلنا ممکن نہیں، لیکن انسان خود کو آنے والے حالات کے لیے ذہنی طور پر تیار ضرور کر سکتا ہے۔”

ہلاکو نے حیرت سے پوچھا:
“وہ کیسے؟”

طوسی نے کہا:
“ایک غلام کو حکم دیں کہ جب دربار مکمل سجا ہو تو ایک بڑا تھال بلندی سے نیچے گرا دے۔”

چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔
جونہی تھال زور دار آواز کے ساتھ زمین پر گرا، پورے دربار میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ ہر شخص گھبرا اٹھا، مگر ہلاکو خان اور طوسی سکون سے بیٹھے رہے، کیونکہ وہ پہلے سے اس واقعے سے آگاہ تھے۔

تب نصیر الدین طوسی نے کہا:

“دیکھیے، ہونی کو ٹالا نہیں جا سکتا، لیکن اگر انسان کو آنے والے حالات کا شعور ہو تو وہ گھبراہٹ کے بجائے حکمت، صبر اور تیاری کے ساتھ ان کا سامنا کر سکتا ہے۔”

ہلاکو خان نے فورا بغداد میں رصد خانے کی تعمیر کا حکم دے دیا۔

منقول

08/09/2026

سہاگ رات کو شوہر صاحب بیوی کا گھونگھٹ اٹھاتے ہوئے پوچھتے ہیں: اجازت ہے ؟
بیگم سمجھیں ہلکا پھلکا بوس و کنار ہوگا
یہی سوچ کر اجازت دے دی
سرتاج نے اجازت ملتے ہی رات سے لے کر صبح تک چھکے چھڑا دئیے
موصوفہ اس اچانک اور شدید حملے سے گھبرا گئیں
جب موصوف نے وقتِ فجر جان چھوڑی تو موصوفہ نے شکر کیا
صبح میکے پہنچ کر موصوفہ نے خاوند سے کہا: سرتاج، میں اک دو دن یہیں رکوں گی میری طبیعت ٹھیک نہیں
موصوف نئی نئی شادی کی وجہ سے نہ چاہتے ہوئے مان گئے
اور اکیلے ہی واپسی کا ارادہ کیا
واپس آتے ہوئے ساس سے کہنے لگے: اچھا جی، اجازت ہے؟؟
یہ " اجازت ہے" سنتے ہی پاس کھڑی بیوی چیخ اٹھی
زور سے بولی: اماں اینہوں اجازت نہ دئیں، ایہہ تے ساہ وی نہیں لین دیندا

" عوام کی اجازت سے پٹرول میں اضافہ کرینگے "

شہباز شریف
Reviews

صفر کی ویلیو ‼️میرے ایک دوست نے اپنی سُپر بائیک بیچنے کے لیے پاک وہیلز پہ لگائی۔دوسرے دن انہیں ایک فیملی کی طرف سے کال آ...
17/08/2026

صفر کی ویلیو ‼️میرے ایک دوست نے اپنی سُپر بائیک بیچنے کے لیے پاک وہیلز پہ لگائی۔دوسرے دن انہیں ایک فیملی کی طرف سے کال آگئی کہ ہمیں بائیک بہت اچھا لگا ہے ہم لینا چاہ رہے ہیں۔
کیا آپ کا بائیک بالکل ٹھیک ہے۔اس میں کوئی مسئلہ تو نہیں۔
دوست بولا بالکل ٹھیک ہے۔
دوسری طرف سے شخص بولا اس کا ہارن وغیرہ اور بریکیں شریکیں صحیح کام کرتی ہیں؟؟
میرے دوست نے ہاں جواب دیااور تسلی دلائی کہ کوئی کام نہیں کروانے والا۔
دوسری طرف سے میاں اور بیوی دونوں سوالات کر رہے تھے۔اُنہوں نے بولا ہمارے بچوں کو اور ہمیں یہ بائیک بہت پسند آئی ہے۔
ہم کل آئیں گے اور کیش ساتھ لے کر آئیں گے۔آپ نے کسی کو دینی نہیں ہے۔کہتے ہیں تو ٹوکن بھیج دیتے ہیں۔میرا دوست بڑا حیران ہوا کہ کیش ہاتھ میں لے کر آ رہے ہیں۔
میرے دوست نے کہا نہیں آپ کل آجائیں یہ آپ کو ہی دونگا۔
اگلے دن کال آئی کہ ہمیں لوکیشن بھیج دیں ہم لوگ آرہے ہیں۔دوسری طرف سے عورت بول رہی تھی۔
ساتھ ہی بولی کہ ہم پیسے لے کر آ رہے ہیں کیش لیکن آپ تھوڑا ریٹ تو کم کریں۔ڈسکاؤنٹ کریں۔
میرا دوست بولا آپ آ جائیں موقع پہ کر لیں گے تھوڑا بہت۔
وہ عورت بولی بس ہم نکل رہے ہیں۔لیکن پہلے بندہ بات کر لے تو اچھی ہوتی ہے۔ آپ کتنا کم کریں گے؟
دوست نے بولا میں نے مناسب ہی لگائے ہیں پیسے ویسے آپ بتا دیں آپ کا کیا ذہن ہے۔
وہ عورت بولی آپ نے دو لاکھ ستر ہزار لگایا ہے نہ آپ کم کریں جتنے کر سکتے ہیں۔
یہ سُننا تھا کہ میرے دوست کے مُنہ سے چیخ نکلی۔اور بولا آپ لوگ ابھی نکلے تو نہیں ہیں گھر سے؟؟
وہ عورت بولی بس نکل رہے ہیں۔
دوست بولا ایک بار ریٹ دوبارہ چیک کریں۔اس کی قیمت ستائیس لاکھ ہے۔
اس عورت کے اوسان خطا ہو گئے۔وہ دو لاکھ ستر ہزار کا بائیک سمجھ کے کیش لا رہے تھے۔وہ بھی ایک سُپر بائیک کے لیے۔
اس دن یہ بات سمجھ آئی کہ صفر کی ویلیو واقعی کوئی نہیں ہوتی اگر کوئی غور نہ کرے تو۔

ایک عام ڈسپوزیبل چینی لائٹر  اتنا سستا ہے کہ لوگ استعمال کر کے پھینک دیتے ہیں اس میں بھی کم و بیش 20 چھوٹے چھوٹے پرزے ہو...
15/08/2026

ایک عام ڈسپوزیبل چینی لائٹر اتنا سستا ہے کہ لوگ استعمال کر کے پھینک دیتے ہیں اس میں بھی کم و بیش 20 چھوٹے چھوٹے پرزے ہوتے ہیں. ہمیں یہ پچاس روپے سےکم میں مل جاتا ہے. لیکن یہی لائٹر ہم خود اس قیمت میں بنانے کا سوچ بھی نہیں سکتے.

چین نہ صرف یہ بنا رہا ہے بلکہ دُنیا بھر میں ایکسپورٹ کر کے اس میں نفع بھی کما رہا ہے. وسطی چین کے صوبہ ہونان شاؤدونگ کو ان لائٹرز کا دارالخلافہ کہا جاتا ہے. شاؤدونگ جس قیمت پر یہ لائٹر بناتا ہے دُنیا اسکا تصور بھی نہیں کر سکتی.

اسے سپلائی چین ایکو سسٹم کہا جاتا ہے. آج کے امریکہ اور چین کے درمیان فرق یہی ایکو سسٹم ہے. جب ایپل کے سی او سے پوچھا گیا ہم آئی فون دوبارہ امریکہ میں کیوں نہیں بنا سکتے تب اس نے کہا آج امریکہ میں ایپل بنانے والے کاریگر جمع کروں تو ایک ہال ہی بھرے گا. چین میں جبکہ کئی شہر بھر جائیں گے.

دُنیا شاؤدونگ کے مقابلے میں سستا ڈسپوزیبل لائٹر نہیں بنا سکتی موبائل-فون اور الیکٹرک گاڑیاں تو دور کی بات ہے. لیکن یہ سب ہوا کیسے.؟ اسکا جواب ترجیحات ہیں. امریکہ اور یورپ نے مہنگی اور مخصوص مارکیٹوں کو فوکس کیا جبکہ چین نے عام عوام اور ان کی ضروریات کو سستا کرنے پر.

عام عوام دنیا میں بہت ہے. ان کی سپلائی پوری کرتے کرتے چین میں ایک الگ ہی سپلائی چین ایکو سسٹم بن گیا ہے. جہاں شاوُدونگ میں ایک ڈسپوزیبل لائٹر کے ہر پرزے کیلئے الگ فیکٹری کھڑی ہے. یہ جب کروڑوں کی تعداد میں روزانہ ایک ایک پرزہ بناتے ہیں تو بتائیں ان کی تعداد اور قیمت کا مقابلہ کون کر پائے گا.؟

منقول

اپ نے یہ امریکہ کی وائرل ویڈیو دیکھی جسکے کچھ سکرین شاٹ نیچے دیے گئے ہیں سب سے پہلے یہ منظر ذہن میں بٹھا لیجیے کہ سڑک کے...
15/08/2026

اپ نے یہ امریکہ کی وائرل ویڈیو دیکھی جسکے کچھ سکرین شاٹ نیچے دیے گئے ہیں سب سے پہلے یہ منظر ذہن میں بٹھا لیجیے کہ سڑک کے بیچوں بیچ ایک عورت نوے ڈگری کے زاویے پر جھکی کھڑی ہے اسے کوی ہوش نہی ہے ۔

جیسے وقت نے اسے وہیں منجمد کر دیا ہو اور اس کے قریب ایک مرد آدھا قدم ہوا میں اٹھائے ساکت ہے جیسے اس کی سانسیں چل رہی ہوں مگر اس کا وجود کہیں اور بھٹک رہا ہو یہ کسی ہولناک فلم کا سین نہیں ۔

بلکہ امریکہ کے پانچویں بڑے شہر Philadelphia کی Kensington Avenue کی حقیقی تصویر ہے جہاں لوگ ان بے حس و حرکت انسانوں کو Zombies کہنے لگے ہیں اور یہ کہانی اس لیے سنانا ضروری ہے کیونکہ اب یہی مسئلہ ہمارے پڑوس میں بھارتی ریاست Punjab تک پہنچ چکا ہے اور خدشہ ہے کہ جلد پاکستان کی سرحدیں بھی اس سے محفوظ نہیں رہیں گی
اس کیمیکل کا نام Xylazine ہے ۔

جسے گلی کوچوں میں Tranq کے نام سے پہچانا جاتا ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ کبھی انسانوں کے استعمال کے لیے تیار ہی نہیں کیا گیا تھا انیس سو باسٹھ میں Germany کی کمپنی Bayer نے اسے جانوروں کے لیے بنایا تھا گھوڑوں گائے بھینسوں اور بھیڑوں کی سرجری کے دوران انہیں بے ہوش کرنے اور ان کے پٹھوں کو ڈھیلا چھوڑنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا ۔

سن دو ہزار میں یہ فارمولا امریکہ کے Puerto Rico میں آزمایا گیا اور دو ہزار انیس تک وہاں کے مقامی مافیا گروہوں نے اسے اپنے کاروبار کا حصہ بنا لیا جس کے بعد دو ہزار بیس تک یہ Kensington کی سپلائی چین میں شامل ہو چکا تھا آج امریکی ادارہ DEA خود اسے ملک کی تاریخ کا سب سے مہلک خطرہ قرار دے چکا ہے اور یہ مسئلہ امریکہ کی اڑتالیس ریاستوں تک پھیل چکا ہے۔

اب بھارت سے بھی مسلسل ایسی ویڈیوز سامنے آ رہی ہیں جو ظاہر کرتی ہیں کہ یہی کیمیکل بھارتی ریاست Punjab میں تیزی سے پھیل رہا ہے بھارت کے اپنے ادارے NCB کی رپورٹ کے مطابق دو ہزار پچیس میں اکیلے Punjab کا حصہ پورے ملک کی ضبطی میں اٹھاون فیصد رہا ایک پارلیمانی پینل کی رپورٹ بتاتی ہے کہ Punjab میں تقریباً چھیاسٹھ لاکھ افراد اس مسئلے میں مبتلا ہیں اور ان میں سے سات لاکھ سترہ برس سے کم عمر بچے ہیں یعنی ایک پورا صوبہ ایک پوری نسل آنکھیں کھلی رکھے مگر اندر سے مکمل طور پر خالی ہو چکی ہے یہی وہ چیز ہے جو انسان کا وجود چھین کر صرف جسم چھوڑ دیتی ہے۔

پاکستان کے بیشتر اشرافیہ سکولوں میں اس حوالے سے آگاہی اور روک تھام کا نظام تقریباً صفر ہے سکول انتظامیہ طالب علموں کو محض کلائنٹ کے طور پر دیکھتی ہے اور والدین تک حقیقت پہنچائی ہی نہیں جاتی ایسے میں اپنے بچوں پر توجہ دینا شروع کریں انہیں غور سے دیکھنا شروع کریں ان پر نظر رکھنی شروع کریں کیونکہ جو آج Kensington اور Punjab کی سڑکوں پر ہو رہا ہے وہ کل کو ہمارے اپنے گھروں کی کہانی بھی بن سکتا ہے۔ اس کیلے پہلے سے حکومت کو اگاہی مہم اور روک تھام کا مکمل بندوبست کرنا چاہیے ۔

سابق بھارتی کپتان محمد اظہرالدین مبینہ طور پر ثانیہ مرزا کی حمایت میں کھل کر سامنے آگئے۔ ان کے حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ...
14/08/2026

سابق بھارتی کپتان محمد اظہرالدین مبینہ طور پر ثانیہ مرزا کی حمایت میں کھل کر سامنے آگئے۔ ان کے حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ ثانیہ مرزا کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی یا دباؤ برداشت نہیں کیا جائے گا۔
رپورٹس کے مطابق بھارت میں ایک فلم تیار کی جا رہی ہے جس میں کھیل اور شوبز سے تعلق رکھنے والی کئی معروف شخصیات کو مختلف کردار دیے جا رہے ہیں۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ٹینس اسٹار اور شعیب ملک کی سابق اہلیہ ثانیہ مرزا کو بھی فلم میں پاکستان مخالف کردار ادا کرنے کی پیشکش کی گئی، تاہم انہوں نے مبینہ طور پر یہ کردار قبول کرنے سے انکار کر دیا۔
اسی دوران یہ دعویٰ بھی سامنے آیا کہ حیدرآباد میں ثانیہ مرزا سے منسوب ایک شاپنگ سینٹر کو ٹیکس سے متعلق معاملے کا حوالہ دیتے ہوئے بند کر دیا گیا۔ اس معاملے پر محمد اظہرالدین سے منسوب بیان میں سخت ردعمل سامنے آیا۔ان کے مبینہ بیان کے مطابق، فلموں اور کہانیوں کے ذریعے لوگوں کو ایک خاص مؤقف پر یقین دلایا جا سکتا ہے، لیکن حقیقت کو ہمیشہ کے لیے چھپایا نہیں جا سکتا۔ انہوں نے ثانیہ مرزا کو اپنی رشتہ دار ہونے کے ساتھ ساتھ ہندوستان کی ایک مسلمان بہن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے کاروبار یا مستقبل کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرنا مناسب نہیں۔اظہرالدین سے منسوب بیان میں مزید کہا گیا کہ اگر ثانیہ مرزا کے کاروبار کو کسی ناجائز دباؤ کا سامنا ہوا تو اس کے خلاف قانونی اور جمہوری طریقے سے آواز اٹھائی جائے گی۔ انہوں نے مسلمانوں کے اتحاد اور اپنے حقوق کے لیے پُرامن جدوجہد جاری رکھنے پر بھی زور دیا۔

ایک اچھا فنکار ایسا ہی ہوتا ہے باقی سنی دیول جیسے تو بس فلموں میں ہی ہیرو ہوتے ہیں اصل زندگی میں نہیںبالی وڈ اداکار پرکا...
12/08/2026

ایک اچھا فنکار ایسا ہی ہوتا ہے باقی سنی دیول جیسے تو بس فلموں میں ہی ہیرو ہوتے ہیں اصل زندگی میں نہیں
بالی وڈ اداکار پرکاش راج نے سنی دیول کے پاکستان مخالف فلموں والے بیان پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ "روزی روٹی ہم بھی کماتے ہیں ہم نے تو کبھی پاکستان کے خلاف فلمیں نہیں بنائیں پرکاش راج کا کہنا تھا کہ فنکاروں کا کام فن تخلیق کرنا ہے سیاست نہیں اور انہوں نے کبھی کسی ملک کے خلاف نفرت پھیلانے والی فلم نہیں بنائی

گدھوں کی طرح اس ملک کی عوام کا  گوشت ناچنے والے  ظالم حکمرانو یہ دیکھو ۔یہ چار تصاویر  تمھیں ائینہ دیکھا رہی ہے ۔ یہ سکر...
12/08/2026

گدھوں کی طرح اس ملک کی عوام کا گوشت ناچنے والے ظالم حکمرانو یہ دیکھو ۔یہ چار تصاویر تمھیں ائینہ دیکھا رہی ہے ۔

یہ سکرین شاٹ اک ویڈیو سے لیے جس میں اک انفلوئنسر نے اک ہاتھ میں پاکستان کا جھنڈا پکڑا دوسرے ئاتھ میں پانچ ہزار کا نوٹ پکڑا اور غریب مزدوروں کے درمیان پہنچ گیا ۔۔

یہ چیک کرنے کیلے چودہ اگست انے والی ہے دیکھتے ہیں لوگ ملک سے پیار کرتے ہیں یا پھر پیسے سے ۔

جب ان کے سامنے دونوں ہاتھ رکھے انہوں نے کچھ دیر سوچا پھر پیسے پکڑ لیے ۔۔

وہ لالچی نہی تھے اگر لالچ ہوتی تو فوری پکڑ لیتے مگر چند سکینڈ انہوں نے سوچا پھر پیسے پکڑے ۔

ان چند سکینڈ کی سوچ نے ثابت کیا کہ وہ تم سے زیادہ محب وطن ہیں ۔۔ وہ تم لوگوں کو ائینہ دیکھا رہے تھے ۔

مجبوری نے انہیں ایسا کرنے پڑا مجبور کر دیا ۔ ان کا کوی قصور نہی قصور تم لوگوں کا ہے ۔ جنکا پیٹ نہی بھرتا ۔۔

مرتضی برلاس کے یہ اشعار پڑھیں ۔

کتاب سادہ رہے گی کب تک؟ کبھی تو آغازِ باب ہو گا۔
جنہوں نے بستی اجاڑ ڈالی کبھی تو ان کا حساب ہوگا۔

سحر کی خوشیاں منانے والو۔۔ سحر کے تیور بتا رہے ہیں۔
ابھی تو اتنی گھٹن بڑھے گی ۔۔کہ سانس لینا عذاب ہو گا۔

وہ دن گیا جب کہ ہر ستم کو ۔ادائے محبوب سمجھ کے چپ تھے.۔
اٹَھے گی ہم پر جو اینٹ کوئی۔تو پتھر اس کا جواب ہو گا۔۔۔

سکونِ صحرا میں بسنے والو۔۔ ذرا رُتوں کا مزاج سمجھو۔۔
جو آج کا دن سکوں سے گزرا۔۔تو کل کا موسم خراب ہو گا۔

عاقب جاوید ہمارے بہت اچھے کرکٹر رہے ہیں آج کل وہ کرکٹ بورڈ سے وابستہ ہیں، سلیکشن کمیٹی بھی ہیڈ کرتے رہے، اس وقت بورڈ کا ...
12/08/2026

عاقب جاوید ہمارے بہت اچھے کرکٹر رہے ہیں آج کل وہ کرکٹ بورڈ سے وابستہ ہیں، سلیکشن کمیٹی بھی ہیڈ کرتے رہے، اس وقت بورڈ کا سب سے نمایاں چہرہ ہیں۔
عاقب جاوید کی اہلیہ فرزانہ عاقب معروف شاعرہ، مصنفہ ہیں۔ ان کے فیس بک پیج جس پر تین لاکھ سے زیادہ فالورز موجود ہیں، اس پیج کے مطابق فرزانہ عاقب انگریزی شاعری کی ستر سےزیادہ کتابوں کی مصنفہ ہیں اور انہیں کئی بین الاقوامی لٹریری ایوارڈز مل چکے ہیں۔اپنی ایک کتاب میں انہوں نےاسلامی تاریخ کو بھی انگریزی شاعری کی صورت میں پیش کیا۔ افسوس کہ ہمارے میڈیا میں فرزانہ عاقب کے کام کا کا زیادہ تذکرہ نہیں آیا۔
نو اگست کو عاقب جاوید اور فرزانہ عاقب کی صاحبزادی عقبہ جاوید کی شادی ہوئی ۔ دلہن بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں اور انہوں نے یونیورسٹی آف سسکس سےمیڈیا اینڈ انٹرنیشنل جرنلزم میں گریجوایشن کی ڈگری تین چار سال قبل لی ہے۔
اس شادی کی دو تصاویر دلہن کی والدہ نے اپنے فیس بک پیج پر پوسٹ کی صورت میں شیئر کی ہیں ،کمنٹس میں وہ لنک بھی شیئر کر دوں گا۔
اللہ پاک بچی کےاچھےنصیب کرے اور وہ سدا خوش رہیں۔
ان کے خاوند غیر ملکی نظر آ رہےہیں۔ مجھے ان تصاویر میں ایک بات دلچسپ لگی ، وہ دلہا کےکان میں باقاعدہ کیا گیا سوراخ ہے۔ یہ کیا ہے؟ کیا یہ بھی فیشن کا حصہ ہے؟ ہمارے ہاں پہلوان کن ٹٹے مشہور ہیں، ان کےکان شائد کسی خاص تکنیک سےتوڑ دئیےجاتےہیں۔ ہم نے جین زی بچوں کو اور بعض اوقات اداکاروں، ماڈلز وغیرہ کو کان میں بالی یا ٹاپس وغیرہ پہنچےبھی دیکھا ہے مگر یہ تو لگتا ہے کسی نے مشین سے بھائی صاحب کے کان میں سوراخ ہی کر ڈالا۔ کیا اس سوراخ میں بڑے بھاری سرائیکی کانٹے پہننے مقصود تھے یا یہ کوئی سٹائل ہے؟
تاہم دلہن کا ڈریس ان کی ذاتی پسند ہے، اس پر تبصرے کا ہمیں کوئی حق نہیں۔ مجھے تو یہ بھی نہیں پتہ کہ دلہن نے اپنےبازوں ، شانوں ، گردن وغیرہ پر ٹیٹو بنوا رکھا ہے یا یہ کوئی مہندی وغیرہ ہے، البتہ اس پر خوشی ہوئی کہ اس شیر جوان نے بھی اپنےہاتھ پر شائد اظہار یک جہتی کےلئےاسی طرح کا ٹیٹوسا بنوا رکھا ہے۔
خیر بھیا جی نئی نسل کی کئی باتیں ہمیں بالکل سمجھ نہیں آتیں، بوڑھےہوگئےہیں شائد، بس یہی دعا ہے کہ ایسے جدید فیشن کی چیزیں ہمارےبچےہمیں نہ دکھائیں، ان کےبچوں کے بڑےہونے تک شائد ہم ویسےہی دنیا میں نہیں ہوں گے۔
اینی ویز بیسٹ آف لک فار برائیڈ اینڈ گروم اینڈ بوتھ فیملیز۔
منقول

پاکستان میں اجکل تین بیویاں فیملی  ولاگرز بنی ہوی ہیں شوہر انکا اک ہے ۔ تینوں ایک دوسرے کے گھر آنے جانے اور آپس میں ملنے...
12/08/2026

پاکستان میں اجکل تین بیویاں فیملی ولاگرز بنی ہوی ہیں شوہر انکا اک ہے ۔ تینوں ایک دوسرے کے گھر آنے جانے اور آپس میں ملنے جلنے کی ویڈیوز بنالیتی ہیں ۔

مزے کی بات ہے تینوں ایک دوسرے کے خود انٹرویوز کرلیتی ہیں اور تینوں کے یوٹیوب چینلز چل رہے ہیں۔ تینوں سوشل میڈیا سے کمای کر کے اپنے شوہر کا مشکل وقت میں ساتھ دے رہی ہیں۔

ایسے کہتے ہیں کامیاب فیملی پلاننگ + بزنس پلاننگ

سب سے اچھی بات اور قابل تعریف بات یہ ہے کہ تینوں بیگمات پڑھیں لکھی اور سلجھی ہوئی ہیں ایک دوسرے کا احترام کرتی ہیں کوی لڑای جھگڑا نہی ہے ۔ورنہ فیملی ویلاگز کے بجائے فیملی ڈراماز دیکھنے کو ملتا ۔

اور کمال ہے اس سکرپٹ رائیٹرز کا جو تینوں کیلے روزانہ سکرپٹ لکھتا ہے اور عوام کو انگیج کرنے کیلے کبھی مرچ تیکھی رکھتا ہے تو کبھی چٹ پٹی مصالحے دار بنادیتا ہے ۔۔ تاکہ ایڈینس بلکل بور نہ ہو ۔۔

ان تینوں کے شوہر نامدار سے اک سوال پوچھا گیا ایسا سوال جو شاید کوی اور تین بیویوں والا پھڈے کے ڈر سے نہ بول سکے کہ بتائیں اپ کس بیوی سے زیادہ محبت کرتے ہیں ۔۔

انہوں نے کہا میں بڑی والی سے بہت پیار کرتا ہوں اس کے ساتھ میرا اک سفر گزرا میرے بچے کی ماں ہے مگر دوسری والی مجھ سے زیادہ پیار کرتی ہے میں اور تیسری والی گھر میں اس طرح ہے جیسے کوی نیا بچہ گھر میں ا جاتا ہے سب اس سے لاڈ اور پیار کرتے ہیں ۔۔ اس کے نخرے لاڈ اٹھاتے ہیں ۔

Address

Lahore

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Urdu Adab posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Urdu Adab:

Shortcuts

Share