08/09/2026
ایک بار نصیر الدین طوسی نے ہلاکو خان کو ایک رصدگاہ تعمیر کرنے کا مشورہ دیا۔
ہلاکو خان، جو علم و حکمت کی باریکیوں سے زیادہ واقف نہ تھا، بولا:
“اس سے کیا حاصل ہو گا؟”
طوسی نے جواب دیا:
“اس کے ذریعے ہم ستاروں کی گردش اور زمانے کے تغیرات کو سمجھ سکیں گے، اور آنے والے حالات کا اندازہ لگا سکیں گے۔”
ہلاکو نے پوچھا:
“اگر کسی جنگ میں میری شکست مقدر ہو، تو کیا تم اسے فتح میں بدل سکتے ہو؟”
طوسی نے نہایت سکون سے کہا:
“تقدیر کو بدلنا ممکن نہیں، لیکن انسان خود کو آنے والے حالات کے لیے ذہنی طور پر تیار ضرور کر سکتا ہے۔”
ہلاکو نے حیرت سے پوچھا:
“وہ کیسے؟”
طوسی نے کہا:
“ایک غلام کو حکم دیں کہ جب دربار مکمل سجا ہو تو ایک بڑا تھال بلندی سے نیچے گرا دے۔”
چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔
جونہی تھال زور دار آواز کے ساتھ زمین پر گرا، پورے دربار میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ ہر شخص گھبرا اٹھا، مگر ہلاکو خان اور طوسی سکون سے بیٹھے رہے، کیونکہ وہ پہلے سے اس واقعے سے آگاہ تھے۔
تب نصیر الدین طوسی نے کہا:
“دیکھیے، ہونی کو ٹالا نہیں جا سکتا، لیکن اگر انسان کو آنے والے حالات کا شعور ہو تو وہ گھبراہٹ کے بجائے حکمت، صبر اور تیاری کے ساتھ ان کا سامنا کر سکتا ہے۔”
ہلاکو خان نے فورا بغداد میں رصد خانے کی تعمیر کا حکم دے دیا۔
منقول