Realistic Raza

Realistic Raza Welcome to Realistic Raza, your gateway to enthralling posts videos and insightful life lessons. My youtube channel is Realistic Raza.

/نعت خواں صہب اپنا نمبر جہاز کی سیٹ پر لکھ آئے ہیں تا کہ لوگوں کو رابطہ میں آسانی رہے🤩
24/08/2025

/نعت خواں صہب اپنا نمبر جہاز کی سیٹ پر لکھ
آئے ہیں تا کہ لوگوں کو رابطہ میں آسانی رہے🤩

*اگر گاڑی کا ٹائر تیز رفتاری میں پھٹ جائے یا پنکچر ہو جائے تو کیا کیا جائے*.....ڈرائیور حضرات ضرور پڑھیں گزارش ہے.....کچ...
24/08/2025

*اگر گاڑی کا ٹائر تیز رفتاری میں پھٹ جائے یا پنکچر ہو جائے تو کیا کیا جائے*.....ڈرائیور حضرات ضرور پڑھیں گزارش ہے.....
کچھ عرصہ قبل ہمارے سابقہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل خالد شمیم وائن ایک حادثے میں جاں بحق ہوگئے تھے۔ وجہ تیز رفتاری میں ٹائر پھٹنا بنی۔ گاڑی بم پروف تھی مگر پھر بھی قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا۔

مجھے یہ بات واضح کرنی ہے کہ ایسی صورت میں اگر ڈرائیور اپنے اوسان بحال رکھے تو بہت بڑے حادثے سے بچا جا سکتا ہے۔
اسکے لئے چھ سادہ سے سٹیپس ہیں جس سے دو منٹ کے اندر اندر گاڑی کو محفوظ حالت میں روکا جا سکتا ہے۔

1۔ ٹائر پھٹنے پر گھبرائیے نہیں اور خود کو فوری طور پر چوکس کریں اور اعصاب کو نارمل کریں اور اعتماد کے ساتھ اس سیچوایشن کو سنبھالیں۔ کیونکہ اس وقت آپکی گاڑی بے قابو ہو رہی ہوگی تو آپکا قابو میں رہنا لازمی ہے۔ سب کچھ آپکے کنٹرول میں ہے اور اب آپ نے گاڑی کو بھی قابو کرنا ہے۔
۔2 سٹیرنگ وھیل کو مضبوطی سے دونوں ہاتھوں سے پکڑ لیں۔ کسی بھی قسم کے کٹ مارنے یا موڑنے کی کوشش نہ کریں۔( اگر ممکن ہو تو ہیزرڈ لائیٹ کا بٹن دبا دیں۔ مگر ضروری نہیں ہے) اپنے شیشوں کی مدد سے پیچھے کی ٹریفک پر توجہ مرکوز کریں اور سڑک پر دھیان رکھیں۔ گاڑی کی حرکت کو محسوس کریں کہ وہ کس جانب پل کر رہی ہے یا کھنچ رہی ہے۔ جس طرف کا ٹائر پھٹا ہے گاڑی اسی طرف کو مڑے گی یا کھنچے گی۔ لہذا آپکی سٹیرنگ پر گرفت مضبوط ترین ہونی چاہیئے۔
3۔ دھیرے دھیرے ایکسلریٹر سے پاوں ہٹائیں اور کبھی بھی بریک نہ لگائیں ۔۔ بریک نہیں لگانی! کیونکہ 95 فیصد امکان ہے کہ جونہی آپ بریک لگائیں گے گاڑی الٹ جائے گی۔ گاڑی کی سپیڈ خود کم ہوتی جائے گی اور آپ کو اس وقت یہ خیال رکھنا ہوگا کہ سڑک پر موجود دیگر گاڑیوں سے خود کو کیسے بچانا ہے۔( رم کے نقصان پر توجہ نہ دیں کیونکہ آپ کی جان قیمتی ہے رم نہیں)۔

4۔ اپنے سٹیرنگ کو قابو میں رکھیں مضبوطی کے ساتھ اور نظر اور توجہ سڑک پر رکھیں۔

5۔ اس وقت تک آپکی سپیڈ اوریجنل سپیڈ کے تناسب سے کافی کم ہو کر لگ بھگ 60 کلومیٹر تک آ پہنچے گی۔ یہ وقت ہے جب آپ آہستہ آہستہ بریک لگا سکتے ہیں مگر یک دم نہیں ۔۔ مقصد ہے سپیڈ کو کم کرنا نہ کہ روکنا۔ اب آپ گاڑی کو سڑک کے کنارے کی طرف لے جانے کی پوزیشن میں ہیں اور اشارہ بھی دے دیں تاکہ پیچھے سے آنے والی گاڑیوں کو آپ کی حرکت کا اندازہ ہو سکے۔ گاڑی کو اپنے بائیں جانب لے جا کر روکنے کیلئے تیار ہو جائیں۔

6۔ اب آپ بالآخر محفوظ ہیں اور گاڑی کو روک سکتے ہیں۔ گاڑی کو روکیں اور انجن بند کر دیں۔ ہیزرڈ لائٹ جلا دیں۔ اور اتر کر گاڑی کے پھٹے ہوئے ٹائر کا جائزہ لیں۔ کئی بار رگڑ لگنے سے ٹائر کو آگ بھی لگ سکتی ہے۔ اگر ایسا ہے تو سب مسافروں کو گاڑی سے اتار دیں اور اگر آپ کے پاس آگ بجھانے کا آلہ ہے تو فوری طور پر اس کی مدد سے آگ بجھائیں۔ ورنہ پانی یا مٹی سے بھی یہ کام کیا جا سکتا ہے۔ اگر کسی وجہ سے آگ بجھانا ممکن نہ ہو تو گاڑی سے دور ہٹ جائیں اور کسی بھی دوسری گاڑی سے مدد طلب کریں کہ شاید آگ بجھانے کا آلہ مل جائے۔ پینک یا خوف زدہ نہ ہوں کیونکہ ابھی ابھی آپ نے اپنی اور اپنے ساتھیوں کی جان بچا لی ہے۔ اگر آگ نہیں لگی تو گاڑی اور ٹائر کو ٹھنڈا ہونے دیں اور پھر ٹائر بدلیں۔

آخری بات ۔ یاد رکھیں کہ ڈرائیور کا تجربہ کار ہونا اور مضبوط اعصاب کا ہونا لازمی ہے۔ اناڑی ڈرائیور ہمیشہ خوف زدہ ہو کر بریک لگاتے ہیں اور گاڑی الٹ جاتی ہے جس سے جانی نقصان کا اندیشہ ہے۔ یہ بات یاد رکھیں کہ ایسے موقع پر گاڑی میں موجود سب لوگ ڈرے ہوئے ہونگے۔ کسی کی مت سنیں اور صرف سڑک پر اور گاڑی پر توجہ مرکوز رکھیں۔۔کیوں کہ ڈرائیور آپ ہیں وہ نہیں ۔

ہو سکتا ہے آپ کےاس انفارمیشن کو share کرنےکی وجہ سے کئی قیمتی جانیں بچ جائیں۔
اللہ پاک ہمیں اپنی حفظ و امان میں رکھیں اور کسی بھی قسم کے حادثے سے محفوظ رکھیں۔ آمین۔

نوٹ : گاڑی کے ٹائروں پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرنا تھوڑے سے بھی کمزور ہو جائیں تو فوری طور پر بدل دیں۔ آپ کی جان قیمتی ہے۔ ٹائر تو گھستے ہیں، سو بدلنے تو پڑتے ہیں ۔۔ !

18/08/2025

جس خاندان میں بھائیوں میں اتفاق اور ہمدردی ہو اس خاندان کی نسلیں بھی عروج تک پہنچ جاتی ہیں

‏ایک پیر صاحب نے بھنگ پی ہوۓ اپنے مرید سے پوچھا  :شریعت کیاهے۔۔؟مرید بھی بھنگ میں تھا ۔ بولا: آپ اپنی بیوی کے ساتھ پیارک...
17/08/2025

‏ایک پیر صاحب نے بھنگ پی ہوۓ اپنے مرید سے پوچھا :شریعت کیاهے۔۔؟
مرید بھی بھنگ میں تھا ۔ بولا: آپ اپنی بیوی کے ساتھ پیارکرتے ہیں اور میں اپنی کے ساتھ، یه شریعت هے.
پیر نے کہا: شاباش! اور طریقت کیا هے؟
مرید: آپ اپنے طریقے سے پیارکرتے ہیں اور میں اپنے طریقے سے. یه طریقت هے.‏
پیر : قسمت کیا ہے؟
مرید : آپ بوڑھے کی بیوی نئی اور خوبصورت ہے اور مجھ جوان کی قبول صورت ۔۔یہ قسمت ہے ۔
پیر خوش ھو گیا تو پھرمعرفت کیا هے؟
پیر نے اگلا سوال کیا.
مرید بولا: آپ کو اپنی بیوی پسند هے اورمجھے بھی آپکی یه معرفت هے.
پیر گھبرا کر : اور حقیقت کیاهے؟
مرید: میری بیوی مجھے پسند کرتی ہے اور آپ کی بیوی بھی مجھے ہی پسند کرتی هے..۔۔.یہ حقیقت ہے! ،
۔پیر شاک میں ۔۔۔۔۔۔تو نصیب کیا ہے ؟
مرید ۔۔ آپ جن چیزوں کے مالک ھیں وہ ساری میرے استعمال میں ھیں اور جن کا میں مالک ہوں وہ بھی میرے ہی استعمال میں ہیں ۔۔۔۔ یہ نصیب ہے ۔
پیر ہاتھ ملتے ہوۓ ۔۔ اختیار کیا ہے ؟‏
مرید : آپ کو مجھ پر غصہ ہے لیکن آپ کچھ میرا اکھاڑ نہیں سکتے
یہ اختیار ہے

😅😅😅😅😅😅😅😅

British-Pakistani student Mahnoor Cheema has made academic history, earning top distinctions in over 24 A-level subjects...
15/08/2025

British-Pakistani student Mahnoor Cheema has made academic history, earning top distinctions in over 24 A-level subjects and breaking four world records. Admitted to Oxford University to study medicine, Mahnoor had already made headlines in 2023 by passing 34 GCSE O-level subjects — the highest ever in the UK. In 2021, a Mensa test measured her IQ at 161, surpassing Albert Einstein.

Source:

04/08/2025

جھنگ میں پیش آیا دل دہلا دینے والاواقعہ!اللہ سب کی بیٹیوں کی حفاظت کرے، اور اس معصوم بچی کے والدین کو صبر عطا فرمائے
کنزہ فاطمہ جس کا تعلق جھنگ سے تھا وہ راولپنڈی کی زرعی یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کر رہی تھی،کنزہ کے ماموں کا بیٹا طیب اس پر دل ہار بیٹھا، طیب بار بار رشتہ بھجواتا لیکن کنزہ کے گھر والے شادی سے انکار کر دیتے،کیونکہ کنزہ ابھی عمر میں چھوٹی تھی، اور تعلیم حاصل کر رہی تھی، کنزہ جب چھٹیاں گزارنے گھر آئی تو طیب نے راستے میں ہی کنزہ کو (ا/غو/ا) کیا، (ت ش دد) کا نشانہ بنایااور پھر اُسکی جان لے لی، پولیس نے مجرم طیب کو گرفتار کر لیا!کنزہ فاطمہ کا خواب تھا کہ وہ ہواؤں میں اُڑے، یعنی ائیر فورس میں کام کرنا چاہتی تھی ، کنزہ فاطمہ پورے خاندان کی پیاری تھی، ایک کنزہ کے جانے سے پوراگھر اداس ہوگیا، انا للہ وانا الیہ راجعون

اس  بچہ کا  ایکسیڈینٹ ہونے کی وجہ سے اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھا ہے، پانچ دن سے شیخوپورہ ٹراما سنٹر ہسپتال میں لاوارث پرا ...
31/07/2025

اس بچہ کا ایکسیڈینٹ ہونے کی وجہ سے اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھا ہے، پانچ دن سے شیخوپورہ ٹراما سنٹر ہسپتال میں لاوارث پرا ہے۔ ابھی تک اسکے گھر والوں کا پتہ نہیں چل سکا، اور ہسپتال والوں نے اسے وارڈ میں رکھنے کے بجائے اسے لاوارث سمجھ کر ہسپتال کی چھت پر رکھا ہے، جہاں اسکا ٹریٹمنٹ بھی سہی طریقے سے نہیں کیا جا رہا، برائے مہربانی آگر کوئی اِسکو پہچانتا ہے تو اسکے گھر والوں تک یہ خبر پہنچا دے، پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں ۔ ۔

سرگودھا میں معاشی بدحالی نوجوانوں کی زندگیاں نگلنے لگی قرض کے بوجھ تلے دبے 24 سالہ محمد طیّب نے اپنی زندگی کا خاتمہ کرلی...
30/07/2025

سرگودھا میں معاشی بدحالی نوجوانوں کی زندگیاں نگلنے لگی قرض کے بوجھ تلے دبے 24 سالہ محمد طیّب نے اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا، لاش سپورٹس سٹیڈیم کے قریب سے برآمد ہوئی ہے۔ نوجوان کی جیب سے قرضوں سے متعلق پرچی برآمد جس پر ادھار کی تفصیلات لکھی تھیں۔

26/07/2025

اسلام آباد میں فوڈ اتھارٹی کا چھاپہ، ترنول کے قریب سے گدھے کا 25 من (600 کلو) گوشت برآمد

تھانہ ریتڑہ میں چوڑیاں بیچنے والی خاتون کا ریپ، بھائی اپنی بے ہوش بہن کو ہسپتال لے جا رہا ہے۔ 💔💔💔
24/07/2025

تھانہ ریتڑہ میں چوڑیاں بیچنے والی خاتون کا ریپ،
بھائی اپنی بے ہوش بہن کو ہسپتال لے جا رہا ہے۔

💔💔💔

ایک دن میں تین کہانیاں ۔۔۔ شرمناک ۔۔ قابل افسوس
22/07/2025

ایک دن میں تین کہانیاں ۔۔۔ شرمناک ۔۔ قابل افسوس

ابو، دیوار اور میںمیرے ابو بوڑھے ہو چکے تھے۔ چلتے ہوئے اکثر دیوار کا سہارا لیتے۔ آہستہ آہستہ ان کی انگلیوں کے نشان دیوار...
22/07/2025

ابو، دیوار اور میں

میرے ابو بوڑھے ہو چکے تھے۔ چلتے ہوئے اکثر دیوار کا سہارا لیتے۔ آہستہ آہستہ ان کی انگلیوں کے نشان دیواروں پر نمایاں ہونے لگے — ایسے نشان جو ان کی کمزوری اور محتاجی کا پتہ دیتے تھے۔

میری بیوی ان نشانات سے الجھن محسوس کرتی تھی۔ وہ اکثر شکایت کرتی کہ دیواریں گندی ہو رہی ہیں۔
ایک دن ابو کے سر میں شدید درد تھا۔ انہوں نے تیل لگایا اور حسبِ عادت دیوار کا سہارا لیا، جس سے دیوار پر تیل کے دھبے پڑ گئے۔

اس بات پر بیوی نے ناراضی ظاہر کی، اور ابّا سے سخت لہجے میں کہا:
“دیوار کو ہاتھ نہ لگایا کریں!”

ابو خاموش ہو گئے۔ ان کی آنکھوں میں گہرا دکھ تھا۔ میری گزشتہ رات ہی بیوی سے تلخ کلامی ہوئی تھی اس لیئے میں مصلحتًا خاموش رہا۔ یعنی مجھے بیوی کی اس بدتمیزی پر شرمندگی تو ہوئی، مگر کچھ کہہ نہ سکا۔

اس دن کے بعد ابو نے دیوار کا سہارا لینا چھوڑ دیا۔ ایک دن وہ توازن کھو بیٹھے اور گر پڑے۔ ان کی کولہے کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ آپریشن ہوا، مگر وہ مکمل طور پر صحت یاب نہ ہو سکے، اور کچھ ہی دنوں میں ہم سب کو روتا چھوڑ گئے۔

میرے دل میں شدید پچھتاوا تھا۔ ابو کی خاموش نظریں آج بھی میرا پیچھا کرتی ہیں۔ نہ انہیں بھلا سکا، نہ خود کو معاف کر پایا۔

کچھ عرصے بعد ہم نے گھر کو رنگ کروانے کا فیصلہ کیا۔ جب رنگ کرنے والے آئے تو میرا بیٹا، جو اپنے دادا سے بے حد محبت کرتا تھا، اُن دیواروں پر رنگ کروانے سے رک گیا جن پر دادا کی انگلیوں کے نشان تھے۔

رنگ کرنے والے سمجھدار لوگ تھے۔ انہوں نے ان نشانات کے گرد خوبصورت دائرے بنا دیے، جیسے دیوار پر کوئی خوبصورت فن پارہ ہو۔

آہستہ آہستہ وہ نشان ہمارے گھر کی پہچان بن گئے۔ جو بھی آتا، اس دیوار کی تعریف ضرور کرتا، مگر کسی کو معلوم نہ تھا کہ اس سجاوٹ کے پیچھے ایک دلخراش سچائی چھپی ہے۔

وقت گزرتا گیا۔ اب میں خود بھی بوڑھا ہو چکا ہوں۔ ایک دن چلتے ہوئے مجھے بھی دیوار کا سہارا لینا پڑا۔ اسی لمحے مجھے اپنا ماضی یاد آیا — میری بیوی کا ابو کو جھڑکنا، ان کی خاموشی، اور ان کا درد۔ میں نے سہارا لیے بغیر چلنے کی کوشش کی۔

میرا بیٹا یہ سب دیکھ رہا تھا۔ فوراً آگے بڑھا اور بولا:
“پاپا، دیوار کا سہارا لیجیے، ورنہ آپ گر جائیں گے!”

پھر میری پوتی دوڑتی ہوئی آئی اور بولی:
“دادُو، آپ میرا کندھا پکڑ لیں!”

یہ سن کر میری آنکھیں بھر آئیں۔
کاش، کاش میں نے بھی اپنے ابو کے ساتھ ایسا ہی رویہ اختیار کیا ہوتا — تو شاید وہ کچھ دن اور ہمارے ساتھ رہتے۔

میرے بیٹے اور پوتی نے مجھے سہارا دے کر صوفے پر بٹھایا۔ پھر پوتی اپنی ڈرائنگ بک لے آئی۔ اس نے مجھے دکھایا کہ اس کی ٹیچر نے ایک تصویر کی بہت تعریف کی تھی — وہ تصویر اسی دیوار کی تھی جس پر میرے ابو کے نشان تھے۔
تصویر کے نیچے ٹیچر نے لکھا تھا:
“کتنا اچھا ہو کہ ہر بچہ اپنے بزرگوں سے ایسی ہی محبت کرے!”

میں اپنے کمرے میں گیا، اپنے مرحوم والد کی یاد میں سسکیاں لیتے ہوئے الـلــَّـه تعالیٰ سے معافی مانگنے لگا۔

(تامل زبان کی ایک سچی، سبق آموز روداد ——عرفان جاوید صاحب کی وال سے لیا)

Address

Lahore
39350

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Realistic Raza posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Realistic Raza:

Share