Faraz Ahmad

Faraz Ahmad Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Faraz Ahmad, Digital creator, Lahore.

04/11/2025
محبت نہ کیجئےلڑکی کے پاؤں ننگے تھے اور بال مٹی سے اٹے پڑے تھے .کپڑے بوسیدہ اور میل آلود تھے . چہرے پر دھول جمی ہوئی تھی ...
12/10/2025

محبت نہ کیجئے
لڑکی کے پاؤں ننگے تھے اور بال مٹی سے اٹے پڑے
تھے .کپڑے بوسیدہ اور میل آلود تھے . چہرے پر دھول جمی ہوئی تھی بڑی بڑی آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے اور رخساروں کی سفیدی دھول کی تہہ میں کہیں چھپ گئی تھی اس وقت وہ اپنے گھر کے باہر گلی میں کھڑی تھی اور کچھ بچے اس کے گرد جمع تھے میں نے بہت غور سے اسے دیکھا اور میری آنکھوں میں پشیمانی افسوس اور حیرت کے تاثرات ابھر آئے میں اپنی جگہ پر جامد کھڑا اسے دیکھ رہا تھا اور میرا ذہن یقین کرنے سے قاصر تھا کہ میرے سامنے بوسیدہ حال پاگل لڑکی وہی تھی میں نے اپنے آپ سے پوچھا کیا یہ وہی ہے اور میرا ذہن مجھے 2014 کے اس سال میں لے گیا جب وہ میرے پاس کمپیوٹر سیکھنے آتی تھی ان دنوں میں خود بھی طالب علم تھا اور پارٹ ٹائم میں کمیپوٹر سکھاتا تھا ان دنوں وہ ایم اے انگلش کررہی تھی میں عمر سے اس سے دو تین سال چھوٹا تھا مگر چونکہ میں اسے پڑھاتا تھا تو وہ میری شاگردہ تھی لیکن کہانی میں یہ غیر ضروری طوالت رکھے بغیر اصل بات کی طرف آتے ہیں کہ آخر اتنی ذہین ترین لڑکی سے اس قابل ترس پاگل پن کی نہج تک وہ کیسے پہنچی . اس کہانی کا آغاز تب ہوا جب اس لڑکی کو مجھ سے شدید قسم کا عشق ہوگیا . میں ان دنوں زمانہ طالب علمی میں تھا اور ہر اچھا چہرہ مجھے بھانے لگتا تھا مگر مجھے یہ محبت اور عشق قسم کے جذبات بے وقوفانہ اور عملی زندگی سے پرے لگتے تھے شروع میں اس نے مجھے ایک کاغذ پر لکھ کر اپنی محبت کا اظہار کیا اور میں نے وقت گزاری کے لیے اس سے بات چیت شروع کردی اس زمانے میں مجھے محبت اور جسمانی قربت کے بارے میں اتنی فہم نہیں تھی اور ناول اور کہانیاں پڑھنے کی وجہ سے مجھے لگتا تھا کہ میٹھی میٹھی باتیں کرنا شاعری پڑھنا وغیرہ ہی کو محبت کہتے ہیں اس لیے اس کے کافی مرتبہ اکیلی ملاقاتوں کے مطالبے کو میں سمجھنے سے قاصر رہا . وہ بار بار مجھ سے شادی کا مطالبا کرتی رہی موبائل فون اس کے گھر والے توڑ دیتے تھے پھر گرمیوں کی چھٹیاں ختم ہوئیں تو میں نے کمپیوٹر اکیڈمی جانا بند کردیا . اس کے ساتھ رات کو اب موبائل پر بات ہوتی رہی . اور پھر وہ ایک پرائیویٹ سکول میں پڑھانے لگی تو اپنے ایک شاگرد کے ہاتھ لمبے لمبے خط بھجواتی اس کا شاگرد بتاتا کہ اس کی ٹیچر ہر وقت میری باتیں کرتی رہتی ہے . میں بالکل بھی سنجیدہ نہیں تھا اور بالاآخر اکتاہٹ کا شکار ہوکر میں نے اس سے رابطہ بند کردیا اور پھر یہی سے اس کی انتہا پسند محبت نقطہ عروج کو جاپہنچی . اس نے اپنے گھر جھگڑے شروع کردیے اس کے والد ایک کٹر مذہبی اور دقیانوسی ذہنیت رکھتے تھے مجھے معلوم ہوا کہ اس کا والد اس پر شدید تشدد کرتا ہے ایک دن اسے معلوم ہوا کہ میں ایک جگہ پڑھاتا ہوں تو وہ وہاں اپہنچی اس نے سب کے سامنے میرے ہاتھ پکڑ لیا اور تب تک چھوڑنے سے انکار کردیا جب تک میں اس سے شادی کے لیے ہاں نہ کروں بڑی مشکل سے میں نے اور میری ایک کولیگ نے اسے سمجھایا اور وہاں سے وہ چلی گئی اور مجھے شدید سبکی کا سامنا کرنا پڑا . پھر میری گورنمنٹ جاب ہوگئ اور میں نے اپنے گاؤں کے سکول پڑھانا شروع کردیا . اس کے گھر والوں نے زبردستی اس کی شادی اس کے ایک رشتہ دار سے کردی مگر اس نے اس لڑکے کے ساتھ رہنے سے انکار کردیا . اس کے والد نے اس پر تشدد کیا اور اس کے گھر والوں نے اسے زبردستی اس کے سسرال بھجنے کی کوشش کی تو اس نے عدالت سے رجوع کرلیا اور عدالت نے اسے دارامان قصور بھجوادیا . دارامان قصور سے ایک دن مجھے ایک سائیکالوجسٹ کی کال موصول ہوئی جس نے مجھ سے کہا کہ وہ لڑکی اب انتہائی پریشان ہے اس کے گھر والے اسے چھوڑ چکے ہیں اور وہ صرف مجھ سے بات کرنا چاہتی ہے تو میں اس سے بات کرلوں مگر میں نے اس سے بات کرنے سے انکار کردیا سائیکالوجسٹ نے مجھے کہا کہ میں انسانیت کے ناطے اس کی مدد کروں مگر میں نے کہا کہ میں کسی انسانیت کو نہیں مانتا . ان دنوں میں کافی کم عمر اور کوتاہ فہم تھا جذبات میرے لیے اتنے اہم نہیں تھے اور پھر کافی عرصے تک مجھے اس کی خبر نہیں ملی مگر آج کئی سالوں بعد میں نے اسے دیکھاتو وہ ایک پاگل کے روپ میں اپنگ گھر کے باہر کھڑی تھی میری آنکھوں میں ہلکی سی نمی اتر آئی میرے دوست نے بتایا کہ یہ ان گلیوں میں گھومتی رہتی ہے اس کی والدہ کا انتقال ہوگیا ہے اور واد کہتا ہے کہ اس پر تعویز ڈلوائے گئے ہیں . اس لڑکی کے گھر والے بھی اس کا زیادہ خیال نہیں رکھتے کبھی کبھی اسے گھر میں زنجیر سے باندھ کر رکھا جاتا ہے میں اپنے دوست کی بات سن رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ کیا اب اس کا علاج کروایا جاسکتا ہے کیا یہ اب ٹھیک ہوسکے گی . کیا اس کے موجودہ حال کا ذمہ دار میں ہوں یا اس کے گھر والے یا پھر حالات . لیکن اب بھی میں صرف ترس اور رحم کے جذبات سے اسے سوچ رہا تھا . محبت شاید مجھے اس سے اب بھی نہیں تھی
لڑکی کانام میں نے دانستہ نہیں لکھا

Address

Lahore
100000

Telephone

+923041484804

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Faraz Ahmad posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Faraz Ahmad:

Share

شاعری فراز رانا

2019