25/01/2026
تحریر : میاں نوید
لاہور پریس کلب کے الیکشن کی رات
جیسے لاہور پریس کلب کے الیکشن کا دن ختم ہوتا ہے۔ سارا دن ملاقاتوں، وعدوں، مسکراہٹوں، بحثوں اور مصروفیت میں گزرتا ہے۔ شام ہوتے ہی تھکن جسم میں اترتی ہے مگر دل میں ایک عجیب سی بےچینی جاگ اٹھتی ہے، کیونکہ اب اصل مرحلہ شروع ہوتا ہے—انتظار۔
رات گہری ہو جاتی ہے۔ کیمپ میں آگ جل رہی ہوتی ہے۔ یہ آگ صرف سردی کے خلاف نہیں، بلکہ اس اضطراب کی علامت ہوتی ہے جو ہر امیدوار اور اس کے ساتھیوں کے دل میں سلگ رہا ہوتا ہے۔ ووٹوں کی گنتی جاری ہوتی ہے۔ ہر پرچی کسی اعتماد، کسی امید یا کسی ناراضی کی گواہ بن کر میز پر آتی ہے۔چائے کے کپ ہاتھوں میں ہوتے ہیں۔ سردی سے بچنے کے لیے جلائی گئی آگ کا دھواں فضا میں تحلیل ہو رہا ہوتا ہے۔ گپ شپ چل رہی ہوتی ہے—کبھی ماضی کے الیکشن یاد آتے ہیں، کبھی کسی بزرگ صحافی کی جدوجہد کا ذکر، کبھی ہلکی سی ہنسی اور کبھی گہری خاموشی۔ کچھ چہرے پُرامید ہوتے ہیں، کچھ پر تشویش صاف جھلکتی ہے۔ ہر نظر ایک ہی سمت لگی ہوتی ہے: کاؤنٹنگ ٹیبل۔
سوال ایک ہی ہوتا ہے: کون جیتے گا؟
مگر حقیقت یہ ہے کہ اس رات صرف عہدے نہیں بانٹے جاتے، اس رات لاہور پریس کلب کی روایت تازہ ہوتی ہے۔ اختلافِ رائے کے باوجود سب ایک ہی آگ کے گرد بیٹھے ہوتے ہیں، اکٹھے چائے پیتے ہیں، ایک ہی ادارے سے اپنی وابستگی کا اظہار کرتے ہیں۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جو یاد دلاتا ہے کہ صحافت صرف خبر نہیں، یہ رشتہ ہے، جدوجہد ہے اور ایک مسلسل سفر ہے۔اور پھر جب نتائج کا اعلان ہو جاتا ہے، تو ایک بات سب کو یاد رکھنی چاہیے:
جیت صرف صحافیوں کی ہوتی ہے۔
نہ کسی ایک پینل کی، نہ کسی ایک نام کی۔
الیکشن کے بعد شکوے، تلخیاں اور انتخابی گرما گرمی وہیں ختم ہونی چاہیے جہاں بیلٹ باکس بند ہوا تھا۔ اس کے بعد سب کو ایک ہونا چاہیے، کیونکہ مضبوط لاہور پریس کلب کسی فرد سے نہیں بلکہ متحد صحافی برادری سے بنتا ہے۔اگر الیکشن ہمیں تقسیم کر دیں تو یہ ہار ہے،اور اگر الیکشن کے بعد ہم ایک ہو جائیں تو یہی ہماری اصل فتح ہے۔یہی لاہور پریس کلب کی طاقت ہے—اختلاف کے باوجود اتحاد، مقابلے کے بعد مصافحہ، اور صحافت کے وقار کے لیے ایک صف میں کھڑا ہونا۔سال میں یہ دن ایک بار آتا ہے،مگر اس رات کی آگ، چائے کی خوشبو اور انتظار کی دھڑکن پورا سال یاد دلاتی رہتی ہے کہ ہم سب، آخرکار، ایک ہی کہانی کا حصہ ہیں۔
Lahore Press Club