13/01/2026
مورخ جب بیسویں صدی کی اس نسل کا پوسٹ مارٹم کرے گا جسے آج ”جنریشن آف آئرن“ کہا جا رہا ہے، تو وہ حیرت سے لکھے گا کہ یہ لوگ گوشت پوست کے نہیں، بلکہ مجبوریوں اور غیر معمولی قوتِ ارادی کے ملغوبے سے بنے تھے۔ یہ نسل ایک ایسے معاشی عبوری دور کا پل تھی جس نے اپنے وجود کو زنگ لگا لیا تاکہ ان کی اولاد اس پل سے گزر کر آسائش کی دنیا میں داخل ہو سکے۔
یہ کوئی رومانوی داستان نہیں، ایک کڑوا سچ ہے کہ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے ”اپنی خواہشات کے قتلِ عام“ پر اپنے گھر کی بنیادیں رکھیں۔ ان کے پاس وسائل کی کمی نہیں تھی، بلکہ انہوں نے شعوری طور پر خود کو محروم رکھا۔ انہوں نے کبھی کالج کا گیٹ پار نہیں کیا، مگر ان کا وژن کسی یونیورسٹی کے ڈین سے زیادہ وسیع تھا؛ انہوں نے جان لیا تھا کہ غربت کے دائرے کو توڑنے والا ہتھوڑا صرف ’تعلیم‘ ہے۔
ان کی زندگیوں کا آڈٹ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کا ”آرام“ سے کوئی تعلق نہ تھا۔ ان کی صبح، مشقت سے شروع ہوتی اور شام، تھکن پر ختم۔ ان کے ہاتھوں کے گٹے اور جھلسے ہوئے چہرے، ان کی خاموش جنگ کے تمغے تھے۔ انہوں نے کبھی اپنی نفسیاتی الجھنوں (Mental Health) کا رونا نہیں رویا، کیونکہ ان کے پاس رکنے اور سوچنے کی عیاشی موجود ہی نہیں تھی۔ وہ ٹوٹتے تھے، مگر خاموشی سے جڑ جاتے تھے۔
یہ ”مرمت کرنے والی نسل“ تھی—چاہے وہ گھر کا پرانا پنکھا ہو یا میاں بیوی کا لڑکھڑاتا رشتہ۔ یہ چیزوں کو کوڑے دان میں پھینکنے کی بجائے انہیں ٹھیک کرنے پر یقین رکھتے تھے۔ ان کی خوشی کا معیار بازار کی قیمتوں سے طے نہیں ہوتا تھا؛ وہ شام کی چائے اور گھر کے صحن میں بکھرے قہقہوں سے اپنا ”ڈوپامائن“ خود بناتے تھے۔
آج، ان کا انخلا خاموش ہے مگر اس کا اثر زلزلے جیسا ہے۔ وہ بغیر کسی شکوے کے، اپنی ڈیوٹی پوری کر کے جا رہے ہیں۔ مگر ان کے جانے سے جو خلا پیدا ہو رہا ہے، وہ خوفناک ہے۔ جگہ اب ”کرسٹل جنریشن“ لے رہی ہے—وہ نسل جو چمکدار ہے، نفیس ہے، مگر اتنی نازک ہے کہ ذرا سا دباؤ پڑتے ہی کرچی کرچی ہو جاتی ہے۔
تاریخ کا قلم کانپتے ہوئے یہ لکھ رہا ہے کہ ہم نے لوہے کو پگھلا کر کرسٹل تو بنا لیا، مگر ہم اس ’استقامت‘ کو محفوظ نہ کر سکے جو اس پرانی نسل کا خاصہ تھی۔
مستقبل کی کسی کتاب میں، کسی باورچی خانے کی دراز سے برآمد ہونے والی ان کی تصویر کے نیچے صرف ایک جملہ لکھا ہوگا: ”یہ وہ آخری دیو تھے، جنہیں اپنی طاقت ثابت کرنے کے لیے کبھی شور مچانے کی ضرورت نہیں پڑی۔“