Wisdom is Blessing

Wisdom is Blessing To provide healthy knowledge to community, share thoughts and opinions about the world

مورخ جب بیسویں صدی کی اس نسل کا پوسٹ مارٹم کرے گا جسے آج ”جنریشن آف آئرن“ کہا جا رہا ہے، تو وہ حیرت سے لکھے گا کہ یہ لوگ...
13/01/2026

مورخ جب بیسویں صدی کی اس نسل کا پوسٹ مارٹم کرے گا جسے آج ”جنریشن آف آئرن“ کہا جا رہا ہے، تو وہ حیرت سے لکھے گا کہ یہ لوگ گوشت پوست کے نہیں، بلکہ مجبوریوں اور غیر معمولی قوتِ ارادی کے ملغوبے سے بنے تھے۔ یہ نسل ایک ایسے معاشی عبوری دور کا پل تھی جس نے اپنے وجود کو زنگ لگا لیا تاکہ ان کی اولاد اس پل سے گزر کر آسائش کی دنیا میں داخل ہو سکے۔

یہ کوئی رومانوی داستان نہیں، ایک کڑوا سچ ہے کہ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے ”اپنی خواہشات کے قتلِ عام“ پر اپنے گھر کی بنیادیں رکھیں۔ ان کے پاس وسائل کی کمی نہیں تھی، بلکہ انہوں نے شعوری طور پر خود کو محروم رکھا۔ انہوں نے کبھی کالج کا گیٹ پار نہیں کیا، مگر ان کا وژن کسی یونیورسٹی کے ڈین سے زیادہ وسیع تھا؛ انہوں نے جان لیا تھا کہ غربت کے دائرے کو توڑنے والا ہتھوڑا صرف ’تعلیم‘ ہے۔

ان کی زندگیوں کا آڈٹ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کا ”آرام“ سے کوئی تعلق نہ تھا۔ ان کی صبح، مشقت سے شروع ہوتی اور شام، تھکن پر ختم۔ ان کے ہاتھوں کے گٹے اور جھلسے ہوئے چہرے، ان کی خاموش جنگ کے تمغے تھے۔ انہوں نے کبھی اپنی نفسیاتی الجھنوں (Mental Health) کا رونا نہیں رویا، کیونکہ ان کے پاس رکنے اور سوچنے کی عیاشی موجود ہی نہیں تھی۔ وہ ٹوٹتے تھے، مگر خاموشی سے جڑ جاتے تھے۔

یہ ”مرمت کرنے والی نسل“ تھی—چاہے وہ گھر کا پرانا پنکھا ہو یا میاں بیوی کا لڑکھڑاتا رشتہ۔ یہ چیزوں کو کوڑے دان میں پھینکنے کی بجائے انہیں ٹھیک کرنے پر یقین رکھتے تھے۔ ان کی خوشی کا معیار بازار کی قیمتوں سے طے نہیں ہوتا تھا؛ وہ شام کی چائے اور گھر کے صحن میں بکھرے قہقہوں سے اپنا ”ڈوپامائن“ خود بناتے تھے۔

آج، ان کا انخلا خاموش ہے مگر اس کا اثر زلزلے جیسا ہے۔ وہ بغیر کسی شکوے کے، اپنی ڈیوٹی پوری کر کے جا رہے ہیں۔ مگر ان کے جانے سے جو خلا پیدا ہو رہا ہے، وہ خوفناک ہے۔ جگہ اب ”کرسٹل جنریشن“ لے رہی ہے—وہ نسل جو چمکدار ہے، نفیس ہے، مگر اتنی نازک ہے کہ ذرا سا دباؤ پڑتے ہی کرچی کرچی ہو جاتی ہے۔

تاریخ کا قلم کانپتے ہوئے یہ لکھ رہا ہے کہ ہم نے لوہے کو پگھلا کر کرسٹل تو بنا لیا، مگر ہم اس ’استقامت‘ کو محفوظ نہ کر سکے جو اس پرانی نسل کا خاصہ تھی۔

مستقبل کی کسی کتاب میں، کسی باورچی خانے کی دراز سے برآمد ہونے والی ان کی تصویر کے نیچے صرف ایک جملہ لکھا ہوگا: ”یہ وہ آخری دیو تھے، جنہیں اپنی طاقت ثابت کرنے کے لیے کبھی شور مچانے کی ضرورت نہیں پڑی۔“

اپنے موبائل کی کانٹیکٹ لسٹ (Contact List) کھولیے اور ان نمبروں کو گنیے جنہیں آپ نے پچھلے ایک سال میں صرف اس لیے کال نہیں...
13/01/2026

اپنے موبائل کی کانٹیکٹ لسٹ (Contact List) کھولیے اور ان نمبروں کو گنیے جنہیں آپ نے پچھلے ایک سال میں صرف اس لیے کال نہیں کی کیونکہ اب وہ آپ کے "کسی کام" کے نہیں رہے۔ تلخ ہے نا؟ مگر یہ وہ آئینہ ہے جسے ہم روز دیکھتے ہیں مگر پہچاننے سے انکار کر دیتے ہیں۔

ہم ایک ایسے دور میں سانس لے رہے ہیں جہاں رشتوں کی ڈور "احساس" کے بجائے "مفاد" سے بندھی ہے۔ جیسے ہی مفاد کا دھاگہ ٹوٹتا ہے، تعلق کی مالا بکھر جاتی ہے۔ یہ جو "چڑھتے سورج کو سلام" کرنے کی روایت ہے، یہ محض ایک محاورہ نہیں بلکہ ہماری سماجی نفسیات کا وہ ناسور ہے جس نے اخلاقیات کو نگل لیا ہے۔

عقیدت یا ضرورت؟

آئیے خود کو دھوکہ دینا بند کریں۔ ہم سورج کی روشنی کو نہیں پوجتے، ہم اس سے ملنے والی حرارت (فائدے) کے غلام ہیں۔ دفتر میں وہ باس جو کل تک "صاحبِ بصیرت" مانا جاتا تھا، ریٹائرمنٹ کے اگلے ہی دن محض ایک "بوڑھا آدمی" بن جاتا ہے۔ اس کے کمرے کے باہر کھڑے چپڑاسی سے لے کر اس کے دستِ راست رہنے والے ماتحت تک، سب کا رویہ ایسے بدلتا ہے جیسے کوئی سوئچ آف کر دیا گیا ہو۔

سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہے؟

1. خوفِ زوال اور طاقت کا نشہ انسان فطرتاً کمزور ہے۔ وہ طاقت کے سائے میں خود کو محفوظ سمجھتا ہے۔ جب ہم کسی طاقتور، امیر یا عہدے دار شخص کو سلام کرتے ہیں، تو دراصل ہم اس شخص کو نہیں، اس کی کرسی کو سلام کر رہے ہوتے ہیں۔ لاشعوری طور پر ہمیں لگتا ہے کہ چڑھتے سورج کی کرنیں ہم پر پڑیں گی تو ہم بھی چمک اٹھیں گے۔

2. کاروباری ذہنیت کا معاشرتی نفوذ ہم نے زندگی کو ایک "بیلنس شیٹ" بنا لیا ہے۔

اس سے تعلق رکھنے کا کیا فائدہ ہوگا؟

اسے سلام کرنے سے میرا کون سا کام نکلے گا؟ اگر جواب "کچھ نہیں" ہے، تو ہم منہ پھیر لیتے ہیں۔ شادی بیاہ ہو یا جنازہ، امیر رشتہ دار کو اگلی صف اور غریب کو پچھلی صف میں جگہ ملنا اسی سوچ کا عکاس ہے۔

منافقت کا تہوار

سب سے زیادہ تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ ہم اس رویے کو "سماجی مجبوری" یا "دنیا داری" کا نام دیتے ہیں۔

سیاست میں دیکھ لیں: اقتدار میں آنے والے کے گرد وہ لوگ بھی پروانوں کی طرح منڈلاتے ہیں جنہوں نے کل تک اس کی مخالفت کی قسمیں کھائی تھیں۔

سوشل میڈیا پر دیکھ لیں: جس کے فالوورز بڑھ رہے ہوں، سب اس کے "فین" بن جاتے ہیں، چاہے مواد کتنا ہی سطحی کیوں نہ ہو۔

ہم کردار (Character) کو نہیں، کرنسی (Currency) اور کرسی (Position) کو عزت دیتے ہیں۔ اور جب وہ کرسی چھن جاتی ہے، تو عزت بھی رخصت ہو جاتی ہے۔

ایک لمحے کی فکر

یہ تنقیدی جائزہ ادھورا رہے گا اگر ہم اس کے انجام پر بات نہ کریں۔ چڑھتے سورج کو سلام کرنے والے بھول جاتے ہیں کہ سورج کا مقدر ڈوبنا ہے۔ زوال ہر کمال کے ساتھ نتھی ہے۔

جب ہم آج کسی ڈھلتے ہوئے سورج (کمزور یا ریٹائرڈ شخص) کو نظر انداز کرتے ہیں، تو ہم دراصل اپنے آنے والے کل کی مشق کر رہے ہوتے ہیں۔ کل جب آپ کا سورج ڈھلے گا، جب آپ کی کرسی جائے گی، یا جب آپ کی جیب خالی ہوگی، تو یہ دنیا آپ کے ساتھ بھی وہی کرے گی جو آج آپ دوسروں کے ساتھ کر رہے ہیں۔

آخری بات

وقت آ گیا ہے کہ ہم "حیثیت" کو سلام کرنا چھوڑ دیں اور "انسان" کو عزت دینا سیکھیں۔ کیا آپ کے پاس اتنی اخلاقی جرات ہے کہ کل جب کوئی عہدے سے ہٹ جائے، یا جب کسی پر برا وقت آئے، تو آپ اسے ویسے ہی گرم جوشی سے ملیں جیسے اس کے عروج میں ملتے تھے؟

اگر نہیں، تو یاد رکھیے، آپ بھی ایک دن ڈھل جائیں گے، اور اس دن آپ کے اردگرد بھی صرف اندھیرا ہوگا، کوئی سلام کرنے والا نہیں۔
والسلام

(چلتی بس میں نکاح)لاہور ﺳﮯ آیبٹ آبادﺑﺲ ﺟﺎ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﺟﺐ ﺑﺲ ﺳﭩﯿﺸﻦ ﺳﮯ ﭼﻞ ﭘﮍﯼ ﺗﻮ ﻓﺮﻧﭧ ﺳﯿﭧ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﺰﺭﮒ ﺟﻮ بہت ﺍﭼﻬﮯ ﮐﭙﮍﮮ ﭘ...
13/01/2026

(چلتی بس میں نکاح)
لاہور ﺳﮯ آیبٹ آبادﺑﺲ ﺟﺎ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﺟﺐ ﺑﺲ ﺳﭩﯿﺸﻦ ﺳﮯ ﭼﻞ ﭘﮍﯼ ﺗﻮ ﻓﺮﻧﭧ ﺳﯿﭧ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﺰﺭﮒ ﺟﻮ بہت ﺍﭼﻬﮯ ﮐﭙﮍﮮ ﭘﮩﻨﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﺎ ﮐﻬﮍے ﮨﻮ گئے ﺍﻭﺭ ﺑﺎﻗﯽ ﻣﺴﺎﻓﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﻣﺨﺎﻃﺐ ﮨﻮ ﮐﺮ ﮐﮩﺎ " ﻣﯿﺮﮮ ﺑﻬﺎﺋﯿﻮ ﺍﻭﺭ ﺑﮩﻨﻮ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﻬﮑﺎﺭﯼ ﯾﺎ ﮔﺪﺍﮔﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮞ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﻣﺠﻬﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻧﻌﻤﺘﻮﮞ ﺳﮯ ﻧﻮﺍﺯﺍ ﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﯿﻮﯼ ﺍﯾﮏ ﻣﻮﺯﯼ ﻣﺮﺽ ﺳﮯ اللہ کو پیاری ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﮐﭽﻬﮧ ﺩﻥ ﮔﺰﺭے اور ﻣﯿﺮﯼ ﻓﯿﮑﭩﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﺁﮒ ﻟﮓ ﮔﺌﯽ ﻣﯿﮟ ﺩﺭﺁﻣﺪ ﺍﻭﺭ ﺑﺮﺁﻣﺪ ﮐﺎ ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ..
ﻣﯿﺮﺍ ﺗﯿﺎﺭ ﺷﺪﮦ ﺳﺎﺭﺍ ﻣﺎﻝ ﺟﻞ ﮐﺮ ﺧﺎﮐﺴﺘﺮ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ پھر ﮐﭽﻬﮧ ﻣﺪﺕ ﮔﺬﺭﯼ ﮐﮧ ﻣﺠﻬﮯ ﺩﻝ ﮐﺎ ﺩﻭﺭﮦ ﭘﮍﺍ ﺭﺷﺘﮧ ﺩﺍﺭﻭﮞ نے ﺟﺐ ﯾﮧ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﺮﮮ ﺩﻥ ﺁﻧﮯ ﻟﮕﮯ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻨﮯ ﮨﻢ ﺳﮯ ﺭﺍﺑﻄﮧ ﻣﻨﻘﻄﻊ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ ﮈﺍﮐﭩﺮﻭﮞ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﭽﻨﮯ ﮐﯽ ﺿﻤﺎﻧﺖ ﮐﻢ ﮨﯽ ﺩﯼ ﮨﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﯾﮧ ﺟﻮﺍﻥ ﺑﯿﭩﯽ ﮨﮯ ﺍﺱ ﮐﻮﺋﯽ ﻭﺍﺭﺙ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﮯ ﮔﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺩﺍﻣﻦ ﻋﺼﻤﺖ ﮐﻮ ﺗﺎﺭ ﺗﺎﺭ ﻧﮧ ﮐﺮﮮ ﯾﮩﯽ ﻏﻢ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮐﻬﺎﺋﮯ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﮐﯽ ﮨﭽﮑﯽ ﺑﻨﺪﻫﮧ ﮔﺌﯽ ﯾﮧ ﺟﻮﺍﻥ ﺳﺎﻝ ﻟﮍﮐﯽ ﺟﻮ ﭘﺎﺱ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﻬﯽ ﺗﻬﯽ ﺍٹھی ﺍﻭﺭ ﺑﺎﭖ ﮐﻮ سہارا دے ﮐﺮ ﺳﯿﭧ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺩﯾﺎ...
ﺑﺲ ﮐﯽ ﭘﭽﮭﻠﯽ ﺳﯿﭧ ﺳﮯ ﺁﺩﻣﯽ ﮐﻬﮍﺍ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ.. " ﻣﯿﺮﮮ 2 ﺑﯿﭩﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﮨﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻧﮑﺎﺡ ﮨﻮ ﭼﮑﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﯾﮧ ﺟﻮ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﮐﮯ ﺁﮔﮯ ﺑﯿﭩﻬﺎ ﮨﻮﺍ ہے، ﺍﻧﺠﯿﻨﺌﺮ ﮨﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ لیے ﺩﻟﮩﻦ ﮐﯽ ﺗﻼﺵ ﮨﮯ . ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺑﺰﺭﮒ ﺳﮯ ﺩﺭﺧﻮﺍﺳﺖ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﮐﺎ ﻧﮑﺎﺡ ﻣﯿﺮﮮ ﺍﺱ ﺑﯿﭩﮯ ﺳﮯ ﮐﺮ ﺩﮮ ﻣﯿﮟ ﻭﻋﺪﮦ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﺍﺱ ﺑﭽﯽ ﮐﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﺎﭖ ﮐﯽ ﮐﻤﯽ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﻧﮯ ﺩﻭﮞ گا.. " لڑکا کھڑا ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﺭﺷﺘﮧ ﻗﺒﻮﻝ ﮨﮯ..
بس میں موجود ﺍﯾﮏ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﻬﮍﮮ ﮨﻮﮐﺮ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ " ﯾﮧ ﺳﻔﺮ بہت ﻣﺒﺎﺭﮎ ﺳﻔﺮ ﮨﮯ ﻧﮑﺎﺡ ﺟﯿﺴﺎ ﻣﻘﺪﺱ ﻋﻤﻞ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ وہ بھی سفر میں اس سے اچھی بات کیا ہو گی؟؟ اگر ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﻋﺘﺮﺍﺽ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮑﺎﺡ ﭘﮍﻫا دوں " ﺳﺐ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ .'" ﻣﺎﺷﺎﺀﺍﻟﻠﮧ . ﺳﺒﺤﺎﻥ ﺍﻟﻠﮧ . ﺍﻟﺤﻤﺪ ﻟﻠﮧ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﻭﻏﯿﺮﮦ " ﺍﻭﺭ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﻧﮑﺎﺡ ﭘﮍﻫا دیا..
ﺍﯾﮏ اور ﺻﺎﺣﺐ ﮐﻬﮍﮮ ﮨﻮ گئے ﺍﻭﺭ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ.. " ﻣﯿﮟ ﭼﻬﭩﯽ ﭘﮧ ﺟﺎﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﻬﺮ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﮯ لیے ﻟﮉﻭ لے کر مگر ﺍﺱ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﻋﻤﻞ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﻬﮧ ﮐﺮ ﺳﻤﺠﮭﺘﺎ ﮨﻮﮞ کہ لڈو ادھر ہی تقسیم کر دیں اس نے دولہن کے باپ سے مخاطب ہوتے ہوے کہا..
دولہن کے باپ نے ڈرائیور سے کہا ڈرئیور میاں 5 منٹ کسی جگہ بس روک دینا تاکہ سب مل کر منہ میٹھا کر لیں، ڈرائیور نے کہا ٹھیک ہے بابا جی... ﻣﻐﺮﺏ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺟﺐ ﺍﻧﺪﻫﯿﺮﺍ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﺗﻮ ﻟﮍﮐﯽ ﮐﮯ ﺑﺎﭖ ﻧﮯ ﮈﺭﺍﺋﯿﻮﺭ ﺳﮯ ﺑﺲ ﺭﻭﮐﻨﮯ ﮐﻮ ﮐﮩﺎ..
ﺍﻭﺭ ﺳﺐ ﻣﺴﺎﻓﺮ مل کر لڈو کھانے لگے، ﻟﮉﻭ ﮐﻬﺎﺗﮯ ﮨﯽ ﺳﺐ ﻣﺴﺎﻓﺮ ﺳﻮ ﮔﺌﮯ ﮈﺭﺍﺋﯿﻮﺭ ﺍﻭﺭ ﮐﻨﮉﯾﮑﭩﺮ ﺟﺐ ﻧﯿﻨﺪ سے ﺟﺎگے ﺗﻮ ﺍﮔﻠﯽ ﺻﺒﺢ ﮐﮯ8 ﺑﺠﮯ ﺗﻬﮯ ﻣﮕﺮ ﺩﻟﮩﻦ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﻟﮩﺎ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺩﻭ ﺑﺎﭖ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﺍﻭﺭ ﻟﮉﻭ ﺑﺎﻧﭩﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﺑﺲ ﺳﮯ ﻏﺎﺋﺐ ﺗﻬﮯ ﺍﺗﻨﺎ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﮐﺴﯽ ﻣﺴﺎﻓﺮ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﻧﮧ ﮔﻬﮍﯼ ﻧﮧ ﭼﯿﻦ ﻧﮧ ﭘﯿﺴﮯ ﺑﻠﮑﮧ ﮐﭽﻬﮧ ﺑﻬﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﻬﺎ ﺍﻥ ﮐﻮ ﯾﮧ 6 ﻣﻤﺒﺮﺯ ﮐﺎ ﮔﺮﻭﭖ ﻣﮑﻤﻞ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﻟﻮﭦ ﭼﮑﺎ ﺗﻬﺎ.

💯✍️

10/01/2026

Hum sb guzay main kion rehtay hain?

دیکھتے ہیں کون ٹھیک بتاتا ہے۔
07/01/2026

دیکھتے ہیں کون ٹھیک بتاتا ہے۔

جزاک اللّٰہ۔۔
27/12/2025

جزاک اللّٰہ۔۔

مختصر ترین جنگ۔۔
25/12/2025

مختصر ترین جنگ۔۔

‏پوری نماز ڈر کی وجہ سے خراب ہوگئی جب بھی یہ بندا سجدے میں جاتا تو پستول کا منہ میری طرف ہو جاتا۔😏
24/12/2025

‏پوری نماز ڈر کی وجہ سے خراب ہوگئی جب بھی یہ بندا سجدے میں جاتا تو پستول کا منہ میری طرف ہو جاتا۔😏

‏یہ حجاب میں جو لڑکی بیٹھی ہے یہ پروموشن کروانے آئ ہیں کہ میرا اکاؤنٹ نہیں چل رہا پلیز آپ ایک مسیج دے دیں۔۔ اور باقی آپ ...
24/12/2025

‏یہ حجاب میں جو لڑکی بیٹھی ہے یہ پروموشن کروانے آئ ہیں کہ میرا اکاؤنٹ نہیں چل رہا پلیز آپ ایک مسیج دے دیں۔۔ اور باقی آپ سب دیکھ لیں۔۔ کیا ہمارا معاشرے میں حیاء سچ میں ختم ہو گئی پیسوں کے چکر میں؟ اس کا سہرا کس کو جاتا ہے؟
‏⁦‪ ‬⁩ ⁦‪ ‬⁩ ⁦‪ ‬⁩

وزیرآباد کی تنگ گلی میں صبح کی خاموشی ٹوٹی تو ایک نوجوان آٹے کی تلاش میں نکلا۔ جیب میں ماں کے دیے ہوۓ پیسے جو ماں کو لوگ...
22/12/2025

وزیرآباد کی تنگ گلی میں صبح کی خاموشی ٹوٹی تو ایک نوجوان آٹے کی تلاش میں نکلا۔ جیب میں ماں کے دیے ہوۓ پیسے جو ماں کو لوگوں کے گھر میں کام کر کے ملے تھے۔ محلے کی دکان زیادہ دور نہ تھی، مگر قانون کا سایہ قدم قدم پر تھا۔ واپسی پر آٹا نہیں، کاغذ کا ایک ٹکڑا ہاتھ آیا، جس پر ٹریفک چالان دو ہزار کی مہر ثبت تھی۔

فیس بک الگورتھم کی اصل حقیقتکیا آپ جانتے ہیں کہ فیس بک آپ کی پوسٹ سب کو نہیں دکھاتا؟یہ الگورتھم صرف اُن پوسٹس کو آگے بڑھ...
21/12/2025

فیس بک الگورتھم کی اصل حقیقت

کیا آپ جانتے ہیں کہ فیس بک آپ کی پوسٹ سب کو نہیں دکھاتا؟
یہ الگورتھم صرف اُن پوسٹس کو آگے بڑھاتا ہے جن پر لوگ رکیں، پڑھیں اور ردِعمل دیں۔

✔️ لائک سے زیادہ اہم: کمنٹ
✔️ سب سے طاقتور چیز: شیئر
✔️ سب سے خطرناک چیز: اسکرول کر کے آگے چلے جانا

اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی پوسٹ زیادہ لوگوں تک پہنچے تو:
🔹 سوال پوچھیں
🔹 اپنی بات سادہ رکھیں
🔹 حقیقت یا تجربہ شیئر کریں
🔹 آخر میں لوگوں کو رائے دینے پر مجبور کریں

یاد رکھیں!
📉 کم لوگ کمنٹ کریں = الگورتھم آپ کو نظر انداز
📈 زیادہ بات چیت = الگورتھم آپ کو اوپر لے آئے گا

💬 آپ کی کیا رائے ہے؟ کیا فیس بک واقعی کریئیٹرز کے ساتھ انصاف کر رہا ہے؟
کمنٹ میں ضرور بتائیں

Address

Lahore
54810

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Wisdom is Blessing posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share